Google
19
Aug

تعارف

بھیجا ہے  پاگل نے میں

38,672 بار دیکھا گیا

صفحہ دیکھا تو سوچا یہاں ہونا کیا چاہیے؟ پھر سوچا کچھ نا کچھ تو لکھنا ہی پڑے گا۔ آخر صفحہ بنانے والاے نے محنت کی ہے، اور وہ محنت کرے نا کرے جو میں نے دماغ کھپایا ہے اس کا کیا؟ کسی کی محنت ضائع نہیں کرنی چاہیے اور اپنی تو بالکل بھی نہیں۔ بات تو خود غرضی کی ہے پر بندہ محنت بچانا شروع کر دے تو دوسرے کے کام کی بھی قدر کرتا ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے،میں اپنے کام کی اور میرے گھر والے میری قطعاً کوئی قدر نہیں کرتے(جھوٹ)۔ اسی لئے دونوں پارٹیاں خوش رہتی ہیں۔

بات صفحے پہ کچھ لکھنے کی ہو رہی تھی۔ پہلی بات تو یہ کہ اردو لکھنا (مطلب ٹائپ کرنا) بڑا اوکھاکام ہے۔ لکھتے وے تو کی بورڈ پہ ریسیرچ کرنی ہی پڑتی ہے ساتھ ساتھ ہجے بھی بولنے پڑتے ہیں۔ جب ہوش سنبھالا تو جب کی ایک ہی خاص بات یاد ہے۔ چوکڑی مار کے بیٹھا ہوں، گھٹنوں پہ تختی، ایک ہاتھ میں قلم دوسری میں دوات۔ گنتی اردو اور اے،بی،سی لکھ رہا ہوں اور امی کہ رہی ہیں “ساتھ ساتھ بول بھی“۔ لکھتے ہوئے تو تکلیف نہیں (کم) ہوتی تھی لیکن بولتے ہوئے موت پڑتی تھی، آج تک سمجھ نہیں آئی کیوں؟ یہ تاریخ بیان کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ اب جو لکھتے وقت ہجے کرنے پڑتے ہیں تو وہی وقت یاد آ جاتا ہے۔ پر وہ وقت نا ہوتا تو آج بلاگ لکھنا تو دور کی بات شائد اخبار سے بھی بس اتنا ہی تعلق ہوتا کہ اس میں روٹیاں لا رہا ہوتا۔ ہمارےامی ابو نے ہم پہ بڑی محنت کی اور ہم نے بھی ان کی اولاد ہونے کا پورا ثبوت دیا۔ ان کی محنت رنگ نا لائے یہ محنت ہم نے جواباً کی۔ آج وہ بھی خوش اور ہم بھی خوش کیونکہ ہر پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ کامیاب ہوئی۔
بلاگ شروع کیا تو جو ڈومین سوچو وہ پہلے سے بُک آخر اپنا “برانڈ نیم” مل ہی گیا۔ ڈومین بک کروائی تو لو جی ہوسٹنگ کا پھڈا۔ سوچ لیا نا بچہ نا، یہ تیرے بس کی بات نہیں۔ تُو سارا دن بیٹھ کے کی بورڈ تو کُوٹ سکتاہے پر بلاگ بنانا تیری قسمت میں نہیں۔ خیر رب نے یہاں بھی کرم کیا اور ہمیشہ کی طرح گوگل کام آیا۔ جھٹ پٹ سائیٹ ریڈی (یہ ہم سمجھے)۔
باری آئی اردو تھیم کی، ڈھونڈ ڈھونڈ اَ ک گیا پر مجال ہے کہ اردو تھیم ملے۔ بس دو عدد تھیم جو کہ اردو ٹیک نے مہربانی کر کے بلاگ کے ساتھ دیے تھے۔ چلو کچھ تو ملا۔ اب نیٹ سے سرچ کر کر کے تھیم اکٹھے کیے اور جب اردنے لگا تو ۔۔۔ دن میں تارے نطر آ گیے۔ یہ تو بڑا مشکل کام تھا سوچا ” پتر جی ڈیفالٹ تھیم لگاؤ اور کام چلاؤ” پر دل نہیں مانا۔ وزٹ کرنے والا نہیں پڑھتا نا پڑھے کم سے کم گالیاں تو نہ دے۔ جبکہ مجھے پتا ہے، جیسی مجھ میں قابلیت ہے، نا ہی پڑھنے والا پڑھے گا اور گالیاں بھی دے گا۔ کیونکہ میرا لکھا تو میرے استاد تک نہیں پڑھتے تھے اور جو جو ٹرمیں (Terms) میں نے استعمال کی ہیں اردو بلاگرز کو پسند نہیں آنی۔ جس کے لیے ایڈوانس معافی (ان کے لئے) ہی ہی ہی ہی

ابھی تو یہ بلاگ صرف ایک بلاگ ہی رہے گا یعنی صرف ہم (سب) صرف لکھنے پر ہی توجّہ دیں گے، لیکن وقت سے مشروط ہے ۔پہلے اردو پریس کا بلاگ اپلوڈ کیا تھا پھر 1۔6۔2 ورژن میں تھوڑی بہت تبدیلی کی اور پھر یہ اپلوڈ کر رہے ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ بلاگ چلے گا بھی کہ نہیں؟ پر کوشش رہے گی کہ لکھنے کا شوق یہاں پورا کریں۔ بہت سے لوگوں کو ہماری بہت سی باتیں بری لگیں گی، اس سب کے لئے ابھی سے معافی کے خواستگار ہیں۔

اس سب کے دوران جہانزیب نے بہت مدد کی، اس سب کے لئے ان کا بہت بہت شکریہ۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ

ایک صفحہ سمجھ نہیں آ رہا تھاکہ کیا لکھوں، تو بلاگ کس طرح چلے گا؟ چھوڑو جی دیکھا جائے گا۔
اللہ خیر تے بیڑے پار

ڈفر کے بارے میں مزید حقائق یہاں ، یہاں اور یہاں پڑھے جا سکتے ہیں۔

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog