پہلی بات تو یہ کہ ”ڈ“ پر پیش نہیں ہے اس لئے اس لفظ کو ڈوبا (DOBA) پڑھا جائے گا۔ اگر آپ نے کبھی تختی نہیں لکھی تو اس کی تعریف یہ ہے کہ ”دوات میں قلم لگانے کے عمل کو ڈوبا لگانا کہا جاتا ہے“۔
سکول میں تھے تو ایک دفعہ ہمارے کلاس ٹیچر کی غیر حاضری کی وجہ سے ہماری کلاس سنبھالنے والے بٹ صاحب نے ہمیں ایک واقعہ سنایا۔ یہ واقعہ سننے کے بعد ہم میں سے اکثریت کی رائے یہ تھی کہ اس عمر میں بھی بٹ صاحب جیسی سرخ و سپید رنگت والا بندہ یقیناً بچپن میں خاصا پپو رہا ہو گا اسی وجہ سے ہمارا یہ شک پختہ ہوتا تھا کہ یہ واقعہ یقیناً بٹ صاحب کی آپ بیتی ہی ہے۔ اور ہو نا ہو ہمیں کیا؟ سب چھوڑیں کہانی پر دھیان دیں
تختی کے زمانے کی بات ہے کہ امتحان ہو رہے تھے اور ایک پیارے سے پڑھاکو بچے کے پاس دوات نہیں تھی۔ وہ سب کو کہہ رہا تھا ”ایک ڈوبا دے دے“۔ استاد کی سختی کی وجہ سے کوئی اس ڈوبا دینے کی ہمت نہیں کر رہا تھا کہ کلاس کا حرامی ترین بدمعاش لڑکا اٹھا اور ”نا معلوم یک جملی مختصر مذاکرات“ کے بعد اسے ڈوبے دینے کی آفر کی۔ استاد صاحب کی سختی راجے کی اس اچھائی کی وجہ سے خوشی میں بدل گئی اور راجہ صرف ڈوبے کی بدولت کلاس کے سامنے ولن سے ایک دم ہیرو بن گیا۔
یہاں ہماری کہانی کو ایک بریک لگتی ہے لیکن ”ابھی کہانی باقی ہے میرے دوست“ اور باقی کہانی آپ اگلے پیراگراف کے بعد پڑھیں گے
بس جناب مجھے آج کل یہ واقعہ یاد آرہا ہے اپنے ملکی سیاسی حالات دیکھ کر۔ مجھے لگتا ہے کہ راجے کی کہانی ہماری سیاست میں دہرائی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے الطاف بھائی نے این آر او پر اصولی مؤقف کا ڈوبا دے کر عوام کے دل جیت لئے ہیں اور مجھے یہ بندہ ولن سے ہیرو بنتا نظر آ رہا ہے۔ لیکن میں اس شش و پنج میں مبتلا ہوں کہ کیا اس دفعہ ”استاد کی سختی“ خوشی میں بدلے گی؟ مزید یہ کہ ”نا معلوم یک جملی مختصر مذاکرات“ بھی تو ابھی تک نا معلوم ہی ہیں نا!
تو جناب اب آتے ہیں بقیہ کہانی کی طرف۔ امتحان کے بعد ”راجہ صاحب“ پپو لائق بچے کو ”نا معلوم یک جملی مختصر مذاکرات“ یاد دلواتے ہیں اور سکول سے ملحقہ مسجد کے غسل خانے میں پپو بچہ صاحب مذاکرات کا عملی جامہ ”اتارتے“ہیں اور راجہ صاحب مذاکراتی وعدوں پر چنگی طرح ”عمل درآمد“ کرتے ہیں۔
اللہ نا کرے کہ ہماری سیاست میں بریک کے بعد کی یہ کہانی دہرائی جائے لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟ ![]()
بس آپ یہ بتائیں کہ اس دہرائی جانے والی کہانی میں پپو بچے کا کردار ادا کرنے والے کا سر نیم کیا ہو گا؟
مجھے تو لگتا ہے کہ ان ڈوبوں کی سیاست کا شکار ہو گا اس کا اصل حقدار، ایک ”شریف“ اور پپو بچہ۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔












ابتک تبصرہ جات 51
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں