30
Oct

تضاد

بھیجا ہے  دارا نے کیفے ڈی بکواس, گندے انڈے میں

889 بار دیکھا گیا

ہمارے محلّے میں بالکل ہمارے سامنے والے گھر میں ایک خاندان کی آمد ہوئی۔ حضرت داڑھی شدہ تھے اور داڑھی کی لمبائی اتنی کہ قمیض کے گلے کا کوئی بٹن نظر نہیں آتا تھا۔ فرض کر لیتے ہیں کہ ان کا نام تھا مومن خان۔ مومن خان صاحب کیا کام کرتے تھے ہمیں کوشش کے باوجود پتا نہیں چلا اور نا ہی ہم نے زیادہ ضرورت جانی ;-)
تو کرنا خدا کا یہ ہوا کہ چند ماہ بعد مومن خان صاحب کے نام کے ساتھ پہلے تو سیفی کا لاحقہ لگا اور اس کے بعد فقیر کا سابقہ۔ سو ہمارے اس محلے میں ہونے تک تین نیم پلیٹیں بدل کر آخری پلیٹ جو لگی اس پر نام لکھا تھا ”فقیر مومن خان سیفی“ جس کے نیچے لائن درج تھی کہ ”یہاں ہر منگل، جمعرات کو ۔۔۔ ورد کی محفل منعقد کی جاتی ہے“۔ محفل منعقد ہونے کی برکات تھیں یا کسی اور چِلّے کا چمتکار، کہ فقیر صاحب کا کھٹارا ویسپا تازہ تازہ لانچ ہوئی سینٹرو میں بدل گیا اور کالی داڑھی ڈانگری نما کپڑوں سے تبدیل شدہ کلف شدہ چٹے لٹھے کے سوٹ سے میچ کرنے لگی۔ ٹھیٹھ پنجابی شفاف اور شستہ اردو میں بدل گئی، وہ اردو جس کا شین قاف ہی نہیں عین غین اور لام میم بھی کامل ہونے کے باوجود لگتا تھا کہ حضرت اردو بول نہیں رہے بلکہ چبا چبا کر جَن رہے ہیں۔ خیر سانوں کی؟
گو ہمیں فقیر صاحب کی بیٹھک سے ”امی بھاؤ، امی بھاؤ“ یا ”لہور اے ، لہور اے“ کی آوازیں ہی آتی تھیں لیکن پرچے ”خاصے اچھے“ نا ہونے کے بعد ہم نے اپنے ایک دوست کے مشورے پر فقیر صاحب کی کٹیا کے در اقدس پر حاضری، محفل میں شمولیت اور دعائے خیر کرانے کا پروگرام بنایا۔ ابھی ہم پروگرام بنائے گھر کے سامنے ہی کھڑے تھے کہ کالج وین سے فقیر صاحب کی بیٹی اتریں اور ان کو دیکھ کر فقیر صاحب کے چھوٹے بیٹے نے دروازہ بند کر لیا۔ لڑکی نے گھنٹی ماری تو بچے نے پوچھا کون؟
جواباً لڑکی نے کہا ”تیری ماں کا ۔۔۔ حرام کے ۔۔۔ (اور یہاں کتے کو بطور خاص ایک سے زیادہ مخصوص ڈیوٹیاں اسائن کیں) ۔۔۔“
ابھی ڈیوٹیاں لگ ہی رہی تھیں کہ ابا جان کی آمد ہو گئی اور صرف لفظ ”حرامزادے“ نے ”کھل جا سم سم“ کا کام کر دیا، ورنہ ہماری یہ پوسٹ پچیس چھبیس لائینوں کو ٹَپ سکتی تھی۔

.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Twitter
  • email
  • Live
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 28

 1 

تمام خواتین و حضرات سے گزارش ہے کہ داڑھی کے بارے میں غلط زبان استعمال نہ کی جائے داڑھی سنت رسول ہے اسکی بے ادبی نہ کریں بلکہ اسکا غلط استعمال کرنے والے کی جتنی مرضی مٹی پلیت کریں۔ مہربانی ہو گیامید ہے یہاں سب مسلمان ہی آتے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

دارا
October 30th, 2009 پر 3:44 am

@ کامی بھائی یہاں پر صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ داڑھی ان کی سفید نہیں تھی بلکہ چہرے کو نور کو مزید واضح کرنے کے لئے بالوں کو بالکل سفید کر لیا گیا تھا اور اس کی وجہ کسی بیوٹی ٹپ کے کرشمے ہی ہوں گے کہ اگر بال سفید ہوں گے بھی تو ایسے سفید نہیں ہوتے جیسے ان صاحب کے ہو گئے تھے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 3:23 am
arifkarim
 2 

:idea: :mrgreen: :lol:
کمال کی ڈفریاں ہیں!

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 3:41 am
 3 

سلام ڈفر

پہلے سنت کی پیروی میں داڑھی رکھتے تھے اب لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے
ایسے ھی کچھ لوگوں کی وجہ سے لوگوں کا مذھبی لوگوں سے یقین اٹھ گیا ھے
اب مخلص لوگوں کو بھی درامہ سمجھا جاتا ھے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 4:03 am
arifkarim
 4 

داڑھی تو عشق رسول مقبولؐ کی طرف پہلی سیڑھی ہے۔ مگر آجکل تو محض ایک دکھاوا و فیشن بن گئی ہے۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 4:56 am
 5 

:idea:
:lol:
:evil:
:?:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

کنفیوز کامی
October 31st, 2009 پر 2:15 am

@عنیقہ ناز, عورت کا ذکر کرو تو ڈانگ مرد کا ذکر کرو تو تالیاں خوشیاں

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 8:48 am
 6 

دارا بھائی آپ فکر نہ کریں ہمارے محلے میں بھی ایسے تین چار خاندان آباد ہیں، جن کے ابا حضرات تو مولوی بنے گھومتے ہیں، اور بچوں کی حرکتیں ہی الگ ہوتی ہیں….

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 11:47 am
مسعودعلی
 7 

یار لیکن ان لوگوں کی وجہ سے داڑھی رکھنا تو نہیں چھوڑنا چاہیے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 1:52 pm
فارغ
 8 

اپنے ہی بچے کو حرام زادے :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 4:14 pm
 9 

اسی کو کہتے ہیں چراغ تلے اندھیرا.

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 4:57 pm
 10 

بڑے میاں س بڑے میاں ۔ چھوٹے میاں سبحان اللہ
بڑے میاں ہوئے لکھنے والے اور چھوٹے میاں مبصرین
داڑھی کو اتنی اہمیت دینے فیشن ہی ہو گیا ہے ۔ پہلے فرض ہوتے ہیں پھر سنت ۔ کوئی فرض پورے کرے گا تب ہی سنت کی باری آئے گی اور اس کے بعد داڑھی کی ۔کامران صاحب سے عرض ہے کہ مٹی پلیت نہیں ہوتی بلکہ پلید ہوتی ہے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

دارا
October 30th, 2009 پر 6:50 pm

@افتخار اجمل بھوپال, ارے انکل آپ تو غصہ ہی کر گئے، آپ کو کیوں لگا کہ زور داڑھی پر ہے؟
اچھا اس داڑھی والی لائن کو کاٹ دیتے ہیں. اب پڑھیے اور پھر تبصرہ کیجئے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

کنفیوز کامی
October 31st, 2009 پر 2:12 am

@افتخار اجمل بھوپال, سرجی اس عمر میں غصہ نہیں کرتے بلڈ کا پریشر بڑھ جاتا ہے ۔
دوجی گل۔۔ پنجابی میں پلیت ہی کہتے ہیں میں اردو سپیکر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :lol:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 5:41 pm
 11 

ایک دفعہ ٹرین میں مومن خان کی طرز کا بابا بیٹھا ہوا تھا.
پولیس والے نے مشکوک نظروں سے دیکھا اور بابا جی سے مکمل بائیو ڈیٹا پوچھا.
آخر میں بابا جی نے بتایا کہ وہ تین سال بعد گھر جا رہا ہے کیونکہ میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے.
پولیس والے نے طنزیہ انداز میں کہا وہ تو پھر آپ کا بیٹا نہ ہوا حرام زادہ ہوا کیونکہ آپ تین سال بعد گھر جا رہے ہو.
بابا ملنگ نے پولیس والے کو گھورا اور فرمایا
” بس……. کیا ہو سکتا ہے…؟ میں بھی اُسے پولیس میں بھرتی کروا دوں گا “

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 30, 2009 بوقت 10:27 pm
 12 

بھائی جان، کرسچئین سلیٹرنے بیٹ مین کی اداکاری کی تھی، جیسے ٹوبی میگوائر، سپائڈر مین بنا تھا۔ ان مومن خان صاحب کو بھی ایسے ہی سمجھیں، کسی کا بھیس بنالینے سے بندہ ویسا بن نہیں جاتا، یقین نہیں آتا تو سپائڈر مین کا کاسٹیوم پہن کر چھت سے چھلانگ لگا کر دیکھ لیں۔۔۔
:o

[اسے ذرا جواب تو دیں]

دارا
October 31st, 2009 پر 3:29 pm

@جعفر, :lol: بالکل درست :idea:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

صاحب
October 31st, 2009 پر 10:07 pm

@جعفر, سپائڈر مین کا کاسٹیوم پہن کر چھت سے چھلانگ لگانا تو آسان ہے لیکن اس کےلیے مکڑا کون کھائے گا ؟

[اسے ذرا جواب تو دیں]

بلوُ
November 3rd, 2009 پر 8:36 pm

@صاحب, سپائیڈر مین نے مکڑا کھایا نہیں تھا اسے مکڑے نے کاٹا تھا :roll:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

جعفر
November 1st, 2009 پر 10:21 am

@جعفر, یار یہ کرسچیئن سلیٹر نہیں کرسچئین بیل تھا۔۔۔ غلطی ہوگئی۔۔۔ :oops:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 31, 2009 بوقت 10:27 am
 13 

او یار یہ سیفی گروپ بڑا عام ہو رہا ہے ،،، یہ پاکستان میں بریلوی فرقہ سے نکلی ہوی ایک فرقی ہے ،، یہ کرتے کیا ہیں کہ سایڈ پر ایک لڑکا نعت پڑھ رہا ہوتا ہے ،، اور باقی گلے سے ہچکیاں نکال رہے ہوتے ہیں ،، اور سٹیج پر پر صاحب بمع چند بڑے مریدین بیٹھے ہوتے ہیں ،،، اور 5 سے 6 بندے مجمع عام میں مختلف پوزیشینز سمبھالے ہوتے ہیں ،،، اب ہوتا کیا ہے کہ ایک بندہ جاتا ہے پیر صاحب سے ہاتھ ملاتا ہے تو اسکو جھٹکے لگنے شروع ہو جاتے ہیں ،، اور وہ اپنے آپ کو ہاتھ مارتا ہے اور پاگلوں کی طرح گھومتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ انھیں “چٹکا” گروپ بھی کہتے ہیں اسی طرح باری باری لوگ اٹھتے ہیں اور ہاتھ ملاتے ہیں اور چٹکے کھاتے ہیں ،،، کچھ کو ہال آجاتا ہے اور وہ ناچنے لگتے ہیں ،،، باقی لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں بھی چٹکے ملیں گے چلو چل کے ہاتھ ملاتے ہیں ،،، یہ ایسے لوگوں کو گھیرتے ہیں ،،، طالبِ تحقیق کو یوٹیوب پر انکی کافی ویڈیوز مل جاءیں گی ،،، پیسے کمانے کا اچھا طریقہ ہے ،،،
گر کسی کو میری بات فرقہ واریت لگی ہو تو ،،،،
،
۔
۔
۔
لگدی رہے :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 1, 2009 بوقت 8:58 am
 14 

