ہماری قوم کی مانے جانے والی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وقت کے حساب سے اپنی ترجیحات طے کرتی ہے۔ مثلاً موبائل موبائل کا شور مچا تو فقیروں کے پاس بھی ”کیمرے والا موبائل“ نظر آنے لگا۔ فوج کی مخالفت پر آئے تو فوجی بھی اس کو گالیاں دینے لگے۔ عطاءالرحمان صاحب نے آئی ٹی آئی ٹی کی رٹ لگائی تو سارے کے سارے کمپیوٹر سائنس کے پیچھے پڑ گئے۔ میرے جیسے متوقع ”خرادیے“ بھی یونیورسٹی کی طرف دوڑے۔ اب کلاس میں عجیب کھچڑی پکی ہوئی ہے، کوئی میڈیکل کا طالب علم کوئی انجنئرنگ کا اور ہیڈ کا ایک بھتیجا ایسوسی ایٹ ڈپلومہ ہولڈر بھی کسی نا کسی طرح آ گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آدھی کلاس چار سال میں پاس ہو گئی اور ہم جیسے چھ سات سال تک لٹکے رہے۔ لڑکے تھے اس لئے کچھ زیادہ ہی ”لٹکنا“ پڑا۔
اب یہ حال ہے کہ میڈیکل والا آئی ٹی کی ڈگری کے ساتھ ایک کیمیکل کی دکان چلا رہا ہے، دوسرا باہر مکڈونلڈ پر برگر بنا رہا ہے، میں خرادیے کی دکان چلا رہا ہوں اور جو چنگڑ آئی ٹی کا عاشق تھا آج تک باس کی لعن طعن سن رہا ہے، اسی پوزیشن پر جس پر بھرتی ہوا تھا۔ موبائل کا یہ حال ہے کہ جس کے پاس موبائل سیٹ ہی نہیں اس کے پاس بھی کم سے کم چار سمیں ہیں۔
ہم وہ لوگ ہیں جو دیکھ کر اپنی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ کیا دیکھ کر؟ زمانے کی ہوا۔ ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ ہم نے کدھر جانا ہے، کدھر کو جا رہے ہیں اور کدھر کو جانا چاہئے؟ پہلے مولویوں کو سر پہ چڑھایا اور مخالفت پر آئے تو ان کی تشریف پر دھڑا دھڑ لاتیں رسید کر کے چلتا کیا۔ پہلےسارے مل کر طالبان کو گالیاں دینے لگے اور حکومتی رٹ کی رٹ لگائے رکھی اور اب سب مل کر معاہدے کا جشن منا رہے ہیں۔ہماری یہی خوبی فکر اقبال کا زندہ جاوید نمونہ ہے
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں















ابتک تبصرہ جات 19
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں