24
Oct

تسی سارے پین ۔۔۔

بھیجا ہے  ڈفر نے مہمان خانہ, گندے انڈے میں

854 بار دیکھا گیا

نماز جمعہ کے بعد جماعت اسلامی کے لگائے گئے ریفرنڈم کے سٹال پر ایک باریش نمازی آیا اور سٹال پر کھڑے بندے کو با آواز بلند مخاطب کر کے بولا ”تُسّی سارے پین ۔۔۔ او“۔
سٹال پر موجود مزید باریش شخص بولا، ”پین ۔۔۔ تیری ۔۔۔ آں ۔۔۔ کنجرا، وڑ ایتھوں“
گالیوں کا تبادلہ دھینگا مشتی کا سبب بھی بن گیا اور اس کے خاتمے کی وجہ بنی مسجد سے آنے والے با ریش بزرگ کی یہ آواز، ”او پین ۔۔۔ تساں ساریاں نے کی پین ۔۔۔ پائی اے؟ چلو دفع او جاؤ ایتھوں، تواڈی ۔۔۔“
میرا وطن واپسی کا احساس وہیں دم توڑ گیا اور میرے دل کیا کہ اُن فل سٹاپی بزرگوں کو مخاطب کر کے کہوں ، ”او تیری ۔۔۔، پورا شو ای نی ویکھن دِتّا“

.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Twitter
  • email
  • Live
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 36

 1 

ہا۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔شیر۔۔بابا۔۔۔۔جیودا رہے۔۔۔شیر بابا۔۔۔ :mrgreen: :idea: :lol:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 3:43 am
Harris
 2 

oh bhaince ki ice! wajtay nahi hain yeh jay you eye walay!!! warr gaye bhae!! :p

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 4:04 am
 3 

ہم پہ زوال کیوں ہے بھلا؟؟؟
ہم علماء سو کے دور میں رہ رہے ہیں آج سب مولویوں کی پہن کو—- ;-) بس سارا زوال مک جائے گا میں زرا مصروف ہاں فہر سہی

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 4:23 am
arifkarim
 4 

:idea: :mrgreen: :lol:
حس مزاح میں آپ لاجواب ہیں

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 4:43 am
 5 

حنیف صاحب آپکی بات سے اتفاق نہیں کرتا ہم زوال میں اسی لیے ہیں کہ ہمارے لوگ خود تو دین سے جاہل ہوتے ہیں اسی لیے ہر داڑھی شدہ انسان کو مولوی بنا دیتے ہیں اور پھر شور مچاتے ہیں کہ ہم علماء سو کے دور میں ہیں ،۔،،،، کیا آپ لوگ کبھی یہ بھی مانیں گے کہ ہم دین سے جاہل ہیں ؟؟؟؟ بہت معذرت کے ساتھ ۔۔۔۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 5:10 am
 6 

چند لوگوں کا باریش ہونے کی وجہ سے گالی گلوچ دینا اس بات کی غماضی نہیں کرتا کہ ہر داڑہی والا لازمی طور پہ نہائت اخلاق یافتہ ہوگا۔ پاکستان اور خاصکر پنجاب میں گالی دینے کا تعلق سماجی رویوں سے ہے۔ اسمیں داڑھی یا داڑھی کی نسبت اسلام کا کوئی لینا دینا نہیں۔

جب تعلیم کم ، مسائل بہت ذیادہ اور حکمران بہرے ہونگے تو اس طرح کے سماجی رویے بجائے درست ہونے کہ مذید بگڑیں گے۔

پاکستان میں پچھلے باسٹھ سالوں سے ہمارے رویوں میں بڑھتے ہوئے تشدد (گالی دینا اور معمولی بات پہ باہم دست ِگریباں ہونا بھی تشدد کی ایک قسم ہے) کی وجہ، پچھلے باسٹھ سالوں سےہماری حکومتوں کی طاری اور جاری بے حسی اور عام شہری کو پاکستانی اداروں سے بجائے انصاف کی امید ہونے کہ الٹا کوتوالی سے سو جوتوں کا اندیشہ ہونے کی وجہ سے ، اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ معمولی لین دین کے تنازع سے لیکر قتل جیسے سنگین جرائم کے بارے میں شہری، ریاست سے ناامید ہیں۔ اور اپنے طور پہ اپنا سا انصاف کرنے پہ یقین رکھتے ہیں۔

یہ ہماری حکومتوں کی عام شہری کے لئے انصاف جیسے بنیادی حق اور سماج کے لئیے آبِ حیات قرار دئیے جانے والے حق انصاف کے بارے میں نااہلی کی ایک مثال ہے۔

تو یہ ظاہر ہے کہ آپس میں گھتُم گھُتا باریش افراد کے ہاتھ سے برداشت چھوٹ جانے میں بھی ان محرومیوں کا ہاتھ ہے جس کا ساری قوم شکار ہے۔

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 7:06 am
 7 

بلکل ٹھیک کہا آپ نے جاوید بھای ،،،

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 8:10 am
 8 

یہ ہمارے اجتماعی اخلاقی زوال کی کلاسک مثال ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکن کے بارے میں تصور کیا جاتا تھا کہ وہ بااخلاق، ہمدرد اور قوت برداشت رکھنے والا ہوتا ہے اور مجھے اس کا تجربہ بھی ہے۔
اب یہ حال ہوگیا ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر ارشاد فرماتے ہیں کہ میں ”جہاد کی کال“ دوں گا! جس جماعت کے بانی مودودی صاحب جیسے اہل علم اور شائستہ انسان تھے، آج اسی اجتماعی زوال کے ہاتھوں ہم منور حسن کے بھاشن سننے پر مجبور ہیں۔ اور یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ مچھلی سر سے گلنا شروع کرتی ہے!

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 10:37 am
 9 

باریش شخص کویہ کہنا تھا. :idea:

سالے سب کے سب چور ہیں :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 10:55 am
 10 

مذاق ایک طرف پر جاوید صاحب نے بالکل ٹھیک کہا
یہ کیا ڈفر آتے ہی گالم گلوچ شروع کردیا :shock:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
October 25th, 2009 پر 1:37 am

@بلوُ, ہاں شروع گالم گلوچ
مجھے تو اتنے دن گالی کے بغیر قبذ کی شکائت رہنے لگی تھی :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 12:12 pm
اسماء
 11 

ڈفر تم تو پورے پنجابی بن گئے ہو

[اسے ذرا جواب تو دیں]

کنفیوز کامی
October 24th, 2009 پر 6:10 pm

@اسماء, تو کیا ڈفر پٹھان ہے ۔ :shock:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
October 25th, 2009 پر 1:38 am

@کنفیوز کامی, یار، بڑی غلط بات ہے :sad:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

اسماء
October 25th, 2009 پر 4:38 pm

@کنفیوز کامی,
ففٹی ففٹی ہے يا ان بيٹوين يہ تو اب ڈفر خود ہی بتا سکتا ہے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
October 25th, 2009 پر 7:25 pm

@اسماء, نہیننننننں
یہ ففٹی فٹی لفظ کچھ فٹ نہیں بیٹھتا اس جگہ پر :x

ڈفر
October 25th, 2009 پر 1:38 am

@اسماء, شکر ہے کوئی تو مانا ;-)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 12:19 pm
 12 

جاوید گوندل صاحب نے معاسڑتی پہلو درست بیان کیا ہے اور جعفر صاحب نے اسی حوالے سے درست لکھا ہے ۔ جماعت اسلامی میں وہ لوگ ہوا کرتے تھے جو تشدد برداشت کر کے بھی اعلٰی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑتے تھے ۔ اس سلسلہ مین مودودی صاحب اور محمد طفیل صاحب کا ایک ایک واقعہ مین نے دو عینی شاہدین جو جماعت اسلام کے خلاف تھے سے ماضی میں سنے تھے جس سے میں ان دونوں کے اخلاق اور برداشت کا قائل ہو گیا تھا۔ یہاں بیان کروں تو تبصرہ بہت طویل ہو جائے گا

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 1:02 pm
 13 

اب آپ ہی بتائیں جب اوپر والوں نے بندوق اٹھا رکھی ہو تو نیچے والے گالی نہ دیں تو کیا کریں.

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 3:59 pm
اسماء
 14 

ميں نے خود اپنی گناہگار آنکھوں سے محمد علی ( مرحوم پاکستانی اداکار ، مياں صاحب آف زيبا) کے اعلی اخلاق اور برداشت کا عملی نمونہ امريکن ايمبيسی ميں ديکھا تھا ميں بھی انکے اخلاق اور برداشت کی قائل ہو گئی تھی يہاں بيان کروں گی سارا واقعہ تو تبصرہ لمبا ہو جائے گا کيونکہ افتخار اجمل صاحب نے لمبا تبصرہ نہيں کيا تو ميں کيوں کروں ميں اپنے بزرگوں کا ويسے بھی بہت ادب کرتی ہوں اور انکی اچھی باتوں کو اپنانے کی کوشش کرتی ہوں ڈفر کی طرح نہيں ہوں ميں ،

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
October 25th, 2009 پر 1:42 am

@اسماء, اب تو ہمیں وہ واقعہ سننا ہی ہے. میری نظر میں محمد علی صاحب بڑے نائس آدمی تھے . ان سے میں نے بہت کچھ سیکھنا تھا لیکن شائد وہ استادِڈفر بننے سے ڈرتے تھے جو امتحان لئے بغیر ہی اگلے جہاں پدھار گئے. اللہ ان کو جنت نصیب کرے اٰمین

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 4:09 pm
 15 

داڑھی میں دین نہیں دین میں داڑھی ہے ایسے بہت سے پین…….. ملیں گے آپ کو ہرطرف

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 6:56 pm
 16 

جماعت اسلامی کے سابق امیر میاں محمد طفیل نے یونہی نہیں کہا تھا کہ پنجابی صرف گالیوں کی زبان ہے۔ وہ حق الیقین کے مرحلے پر تھے :smile:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 24, 2009 بوقت 9:29 pm
 17 

افسوس ہوا جماعت کی حالت بارے سن کر

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 25, 2009 بوقت 1:30 am
 18 

ڈفر بھائی یار اپنا فون نمبر تو دو
باقی جو خالی جگہ ہے وہ سننی ہے

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
October 25th, 2009 پر 2:26 pm

@خرم شہزاد خرم, یار یہ خالی جگہ پُر کرے والے تو بڑے علامے مل جائیں گے صرف میں ہی کیوں؟ :???:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 25, 2009 بوقت 3:18 am
 19 

ان سب تبصروں سے میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ تبصرہ نگار حضرات اس ثقافت سے واقف نہیں ہیں جہاں یہ واقع پیش آیا.
بعض چیزیں ایک علاقے کے رہنے والوں کے لئے معمولی تصور کی جاتی ہیں اور بعض اوقات وہ روزمرہ کی بول چال کا ایسا جزو لاینفک بن جاتی ہیں کہ پھر ان باتوں کے بغیر گفتگو پھیکی محسوس ہوتی ہے.
مگر اس سب کے باوجود ، اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ انسان اپنی بات چیت میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے چھوڑ ہی دے. ڈفر ، مجھے لگتا ہے کہ تم نے صرف انگلی شہد میں ڈبو کر دیوار پہ ہی لگائی ہے. بس. :mrgreen:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
October 25th, 2009 پر 2:27 pm

@منیر عباسی, سر جی میں تو ساری بوتل دیوار پر الٹنا چاہتا تھا لیکن پھر ہوتا یہ کہ وزٹ تو سینکڑوں میں چلے جاتے اور تبصروں کی تعداد اس کا معکوس :grin:

[اسے ذرا جواب تو دیں]

اسماء
October 25th, 2009 پر 4:42 pm

@منیر عباسی, جناب کے علاقے کی بھی کچھ خصوصيات ہيں اور باتوں ميں تو ايک بات کا ذکر کيے بغير کوئی بات مکمل نہيں ہوتی کچھ ذکر انکا بھی کرنا تھا ميں نے کر ديا تو بلاگ بلاک ہو جائے گا

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
October 25th, 2009 پر 7:23 pm

@اسماء, بلاگ بلاک نہیں ہوتا جی ، ہم آزادئ اظہار پر یقین رکھتے ہیں ;-)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

منیر عباسی
October 26th, 2009 پر 7:57 am

@اسماء,
جنابہ من، میں نے کوئی طنز نہیں کیا تھا، صرف ایک بات کا ذکر کیا تھا، اور ہاں میری طرف بہت سی باتیں ایسی ہیں جو کسی دوسرے کلچر میں نہیں پائی جاتیں. آپ کن کی بات کر رہی ہیں. کہیں ” اُس ” بات کی بات تو نہیں ہو رہی؟

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
October 26th, 2009 پر 3:04 pm

@منیر عباسی, نہیں یار اس بات کو بیچ میں مت لائیں ;-)

October 25, 2009 بوقت 11:14 am
 20 

.
،
.
ہمارے محلے کی مسجد میں بھی ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مولوی صاحب تقریر کر رہے تھے
” میرے بھائیو ….
میرے دوستو….
میرے بزرگو…
میری ماؤ
تے
میری بہنوووووو ”

جیسے ہی منہ سپیکر کہ قریب کیا تو مولوی صاحب کو کرنٹ لگا اور بولے

“تواڈی پین نوں………… ”

(او ہی کجھ جو ڈفر میاں آپ کہنا چاہتے ہو)

[اسے ذرا جواب تو دیں]

October 25, 2009 بوقت 6:27 pm
 21 

Duffer bhai yeh bhi kamal ka likha hai ap nay. Main ne apnay facebook per bhi share karwa dia hai

[اسے ذرا جواب تو دیں]

ڈفر
November 26th, 2009 پر 12:21 am

@شاہد ریاض, بہت شکریہ جناب :smile:
آپ لوگوں کی ذرّہ نوازی ہے ورنہ ہم تو کچھ بھی نہیں

[اسے ذرا جواب تو دیں]

November 25, 2009 بوقت 7:57 pm
 22 

کیا پین پین لگا رکھی ہے؟ اس سے آگے بھی تو کوئی لفظ ہو گا. مجھے پتا ہیں تین چار، لکھ دوں؟

[اسے ذرا جواب تو دیں]

December 9, 2009 بوقت 2:27 am

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Firefox Supported
English Blog