16
Aug

جل گیا برنال لگائیے (ہفتہ بلاگستان -۱)

بھیجا ہے  ڈفر نے کُچھ نا پُچھ میں

749 بار دیکھا گیا

جب سکول میں پڑھا کہ گرم ہونے پر چیزیں پھیلتی ہیں، لوہے کو بھی گرم کر کے جو مرضی شکل دی جا سکتی ہے اور یہ بھی پتا چلا کہ لوہاروں کے پاس ایک بھٹی ہوتی ہے جس میں آگ لگی ہوتی ہے۔ لوہار لوہے کو اس پر اچھی طرح گرم کر کے نرم کرتے ہیں اور مطلوبہ چیز بنا لیتے ہیں۔ گھر پہنچتے ہی میں نے دروازے میں کنڈی کی جگہ لٹکانے والا سریا نکالا کیونکہ اچھی طرح مڑا ہوا نہیں تھا اور اس کو چولہے پر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر بعد ننگے ہاتھوں سے ہی سریا اٹھا لیا اور جب ہاتھ سے دماغ تک اس کے ضرورت سے زیادہ گرم ہونے کا سگنل پہنچا تو دوسرے ہاتھ میں منتقل کر لیا۔ دوسرے ہاتھ سے چھوٹا تو سیدھا پاؤں پر۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں پر سریے کی گولائی میں کھڈے پڑ گئے اور پاؤں پر یک رنگی قوس قزح جیسا نشان۔
رونے یا ٹھکائی ہونے کا تو نہیں یاد لیکن اتنا یاد ہے کہ کافی دن سکول سے چھٹی رہی تھی اور فقیروں کی طرح ہاتھ پھیلائے (جن کی انگلیاں بھی پھیلی رہتی تھیں) پھرتا رہتا تھا۔ سکول نہیں جانا پڑتا تھا کیونکہ ہاتھ کسی کام کے تھے نہیں اور سکول کے جوتے بھی نہیں پہن سکتا تھا۔ لیکن گھر میں بہر حال لکھائی کی جگہ بھی یاد کرنے کا کام کرنا پڑتا تھا۔ فائدہ تو اس کمندرے کا صرف سکول نا جانا ہی ہوا تھا لیکن نقصانات اور مسائل اوپر بیان کی گئی بات کے علاوہ بھی کافی سارے تھے :(

  • Facebook
  • Twitter
  • Live
  • Digg
  • del.icio.us
  • Google Bookmarks
  • email
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
  • FriendFeed
  • Reddit
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 34

 1 

اچھاااا۔۔۔ پھر تو ڈفر بالکل اسم بامسمی ہے
اتنا معصوم بچہ بڑا ہوکر اتنا کھوچل نکلے گا
یہ اندازہ تو کوئی ای ین سٹائن بھی نہیں لگا سکتا تھا
:grin:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 3:37 شام
 2 

کسی جدید واقعہ کو بچپن کا رنگ دیا گیا ہے بچے بچے کو پتا ہوتا ہے کہ گرم گرم نہیں پکڑتے اور آپ نے تو پکڑ ہی لیا کیا بہادری ہے یا پیدائیشی ڈفر
نا.. عمر نا.. سکول کا نام نا..کلاس کا پتہ واقعہ میں کچھ کالا ہے .

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 4:17 شام
 3 

لگتا ہے آپ پہلی یا دوسری جماعت میں ہوں گے اس وقت.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 4:48 شام
 4 

آپ کو پہلے ایک ہاتھ میں گرم لگا،

پھر دوسرے ہاتھ میں بھی،
اور پھر پاؤں پہ بھی
اُس کے بعد یہاں تک آواز آئی
“گرم انڈے”
“گرم انڈے”
“گرم انڈے”

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 6:32 شام
 5 

::: جعفر ::: :mrgreen: پہلے تو میں وہ کہانی لکھنے لگا تھا کہ سارے بلاگر میری ایسی تیسی کر کے چھوڑتے لیکن پھر اپنی عزت اپنے ہاتھ کے مصداق تھوڑی بیستی میں ہی عافیت جانی.
::: کامی ::: پیدائشی ڈفر :D , آگ پہ وہ حصہ تھا جہاں سے موڑنا تھا. اتنا عقلمند تو میں بھی ہوں :D .
::: میرا پاکستان ::: جی ہاں شائد اتنی ہی کسی کلاس میں تھا لیکن کامی صاحب کے تبصرےکے مطابق بچہ نہیں تھا :D .
::: چوہدری حنیف دے ککڑ ::: :)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 6:49 شام
 6 

کافی تھکا ہوا واقعہ ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 6:49 شام
 7 

::: بلو ::: بالکل میری طرح :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 7:46 شام
 8 

:D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 8:15 شام
 9 

اچھا عبرت ناک واقعہ ہے بچوں کے لیے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 10:05 شام
حجاب
 10 

اچھا لگا صرف وہ جملہ کہ ہاتھ پھیلائے پھرتے تھے پھر کھاتے کیسے تھے امّی نوالہ ڈالتی ہونگی منہ میں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 10:56 شام
 11 

آفٹر افيکٹس بھی بيان کر ديتے تو اچھا ہوتا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 11:24 شام
 12 

اسے کہتے ہیں اسم بامسمی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 11:32 شام
 13 

::: دوست ::: :) .
::: یاسر ::: بچے کب کسی سے عبرت پکڑتے ہیں :D اور میرے پاس صبح سے آپ کا بلاگ نہیں کھل رہا. شائد ورڈ پریس میں کوئی مسئلہ ہے
::: حجاب :::نا لکھے گئے مسئلوں میں ایک یہ بھی تھا لیکن اس کا ذکر اس لئے نہیں کیا تھا کہ “پھر بات بڑے دور تک جانے کا اندیشہ تھا” :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 11:52 شام
 14 

::: اسماء::: آفٹر افیکٹس والی بات ہی کا جواب دیا ہے اوپر والے تبصرے میں :D .
::: فائزہ ::: فخریہ اسم بامسمی :lolz:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 16, 2009 بوقت 11:55 شام
 15 

کافی طالبانی قسم کی شرارت تھی یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے میں اور میرے چاچا کے لڑکے نے ایک بار تجرباتی طور پر پلاسٹک پگھلا کر ہاتھ پر ڈال دی تھی۔ ابھی بھی نشان ہے اس کا۔
یہ تبصرہ میں پانچویں بار بھیج را ہوں، اب اگر ڈیلیٹا ناں تو۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 12:03 صبح
 16 

سائنس پڑھیں گے جناب تو یہ سب تو کرنا پڑے گا.. لیکن مجھے پتہ ہے قصور کتاب ہے جس میں اس بارے میں مکمل معلومات نہیں ہوگی. :)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 12:14 صبح
 17 

یہ کیا کہ بجائے ہمدردی کے سب ہی مزاق اڑا رہے ہیں۔ بیچارہ بچہ کھانا وانا تو چلو برداشت ہو جاتا ہے لیکن باقی کام !!!!!!!!!!!!!!!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 12:40 صبح
 18 

::: عمر ::: یار اتا برا الزام، تمہارے تبصرے تو سپیم اور پینڈنگ میں بھی نہیں ہیں :o میں بھی کہوں ہر مہینے بینڈوڈتھ اوور کوٹا ہونے کی وارننگیں کیوں سینڈتا رہتا ہے ہوسٹ :D .
میں بھی پیانو کے پین سے ریفل نکال کر اسے ٓگ لگاتا تھا اور کہتا تھا ایف -16 بم پھینک رہا ہے
ایک دفعہ اس ایف – 16 نے تیل کی پوری ٹینکی ایک دم میرے پاؤں پر چھس کر دی اور اسکا نشان میرے ابھی تک موجود ہے :mrgreen: .
::: راشد کامران ::: دراصل قصور مس کا ہے، مجھے آج بھی یوین ہے کہ مس نے لوہاروں والی بات بتانے تک خود بھی ”بھٹی“ نامی بندہ تو دیکھا ہو گا لیکن چیز نہیں :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 12:47 صبح
 19 

::: رضوان ::: آخر کار آپ نے پوسٹ کا ”گپت“ سرا پکڑ ہی لیا نا :(

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 12:49 صبح
عدیل
 20 

بھئی بغیر مورل آف دی سٹوری کے مزہ نہیں آتا۔

(پتہ نہیں کیا بات ہے، جب تک بلاگ میں پاکستان کے مسائل پر تبصرہ نہ ہو، بات بنتی نظر نہیں آتی۔ بری عادتیں پکی ہوتی جا رہی ہیں۔ یار ڈفر ایسے ہی لکھتے رہو۔ بس تم ہی ہو جو مجھے اس دلدل سے نکال سکتے ہو!)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 1:33 صبح
 21 

عدیل:
مورل اوف دا سٹوری یہ ہے کہ بلڈی سویلین لوگوں کو ڈنڈا بھی نہیں پکڑنا آتا.

ویسے ڈفر ، کافی تھکا ہوا واقعہ ہے، مجھے اپنا پتہ دو، میں اسلام آباد آ کر ہاتھوں پیروں کے دونوں نشان چیک کرنا چاہتا ہوں.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 8:26 صبح
 22 

ڈفر لگتا ہے آپ سب ہفتہ بلاگستان منا رہے ہیں اس لیے میں نے بھی ڈہینگ پار دی ہے امید ہے آپ کو پسند آئے گی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 11:10 صبح
 23 

::: عدیل ::: ہاں یار مجھے بھی لگتا ہے کہ اتنا سیاسی ہو گیا ہوں میں اب اگلی دفعہ ناظم کا الیکشن لڑنا ہی پڑے گا. ویسے میں سیاسی تحروروں سے پرہیز ہی کرتا ہوں کہ سائیبر ایکٹ نامی کتا کسی بھی ٹائم کاٹ سکتا ہے. لیکن تبصرہ نگار بھی بڑی چیزیں ہوتی ہیں، کھینچ کر غیر سیاسی کو سیاسی بنا دیتی ہیں یا پھر صوبائی یا پھر لسانی :( ,
::: منیر عباسی ::: ڈنڈا نہیں سریا :D اور کہیں تو تصویریں بھیج دوں؟ :ڈ
::: یہ لوگ ::: پڑھی ہے جی آپ کی تحریر. مزیدار ہے. ریٹنگ ہوئی اگر تو ٹاپ تھری میں میرا تو ووٹ ہو گا آپ کی طرف :)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 12:58 شام
 24 

آپ کے سارے کام الٹے ہوتےہیں۔ ویسے آپ کا بلاگ پڑھنے کا بہت مزہ آتا ہے۔

میں نے بھی ایک دفعہ الٹا کام کیا تھا۔ کیا کچھ یوں تھا کہ اپنی چارپائی۔ اپنے چھت کے سامنے بچھا دی۔ اور سب بہن بھائیوں کو کہا دیکھنا میں چھت سے چھلانگ لگاون کا اس چارپائی پر سب بہن بھائی جمع ہو گے۔ اور انتظار کرنے لگے۔ میں نے چھلانگ لگائی اور چارپائی ٹوٹ گی
اتنے میں امی جی بھی تشریف لے آئیں انھوں نے یہ تو نہیں دیکھا اس کو لگی ہے کہ نہیں بس چارپائی کو دیکھا اور پھر اپنا جوٹا اٹھا لیا

آگے خود سوچیں کیا ہوا ہو گا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 5:57 شام
 25 

ڈفر میاں، آپ کی “سکھ” بھری داستان پڑ کر مزا آیا۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 7:46 شام
 26 

::: نوائے ادب ::: بس آپ والی سوچ ہی پکی ہو گئی ہے میرے گھر والوں کے دماغ میں بھی کہ میں نے کوئی کام کیا ہے تو الٹا ہی ہو گا. آپکو بلاگ پڑھنے کا مزہ آتا ہے یہ تو سیدھا سیدھا آپ کا قصور ہے اگر یہ بھی آپ نےامی کو بتایا تو مزید جوتے پڑنے کا اندیشہ ہے. آپ کا بیان کیا گیا واقعہ بھی کم الٹا اور مزیدار نہیں :D ۔
::: عامر شہزاد ::: مزوں کے الگ پیسے ہوں گے جناب :) ۔ ڈفرستان پر خوش آمدید

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 7:57 شام
 27 

ڈفر ریٹنگ سے کیا مراد اور کیا اپلائی کرنا پڑے گا؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
اگست 18 , 2009 بوقت 12:05 صبح

نہیں اپلائی نہیں کرنا پڑے گا یہ ریٹنگ والی بات تو ایویں کہہ دی تھی میں نے :D ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 17, 2009 بوقت 10:35 شام
 28 

ڈفر آپ شُرُوع سے ہی اِسم با مُسمّيٰ تھے کيا ؟ميں عقلمند لِکھنے لگی تھی ليکِن ايسا عجيب تجربہ ميرا ڈفر بھائ ہی کر سکتا تھا ،اُف توبہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو گۓ ،جلے ہُوۓ ہاتھوں پيروں والا اللہ توبہ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 3:37 صبح
 29 

تبصرہ کرنے کے بعد باقی تبصرے ديکھے تو پتہ چلا سب کو ہی آپ کے نام پر شک ہے يا شايد نام کا اثر ہو اِسی لِۓ کہا جاتا ہے کہ نام سوچ سمجھ کر رکھنے چاہيئں کہ نام کا شخصيت پر بہُت اثر پڑتا ہے ،ليکِن اب کيا کہيں کہ يہ نام تو آپ نے خُود رکھا ہے يعنی ؟؟؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 3:46 صبح
 30 

::: شاہدہ اکرم ::: آپی جی آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ تواڈا بھرا شروع توں ای ایسا وے :mrgreen: اور نام کا اثر مجھ پر نہیں بلکہ نام پر میرا اثر ہے
سنا نہیں آپ نے کہ شخصیت اور نام میں مماثلت ہونی چاہئے :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2009 بوقت 5:18 شام
 31 

سرکار آپ کے ہاتھوں پیروں پہ داغوں والی تصویریں کب پہنچیں گی؟

اور بھی بہت سے سولات ہیں مگر بریک کے بعد. روزہ لگ رہا ہے بری طرح…

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 29, 2009 بوقت 7:26 شام
 32 

آئی کہ آئی
ابھی یوم فوٹوگرافی باقی ہے نا
کیمرہ ڈھونڈتا ہوں تصویر اتارنے کے لئے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 30, 2009 بوقت 12:00 صبح
 33 

[...] جل گیا برنال لگائیے از [...]

نومبر 2, 2009 بوقت 2:21 صبح

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog