ہمارے محلّے میں بالکل ہمارے سامنے والے گھر میں ایک خاندان کی آمد ہوئی۔ حضرت داڑھی شدہ تھے اور داڑھی کی لمبائی اتنی کہ قمیض کے گلے کا کوئی بٹن نظر نہیں آتا تھا۔ فرض کر لیتے ہیں کہ ان کا نام تھا مومن خان۔ مومن خان صاحب کیا کام کرتے تھے ہمیں کوشش کے باوجود پتا نہیں چلا اور نا ہی ہم نے زیادہ ضرورت جانی ![]()
تو کرنا خدا کا یہ ہوا کہ چند ماہ بعد مومن خان صاحب کے نام کے ساتھ پہلے تو سیفی کا لاحقہ لگا اور اس کے بعد فقیر کا سابقہ۔ سو ہمارے اس محلے میں ہونے تک تین نیم پلیٹیں بدل کر آخری پلیٹ جو لگی اس پر نام لکھا تھا ”فقیر مومن خان سیفی“ جس کے نیچے لائن درج تھی کہ ”یہاں ہر منگل، جمعرات کو ۔۔۔ ورد کی محفل منعقد کی جاتی ہے“۔ محفل منعقد ہونے کی برکات تھیں یا کسی اور چِلّے کا چمتکار، کہ فقیر صاحب کا کھٹارا ویسپا تازہ تازہ لانچ ہوئی سینٹرو میں بدل گیا اور کالی داڑھی ڈانگری نما کپڑوں سے تبدیل شدہ کلف شدہ چٹے لٹھے کے سوٹ سے میچ کرنے لگی۔ ٹھیٹھ پنجابی شفاف اور شستہ اردو میں بدل گئی، وہ اردو جس کا شین قاف ہی نہیں عین غین اور لام میم بھی کامل ہونے کے باوجود لگتا تھا کہ حضرت اردو بول نہیں رہے بلکہ چبا چبا کر جَن رہے ہیں۔ خیر سانوں کی؟
گو ہمیں فقیر صاحب کی بیٹھک سے ”امی بھاؤ، امی بھاؤ“ یا ”لہور اے ، لہور اے“ کی آوازیں ہی آتی تھیں لیکن پرچے ”خاصے اچھے“ نا ہونے کے بعد ہم نے اپنے ایک دوست کے مشورے پر فقیر صاحب کی کٹیا کے در اقدس پر حاضری، محفل میں شمولیت اور دعائے خیر کرانے کا پروگرام بنایا۔ ابھی ہم پروگرام بنائے گھر کے سامنے ہی کھڑے تھے کہ کالج وین سے فقیر صاحب کی بیٹی اتریں اور ان کو دیکھ کر فقیر صاحب کے چھوٹے بیٹے نے دروازہ بند کر لیا۔ لڑکی نے گھنٹی ماری تو بچے نے پوچھا کون؟
جواباً لڑکی نے کہا ”تیری ماں کا ۔۔۔ حرام کے ۔۔۔ (اور یہاں کتے کو بطور خاص ایک سے زیادہ مخصوص ڈیوٹیاں اسائن کیں) ۔۔۔“
ابھی ڈیوٹیاں لگ ہی رہی تھیں کہ ابا جان کی آمد ہو گئی اور صرف لفظ ”حرامزادے“ نے ”کھل جا سم سم“ کا کام کر دیا، ورنہ ہماری یہ پوسٹ پچیس چھبیس لائینوں کو ٹَپ سکتی تھی۔
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔












ابتک تبصرہ جات 28
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں