Google

یہ زا عشرے تک تو زا ہی رہا۔ جیسے کسی نے ہمیں دونی اور تیے کا مطلب بتانا مناسب نہیں سمجھا اسی طرح ہم نے ”زا“ کا مطلب سمجھنا مناسب نہیں سمجھا۔ چونکہ سکول ہماری تعلیم کی واحد جگہ اور ذریعہ نہیں رہا اس لئے نا اہل استادوں سے ہم بچ گئے اور چونکہ صرف استاد کی تعلیم پر یقین نہیں رکھتے تھے اس لئے تعلیمی نظام کے شکنجے سے بھی بچ گئے۔
اردو میڈیم سکول سے کالج میں پہنچے تو معلوم چلا کہ لائقی کے سارے نٹ ہی ڈھلّے ہو گئے ہیں اور آہستہ آہستہ انکشاف ہوا کہ ایک ایک کر کے گر رہے ہیں۔ ایک مہینہ تو ہمیں مرتکز اور ہلکے سے کنسنٹریٹڈ اور ڈائلیوٹ پر ٹرانسفر ہونے میں لگا۔ پوری فزکس میں ویکٹر کے علاوہ کوئی جانا پہچانا لفظ نا تھا۔ حساب کا یہ حال تھا کہ قائمۃالزاویہ، قوسین، عموداً خط گرانا، خط قطع کرنا میں نک و نک ڈوبے ہوئے تھے جو یہاں الفاظِ غلط ثابت ہوئے۔
رو دھو، سر پیٹ کر کالج پاس کیا تو یونیورسٹی پہنچ گئے جہاں پتا چلا کہ وہ استحصال جو ہمارا انگلش میڈیم والوں نے کالج میں کیا تھا کیمبرج والے یونیورسٹی میں کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ایک اور سٹرگل شروع ہو گئی اور اس جدوجہد میں ہمیں خوب غور خوض کرنا پڑتا تھا۔ اتنا کہ ہمارے آرگنائزیشنل بی ہیوئیر والے معین صاحب کو ہمیں دیکھ کر ( شکر ہے ہمارا نام لئے بغیر) کہنا پڑا جسکا مفہوم ہے کہ ”ڈیلے نکال نکال کر اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھورنے اور کھا جانے والی نظروں سے ٹیچر کو دیکھنے سے کچھ زیادہ سمجھ نہیں آنے والی“۔ اب ان کو یہ بتانے کے لئے کہ ”ہمارے علم کا سب سے بڑا ذریعہ ہماری آبزرویشن ہی تو ہے“ ہمارے پاس اعتماد نامی کوئی چیز نہیں تھی۔
لگے ہاتھوں آپ کو بتاتے چلیں کہ یونیورسٹی میں ہمیں ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا تھا کہ مدرسوں سے عشرہ پلس تعلیم کی فراغت کے بعد طلباء اسلامیات ٹائپ کسی مضمون میں ایم اے کر رہے تھے۔ وہ ہماری جدید تعلیم کو تعلیم کفر سے تعبیر کرتے تھے اور ہمیں مرتد ہونے سے۔ بس میں جس سیٹ پر ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا کوئی لڑکا بیٹھ جاتا اس کےساتھ بیٹھنا اپنے ایمان کے لئے نقصان دہ سمجھتے تھے۔ جب حد بڑھ گئی تو ہم نے بھی ایک طریقہ شروع کر دیا کہ شروع کے سٹاپ سے ہی چند لڑکے ہر سیٹ پر الگ الگ بیٹھ جاتے اور یہ لوگ کھڑے رہتے۔ جب کورم پورا ہوتا تو ہم ٹانگیں پھیلا پھیلا کر تاش کھیلتے جس پر ان لوگوں نے کئی بار چھاپہ پڑوانے کی ناکام کوشش کی ;) ۔
میرے نزدیک ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ اسکا کثیر رُخی ہونا ہے۔ مدرسہ ، اردو میڈیم، انگلش میڈیم، آکسفورڈ، کیمبرج ۔۔۔ اور نتیجہ احساس محرومی اور قدرتی حسد و دشمنی۔ مدرسے سے نکلنے والا اپنے آپ کو مولوی کم اور سائنسدان زیادہ سمجھتا ہے۔ کیمبرج والا محکمہ موسمیات پر یقین رکھتا ہے اور مدرسے والا نماز استسقاء پر۔ انگلش، اردو میڈیم والوں کا حال بھی کچھ الگ نہیں۔
دوسرا بڑا اور تشویشناک مسئلہ ہے سٹوڈنٹ کونسلنگ یعنی طالبعلموں کے لئے راہنمائی کی کمی بلکہ نا ہونا۔ میرے والدین اور مجھ میں ہمیشہ اس بات پر اتفاق رہا کہ پڑھنا ہے۔ اس سارے پڑھنے کے دوران کوئی بھی مجھے یہ بتانے والا نہیں تھا کہ میں نے جو پڑھنا ہے اس کا فیصلہ کیسے کرنا ہے؟ نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے ایپٹیٹیوڈ (Aptitude) کی بجائے ٹرینڈ (Trend) دیکھ کر پڑھتا رہا اور آج کامیاب پروفیشنل ہونے کے باوجود سوچتا ہوں کہ میں تو آرٹس کا بندہ ہوں۔ اگر مجھے صحیح وقت پر راہنمائی کرنے والا کوئی ہوتا تو یہ ”آرٹس والا کیڑا“ مجھے تنگ نا کر رہا ہوتا۔
ہماری تیسری پرابلم یہ ہے کہ ہم نے اجتماعی طور پر یہ سوچ اپنائی ہوئی ہے کہ ”آرٹس پڑھنے والا نالائق ہوتا ہے“۔ ہمارے ہاں تو گارڈ اور جمعدار کا بھی اشتہار آتا ہے تو لکھا ہوتا ہے ”تعلیمی قابلیت: میٹرک سائنس کے ساتھ“۔ اوئے سالو تم نے ان سے بچے کلون کروانے ہیں یا ڈیکسٹر لیبارٹری چلوانی ہے؟
چوتھا مسئلہ میرے نزدیک ہے نا اہل اور ڈگری یافتہ ان پڑھ و جاہل اساتذہ۔ جن کے بارے میں میری بیان کی گئی کوئی بھی تفصیل درج ذیل تصویر کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ یہ تصویر دراصل ان اساتذہ کے تیار کردہ طلباء و طالبات کے حال کی ترجمانی کرتی ہے۔



(مجھ سے اس تصویر کا ماخذ دریافت کرنے کی کوشش نا کی جائے، ایک اور تصویر اس سے زیادہ بِچی بِچ ہے اگر کہیں گے تو لگا دوں گا )۔

جو ہوسٹ پڑھ کر بھی نہ کمنٹے اللہ کرے اس کے کی بورڈ میں کیڑے پڑیں

ابتک تبصرہ جات 52

 1 

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔۔۔
ماخذ تو دریافت کریں گے اور ضرور بالضرور کریں گے اور اوش کریں گے۔۔۔ یہاں بیان نہیں ہوسکتا تو ای میل پر بیان کیا جائے، اور دوسری تصویر سے مت ڈرایا جائے اور وہ بھی آنے دی جائے۔۔۔ آن دے استاد ڈبل اے۔۔۔
جب تک اس ملک میں ایک ہی نصاب اور نظام نہیں ہوگا تعلیم کے لئے ۔۔۔ ایسی ذلالتیں بڑھتی رہیں گی۔ میری باقی بچنے والی زندگی میں تو اس خواہش یا مطالبے یا مانگ کے پورا ہونے کی کوئی امید نہیں۔ لہذا ہماری اگلی نسل بھی ایسے ہی ذلیل ہوگی جیسے ہم ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔
اور یہ بات بھی بالکل درست لکھی کہ کوئی بتانے والا یا سمجھانے والا نہیں کہ بھائی تیرے رجحان کے مطابق یہ تعلیم ہے، اس کو پڑھ مر۔ جیسے سینگ جس کے جدھر سمائے نکل گیا۔ مصور بننے والا آپریشن کررہا ہے۔ آپریشن کرنے والا شاعری۔ شاعری والا دکانداری اور دکانداری والا پائلٹ۔۔۔
علی ہذا القیاس۔۔ اس سے پہلے کہ یہ تبصرہ تحریر سے لمبا ہوجائے۔۔۔ بس کر بس۔۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 5:46 شام
 2 

میرے بھائی رمضان آ رہا ہے اللہ نے موقع دیا ہے اگلی بار کا پتہ نہیں چل شاباش توبہ کر لے پڑھا ہے نا مرنا تو مسلمان ہی مرنا ۔ توبہ استغفار اتننننننی گندیییییییی پوسٹیں لکھیں اس سال تم نے ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 6:01 شام
vodkamilkshake
 3 

???Contact persona ka koi number

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 6:02 شام
 4 

اس کا مطلب ہے جو کچھ پچھلی نسل نے بھگتا وہی آپ نے اور جعفر صاحب کے بقول آنے والی نسل بھی بھگتے گی.
ہمیں بھی وہی تکالیف اٹھانی پڑیں جو آپ کو درپیش آئیں. یقین کریں فزکس اور کیمسٹری کا رٹہ لگا لگا کر ہم تو خوار ہو گئے.
آپ کی تجویز سو فیصد درست ہے کہ ایک نصاب تعلیم اور ایک ذریعہ تعلیم ہی ان مسائل کا حل ہے.
کونسلنگ کی ہم بھی ازل سے حمایت کرتے آئے ہیں. یورپ میں اس کا اہتمام ہے اور بچے ہائی سکول میں ہی طے کر لیتے ہیں کہ انہیں کونسا پیشہ پسند ہے.
پتہ نہیں ہماری حکومتیں یورپ سے دنیا جہان کی ذلالتیں درآمد کر لیتی ہیں مگر اس طرح کی اچھائیاں درآمد کیوں نہیں کرتیں.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 6:26 شام
 5 

دوسری تصوير رہنے ہی دو نہيں تو مولوی حضرات تمہارے بلاگ پر آنا ہی چوڑ ديں گے اور ہميں بھی ُ مومن` بننے پر مجبور کريں گے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 7:14 شام
 6 

جعفر کی بات سے ميں متفق نہيں ہوں کہ مصر ڈاکٹر بن گيا ہے اور ڈاکٹر ڈنگر ڈاکٹر ، ميں نے تو زوالوجی پڑھی ہے اور ميں تو اينيمل ہی بنی ہوئی ہوں (کام کر کر کے)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 7:17 شام
 7 

مصر نہيں مصور

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 7:18 شام
 8 

لاحول ولا قوۃ…
ہوگئے گم یا عادت ہوگئی ہے لاحول کی؟ P:
میں یونیورسٹی سے کسی ملا ٹائپ صاحب کو پکڑ کر لاؤں یہاں؟ ٹھیک سے کلاس ہوجائے گی. ;)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 8:03 شام
 9 

نا لائقاں دے بستے بھارے ہوندے نیں
جس طرح کہ تساں دی تحریر توں ظاہر اے ڈفر جی۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 8:10 شام
 10 

۔
۔
بچپن یاد دلا دیا ہے آپ نے ڈفر لالے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 8:13 شام
 11 

@ جعفر : اب وہ تصویر ایک الگ پوسٹ میں لگاؤں گا. اس میں ایک پوری الگ پوسٹ کا میٹیریل ہے اور وہ الگ سے ایک بحث مانگتی ہے ;) .
@ کامی : توبہ توبہ استغفار :D .
@ میرا پاکستان : اب تو دوہرا کیا جی بالائی تعلیمی نظام ہی رہے گا. غریب کے بچے کو پڑھنے کو اب کچھ نہیں ملے گا. حکومت نے پکا کلا ٹھوک دیا ہے اب
@ اسماء: تصویر تو جی وہ میں نے پوسٹ کرنی ہی ہے لیکن وہ الگ سے بحث کی متقاضی ہے اس لئے الگ پوسٹ میں لگاؤں گا. اور ان ملّوں شلّوں کے سررٹیفکیٹ نہیں چاہئیں مجھے :D .
@ عمار : لے آؤ فیر میدان میں. ان ملوں سے ڈرنے والے ہم نہیں اے عمار :mrgreen: .
@ ککڑ : میرا نالائق ہونا ثابت ہوا یا میرے بستے کا بھاری ہونا؟ وضاحت چاہئے بھئی
@ لالے کی جان : 100 روپے گھنٹہ کے حساب سے پیمنٹ کر دیں :D .
ڈفر کی نصیحت کے مطابق آپ سب کا تحریر پڑھنے اور تبصرے کا بہتبہت شکریہ :)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 8:40 شام
عدیل
 12 

درست کہا ہے، دارا۔

میرے خیال میں ایک اور بھی layer ہے اس (مدرسہ، اردو، انگلش میڈیم والے) کچے چٹھے کے اوپر۔ وہ رٹے پر زور ہونے کے، نا کہ چیز کو سمجھنے پر۔

ویسے یہ جو ہم لوگوں کو ہر بات میں سے کیڑے نکالنے اور بال کی کھال اتارنے کی عادت ہے ہو سکتا ہے کہ یہ اسی رٹہ سسٹم کی وجہ سے ہی ہماری سائیکی میں شامل ہوئی ہو۔ کوئی کسی کی بات سننے کی کوشش ہی نہیں کرتا اور اپنی مارے جاتا ہے۔

دوسری تصویر کا انتظار رہے گا۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 8:59 شام
 13 

ہمیں میٹرک سے کالج یا بعد میں یونیورسٹی میں تو الحمد للہ کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔ ہاں البتہ مسئلہ ہوا تھا جب چوتھی جماعت میں پرائیویٹ سکول سے نکل کر سرکاری سکول پہنچے تھے اور اگلے چھ برس بس اس ماحول کو سمجھنے میں ہی نکل گئے۔ ہمارے یہاں یقیناً یہ التزام ہونا چاہئے کہ بچے کی قدرتی رحجان کی حوصلہ افزائی کی جائے لیکن اس کے لئے رواج کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ پہل آپ اپنے بچوں سے کیجئے اگر نہیں ہیں تو بھانجوں بھتیجوں کزنوں کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ اس طرح انشاء اللہ سلسلہ چل نکلے گا۔ اس ملک کے ہر بچہ کو یہ حق ہونا چاہئے کہ وہ اپنے طبعی میلان کے مطابق اچھی تعلیم حاصل کرسکے۔ منزل کٹھن ہے لیکن اسے دور و قریب لانا ہمارے عزم پر ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 9:56 شام
 14 

آپ بھی اپنے پیلے اسکول والے بھائی نکلے.. یار یہ انگلش میڈیم والا کوئی بندا بھی پڑھا لکھا نکلا ہے کہ نہیں؟ :)
گھوم پھر کر بات وہیں آتی ہے کہ یکساں اور میعاری نصاب تعلیم ہی کفر کے فتووں میں کمی کا باعث بن سکتا ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 10:27 شام
 15 

نئے فائر فاکس نے کمنٹس ایریا کا بیڑہ غرق کر دیا ہے
سارا سٹائل برباد کر دیا ہے :(

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 11:55 شام
 16 

اتنی ڈیزائننگ کر کے آپ نے افکار عالیہ کا اظہار کیا ہے۔ پتہ کسی کو کچھ نہیں ہے کہ کیا کرنا ہے کیا پڑھنا ہے بس یہ پتہ ہے پیسہ کمانا ہے۔ پڑھے لکھے سے زیادہ ان پڑھ اور اپنا کاروبار کرنے والا کما رہا ہے۔ میں بھی سوچ رہی ہوں کپڑے سینا سیکھ لوں۔ اپنا کپڑوں کا کاروبار تو ہو سکے گا۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 19, 2009 بوقت 12:45 صبح
 17 

یار یقین کرو ڈفر بھائی ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آیا شروع کے دو بپرا گراف پڑھیں ہیں اوپر سے گزر گے ہیں پھر چھوڑ دیا
مجھے یہ باتیں سمجھ ہی نہیں آتیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 19, 2009 بوقت 1:43 صبح
 18 

بہت ساری چیزیں ہیں ذہن میں اس پوسٹ اور تبصروں کو پڑھنے کے بعد. پہلی تو یہ کہ تعلیم کا بنیادی مقصد روزگار کا حصول نہیں ہوتا.
ترقی یافتہ ممالک میں اسکول کی تعلیم ضروری ہوتی ہے اسکے بعد پیشہ ورانہ تعلیم اور اعلی تعلم دو مختلف سمتوں میں چلے جاتے ہیں. جیسے طب اور انجینیئرنگ پیشہ ورانہ علوم ہیں. کسی بھی ملک کو سب سے زیادہ جن لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ پیشہ ورانہ علوم پہ مہارت رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں. ہمارے کارخانوں کو چلانے والے یہی لوگ ہوتے ہیں. چاہے وہ میکینک ہو یا ٹیکنیشن.
تعلیم کی دوسری جہت وہ لوگ پیدا کرتی ہے جو کسی قوم کو ذہنی بالیدگی دیتے ہیں اسکے لئے ذہنی اور معاشی سطح پر پلاننگ کرتے ہیں. یونیورسٹیز کا ذمہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے لوگ تیار کریں. اسی لئے ترقی یافتہ مملک میں یونیورسٹی کی تعلیم خاصی مہنگی ہوتی ہے تاکہ اس سمت میں لوگ کچھ سوچ سمجھ کر جائیں.
ہمارے یہاں ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ نہ ہونے کے برابر ہیں. ہمارے مکینک یا ٹیکنیشنز عام طور پر چیزیں چھوٹے بن کر استاد سے سیکھتے ہیں.
چونکہ جو تعلیم ہم حاصل کر رہے ہیں یا ہمیں میسر ہے اسکا ہماری ضرورت سے کوئ تعلق نہیں تو ہم میں سے اکثراسکے حصول کے بعد بھی فرسٹریشن کا شکار رہتے ہیں. ایک زمانے میں سب ڈاکٹری اور انجینیئرنگ پڑھ رہے تھے پھر سب ایم بی اے کرنے لگے اور اب سب کمپیوٹر انجینیئر نکل رہے ہیں.
دوسری طرف اقربا پروری، شخصیت پرستیب اور ان سے ملتے جلتے امراض نے باصلاھیت لوگوں کو آگے نہیں آنے دیا. ہر نکمے اور نا اہل شخص کی بقا اس میں ہوتی ہے کہ وہ مزید نکمے اور نا اہل شکص کو اپنے پیچھے لاءے اس طرح سے اسکا تیکا قاءم رہتا ہے. اہل اور باصلاھیت شخص کے آگے آنے سے اسکی پول کھل جائے گی یا پھر اسے زیادہ محنت کرنی پڑے گی تو یہ مصیبت کون مول لے. نتیجتآ جو باصلاحیت لوگ ہیں وہ اپنی بقا کے لئے باہر کا راستہ دیکھتے ہیں. اسی کو برین ڈرین کا نام دیکر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن اسکے سد باب کے لئے کچھ نہیں کیا جائے گا کیونکہ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے.
ہم اپنے طور پر یہ کرسکتے ہیں کہ اپنے راستے میں ملنے ہر شخص کی ہمت توڑنے کے بجائے اسے نئے راستوں جو ہمارے علم میں ہوں ان سے روشناس کرائیں. یہ تہیہ کر لیں کہ ہم اپنی زندگی کے کچھ بنیادی اور انسان دوست اصول ضرور رکھیں گے. اس بات کو سمجھیں کہ وسائل پر اگر باصلاحیت لوگ ہوں تو وہ سوسائٹی کی بقا کے لئے زیادہ ضروری ہیں. ایک وقت میں پیچھی ہٹ جانا آگے بڑھ آنے کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے.
چونکہ تعلیم اور روزگار کا آپس میں گہرا تعلق نہیں ہے سوائے اسکے کہ علم آپکو زیادہ دور تک دیکھنے اور عقلمندی سے اپنے راستے متعین کرنے میں مدد دیتا ہے کسی بھی کام کو کرنے میں عار نہیں محسوس کرنا چاہئے.
غم روزگار کے بعد ایسا وقت اپنے لئے ضرور رکھیں جس میں آپ جودل سے کرنا چاہتے ہیں اسے کر سکیں. چاہے وہ بانسری بجانا سیکھنا ہو یا کپڑے سلائ کرنا. میں خود کافی اچھی سلائ کر لیتی ہوں اور اپنے زیادہ تر کپڑے خود سیتی ہوں.
یہ نظام جس سے ہم تعلق رکھتے ہیں ہم سب سے ملکر بنا ہے. اسی میں ہمارا نظام تعلیم بھی شامل ہے. وقت کے ساتھ ہم جس اخلاقی بد حالی اور فکری انتشار کا شکار ہوئے ہیں اسک یہی نتیجہ نکل سکتا ہے. سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ طبقہ جو ان سب مسائل کو پیدا کرکے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور اٹھا رہا ہے وہ ہمارے مقابلے میں بہت کم ہےلیکن اکثریت پھر بھی انکے دام میں کیسے پھنسی ہوئ ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 19, 2009 بوقت 12:52 شام
 19 

ڈفر میں نے تبصرہ لکھا تو کچھ زیادہ ہی لمبا ہو گیا اس لیے میں اسے اپنے بلاگ پہ منتقل کر رہا ہوں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 19, 2009 بوقت 1:28 شام
محمد سعد
 20 

السلام علیکم۔

کافی اہم مسائل پر بات کی ہے اور اچھا مضمون لکھا ہے لیکن آخر میں اس تصویر نے مزا خراب کر دیا ہے۔
پتا نہیں آج کل لوگوں کو ۔۔۔۔۔۔ کے بغیر اپنی بات ادھوری کیوں لگتی ہے۔ :(

ویسے ہدف کے تعین کے لحاظ سے میں خود کو کافی خوش قسمت محسوس کر رہا ہوں کہ بچپن ہی میں سائنس دان بننے کا فیصلہ کر لیا تھا جس پر اب تک قائم ہوں۔ چنانچہ مجھے بعد میں تعلیم کے حوالے سے اپنے فیصلوں پر کوئی افسوس نہیں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔ :)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 19, 2009 بوقت 2:06 شام
 21 

@ عدیل : ہاں یہ رٹا لیئر ہر کلاس میں موجود ہے :D اور کیا مجھے رٹو طوطا کہا ہے چھپے لفظوں میں؟ :mrgreen: .
@ خرم : ہمیں بھی پرائیویٹ سکول سے سرکاری سکول میں جانے کے بعد انہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا. اور منزل کی امید پر ہی تو چلے جا رہے ہیں :) .
@ راشد کامران : ہاں نکلے ہیں وہ انگریزی بلاگ لکھتے ہیں :D پاکستان کے بہت سارے اعلٰی درجے کے انفرادی انگلش بلاگز ہیں جو میری تو سمجھ سے باہر ہیں :ڈ .
@ فائزہ : کاروبار میں بڑی برکت ہے. جلدی جلدی عملی جامہ پہنا دیں اس خیال کو اور کاممیاب زندگی میں قدم رکھیں ;) .
@ نوائے ادب : خیر ہے جی سمجھ نہیں آئی تو کوئی مسئلہ نہیں. اگلی تحریر ان شا اللہ سمجھ آئے گی. یہ تو زبردستی کی تحریر لکھوائی ہے ہفتہ بلاگستان کے کرتا دھرتاؤں نے :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 19, 2009 بوقت 10:15 شام
 22 

@ عنیقہ : پوسٹ اور تبصروں میں کسی نے بھی ”تعلیم پیسوں کے لئے“ قسم کی بات نہیں کی سوائے ایک تبصرے کے. اور آپ کی سوچ تو بالکل ایچ ای سی سے ملتی ہے. وہاں کوئی ڈائریکٹر شریکٹر تو نہیں؟ :mrgreen:
سیریسلی ہم تو صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تعلیم ہر ایک کو اور ایک درجے کی مہیا کی جانی چاہئے. آپ کے فارمولے سے تو کبھی غریب کا بچہ ذہین اور اہل ہونے کے باوجود اعلٰی تعلیم حاصل نہیں کر سکے گا :( .
@ یہ لوگ : بس پہنچے جی آپ کا بلاگ دیکھنے :) .
@ محمد سعد : مضمون کی پسندیدگی کا شکریہ اور تصویر اس پوسٹ کے علاوہ کہاں فِٹ ہو سکتی تھی بھلا؟ :mrgreen: .

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 19, 2009 بوقت 10:20 شام
 23 

@ واڈکا ملک شیک : کانٹیکٹ نمبر کا کیا کرنا ہے؟ میل سے ہی کیوں کام نہیں چلا لیتے؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 19, 2009 بوقت 10:34 شام
 24 

پھر آپ لوگوں نے بڑے ہی اعلی اور ارفع خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری کرنا نہیں ہے تو پھر ڈاکٹری یا انجیرنگ پڑھ کے کپڑے ہی سینے چاہیے؟ جس قسم کی تعلیم حاصل کی ہو وہ شعبہ چھوڈ دیا جائے۔ تعلیم انسان کو زندگی گزارنے کا شعور دیتی ہے۔ اچھے برے میں تمیز سکھاتی ہے۔ لیکن روزگار حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے ۔ یہ بھی ایک طرح کی سرمایہ کاری ہے جو والدین اپنے بچوں پر کرتے ہیں۔ ان کو بھی حق ہے کہ اس کا پھل حاصل کریں۔ خیالی باتوں اور ہوائی قلعوں سے روٹیاں نہیں ٹپکتیں۔ زیادہ تر پڑھے لکھے دانشور لوگ ایسی باتیں بتا بتا کر پڑھے لکھے لوگوں کو آئیڈیل ازم اور انقلابات وغیرہ کے خواب دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ خود تو لاکھوں کا مشاعرہ لے رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کو اپنے پیچھے لگا کر چند ہزار کی نوکری سے بھی پیدل کر دیتےہیں۔ تعلیم کا مقصد اگر نوکری کرنا نہیں تو اس کے علاوہ کوئی آج کے زمانے میں مقصد ہے نہیں ۔ تعلیم کا مقصد معاش حاصل کرنا ہی ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ باقی ساری کاغذی باتیں ہیں۔ ناں ہمارے ملک کی حکومت ناں یونیورسٹیاں اس پر غور و فکر کرنا چاہیں گی کہ طالب علموں کی صلاحیتوں کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔ طالب علموں کا ذہنی رحجان کیا ہے؟
ڈفر آپ کو بہت پتہ ہے کاروبار میں برکت ہوتی ہے۔ آپ کون سا کاروبار کرتےہیں۔ ویسے کاروبار میں سرمائے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مشوروں کی نہیں۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 20, 2009 بوقت 2:04 صبح
 25 

@ فائزہ : میں نے یہ کب کہا کہ نوکری نہیں کرنا چاہئے؟ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر ایک کو مرضی کی تعلیم میسر ہونی چاہئے. اور جہاں تک نوکری کی بات ہے تو میری بیوی ڈاکٹر ہے اور وہ بھی پی ایچ ڈی اور وہ نوکری نہیں کرتی :D اس طرح آپ کی نوکری والی تھیوری بھی فیل ہو گئی. پتہ نہیں لوگ جذباتی ہو کر موضوع سے کیوں ہٹ جاتے ہیں؟ :p :P .
جو بھی ہو آپ نے لوگوں کو درزی بنا کر کپڑے بہر حال سلوا کر ہی چھوڑنے ہیں :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 20, 2009 بوقت 3:13 صبح
 26 

فائضہ نے بات شاید ٹھیک کی ہے لیکن غلط انداز میں کی ہے
سادہ بات ہے کہ میں اگر ڈاکڑ قدیر خان ہوں اور پاکستان کو دفاعی طور پر مظبوط بھی نہیں کر سکتا تو پھر میں ڈاکٹر قدیر کیوں ہوں
علم سرمایہ کاری نہیں بلکہ محفوظ سرمایہ ہے
علم کا محاصل تنخواہ نہیں بلکہ وہ تکریم ہے جو آپ کو دی جاتی ہے بصورت دیگر اگر علم کا محاصل تنخواہ ہی ہے تو پھر آپ مجھے یہ بتاو
کہ تنخواہ وزیراعظم کی زیادہ ہونی چاہیے یا یونیورسٹی کے پروفیسر کی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 20, 2009 بوقت 9:06 صبح
 27 

فاہزہ نے کتنا اچھا اور درست لکھا ہے اب دو نا دارا ذرا اسکا جواب اور يہ بھی بتاؤ کہ تم نے ايک پی ايچ ڈی ڈاکٹر کو گھر کيوں بٹھا رکھا ہے (يہ تمہارا پرسنل معاملہ نہيں سمجھے) جن لوگوں پر لاکھوں کا سرمايہ لگا ہوتا ہے اور وہ سينکڑوں کی تربيت کر سکتے ہيں ان کو گھر بٹھا دينا پوری قوم و ملک کے ساتھ زيادتی ہے گھر بيٹھنے والی خواتين کی تعداد پہلے ہی پاکستان ميں خاصی زيادہ ہے اور يہ کوئی حوصلہ افزاء بات نہيں ادھر ميں نے ايک دن ايک عورت سے اپنے ليے جاب ڈھونڈنے کي بات کي تو اس نے مجھ سے سوال کيا کہ آپ تو پاکستاني ہيں ناں کيا آپ کے مياں آپکو جاب کي اجازت ديں گے؟ مجھے تو وہ پاکستانی مرد بڑے اچھے لگتے ہيں جو اپنی تعليم يافتہ اور بر سر روزگار بيوی پر فخر کرتے ہيں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 20, 2009 بوقت 1:22 شام
 28 

@ گل نواز : کیا سوال کیا ہے بھئی :D شاباش. اب دیں فائزہ اور اسما اس کا جواب
@ اسماء : میری بیوی پی ایچ ڈی ہے اور پاکستانی نہیں. اور آپس کی بات ہے کہ اسی لئے میں اپنی پاکستانی ذہنیت اس پر لاگو کرنے میں ناکام ہوں :( اس کو سمجھائیں کہ اللہ کا خوف کرے اور میرا ہاتھ بٹائے . آج کلّے مرد کی کمائی سے کہاں گزارا ہوتا ہے؟ :’(
فائزہ کی بات کا جواب تو میں نے پہلے ہی دے دیا تھا لیکن گل نواز کی بات کا جواب اب آپ اور فائزہ دیں نا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 20, 2009 بوقت 3:32 شام
 29 

شکر ہے کوئی عقلمند پاکستانی بھی نظر آيا ان پاکستانيوں پر مجھے بڑا غصہ آتا ہے جو سالہا سال ديار غير ميں رہتے ہيں اچھے خاصے ايجوکيٹڈ ہوتے ہيں اور شادی کے ٹائم پر پاکستانی ماڈل اٹھا کر لے آتے ہيں اور وہ بھی چٹی ان پڑھ جس کا سارا زور يہاں بيٹھ کر زيور نيلے پيلے کپڑے پاکستان لمبی لمبی کاليں اور ساس نندوں اور ڈراموں کی باتيں؛ ميں تو خود اپنے مياں سے کہتی ہوں کاش يہاں آنے سے پہلے آپ نے مجھ سے شادی نہ کی ہوتی تو يہاں کسی سے کر ليتے ہماری دس خواتين ملکر بھی انکا مقابلہ نہيں کر سکتيں سگھڑ پن ميں،آپ سے زيادہ بھابی کی عقلمندی کی داد دينی پڑتی ہے جنہوں نے آپ سے شايد پاکستانی خواتين کے آرام دہ طرز زندگی سے متاثر ہو کر کيا ہے
آخر ميں بھابی صاحبہ سے گزارش ہے دارا کے حالات پر کچھ رحم کی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 20, 2009 بوقت 4:18 شام
محمد سعد
 30 

میری والدہ محترمہ کے پاس نفسیات میں ماسٹر کی ڈگری ہے۔ اور مجھ پر یہ ان کا بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے روزگار کے چکر میں پڑنے کے بجائے میری تربیت پر توجہ دی۔ یہ ان کے اس علم کا ہی فائدہ ہے کہ آج میں وہ ہوں جو میں ہوں۔ اگر میری والدہ بھی ان بہت سی دوسری عورتوں کی طرح نوکریاں کرنے لگ جاتیں تو آج میں ایک طالبِ علم کے بجائے ایک عظیم لوفر ہوتا۔ کتابیں پڑھنے کے بجائے گانے سنتا اور سائنس دان بننے کے بجائے سلطان راہی بننے کے خواب دیکھتا۔

چنانچہ مجھ سے اگر کوئی پوچھے تو میرا جواب یہی ہوگا کہ عورت کی اصل ذمہ داری گھر کے اندرونی معاملات کو اچھی طرح چلانا اور اولاد کی عمدہ تربیت کرنا ہے۔
اگر کسی کو اس بات پر اعتراض ہے تو اس سے گزارش ہے کہ آئیندہ قوم کے بگڑتے ہوئے اخلاق اور تیزی سے پھیلتی ہوئی برائیوں کا رونا نہ روئے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 21, 2009 بوقت 9:21 شام
 31 

یہ چیز محمد سعد یہ چیز، عمدہ
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ اس کو پیسہ چاہئے
لوگوں کو تعلیم نہیں ڈگری چاہئے
اور ہم لوگ وہی حاصل کرتے ہیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 22, 2009 بوقت 12:39 صبح
 32 

میں بھی محمد سعد سے متفق ہوں، میرا نہیں خیال کہ اللہ نے عورت کو نوکریاں کرنے کے لئے پیدا کیا ہے. تعلیم یافتہ عورت گھر میں بھی رہ کر کئی نسلوں کی اچھی تربیت کر سکتی ہے.

آزمائش شرط ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 26, 2009 بوقت 6:19 صبح
 33 

چلیں مان لیا کہ نفسیات کی اعلٰی تعلیم یا عمرانیات اور مدنیات پڑھ کر گھر بیٹھ جائیں۔
لیکن یہ کیا کہ سینکڑوں کو ایم بی بی ایس کر وانے کے بعد صرف چپاتیاں گول کر نے کا کام تفویض کر دیا جاتا ہے۔
دارا ہمارے تو کالج تک میں فزکس نہیں بلکہ طبیعات پڑھائی جاتی تھی اور اس کے اثر سے آج تک طبیعت گراں اور جماعتیوں کے نفوذ سے منغبض رہتی ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 26, 2009 بوقت 12:33 شام
 34 

@ رضوان : جو خاتون ایم اے کر کے پورے سکول کالج کو سکھا دے اور اس کے اپنے بچے تربیت سے بے بہرہ رہیں تو ایسے ایم اے، ایم بی اے پر میری طرف سے تو لعنت ہے کیونکہ ”سمجھ اپنی اپنی“
دوسرے پیرا گراف کی تو مشکل الفاظ کی وجہ سے سمجھ ہی نہیں آئی :( منغبض کا کیا مطلب ہے؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 27, 2009 بوقت 1:06 صبح
 35 

آپ جناب سعد صاحب دارا صاحب اور منير عباسی صاحب مجھ بے عقل کو يہ سمجھا ديں کہ يورپ ميں زيادہ تر مائيں جاب کر رہی ہوتی ہيں پھر انکے بچے اتنی اچھی تربيت کيونکر پاتے ہيں اور تعليمی ميدان ميں بھی دنيا بھر سے آگے ہی ہيں دوسری طرح يوں کہہ ليں کہ زيادہ تر پاکستانی خواتين گھروں ميں ہی بيٹھی ہيں کيا وجہ ہے کہ چور ڈاکو شرابي(بمطابق بی بی سي) قاتل لٹيرے طالبان ظالمان کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے ميرے خيال ميں گھر بيٹھی عورت بالکل بے کار ہے نہ بچوں کی تربيت نہ معاشرے ميں کردار بس چکر بازياں فارغ ذہن کے ساتھ، دارا کو جواب کے طور پر گھر بيٹھی عورت تو خود ايک لعنت ہے جبکہ پڑھی لکھی عورت ذمہ دار اور جاب والی مذيد ذمہ دار ہوتی ہے بس سمجھ اپنی اپنی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 27, 2009 بوقت 1:40 صبح
 36 

کاش میں ابھی اسما یا انیقہ ہوتا تو لا حاصل بحث کرتا لیکن صد شکر :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 27, 2009 بوقت 6:09 صبح
 37 

کاش ميں بھی دارا ہوتی صم بکم بيٹھی بس ميں ميں کرتی رہتی ليکن اللہ کا شکر ہے ايسا ہے نہيں مجھے کھرے کھوٹے غلط درست کی پہچان ہو گئی ہے جب سے ميں نے جاگتی آنکھوں سے ديکھنا شروع کيا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 27, 2009 بوقت 11:58 صبح
 38 

@ اسماء : طالبان بھی تو یہی کہتے ہیں نا جو آپ کہہ رہی ہیں؟ :D .
اور آپ جن گوروں کی رِیس کرتی ہیں ان میں ہر چیز میں توازن رکھنا بھی تو دیکھا ہو گا نا؟
مجبوری کی بات نہیں پروفیشنلزم کی بات کریں تو میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں عورتوں کی ایک اوور وھیلمنگ (اردو؟) اکثریت نوکری کرنا ہی نہیں چاہتی نوکری کے جراثیم کافی سے کم خواتین میں پائے جاتے ہیں لیکن جن میں پائے جاتے ہیں ان میں آزادی نسواں کے کینسر کے سبب پائے جاتے ہیں.
ابھی بھی میرے خیال میں تعلیم صرف پیسے کے لئے ایک انتہائی جہالت کی بات ہے. عورت کو تعلیم کو درج بالا مقصد کے لئے دلوانا غریب اور مادّی سوچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں
ps: کیا کروں سوئی آنکھوں سے یہی نظر آتا ہے :( .

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 27, 2009 بوقت 1:51 شام
محمد سعد
 39 

جن لوگوں کو اتنی واضح بات کی سمجھ نہیں آتی کہ میں نے گھر کا خیال رکھنے والی تعلیم یافتہ عورت کی بات کی ہے ان کے ساتھ بحث کرنا بے کار ہے۔
جن مسائل کی بات کی گئی ہے وہ اس لیے ہیں کہ ان خواتین کو دنیاوی تو کیا، باقاعدہ دینی تعلیم بھی نہیں دی جاتی۔ (واضح رہے کہ دینی تعلیم صرف قرآن پڑھ لینے تک محدود نہیں۔)

اور جہاں تک ایم بی بی ایس کی بات ہے تو کچھ خواتین کو طب کا علم ضرور حاصل کرنا چاہیے کیونکہ خواتین بھی بیمار ہوا کرتی ہیں۔
اسی طرح بچیوں کی تعلیم کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی عورت کو ہی سنبھالنی ہوگی۔ اور اسی طرح خواتین کے متعلق کچھ دیگر اہم خدمات۔
ان معاملات کے علاوہ باقی سب بکواس ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 28, 2009 بوقت 4:59 شام
 40 

ایک اور اہم بات۔
چاہے گھر ہو یا ملک، اچھی طرح چلانے کے لیے ذمہ داریوں کو درست طریقے سے بانٹنا پڑتا ہے۔ اور جب تک ہر ذمہ داری موزوں فرد پر نہ ڈالی جائے، کام نہیں بنتا۔
مثال کے طور پر بچوں کی ذمہ داری اگر ماں کے علاوہ اور کسی پر بھی ڈالی جائے تو ہر دو گھنٹے بعد اسے پھینٹی پڑ رہی ہوگی جس کا اس کی شخصیت پر منفی اثر پڑے گا۔ یہ کام ماں کے سوا کسی اور کے کرنے کا ہے ہی نہیں۔
اوپر خواتین کے کرنے کے جن کاموں کا میں نے ذکر کیا ہے، وہ بھی تب ہی کرنے چاہئیں جب اپنی اولاد مناسب حد تک بڑی ہو جائے۔ کیونکہ زیادہ حق بہرحال اپنے گھر کا ہی ہوتا ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 28, 2009 بوقت 7:25 شام
 41 

ارے یہ بحث یہان تک بڑھی ہوئ ہے کہ اس میں میرا نام بحث کرنے والوں میں آیا ہوا ہے اور مجھے خبر ہی نہیں۔ معاف کیجئیے گا کہ میں عورت ہونے کے باوجود اس معاملے میں اسماء کے ساتھ ہوں۔ میری ساس صاحبہ نے اپنے زمانے میں نفسیات میں ایم اے کیا اور اس میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ جب تک انکے ہاتھ پیروں نے انکا ساتھ دیا وہ کچھ نہ کچھ کرتی رہیں۔ انکے چار بچوں نے اعلی تعلیم حاصل کی اور ڈسٹنکشنز بھی لیں۔ میری والدہ بھی اپنا کام کرتی تھیں اور ہم سب بہن بھائیون میں سے کوئ بھی چور ڈاکو نہ بنا۔ جن لوگوں کے بچے اس انجام کو پہنچے انکی مائیں عام طور پر گھروں میں رہتی تھیں۔
یہ کہنا غلط ہو گا کہ ملازمت پیشہ خواتین کے بچے خراب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں بے تحاشہ سروے کئے جا چکے ہیں اور ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان خواتین کے بچے زیادہ ذمہ دار ہوتے
ہیں۔
لیکن اس جگہ پر اہم بات یہ ہے کہ کوئ کاتون ملازمت کا رجحان رکھتی ہیں یا نہیں۔کیونکہ دونوں چیزون کو ساتھ چلانا خاصہ مشکل ہوتا ہے۔ اس صورت میں جبکہ آپ کو کوئ سپورٹ حاصل نہ ہو۔کراچی میں بہت خواتین جاب کرتی ہیں۔ اور انکے بچے مین نے اتنے ہی ذمے دار دیکھے ہیں۔ گھرون میں رہنے والی خواتین اسٹار پلس کے ڈرامے اور فیشن کے بارے میں خبر رکھنے میں ہی مصروف رہتی ہیں۔ بچوں کو اسکول بھیجنے کے بعد ان خواتین کی اکثریت آرام سے سو کر دوپہر تک اٹھتی ہے۔ انکی اکثریت اپنے بچوں کی تعلیم میں بھی کوئ دلچسپی نہیں لیتی۔بچے اسکول سے واپس آتے ہیں تو ٹیوشن کے لئے چلے جاتے ہیں۔
اگر کوئ خاتون سمجھتی ہے کہ وہ چیزون کو مناسب طور پر سنبھال سکتی ہے یا انہیں خاندان کی طرف سے سپورٹ ہو تو ضرور جاب کرنی چاہئیے۔ یہ صرف انکے لئے نہیں انکے بچوں کے لئے بھی بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ آنیوالے وقتوں میں اپنے بچوں کے مسائل سے زیادہ آگاہ ہوتی ہیں۔بہ نسبت ان خواتین کے جنکے بچے انہیں خوب الو بناتے ہیں کیونکہ اماں کو کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا، باہر دنیا کہاں نکل چکی ہے۔ انکے لئے تو میرا بچہ تو بڑا سیدھا ہے۔ ساری ساری رات جاگ کر کمپیوٹر پر پڑھائ کرتا ہے۔ چاہے بچے صاحب کچھ بھی کر رہے ہوں۔
جتنی تیزی سے ٹیکنالوجی بڑھ رہی ہےماءووں کو بھی اپنے آپ کو اپڈیٹ رکھنا چاہئیےاور یہ اسی صورت ممکن ہے جب وہ اپنے آپ کو کسی تعمیری سطح پر مصروف رکھیں گی۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 29, 2009 بوقت 10:21 شام
 42 

اور ہاں، بحث پسند نہیں تو تبصرے کا آپشن ہٹا دیں۔ مزید یہ کہ آزادی نسواں کے کینسر کی شکار خواتین کے تبصرے شامل نہیں کئے جائیں گے یہ بھی لائن لکھ دیں۔ اس طرح وہ خواتین اس بلاگ پر وقت ضائع کرنے کے بجائے آزادی نسواں کے مریضوں میں اضافہ کریں گی۔ آخر آپ جیسے ڈاکٹر کے مریض کہاں سے آئیں گے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 29, 2009 بوقت 10:49 شام
 43 

42 نمبر تبصرے سے پتا چلتا ہے کہ اس کی وجہ غصے کی شدت ہے اور اس کا کوئی سر پیر نہیں
جبکہ 41 نمبر تبصرے میں جو رجحان والی بات کہی گئی ہے وہی بات تو پہلے 38 نمبر میں کہی گئی ہے نا؟ باقی بات آپ کی ٹھیک ہے اپڈیٹڈ رکھنے والی کہ بچے چونا نا لگاتے رہیں
اگر نہیں تو پھر وہی ”لا حاصل بحث“ والی بات :mrgreen: جس سے مرضی کا مطلب نکال کر تبصرہ نمبر 42 کر دیا گیا ہے
ہماری طرف سے تو جم جم لکھیں اور جو مرضی لکھیں. تبصرے کا آپشن بھی کھلا ہے، اگر کوئی گالیاں لکھے تو بس وہی ایڈٹ کرنے کی پالیسی ہے ہماری اور بحث (لاحاصل نہیں) کے لے ہر گھڑی تیار کامران ہیں ہم ;) .

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 30, 2009 بوقت 12:11 صبح
 44 

دیکھیں ایک بات سمجھ لیں. یہ بات جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوئے اختیار کریں تو بڑی زندگی آسان رہتی ہے دیگر رشتے داریاں نبحاتے ہوئے بھی یہ ایک نکتہ استعمال کریں اور وہ یہ کہ جس سے بات کریں. اس سے صرف اسی کے متعلق بات کریں.آپ نے میرا حوالہ دیا بھث لاحاصل کرنے کا. اس پوری پوسٹ پر اور اس سے پہلے کسی بھی پوسٹ پر میں ایک یا دو دفعہ رائے دینے کے بعد میں ہٹ جاتی ہوں. زیادہ تفصیلات دینا ہوں تو اپنا بلاگ استعمال کرتی ہوں.
صرف اپنی دلچسپی کے موضوعات کے علاوہ ہر موضوع میں ہاتھ نہیں ڈالتی. اسکے باوجود آپ نے جانبداری سے کہہدیا کہ میں بحث لاحاصل کرتی ہوں.
ویسے برسبیل تذکرہ اگر ہر بحث سے آپ اتنا کچھ حاصل کر لیتے ہیں تو اب تک تو آپ کی شخصیت میں زیر و زبر والا انقلاب آچکا ہوگا. ایک پوسٹ ان عظیم تبدیلیوں کے بارے میں بھی لکھئیے گا. تاکہ باقی سب کو بحث حاصل کی افادیت کے بارے میں پتہ چلے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 30, 2009 بوقت 6:01 صبح
 45 

ضرور ضرور کیوں نہیں؟
میں حاضر جو جتنا سیراب ہو سکے :mrgreen:
اور آپ کا تذکرہ اس پوسٹ کی وجہ سے نہیں آپ کے عمومی تبصروں (دوسرے بلاگوں سمیت) کی وجہ سے کیا گیاہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 30, 2009 بوقت 12:34 شام
 46 

بس جی الفاظ نہیں ملتے کامیابیوں کی تفصیل لکھنے کے لیکن آپ کا حکم سر آنکھوں پر :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 30, 2009 بوقت 2:16 شام
 47 

اوئے میرے جواب کہاں جا رہے ہیں؟ :o

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
اگست 30 , 2009 بوقت 2:59 شام

::: دارا ::: یار تیری مہربانی
تو ڈفرستان کے تبصرہ نگار نا بھگا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 30, 2009 بوقت 2:17 شام
 48 

عنیقہ بی بی۔ آپ میری بات کی اصل روح کو نہیں سمجھ رہیں۔
میں نے گھر میں رہنے کی بات کی ہی اس لیے ہے کہ خواتین گھر کے نظام اور بچوں کی تربیت پر زیادہ توجہ دے سکیں۔ اگر آپ کی طرف گھروں میں رہنے والی خواتین اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتیں تو ان کی برائی کو ایک اور برائی کے لیے جواز نہ بنائیں۔ قیامت کے دن جہاں والدین کے حقوق کا سوال کیا جائے گا، وہیں اولاد کے حقوق کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا جن میں بھرپور توجہ اور تربیت بھی شامل ہیں۔
اور نوکری کرنے والی خواتین کے بچے صرف اسی صورت میں زیادہ ذمہ دار ہو سکتے ہیں اگر آپ ان کا موازنہ سٹارپلس مارکہ خواتین سے کریں۔ :P اگر گھروں میں رہنے والی ذمہ دار خواتین کے ساتھ ان کا موازنہ کریں تو گھروں میں رہنے والی خواتین کے بچے ہی بہتر ہوتے ہیں۔ اور ایسی کئی مثالیں میں جانتا ہوں۔ یقیناً آپ نے بھی ایسی مثالیں دیکھ رکھی ہوں گی۔
آخر میں وہ بات جس پر مجھے سب سے زیادہ حیرت ہوتی ہے۔ زبان سے تو ہم سب کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم کی کوئی حد نہیں اور اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے لیکن جب یہی بات ہماری اپنی خواہشات کے مد مقابل آ جاتی ہے تو ہم ایسا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں جیسے نعوذ باللہ ہم اللہ سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عورت کے ذمے گھر کے اندر کی ذمہ داریاں لگائی ہیں تو یقیناً یہی طریقہ بہترین ہے اور معاشرے کے لیے مفید ترین ہے۔ انسان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے کاموں کو نہیں سمجھ پاتا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ تو پڑھا ہی ہوگا۔ پھر بھی اگر کوئی یہ کہے (چاہے زبان سے یا عمل سے) کہ نہیں جی یہ بات تو غلط ہے تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کے لا محدود علم کا انکار نہیں ہے؟ پھر ہم کس مونہہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں؟
مجھے پتا ہے کہ اگلی بار آؤں گا تو مولوی مولوی کے لفظ سے یہ صفحہ بھرا ہوا ہوگا۔ لیکن کم از کم ایک بار سب لوگ اس پر ٹھنڈے دماغ سے ضرور سوچ لینا۔ یار رکھیں! سب لوگ۔ میں صرف انہی کو نہیں کہہ رہا جن سے میں بحث کر رہا ہوں۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 31, 2009 بوقت 9:10 شام
 49 

[...] بلاگستان کی پوسٹ اک دونی دونی، ٹو ٹو زا فور میں ایک تصویر لگائی تھی جس کی بڑی بہن کو آج پوسٹا جا رہا [...]

اکتوبر 5, 2009 بوقت 12:08 صبح
سہیل ت
 50 

اپ سب کو سلام
میں یہاں پر اپ سب کو کہوں گا کہ یہ ایک نا ختم ہونے والا بحث ہے
بحث کو بدل کر

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 5, 2009 بوقت 12:50 صبح
 51 

[...] ایک دونی دونی ، ٹو ٹو زا فور از [...]

نومبر 2, 2009 بوقت 2:22 صبح

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog