جب سکول میں پڑھا کہ گرم ہونے پر چیزیں پھیلتی ہیں، لوہے کو بھی گرم کر کے جو مرضی شکل دی جا سکتی ہے اور یہ بھی پتا چلا کہ لوہاروں کے پاس ایک بھٹی ہوتی ہے جس میں آگ لگی ہوتی ہے۔ لوہار لوہے کو اس پر اچھی طرح گرم کر کے نرم کرتے ہیں اور مطلوبہ چیز بنا لیتے ہیں۔ گھر پہنچتے ہی میں نے دروازے میں کنڈی کی جگہ لٹکانے والا سریا نکالا کیونکہ اچھی طرح مڑا ہوا نہیں تھا اور اس کو چولہے پر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر بعد ننگے ہاتھوں سے ہی سریا اٹھا لیا اور جب ہاتھ سے دماغ تک اس کے ضرورت سے زیادہ گرم ہونے کا سگنل پہنچا تو دوسرے ہاتھ میں منتقل کر لیا۔ دوسرے ہاتھ سے چھوٹا تو سیدھا پاؤں پر۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں پر سریے کی گولائی میں کھڈے پڑ گئے اور پاؤں پر یک رنگی قوس قزح جیسا نشان۔
رونے یا ٹھکائی ہونے کا تو نہیں یاد لیکن اتنا یاد ہے کہ کافی دن سکول سے چھٹی رہی تھی اور فقیروں کی طرح ہاتھ پھیلائے (جن کی انگلیاں بھی پھیلی رہتی تھیں) پھرتا رہتا تھا۔ سکول نہیں جانا پڑتا تھا کیونکہ ہاتھ کسی کام کے تھے نہیں اور سکول کے جوتے بھی نہیں پہن سکتا تھا۔ لیکن گھر میں بہر حال لکھائی کی جگہ بھی یاد کرنے کا کام کرنا پڑتا تھا۔ فائدہ تو اس کمندرے کا صرف سکول نا جانا ہی ہوا تھا لیکن نقصانات اور مسائل اوپر بیان کی گئی بات کے علاوہ بھی کافی سارے تھے
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔















ابتک تبصرہ جات 34
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں