23
Nov

عزت بچائی مبلغ چار ہزار روپے

بھیجا ہے  بلُو نے مہمان خانہ میں

1,052 بار دیکھا گیا

”چل یار پیسے کماتے ہیں“ :grin:
علاقے کے کچھ فارغ لڑکوں نے پلان بنایا
پلان کے مطابق تمام لڑکے موٹر سائیکلوں پرسوار ہو کر پشاور موڑ کی طرف ہو لئے
ایک لڑکا جو سب سے پپو تھا سٹاپ پر اتر گیا اور باقی لڑکے پیچھے اندھیرے میں چھپ گئے تاکہ موقع دیکھ کر بھاگ سکیں۔
تھوڑی دیر بعد ایک بڑی سی گاڑی رکی جس میں ایک ٹھیک ٹھاک قسم کے خان صاحب بیٹھے تھے۔ انہوں نےلڑکے کو دیکھ کر پوچھا کتنے پیسے؟؟؟
لڑکے نے جواب دیا دو ہزار :shock:
اب پلان یہ تھا کہ جیسے ہی گاڑی میں بیٹھ کر پیسے ملیں گے تو پپو گاڑی سے اتر جائے گا اور یہ سب لڑکے پیسے لے کر بھاگ جائیں گے لیکن ۔۔۔
لڑکا گاڑی میں بیٹھا اور خان جی سے دو ہزار روپے لیتے ہی گاڑی سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ مگر یہ کیا؟ گاڑی آٹو میٹک ہونے کی وجہ سے لاک ہوگئی اور پپو خان صاحب کی منتیں کرنے لگا لیکن خان جی نے ایک نہ سنی اور گاڑی اپنی چکری روڈ پر واقع کوٹھی کی طرف بھگادی۔ باقی لڑکے بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولئے اور جب کوٹھی پر پہنچے تو ان کا استقبال کیا پانچ عدد مسٹنڈےگن مینوں نے :mrgreen: ۔
ہو تو یہ بھی سکتا تھا کہ خان صاحب چاہتے تو پپو کی خبر گیری کے ساتھ ساتھ گن مینوں کا بھی کچھ ”خیال“ کر لیتے لیکن شاید ان کی ”شرافت“ نے اس بات کی اجازت نہیں دی اور انہوں نے مذاکرات کے بعد چار ہزار روپے لے کر پپو اور اس کے دوستوں کی ”جان“ بخش دی۔

یہ ایک سچا واقعہ ہے اور ہم اس کے صرف داستان گو

.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Twitter
  • email
  • Live
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 32

 1 

اس سے تو بہتر تھا پشاور موڑ پر کھڑے ہو کر بھیک مانگ لیتے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 23, 2009 بوقت 8:25 pm
 2 

ایسے کاروباروں میں کبھی کبھی لینے کے دینے بھی پڑ جاتے ہیں۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 23, 2009 بوقت 11:09 pm
اسماء
 3 

اس بلاگ کا نام بدل کر تم لوگ پپو بلاگ رکھ لو آئے روز پپو لڑکے ياد آ رہے ہوتے ہيں تم سب کو، کچھ شرم کيا کرو انکل لوگ اور خواتين بھی پڑھتی ہيں بلاگ اور پہلی دو لائينيں پڑھتے ہی توبہ توبہ کرتے بھاگ جاتی ہيں ميں تو توبہ توبہ کرتے ہوئے بھی پورا پڑھ کر ہی چھوڑتی ہوں منير عباسی سے ذرا پوچھيں ناں خان صاحب کی اکثريت ايسے کيوں ہوتے ہيں حالانکہ انہی کے صوبے ميں ہر وقت شريعت نافذ کرنے کا رولا ڈلا ہوتا ہے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

منیر عباسی
November 24th, 2009 پر 6:19 pm

@اسماء, میں ہر گز جواب نہ دینا چاہتا تھا، مگر آپ نے آخر کار نام لے دیا میرا۔
:twisted:
آپ کی تحریر پڑھ کر میرے ذہن میں کافی سوال اٹھتے ہیں، مگر وہ پھر کبھی سہی۔ :smile:

آپ کے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ خان صاحبان تو سٹیتیو ٹائپ کے طور پر مشہور ہو گئے ہیں، ورنہ پنجاب کے ضلع اٹک کی تحصیل حضرو تو شائد خان صاحبان کو بھی پیچھے چھوڑ دے۔
:???: یہ اور بات کہ ان کا کسی کو پتہ نہیں۔ باقی یہ بیماری ہر جگہ عام ہے۔ کسی علاقے تک محدود نہیں۔

جہاں رہ گئی شریعت نافذ کرنے کی بات تو کی آپ نے سُنا نہیں وہ مشہور جملہ؛
’چوری میرا پیشہ ہے اور نماز فرض ہے‘
اس جملے میں چوری اور پیشے کی جگہ کچھ بھی فرض کیا جاسکتا ہے۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

جعفر
November 24th, 2009 پر 8:55 pm

@منیر عباسی, میں تو کمنٹنا بھی نہیں چاہتا تھا اس پر لیکن آپ کے آخری فقرے کی داد دینےکے لئے مجبورا کمنٹنا پڑ رہا ہے…

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ہمیں احساس تحفظ کی ضرورت ہے
November 26th, 2009 پر 3:06 am

@اسماء, سیانے کہتے ہیں کہ شیطان سے بھی سیکھ لیا کرو

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلوُ
November 27th, 2009 پر 6:00 pm

@اسماء, کم سے کم اس پوسٹ کی پہلی دو لائنوں میں تو کوئی ایسی بات نہیں آپی

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 23, 2009 بوقت 11:12 pm
 4 

جیسی سوچ تھی ویسا ہی انجام بھی ہوا.
ویسے یہ چار ہزار روپے دئیے کہاں سے؟
شک ہونے لگا ہے :roll:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

عبداللہ
November 25th, 2009 پر 8:23 am

@محمداسد, اسے کہتے ہیں چوروں کو پڑ گئے مور!

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 24, 2009 بوقت 1:14 am
 5 

ویسے یہ گندگی پنجاب میں بھی خاصی عام ہے ، کبھی پنجاب کے “پنڈوں” میں جا کر دیکھیں ۔ کراچی والے تو ایک عدد جلوس بھی بکال چکے ہیں کہ ہمیں “خاص حقوق” دیے جاءیں ۔ پٹھان چلو اس بات کا ہی نمبر لے گےء کہ وہ پھر بھی دین کا نعرہ لگا دیتے ہیں ۔ اس حساب سے تو پٹھان سارے پاکستانیوں سے غیرت مند اور دین دار ہوے ۔ میں جب اپنے کزن کے گاوں میں گیا تھا تو جو سٹوریاں وہاں سنیں اور جو آنکھوں دیکھا حال تھا اسمیں تو ایک بھینس کی جان بخشی صرف اسی وجہ سے نہ ہوی کیونکہ اسنے ہلنے سے انکار کر دیا ۔ اور ۔۔۔ حضرات سے بڑی معذرت کے ساتھ وہ ۔۔۔ کے نام پر گدھوں پر باریاں لگاتے ہیں ۔ اب آپ لوگ کہیں گے کہ یہ باتیں کرتے کیوں ہیں ۔ تو جنابو جو ہمارا معاشرہ ہے اسکی گندگی بیان کرنے کے لیے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دفعہ جب میں نے مولانا ارسلان بن اختر میمن کی کتاب جوانی کو ضایع کرنے کے نقصانات سکین کی تو میں اس شش و پنج میں تھا کہ لگای جاے یا نہیں ۔ تو ایک بھای نے کہا کہ جب ان لوگوں کو ایسی گندی حرکتیں کرتے شرم نہیں آتی تو اسکا علاج پڑھتے ہوے شرم کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ بہرحال اللہ ہمیں اس گندگی سے بچنے کی توفیق عطا فرماءیں اور ان جیسے گندے لوگوں کی وجہ سے ہمیں اس عذاب سے بچاءیں جو قومِ لوط پر آیا تھا ۔
[Sorry for Moderation]

[اسے ذرا جواب تو دیں]

عبداللہ
November 25th, 2009 پر 1:00 am

@انکل ٹام, کراچی میں بھی جن چند بے غیرتوں نے یہ گند کیا وہ بھی وہیں کہیں سے تعلق رکھتے تھے جن علاقوں کا ذکر خیر یہاں ہورہا ہے!
اور بھائی تم نے تو بہت ہی خوفناک باتین سنادیں کہ انسان تو انسان جانور بھی ایسے درندوں سے محفوظ نہیں ہیں اور کیا آپ لوگون کو علم ہے کہ ایسے جانور کے بارے میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے کہ ایسا جانور اگر حلال بھی ہے تو اس لعنتی کام کے بعد حرام ہوجاتا ہےاور جس نے یہ غلیظ کام کیا اس کی تو بخشش ہی نہیں ہے، یا اللہ تو ہمیں ہدایت عطا فرما آمین،

[اسے ذرا جواب تو دیں]

انکل ٹام
November 25th, 2009 پر 1:09 am

@عبداللہ, واہ واہ کتنا بڑا جھوٹ بولا ہے ۔۔۔ یعنی سارے پٹھان احتجاج کرنے کے کراچی آے تھے ۔۔۔ کیا کمال کی بات ہے تو پھر ہم لاہور والے احتجاج کرنے اسلام آباد جایا کریں گے اور اسلام آباد والے جہلم جایا کریں ، جہلم والے ساہیوال اور ساہیوال والے میاںچنو ۔۔۔ اور میں نے جو وہاں کے رہنے والوں سے سنا ہے وہ یہاں بتایا ہے ۔ اور گدھے کے ساتھ متعہ کرنا تواتر کے ساتھ مشہور ہے ۔  

[اسے ذرا جواب تو دیں]

عبداللہ
November 25th, 2009 پر 8:18 am

@انکل ٹام, مینے صرف پٹھانوں کی بات تو نہیں کی تھی :cool:
وہ پٹھان تھے پنجابی تھے یا جو بھی تھے اب کراچی میں رہتے ہیں تو کراچی والے ہی کہلائیں گے :oops:
اور بھائی یہ سب چیزیں آپکے یہاں مشہور ہوں گی میں تو پہلی بار ہی سن رہا اور پڑھ رہا ہوں!

انکل ٹام
November 26th, 2009 پر 7:06 am

@عبداللہ, جناب شاید آپ کبھی کسی گاوں نہیں گئے اسی لیے ، اور گدھے والی بات میں نے ان لوگوں سے سنی ہے جو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور ایک بندے نے بات کی ہوتی تو کوی کہہ بھی سکتا تھا ایک سے زیادہ لوگوں سے سنی ہے ،

November 24, 2009 بوقت 5:19 am
 6 

0 0 0
0 0

0 0 0 0

0 0 0

مت پوچھو بلُو اور اس کے دوستوں پہ کیا گزری ہو گی

اب تو پانی میں سرف ایکسل ملا کر سٹرا سے بلبلے اُڑاتے ہوں گئے
:mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلوُ
November 27th, 2009 پر 12:38 am

@لالے کی جان, سر جی بلو نہیں پپو

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 24, 2009 بوقت 10:48 am
منصور احمد
 7 

واہ جی واہ ویسے میں خود پشاور کا رہنے والا ہوں۔۔۔ اور ادھر کے پٹھانوں میں یہ مرض اچھا پایا جاتا ہے۔۔ خُدا ہم سب کو ایسی لعنت سے بچائے۔۔۔۔

ڈفر بھائی اس دفعہ بھی نمبر لے گئے۔۔۔ زبردست

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلوُ
November 27th, 2009 پر 12:37 am

@منصور احمد, ویسے عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ تبصرہ کرنے والے یہ دیکھتے ہی نہیں کہ پوسٹ کا لکھاری ہے کون بس ڈفر کی ہی تعریفیں شروع کر دیتے ہیں چلو کوئی بات نہیں ڈفر نے اپنے بلاگ پر لکھنے کی اجازت دے دی ہی تو تعریفیں اس کی ہی سہی :idea:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 24, 2009 بوقت 11:12 pm
 8 

:| بلکہ :???:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلوُ
November 27th, 2009 پر 6:02 pm

@عمر احمد بنگش, ؟؟؟؟؟

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 25, 2009 بوقت 1:58 am
 9 

Bhai great yaar. Bohat maza aaya parh kar. Yaqeen janain k main office main apna task complete kar k bore ho raha tha to apka khyal aa gya. Main ne foran apni web site main apka name likh kar search mari aur apkay blog per aa gya. yeh parh kar sab boryat khatam ho gae hai.. Thanks Duffer bhai..

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلوُ
November 27th, 2009 پر 12:40 am

@شاہد ریاض, بہت شکریہ جناب

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 25, 2009 بوقت 7:49 pm
 10 

:idea:
اردو کی خوب “خدمت” ہو رہی ہے .

[اسے ذرا جواب تو دیں]

راشد کامران
November 26th, 2009 پر 1:49 am

@اظفر, جناب تمام بلاگ صرف اردو کی خدمت کے لیے نہیں بنائے گئے ہیں بلکہ اظہار رائے کے لیے بھی بنائے گئے ہیں. موضوعات اور ان کے اظہار کے لیے استعمال کی گئی زبان سے اختلاف ممکن ہے لیکن کم از کم اس بلاگ کے بارے میں یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ اردو میں بلاگنگ کے لیے بنایا گیا ہے نا کہ اردو کی خدمت کرنے کے لیے. اردو کی خدمت کے لیے “اردو ویب” اور اس سے ملتی جلتی ویب سائٹس موجود ہیں.

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلوُ
November 27th, 2009 پر 12:40 am

@راشد کامران, :idea:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 25, 2009 بوقت 9:31 pm
 11 

میں سوچ رہا ہوں کیا تبصرہ کروں……

اور کہوں کیا……..؟

اللہ کی قسم میں بھمبر کا رہنے والا ہوں چکری روڈ پر تو میں کرایہ پر رہتا ہوں

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلوُ
November 27th, 2009 پر 12:35 am

@ہمیں احساس تحفظ کی ضرورت ہے, یہ تو شک میں ڈالنے والی بات ہے بھائی :arrow:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 26, 2009 بوقت 3:11 am
 12 

ابھی کچھ عرصے پہلے ایسی ہی کہانی پہ مبنی ایک انڈین فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اگرچہ اس وقت یہ بات عجیب لگی کہ اس میں خان صاحب کا کردار ادا کرنے والے کا پس منظر مسلمان مافیا کا بتایا گیا تھا۔ اسکا نام میں بھول رہی ہوں کچھ دو چالیس کی آخری میل تھا شاید۔
اچھا، اچھا ایک بات بتائیں یہ پٹھانوں کو اتنی کھجلی کیوں ہوتی ہے۔ اکیلے کھڑے ہوں یا بس اسٹاپ پر لوگوں کی بھیڑ میں، اتنا کیوں کھجاتے رہتے ہیں۔ اب سب پٹھان اس بات پہ ناراض نہ ہوں۔ باقی قومیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو میں نے اتنا کھجاتے نہیں دیکھا۔ یہ کہیں میرا متعصب مشاہدہ تو نہیں۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلا
November 26th, 2009 پر 9:46 pm

@عنیقہ ناز, اس بات کا جواب آپ کو عبد ِ اوم بہتر دے سکتے ہیں.

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 26, 2009 بوقت 7:36 pm
Usman
 13 

:cry: :evil: :lol: :idea: :grin: :?: :???: :arrow: :arrow: :!: :idea: :lol: :mrgreen: :o :oops: :razz: :roll: :sad: :shock: :smile: :twisted: :x :| ;-)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 27, 2009 بوقت 6:08 pm
 14 

بات تو ٹھیک ہی ہے، کنجری و رنڈی کی کمائی کیا ‘کمائی’ نہیں ہوتی؟ اب اگر مزدور محنت کرنے کی بجائے اپنی جیب سے ٹھیکیدار کو دیہاڑی دے گا تو کب تک کام چلے گا؟
با برکت کمائی کے لئے ”خون“ پسینہ تو بہانا ہی پڑتا ہے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

December 9, 2009 بوقت 2:06 am
 15 

احم احم۔۔۔۔ اس پپو کا نام بتا دوں میں سب کو، مسٹر ڈفر؟؟ ;-)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

December 22, 2009 بوقت 10:12 pm

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Firefox Supported
English Blog