”چل یار پیسے کماتے ہیں“ ![]()
علاقے کے کچھ فارغ لڑکوں نے پلان بنایا
پلان کے مطابق تمام لڑکے موٹر سائیکلوں پرسوار ہو کر پشاور موڑ کی طرف ہو لئے
ایک لڑکا جو سب سے پپو تھا سٹاپ پر اتر گیا اور باقی لڑکے پیچھے اندھیرے میں چھپ گئے تاکہ موقع دیکھ کر بھاگ سکیں۔
تھوڑی دیر بعد ایک بڑی سی گاڑی رکی جس میں ایک ٹھیک ٹھاک قسم کے خان صاحب بیٹھے تھے۔ انہوں نےلڑکے کو دیکھ کر پوچھا کتنے پیسے؟؟؟
لڑکے نے جواب دیا دو ہزار ![]()
اب پلان یہ تھا کہ جیسے ہی گاڑی میں بیٹھ کر پیسے ملیں گے تو پپو گاڑی سے اتر جائے گا اور یہ سب لڑکے پیسے لے کر بھاگ جائیں گے لیکن ۔۔۔
لڑکا گاڑی میں بیٹھا اور خان جی سے دو ہزار روپے لیتے ہی گاڑی سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ مگر یہ کیا؟ گاڑی آٹو میٹک ہونے کی وجہ سے لاک ہوگئی اور پپو خان صاحب کی منتیں کرنے لگا لیکن خان جی نے ایک نہ سنی اور گاڑی اپنی چکری روڈ پر واقع کوٹھی کی طرف بھگادی۔ باقی لڑکے بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولئے اور جب کوٹھی پر پہنچے تو ان کا استقبال کیا پانچ عدد مسٹنڈےگن مینوں نے
۔
ہو تو یہ بھی سکتا تھا کہ خان صاحب چاہتے تو پپو کی خبر گیری کے ساتھ ساتھ گن مینوں کا بھی کچھ ”خیال“ کر لیتے لیکن شاید ان کی ”شرافت“ نے اس بات کی اجازت نہیں دی اور انہوں نے مذاکرات کے بعد چار ہزار روپے لے کر پپو اور اس کے دوستوں کی ”جان“ بخش دی۔
یہ ایک سچا واقعہ ہے اور ہم اس کے صرف داستان گو















ابتک تبصرہ جات 32
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں