8
Nov

ڈوبوں کی سیاست

بھیجا ہے  ڈفر نے کُچھ نا پُچھ, گندے انڈے میں

938 بار دیکھا گیا

پہلی بات تو یہ کہ ”ڈ“ پر پیش نہیں ہے اس لئے اس لفظ کو ڈوبا (DOBA) پڑھا جائے گا۔ اگر آپ نے کبھی تختی نہیں لکھی تو اس کی تعریف یہ ہے کہ ”دوات میں قلم لگانے کے عمل کو ڈوبا لگانا کہا جاتا ہے“۔
سکول میں تھے تو ایک دفعہ ہمارے کلاس ٹیچر کی غیر حاضری کی وجہ سے ہماری کلاس سنبھالنے والے بٹ صاحب نے ہمیں ایک واقعہ سنایا۔ یہ واقعہ سننے کے بعد ہم میں سے اکثریت کی رائے یہ تھی کہ اس عمر میں بھی بٹ صاحب جیسی سرخ و سپید رنگت والا بندہ یقیناً بچپن میں خاصا پپو رہا ہو گا اسی وجہ سے ہمارا یہ شک پختہ ہوتا تھا کہ یہ واقعہ یقیناً بٹ صاحب کی آپ بیتی ہی ہے۔ اور ہو نا ہو ہمیں کیا؟ سب چھوڑیں کہانی پر دھیان دیں
تختی کے زمانے کی بات ہے کہ امتحان ہو رہے تھے اور ایک پیارے سے پڑھاکو بچے کے پاس دوات نہیں تھی۔ وہ سب کو کہہ رہا تھا ”ایک ڈوبا دے دے“۔ استاد کی سختی کی وجہ سے کوئی اس ڈوبا دینے کی ہمت نہیں کر رہا تھا کہ کلاس کا حرامی ترین بدمعاش لڑکا اٹھا اور ”نا معلوم یک جملی مختصر مذاکرات“ کے بعد اسے ڈوبے دینے کی آفر کی۔ استاد صاحب کی سختی راجے کی اس اچھائی کی وجہ سے خوشی میں بدل گئی اور راجہ صرف ڈوبے کی بدولت کلاس کے سامنے ولن سے ایک دم ہیرو بن گیا۔
یہاں ہماری کہانی کو ایک بریک لگتی ہے لیکن ”ابھی کہانی باقی ہے میرے دوست“ اور باقی کہانی آپ اگلے پیراگراف کے بعد پڑھیں گے
بس جناب مجھے آج کل یہ واقعہ یاد آرہا ہے اپنے ملکی سیاسی حالات دیکھ کر۔ مجھے لگتا ہے کہ راجے کی کہانی ہماری سیاست میں دہرائی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے الطاف بھائی نے این آر او پر اصولی مؤقف کا ڈوبا دے کر عوام کے دل جیت لئے ہیں اور مجھے یہ بندہ ولن سے ہیرو بنتا نظر آ رہا ہے۔ لیکن میں اس شش و پنج میں مبتلا ہوں کہ کیا اس دفعہ ”استاد کی سختی“ خوشی میں بدلے گی؟ مزید یہ کہ ”نا معلوم یک جملی مختصر مذاکرات“ بھی تو ابھی تک نا معلوم ہی ہیں نا!
تو جناب اب آتے ہیں بقیہ کہانی کی طرف۔ امتحان کے بعد ”راجہ صاحب“ پپو لائق بچے کو ”نا معلوم یک جملی مختصر مذاکرات“ یاد دلواتے ہیں اور سکول سے ملحقہ مسجد کے غسل خانے میں پپو بچہ صاحب مذاکرات کا عملی جامہ ”اتارتے“ہیں اور راجہ صاحب مذاکراتی وعدوں پر چنگی طرح ”عمل درآمد“ کرتے ہیں۔
اللہ نا کرے کہ ہماری سیاست میں بریک کے بعد کی یہ کہانی دہرائی جائے لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟ ;-)
بس آپ یہ بتائیں کہ اس دہرائی جانے والی کہانی میں پپو بچے کا کردار ادا کرنے والے کا سر نیم کیا ہو گا؟
مجھے تو لگتا ہے کہ ان ڈوبوں کی سیاست کا شکار ہو گا اس کا اصل حقدار، ایک ”شریف“ اور پپو بچہ۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Twitter
  • email
  • Live
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 51

 1 

یار اردو بلاگز پڑھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ بہت عمدہ طریقے سے آپنے مسئلے کو بیان کیا ہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کوئی خان صاحب اس ساری گیم میں اینٹری ماریں؟؟؟

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 3:57 am

@حارث گلزار, خاناں نوں اپنی تے نبیڑ لین دیو

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 8:40 am
arifkarim
 2 

بہت خوب جناب۔ :idea: :mrgreen:
آپکی ڈفریاں کمال کی ہیں

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 3:57 am

@arifkarim, شکریہ

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 9:14 am
 3 

بہت خوب .. :idea:

اب سیاست میں داخل ہو گئے جناب والا. :???:

یہ بھی تو ہو سکت ہے اس مرتبہ راجے کی شامت آ جائے، یا استاد لائق پپو بچے کی طرف داری کرتے ہوئے راجے کو اس سے دور رکھے؟

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 3:58 am

@منیر عباسی, نا سر جی داخل کہاں ہوا، ایویں چلتے چلتے ہتھ مارا ہے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 9:32 am
 4 

آپ نے موجودہ حالات پر بڑی اچھی پھبتی کسی ہے
ایم کیو ایم کی قلابازی نے بہت سوں پر شادی مرگ کی سی کیفیت پیدا کردی ہے.
اب یہ کیفیت کب تک برقرار رہتی ہے
شاید تب تک، جب تک یہ پارٹی دوبارہ اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہو چکی ہوگی.
اور ہم پپو کی طرح . . .

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 3:58 am

@شازل, ہیں جی، ہم کیوں پپو ؟ :O

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 10:02 am
 5 

ہہہہم
ماضی میں جو معشوق تھے حال میں وھ عاشق ہیں
بھر گئی جب ٹنکیاں بہنے لگی ٹوٹنیاں
یہ معاشرھ هی ڈوبے دینے اور لینے والوں کا ہے
ایک اچھا خاصا شادی شدھ بندھ کہ رہا تھا اب اس نے ایک خسرھ رکھ لینا ہے
میں نے پوچھا وہ کیوں تم تو شادی شدھ هو؟
اس کہا
جب حالات میرے ڈوبے لیں گے میں خسرے کے ڈوبے لیا کروں گا

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 4:00 am

@خاور, سر جی اس کو بتانا تھا کہ حالات کے ہتھے بندہ چڑھ جائے تو لینے دینے والی چوائس ختم ہو جاتی ہے. فیر کھسرا اوور ہیڈ بن جاتا ہے ;)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 12:24 pm
کنفیوز کامی
 6 

اس دفعہ بھی استاد خوش ہی ہو گا کیونکہ ہیڈ ماسٹر استاد سے تگڑا ہے پہلے کی طرح جب ایک حرامی بدمعاش کو کھلی چھٹی دی تھی۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 1:18 pm
 7 

زبردست

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 1:20 pm
 8 

شریف بچہ اب ہر وقت دوات جیب میں رکھتا ہے اس کا پرانا تجربہ اپنے پاس ہے کیونکہ پچھلی دفعہ بلستکار کرنے والا نہیں والی تھی :mrgreen:
مجھے تو نظر آ رہا ہے کہ اس دفعہ راجے کو لینے کی دینی پڑ جائے گی

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 2:28 pm
 9 

یار ۔۔۔ بولتی بند کردی ہے تونے ۔۔۔
:mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 4:13 am

@جعفر, کہاں یار مجھے تو اپنی پتلون سنبھالنی پڑ رہی ہے :twisted:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 3:40 pm
 10 

لگتا ہے آپ سعادت حسن منٹو سے بہت متاثر ہیں وگرنہ اتنا کھل کر نہ لکھتے. بات تو ٹھیک ہے لیکن کچھ زیادہ ہی بالغانہ ہے.

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 3:44 pm
 11 

وہ منہ میں خاک والہ کیا جملہ تھا :razz:
یہاں دیسی ٹیبلوئید ٹائپ اخبارات میں تو دو تین ہفتہ پہلے ہی چھپ چکا ہے کہ الطاف اگلا صدر ہے.

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 4:50 pm
 12 

اسطرح کی “بالغانہ“ تحریر کے لئیے خاور چاچا نے اپنے آپ کو “وقف“ کر رکھا ہے۔ آپ اس طرزِ تحریر سے اجتناب برتتے تو ذیادہ بہتر تھا۔ اپنے تخلیقی سمندر کو نقل کے دریا میں بند نہ کریں-

ایک بات کہنے کے ہزار طریقے ہوتے ہیں۔ دلچسپ بھی اور غیر عامیانہ بھی۔ اور آپ کو بات اپنے اسلوب سے کہنے کا فن آتا ہے تو پھر؟؟؟؟ :twisted:

ہر لکھنے والے کا اپنا خاص اسلوب ہوتا ہے۔ آپ کا اپنا اسلوب میرے سمیت دیگر معزز قارئین کو بھی بے حد پسند ہے۔اپنی تخلیقی قوتوں کو مزید اجاگر کریں ۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

کنفیوز کامی
November 9th, 2009 پر 3:26 am

@جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین, سے متفق ہوتے ہوئے یہی کہوں گا کہ ڈفر بن کھو کھر نہ بن کہ کھو جائے۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 4:05 am

@جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین, جناب رول ماڈل سے بندہ تھوڑا بہت متاثر تو ہوتا ہی ہے نا. اور میں نے تو بلاگ ہی کھوکھر استاد سے متاثر ہو کر لکھنا شروع کیا ہے.
کدی کدی تے رعَیت کریا کرو نا :smile:
@ کامی : اس کا مطلب ہے کہ منزل قریب ہے ;-)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 6:01 pm
اسماء
 13 

خبردار جو تم نے راجوں کو بدنام کرنے کی سازش کی ميں خرم بھٹی اور خرم شہزاد مل کر وہ کريں گے کہ کيا ياد کرو گے :grin:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

dara
November 8th, 2009 پر 11:59 pm

@اسماء, عمل درآمد؟ :razz:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 4:06 am

@dara, یار منہ میں خاک والی بات بدتمیز نے تیرے لئے ہی کی ہو گی :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

کنفیوز کامی
November 9th, 2009 پر 3:23 am

@اسماء, بھٹی

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 4:06 am

@اسماء, او جی ذات کے راجوں کی نہیں صرف نام کے راجوں کی بات کر ریا ہوں، آپ ایویں دل پہ مت لیں

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 9:38 pm
 14 

ویسے ڈفر آج کل لوگ بسکٹ بھی چائے میں ڈوبو ڈوبو کر کھاتے ہیں ۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 4:08 am

@تانیہ رحمان, آج کل نئی جی
یہ ڈوبوں کی سیاست لگتا ہے بڑی پرانی ہے
لوگ تو بسکٹ ایجاد ہونے سے پہلے بھی ان کو چائے میں ڈوبو ڈوبو کر کھاتے ہوں گے :razz:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 9, 2009 بوقت 3:02 am
 15 

الطاف کسی کو کیا ڈوبا دے گا…؟
اس کی تو خود کی شکل کھسروں والی ہے… :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 4:08 am

@اسید, صورت ہی نہیں یار سیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ;-)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 9, 2009 بوقت 5:28 pm
 16 

::: کامی ::: ہیڈ ماسٹر :shock: کون بھلا؟
::: بلو ::: نوازش :smile:
::: میرا پاکستان ::: منتو سے تو جی متاثر ہیں اور ضرور ہیں لیکن ہمارا ابھی سٹارٹ ہے نا ;-)
::: ککڑ ::: کیوں جی راجے کے ساتھ اس دفعہ یہ نیائے کیوں؟ :?:
::: بد تمیز ::: وہ دارا کو پتا ہو گا نا ;-)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 10, 2009 بوقت 4:13 am
 17 

یعنی کے گندے لوگ ہر زمانے میں موجود رہے ہیں ۔،، مجھے سمجھ نہیں آتی پھر لوگ یہ کیوں کہتے ہیں کہ پہلے کہ زمانے اچھے تھے ۔۔۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 10, 2009 بوقت 6:01 am
عبداللہ
 18 

انکل ٹام پہلے کے لوگ اس لیئے اچھے تھے کہ وہ اپنا گند ڈھانپ کر رکھاکرتے تھے اور آج کے لوگ اس گند کو ناصرف فخر سے دکھاتے ہیں بلکل اپنے بلاگس پر چھاپتے بھی ہیں تاکہ ساری دنیا کو پتہ چل سکے ،خود سوچیں جہاں استاد بچوں کو اس طرح کے غلیظ واقعات سنا رہا ہو وہاں بچے ڈفر اور خاور کھوکھر جیسے نہ ہوں گے تو پھر کیسے ہوں گے :???:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 5:29 pm

@عبداللہ, یعنی آپ کہنا چاہتے ہیں کہ پہلے لوگوں میں منافقت زیادہ تھی. استاد کا کام تو سکھانا ہوتا ہے اور کچھ ”بچوں“ کا کام کبھی نا سیکھنا :grin:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

عبداللہ
November 10th, 2009 پر 7:06 pm

@ڈفر, بلکل میں یہی کہنا چاہتا ہوں کے پہلے ایسے لوگ منافق ہوتے تھے اور آج ایسے لوگ بے غیرت اور بے شرم ہوتے ہیں!

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 12th, 2009 پر 2:21 am

@عبداللہ, کبھی آپ نفرت کی پٹی آنکھوں سے ہٹا کر پڑھیں اور دل سے کالک مٹا کر سمجھیں
اور سمجھیں نا سمجھیں
ہمیں یہ تو بتائیں کہ بٹ صاحب ہمارے استاد کب سے کہلوانے لگے؟
یا بٹ صاحب کی استادی سے آپکی کوئی تلخ یادیں وابستہ ہیں؟ :grin:

عبداللہ
November 16th, 2009 پر 11:06 am

جناب ڈفر صاحب میری اس تحریر میں آپکو نفرت کی پٹی اور دل کی کالک کہاں سے نظر آگئی؟
ہاں البتہ آپکی تحریر میں یہ سب کچھ بدرجہ اتم موجود ہےاور غلاظت سے بھرپور ہے اور آپکے معاشرے کی عکاسی بھی کرتی ہے!
اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ تحریر شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے :evil:
باقی بٹ صاحب آپکے کیا ہیں اس کی آپ نے وضاحت نہ کی اور بظاہر تحریر سے تو یہی انداذہ ہوا کہ وہ اپکی کلاس لے رہے تھے تو استاد ہی ہوئے اور ان کی عمر کے حوالے سے جو جملہ تھا اس سے یہ بھی سمجھ آرہا ہے کہ یہ کوئی لڑکا نہیں ہے اب شائد بات آپکی سمجھ میں آگئی ہو یا جان کر انجان بننا چاہ رہے ہیں تو آپ کی مرضی :???:

ڈفر
November 16th, 2009 پر 3:33 pm

@عبداللہ, بس جی محبت ہے آپ کی، جس کے مقابلے کی وضاحتیں میرے پاس نہیں ہیں ;-)

November 10, 2009 بوقت 9:57 am
عبداللہ
 19 

اگر اس طرح کی غلیظانہ تحریروں سے فرصت مل جائے تو اسے بھی پڑھ لیجیئے گا آپ لوگ!

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/11/091109_gilgit_balti_elex_cr_rh.shtml

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 5:31 pm

@عبداللہ, ہم اب راجے کی گندی اور فحش باتیں نہیں پڑھتے. ہم نے اس سے توبہ کر لی ہے :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

عبداللہ
November 10th, 2009 پر 7:13 pm

@ڈفر, خدا کرے کہ آپکی بات سچ ہو اور آپلوگوں کو ہدایت نصیب ہو آمین

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلوُ
November 10th, 2009 پر 7:51 pm

@عبداللہ, ہاں بالکل
اللہ کرے ان لوگوں کو ہدایت نصیب ہو اور یہ لوگ بھی عبداللہ بن جائیں

November 10, 2009 بوقت 11:12 am
 20 

:lol: نس او اتھو

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 10th, 2009 پر 5:30 pm

@عمر احمد بنگش, ہالا جی :cool:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 10, 2009 بوقت 12:30 pm
 21 

ڈفر اس طرح کی تحریریں لکھتے رہو گے تو “مختاراں مائی” کی طرح کافی مشہور ہو جاؤ گے لیکن یار بٹ دا پتہ نیواں تے دے کتھے رہندہ ای ؟ :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 11, 2009 بوقت 10:00 am
 22 

mainy pahli dafa es tarha ki koi website dekhi hai aur bhot acha laga hai yahan a kr. ap k likhny ka style bhot acha hai.

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 12th, 2009 پر 2:23 am

@zamir, شکریہ جناب بہت بہت شکریہ
اب آ ہی گئے ہیں تو فیر آتے جاتے رہیے گا ;-)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 12, 2009 بوقت 1:05 am
 23 

یہ عبدِاوم جہاں جاتا ہے گند ہی کرتا ہے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

عبداللہ
November 16th, 2009 پر 11:09 am

@بلوُ, اس گند میں اور گند ڈالنے کی ہمت بھلا کس میں ہو سکتی ہے،ویسے گند اور صفائی میں تمیز کرنے کے لیئے ابھی جناب کو اور کتنا بڑا ہونا پڑے گا :grin:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 12, 2009 بوقت 1:40 pm
 24 

اس طرح کے ڈوبے تو جی سیاست کا لازمی جز ہوتے ہیں. صرف نام اور مقام تبدیل ہوتا ہے.
ہمممم جیسے ‘ملکی و قومی مفاد’ اورررررر ‘عوامی رائے’ وغیرہ وغیرہ.
اور سکول سے ملحقہ غسل خانہ میں تو ویسے ہی ہیں جیسا کہ حمام میں سب . . . ہیں ;-)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 12, 2009 بوقت 4:14 pm
 25 

او جی میری تو دلی خواہش ہے ، ان سارے کارٹونوں کو ملے کوءی ڈوبا لگانے والا۔ جان چھٹے ہماری بھی۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 14, 2009 بوقت 7:22 pm
 26 

پپو بچے کو ڈوبے لینے کیبعد اتنی تکلیف نہیں ہوئی ہو گی جتنی یہاں کچھ لوگوں کو ہو رہی ہے. لگتا ہے اس تھریر سے کافی پپو بچوں کے (پرانی یادوں کے) ٹانکے کھُل گئے ہیں :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

December 9, 2009 بوقت 2:16 am

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Firefox Supported
English Blog