اس طرح کی ڈفریات مجھے اچھی نہیں لگتیں جو کہ تھوڑی بہت بھی مذہبی حوالے سے کیوں نہ ہوں.
اسلئیے ڈفر کنٹرول ورنہ زلزلے کا ایک جھٹکا اور لگا تو………………..

[اسے ذرا جواب تو دیں]

دارا
November 2nd, 2009 پر 10:44 am

@جٹاں دا مُنڈا, مذہبی نہیں معاشرتی حوالے سے ہے یہ

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 2, 2009 بوقت 10:08 am
 15 

علم و عمل کو عام کی جئیے۔ اندھیرے چھٹتے چلے جائیں گے۔ لوگ خود ہی ایمان و دیانت کی روشنی کو پالیں گے۔
خواندہ حضرات پاکستان میں کسی ایک ان پڑھ فرد کو زیورِ تعلیم سے مزین کر دیں۔ آدھی سے زیادہ آبادی خواندہ ہوجائے گی۔
جب تک جہالت رہے گی، قسم قسم کے بہروپئیے ایسے بابوں کا روپ دھار کر نہ صرف عام آدمی کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے بلکہ قوم میں محنت سے بھاگنے اور قسمت پہ بے تُکا یقین رکھنے کا چلن بھی عام ہوتا رہے گا۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 3, 2009 بوقت 4:47 am
Ali
 16 

duffer sahab bohat ala…dil khush kar diya. urdu mein na likhnay per darguzar kijye.

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 5, 2009 بوقت 3:16 am
 17 

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی آپ نےبہت اہم مسئلہ کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے دراصل اس میں سب سےاہم بات یہ ہے کہ ہمارازیادہ ترطبقہ انپڑھ ہے اسلئے وہ ان فقیروں کے چکروں میں پڑارہتاہے۔اوروہ چاہتاہے کہ ہرکام شاٹ کٹ ہوجائے۔حالانکہ ایسی بات نہیں ہے آپ اپنی پوری کوشش کریں اوررزلٹ کوخداتعالی پرچھوڑدیں اللہ تعالی انشاء اللہ اچھی کرتاہے۔ ہاں دعااچھی چیزہے لیکن کسی نیک آدمی سےجوکہ صرف شکل سےہی نہیں عمل سے بھی نیک ہواس سےکروائيں ۔ اورماں کی دعاتوجنت کی ہواہے۔ اللہ تعالی ہمیں ایسےفقیروں کے فریب سےبچائےاورسچامسلمان بننےکی توفیق دے(آمین ثم آمین)
اورہمیں اپنےساتھیوں محلے والوں دوست احباب جوکہ انپڑھ ہیں انکوتعلیم دینے کی ترغیب دیناچاہیےکیونکہ عالم کے قلم کی سیاہی شہیدکےخون سےبہترہے۔ واللہ اعلم الغیب

والسلام
جاویداقبال

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 8, 2009 بوقت 8:21 pm
 18 

کہتے ہیں کہ واعظ جو کہے وہ کرو، جو کرے وہ نہ کرو

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 12, 2009 بوقت 11:12 pm
 19 

”امی بھاؤ، امی بھاؤ“ یا ”لہور اے ، لہور اے“
واہ جی واہ :mrgreen: الٹی میٹ ہے یار :lol: :lol: :lol:
کتے کو بطور خاص ایک سے زیادہ اسائن کی جانے والی مخصوص ڈیوٹیوں کا بھی تفصیلا ذکر کر دو بھائی

[اسے ذرا جواب تو دیں]

December 9, 2009 بوقت 2:21 am

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Firefox Supported
English Blog