25
Feb

نئے دور کے نئے تقاضے

بھیجا ہے  ڈفر نے کیفے ڈی بکواس میں

519 بار دیکھا گیا

ہماری قوم کی مانے جانے والی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وقت کے حساب سے اپنی ترجیحات طے کرتی ہے۔ مثلاً موبائل موبائل کا شور مچا تو فقیروں کے پاس بھی ”کیمرے والا موبائل“ نظر آنے لگا۔ فوج کی مخالفت پر آئے تو فوجی بھی اس کو گالیاں دینے لگے۔ عطاءالرحمان صاحب نے آئی ٹی آئی ٹی کی رٹ لگائی تو سارے کے سارے کمپیوٹر سائنس کے پیچھے پڑ گئے۔ میرے جیسے متوقع ”خرادیے“ بھی یونیورسٹی کی طرف دوڑے۔ اب کلاس میں عجیب کھچڑی پکی ہوئی ہے، کوئی میڈیکل کا طالب علم کوئی انجنئرنگ کا اور ہیڈ کا ایک بھتیجا ایسوسی ایٹ ڈپلومہ ہولڈر بھی کسی نا کسی طرح آ گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آدھی کلاس چار سال میں پاس ہو گئی اور ہم جیسے چھ سات سال تک لٹکے رہے۔ لڑکے تھے اس لئے کچھ زیادہ ہی ”لٹکنا“ پڑا۔
اب یہ حال ہے کہ میڈیکل والا آئی ٹی کی ڈگری کے ساتھ ایک کیمیکل کی دکان چلا رہا ہے، دوسرا باہر مکڈونلڈ پر برگر بنا رہا ہے، میں خرادیے کی دکان چلا رہا ہوں اور جو چنگڑ آئی ٹی کا عاشق تھا آج تک باس کی لعن طعن سن رہا ہے، اسی پوزیشن پر جس پر بھرتی ہوا تھا۔ موبائل کا یہ حال ہے کہ جس کے پاس موبائل سیٹ ہی نہیں اس کے پاس بھی کم سے کم چار سمیں ہیں۔
ہم وہ لوگ ہیں جو دیکھ کر اپنی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ کیا دیکھ کر؟ زمانے کی ہوا۔ ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ ہم نے کدھر جانا ہے، کدھر کو جا رہے ہیں اور کدھر کو جانا چاہئے؟ پہلے مولویوں کو سر پہ چڑھایا اور مخالفت پر آئے تو ان کی تشریف پر دھڑا دھڑ لاتیں رسید کر کے چلتا کیا۔ پہلےسارے مل کر طالبان کو گالیاں دینے لگے اور حکومتی رٹ کی رٹ لگائے رکھی اور اب سب مل کر معاہدے کا جشن منا رہے ہیں۔ہماری یہی خوبی فکر اقبال کا زندہ جاوید نمونہ ہے

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں
میں بھی آج نئے دور کے نئے تقاضے کے ساتھ یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں۔ پٹھانوں اور سکھوں کو ہم نے خوب لتاڑ لیا۔ اتنا ان کا ”رغڑا“ لگایا کہ آج پٹھانوں اور سکھوں کے موبائلوں میں بھی ان کے لطیف ایس ایم ایس موجود ہیں۔ اب ہمیں کچھ تبدیلی لانی چاہئے۔ اب ہمیں سرداروں اور پٹھانوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے قصے چاہئیں۔ ہمیں قوی امید ہے کہ اس کام میں سارے شریف اور گنجے ہمارا بھرپور ساتھ دیں گے، کہ اجتماعیت کا تقاضا تو یہی ہے۔ آخر سپریم کورٹ کے نا اہلی کے فیصلے نے انکو اس منصب کے لئے مکمل طور پر اہل جو ثابت کر دیا ہے۔

  • Facebook
  • Twitter
  • Live
  • Digg
  • del.icio.us
  • Google Bookmarks
  • email
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
  • FriendFeed
  • Reddit
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 19

 1 

اب بندہ کرے تو کرے کیا؟
پہلے کہتے ہیں چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔۔
لو جی چل پڑے ہوا کے ساتھ
پھر طعنہ سنو
لکیر کے فقیر ہیں۔۔۔
ہن مینوں دس میں کی کراں؟؟؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 25, 2009 بوقت 9:15 شام
احمد
 2 

آپ خرادئے کی دکان کے ساتھ ایک بلاگ بھی تو چلا رہے ہیں۔ کچھ تو بہرحال فائدہ ہوا نہ۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 25, 2009 بوقت 9:45 شام
 3 

اجی کیا کہتے ہیں، ایک وقت میں تو ایسا ہوا تھا کہ ہمارے قصبے کا ایک لڑکا سی اے کرنے نکلا، اس کے بعد آج آدھا قصبہ سی اے اور اے سی سی اے میں ٹانگ پھنسائے بیٹھا ہے، اور والدین کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے، فیس پاؤنڈوں میں ادا کر کر کے۔
اور یہ کہ ہمیں نئی سوچ اور نیا تقاضا ہے، تو جی، ہم تو ایسے مجبور لوگ ہیں کہ اس قابل بھی نہیں کہ اپنے تقاضے کا اظہار کر سکیں یا کوئی نئی بات پھیلا سکیں، سنا ہے زرداری جی چار ارب ڈالر مذید منگوا رہے ہیں،
ویسے ہاں آج کل ایک رواج ضرور ہے، اسلام آباد پر ہنسنے کا!!!!۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 25, 2009 بوقت 10:31 شام
ناصر
 4 

بلکل تھیک ہوا ان گنجون کے ساتھ۔ یہ بھی ہر روز عوام کے جزبات کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اب بھی ان کو وطن اور قوم کی محبت اس لیے یاد ائی ہے کیونکہ ان کے چوتڑوں پر چھتر لگے ہین۔ ورنہ جب اپنی حکومت بچانے مین لگے ہوئے تھے جب کہاں گیا تھا مینڈٹ؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 25, 2009 بوقت 10:59 شام
 5 

Main nay aik dafa aik andhay faqeer ko colour screen walay mobile kay saath daikha tha. :P

Aur ab pathan aur sikhon kay ilawan Faraz kay shair bhi tou atay hain. :D

Aaj mujhay aik sms milla. Faraz, ganjon aur shareef ka:

Na-ehal ho gaye aakhir donon bhai Faraz
Na koi shahbaz raha na he banda Nawaz

Wah!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 12:10 صبح
 6 

زندھ باد جی
نااھل هو کئے اخر دونوں بھائی فراز
ناں کوئی شہباز رها ناں کو بندھ شریف
خرادیه بننے والی بات تو میرے ساتھ هے که میں مکینک بنتے بنتے چاپان مزدور بن گیا
جب میں جاپان ایا تو سارے گاؤں کا منه جاپان کی طرف هو گیا
اور اج میں سکریپیه هوں
کل سے سوچ رها هوں که سکریپ کا هی کروں یا پھر پھیری پر نکلا کروں ٹرکوں کی تلاش میں ـ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 1:10 صبح
 7 

السلامُ علیکُم
یہ بھی ہر کِسی کا کام نہیں ہُوا کرتا لیکِن بات یہ بھی ہے کہ ہم واقعی ایک طرف ہی مُنہ کر کے چلنے لگتے ہیں یعنی بھیڑ چال کہیں جِسے
گوانڈیاں دا مُنہ لال اے تے تُسی پِٹ پِٹ کے لال کر لو
بھلا یہ بھی کوئ بات ہے بس صِرف عادت سے مجبُور ہیں سو ڈفر بھائ کیا دِل پر لینا ہر بات کو اگلوں نے تو صِرف اپنی جیبوں کو گرم کرنا سیکھا ہے مُلک اور مُلک کا غم وہ کیا جانیں
دُعاگو

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 4:15 صبح
 8 

میرے ابو ہمیشہ زمانے کے ساتھ چلتے ہوے چاہتے تھے کہ میں بھی کسی مقبول کام میں‌ٹانگ اڑواوں‌جیسے سی اے ڈاکٹر انجنیر کی ڈگری لوں لیکن میں نے باد مخالف پر چلتے ہوے ایر کرافٹ مینٹینسس میں داخلہ لے لیا ہے اور خوش قسمتی سے داخلہ بھی مل گیا ہے اسی لیے ہم آی ٹی سے بہت دور ہیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 7:28 صبح
جعفر
 9 

سب سے پہلے تو میرے بلاگ کی سیر کرنے اور اس پر کمنٹنے کا شکریہ۔۔۔اور میرے بھائی رو پیٹ کر کچھ لکھ تو لوں‌گا۔۔۔ لیکن یہ تکنیکی مسئلے میری سمجھ میں‌نہیں‌ آتے جلدی ۔۔۔ اس لئے Layout جیسا بھی ہو گزارا کرو۔۔۔

8-| میں‌نہ تو شریف ہوں‌اور نہ گنجا اس لئے تعاون نہیں‌کر سکتا :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 10:59 صبح
Samz
 10 

hum main 2 cheezeen ” بدرجہ اتم” maujood hain 1-jazbatiyat and dosra makhi par makhi maarna yahan tou ab yeh haal hai kah ager koi degree leni hain tou ya ACCA ki hai ya phir MBA is se kam tou khuch karna hi nahin hai.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 12:03 شام
 11 

بہت اچھی تحریر ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 1:47 شام
 12 

پہلے محاورہ تھا
”سر منڈواتے ہی اولے پڑے“
ااب ان شریفوں کے لئے یہ محاورہ بن گیا ہے
”بال لگواتے ہی چھتر پڑے“
گنجے سرداروں اور شریف پٹھانوں کو لطیفے آیا کریں گے اب

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 2:57 شام
 13 

خوب لکھا ہے بھئی۔ زبردست۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 2:59 شام
اسلم
 14 

اب یہ سمجھ نہین آ رہی کہ شریف برادران زرادری سے ملاقات کیون نہیں کر رہے؟ ناصر نے بالکل ٹھیک کہا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 3:56 شام
 15 

::: احمد ::: میں تو صرف بلاگ چلا رہا ہوں، میرے جس یار نے بی اے کیا ہوا ہے وہ پورا سافٹ وئیر ہاؤس چلا رہا ہے۔ مطلب ڈگری ضروری نہیں۔ لیکن بے شک سیکھا تو ہے۔ ”لٹکنا“
::: عمر ::: اسلام آباد پر یا اسلام آباد کے حکمرانوں پر؟
::: ناصر ::: چھتر تو واقعی ”وہیں“ لگے ہیں :D
::: UD ::: اسکا مطلب ہے کہ کام پہلے ہی سٹارٹ ہو گیا ہے
::: خاور ::: پھیری پر ٹرکوں کی تلاش میں؟ :s
::: شاہدہ اکرام ::: یہی میرا مطلب تھا کہ جب تک شریفوں کی حکومت تھی تو عوام کی اور مینڈیٹ کی کوئی فکر نہیں تھی۔ ادھر حکومت گئی تو پاکستان کا درد جاگ اٹھا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 8:57 شام
 16 

::: انکل ٹام ::: اچھا ہوا کہ آپکو آپکی اپنی پسند کے شعبے میں داخلہ ملا۔ ورنہ آئی ٹی تو صرف مثال کے لئے لکھا ورنہ مراد ایسا شعبہ تھا کہ جس میں دلچسپی نا ہو بلکہ فائدہ نظر آئے۔
::: جعفر ::: شریف یا گنجے میں سے ایک تو ضرور ہو گے۔ گور کر کے بتاؤ
::: منٹو ::: ہاہاہاہا، کیا محاورہ بنایا ہے جی :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 9:02 شام
 17 

تو نیا سٹائل اپنا لیا ہے!! :P

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2009 بوقت 11:07 شام
 18 

کما ل کا بلاگ ہے۔ Keep it up :)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 4, 2009 بوقت 6:55 شام
 19 

وسیم صاحب خوش آمدید اور پسندیدگی کا شکریہ :)
اور آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ کمال کا نہیں ڈفر کا بلاگ ہے ;) آپ کی دوبارہ آمد کا انتظار رہے گا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 4, 2009 بوقت 11:31 شام

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog