یہ زا عشرے تک تو زا ہی رہا۔ جیسے کسی نے ہمیں دونی اور تیے کا مطلب بتانا مناسب نہیں سمجھا اسی طرح ہم نے ”زا“ کا مطلب سمجھنا مناسب نہیں سمجھا۔ چونکہ سکول ہماری تعلیم کی واحد جگہ اور ذریعہ نہیں رہا اس لئے نا اہل استادوں سے ہم بچ گئے اور چونکہ صرف استاد کی تعلیم پر یقین نہیں رکھتے تھے اس لئے تعلیمی نظام کے شکنجے سے بھی بچ گئے۔
اردو میڈیم سکول سے کالج میں پہنچے تو معلوم چلا کہ لائقی کے سارے نٹ ہی ڈھلّے ہو گئے ہیں اور آہستہ آہستہ انکشاف ہوا کہ ایک ایک کر کے گر رہے ہیں۔ ایک مہینہ تو ہمیں مرتکز اور ہلکے سے کنسنٹریٹڈ اور ڈائلیوٹ پر ٹرانسفر ہونے میں لگا۔ پوری فزکس میں ویکٹر کے علاوہ کوئی جانا پہچانا لفظ نا تھا۔ حساب کا یہ حال تھا کہ قائمۃالزاویہ، قوسین، عموداً خط گرانا، خط قطع کرنا میں نک و نک ڈوبے ہوئے تھے جو یہاں الفاظِ غلط ثابت ہوئے۔
رو دھو، سر پیٹ کر کالج پاس کیا تو یونیورسٹی پہنچ گئے جہاں پتا چلا کہ وہ استحصال جو ہمارا انگلش میڈیم والوں نے کالج میں کیا تھا کیمبرج والے یونیورسٹی میں کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ایک اور سٹرگل شروع ہو گئی اور اس جدوجہد میں ہمیں خوب غور خوض کرنا پڑتا تھا۔ اتنا کہ ہمارے آرگنائزیشنل بی ہیوئیر والے معین صاحب کو ہمیں دیکھ کر ( شکر ہے ہمارا نام لئے بغیر) کہنا پڑا جسکا مفہوم ہے کہ ”ڈیلے نکال نکال کر اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھورنے اور کھا جانے والی نظروں سے ٹیچر کو دیکھنے سے کچھ زیادہ سمجھ نہیں آنے والی“۔ اب ان کو یہ بتانے کے لئے کہ ”ہمارے علم کا سب سے بڑا ذریعہ ہماری آبزرویشن ہی تو ہے“ ہمارے پاس اعتماد نامی کوئی چیز نہیں تھی۔
لگے ہاتھوں آپ کو بتاتے چلیں کہ یونیورسٹی میں ہمیں ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا تھا کہ مدرسوں سے عشرہ پلس تعلیم کی فراغت کے بعد طلباء اسلامیات ٹائپ کسی مضمون میں ایم اے کر رہے تھے۔ وہ ہماری جدید تعلیم کو تعلیم کفر سے تعبیر کرتے تھے اور ہمیں مرتد ہونے سے۔ بس میں جس سیٹ پر ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا کوئی لڑکا بیٹھ جاتا اس کےساتھ بیٹھنا اپنے ایمان کے لئے نقصان دہ سمجھتے تھے۔ جب حد بڑھ گئی تو ہم نے بھی ایک طریقہ شروع کر دیا کہ شروع کے سٹاپ سے ہی چند لڑکے ہر سیٹ پر الگ الگ بیٹھ جاتے اور یہ لوگ کھڑے رہتے۔ جب کورم پورا ہوتا تو ہم ٹانگیں پھیلا پھیلا کر تاش کھیلتے جس پر ان لوگوں نے کئی بار چھاپہ پڑوانے کی ناکام کوشش کی
۔
میرے نزدیک ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ اسکا کثیر رُخی ہونا ہے۔ مدرسہ ، اردو میڈیم، انگلش میڈیم، آکسفورڈ، کیمبرج ۔۔۔ اور نتیجہ احساس محرومی اور قدرتی حسد و دشمنی۔ مدرسے سے نکلنے والا اپنے آپ کو مولوی کم اور سائنسدان زیادہ سمجھتا ہے۔ کیمبرج والا محکمہ موسمیات پر یقین رکھتا ہے اور مدرسے والا نماز استسقاء پر۔ انگلش، اردو میڈیم والوں کا حال بھی کچھ الگ نہیں۔
دوسرا بڑا اور تشویشناک مسئلہ ہے سٹوڈنٹ کونسلنگ یعنی طالبعلموں کے لئے راہنمائی کی کمی بلکہ نا ہونا۔ میرے والدین اور مجھ میں ہمیشہ اس بات پر اتفاق رہا کہ پڑھنا ہے۔ اس سارے پڑھنے کے دوران کوئی بھی مجھے یہ بتانے والا نہیں تھا کہ میں نے جو پڑھنا ہے اس کا فیصلہ کیسے کرنا ہے؟ نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے ایپٹیٹیوڈ (Aptitude) کی بجائے ٹرینڈ (Trend) دیکھ کر پڑھتا رہا اور آج کامیاب پروفیشنل ہونے کے باوجود سوچتا ہوں کہ میں تو آرٹس کا بندہ ہوں۔ اگر مجھے صحیح وقت پر راہنمائی کرنے والا کوئی ہوتا تو یہ ”آرٹس والا کیڑا“ مجھے تنگ نا کر رہا ہوتا۔
ہماری تیسری پرابلم یہ ہے کہ ہم نے اجتماعی طور پر یہ سوچ اپنائی ہوئی ہے کہ ”آرٹس پڑھنے والا نالائق ہوتا ہے“۔ ہمارے ہاں تو گارڈ اور جمعدار کا بھی اشتہار آتا ہے تو لکھا ہوتا ہے ”تعلیمی قابلیت: میٹرک سائنس کے ساتھ“۔ اوئے سالو تم نے ان سے بچے کلون کروانے ہیں یا ڈیکسٹر لیبارٹری چلوانی ہے؟
چوتھا مسئلہ میرے نزدیک ہے نا اہل اور ڈگری یافتہ ان پڑھ و جاہل اساتذہ۔ جن کے بارے میں میری بیان کی گئی کوئی بھی تفصیل درج ذیل تصویر کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ یہ تصویر دراصل ان اساتذہ کے تیار کردہ طلباء و طالبات کے حال کی ترجمانی کرتی ہے۔

(مجھ سے اس تصویر کا ماخذ دریافت کرنے کی کوشش نا کی جائے، ایک اور تصویر اس سے زیادہ بِچی بِچ ہے اگر کہیں گے تو لگا دوں گا )۔















ابتک تبصرہ جات 52
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں