نماز جمعہ کے بعد جماعت اسلامی کے لگائے گئے ریفرنڈم کے سٹال پر ایک باریش نمازی آیا اور سٹال پر کھڑے بندے کو با آواز بلند مخاطب کر کے بولا ”تُسّی سارے پین ۔۔۔ او“۔
سٹال پر موجود مزید باریش شخص بولا، ”پین ۔۔۔ تیری ۔۔۔ آں ۔۔۔ کنجرا، وڑ ایتھوں“
گالیوں کا تبادلہ دھینگا مشتی کا سبب بھی بن گیا اور اس کے خاتمے کی وجہ بنی مسجد سے آنے والے با ریش بزرگ کی یہ آواز، ”او پین ۔۔۔ تساں ساریاں نے کی پین ۔۔۔ پائی اے؟ چلو دفع او جاؤ ایتھوں، تواڈی ۔۔۔“
میرا وطن واپسی کا احساس وہیں دم توڑ گیا اور میرے دل کیا کہ اُن فل سٹاپی بزرگوں کو مخاطب کر کے کہوں ، ”او تیری ۔۔۔، پورا شو ای نی ویکھن دِتّا“
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔















ابتک تبصرہ جات 36
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں