30
Oct

آج کا سوال

بھیجا ہے  ڈفر نے نقار خانہ میں

529 بار دیکھا گیا

آج سے ہم اپنے بلاگ پر ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ نام اسکا رکھا ہے ’آج کا سوال‘۔ جس سے متاثر ہو کر ہم یہ سلسلہ شروع کر رہے ہیں وہ آپ دیکھ سکتے ہیں یہاں کلک کر کے۔ کیونکہ مذکورہ بلاگ انگریزی میں ہے تو سوچا کہ ہم اردو میں شروع کر دیتے ہیں۔ بلاگر ہر ہفتے ایک سوال پوسٹ کرتا ہے لیکن ہم ہر ہفتے نہیں کریں گے اس لئے اسکا نام ’اس ہفتے کا سوال‘ سے بدل کر ’آج کا سوال‘ رکھ دیا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کریں گے کہ ہر روز ایک سوال پوسٹ کر دیں لیکن ہفتہ بہر حال ہمیں ایک سوال کے لئے زیادہ لگا۔ ہم ذرا سوال کی فریکوئنسی زیادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ تو جناب اللہ کا نام لے کر شروع کرتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ کامیاب ہو گا۔ تو جناب حاضر ہے آج کا سوال
۔
اگرآپ سے یا کسی سے بھی یہ پوچھیں کہ کیا آپ سچ بولتے ہیں؟ تو سارے کے سارے کہیں گے کہ ہاں۔ اگر کوئی زیادہ ہی سچ بولے تو یہ کہہ دے گا کہ بس کبھی کبھی جھوٹ بول لیتے ہیں جس سے کسی دوسرے کا نقصان نا ہو یا کسی دوسرے کی مدد کرنا مقصود ہو وغیرہ وغیرہ۔۔۔
ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ آپ دوسرے کا بولا گیا سچ کتنا برداشت کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں؟ خاص طور پر نا پسندیدہ سچ۔
۔

  • Facebook
  • Twitter
  • Live
  • Digg
  • del.icio.us
  • Google Bookmarks
  • email
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
  • FriendFeed
  • Reddit
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 27

 1 

Hmmm….zara tab badan mein aag tu lag jati hai!! :D lakin reaction show karwa saktay hein yaa nahi…yeh aglay banday pay depend karta hai….koi bara hai tu nahi…agar koi chota yaa apnay jitna hai tu phir tu zarror show karwa daytay hein!! :D :D :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 30, 2008 بوقت 10:45 شام
 2 

اگر میرے بارے میں ہو تو 60 فیصد تک اگر میرے کسی عزیز کے بارے میں ہو اور کسی محفل میں ہو تو 0 فیصد!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 12:34 صبح
ڈفر (حقیقی)
 3 

ڈفر بھیای،
بلاگ جیسی بھی ہو، مگر کلر اسکیم اور تھیم کلر ہے۔

سچی سچی بتاو کہاں سے چوری کیا ہے؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 2:35 صبح
ڈفر (حقیقی)
 4 

خیر چوری بھی ہو توذوق کی داد ہے، اگر خود بنایا ہے تو ذوق اور شوق دونوں کی داد۔

آپکا بھای-
ڈفر (حقیقی)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 2:38 صبح
 5 

سچ کو برداشت کرنا ویسے بھی مشکل کام ہے ۔ اور وہ سچ اپنے بارے میں تو اور زیادہ مشکل ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 2:43 صبح
Umar
 6 

buhut ziada…

jhoot bardaasht nahain huta chahay apnee tareef main hu kiyyon kay aisa karnay wala aapsay mukhlis nahain hai…

jhoot bolnay walay aur jhoot bardaasht karnay walay aakhar ku khasaaray main rehtay hain jesa kay hamara maashara..

mian gulf main bhee raha hoon aur pakistan main bhee aur maghrib main bhee…jitna jhoot pakistani booltay hain abhee tak kisee aur qaum main nahain dekha…Pakistanion ku isee leeay aksar mulkoon main pasand nahain kiyya jata tha maazee main lekin ub dehshatgardee wala pehloo ziyyada numayyan hu giyya hai is leeay jhoot wala pehloo zara dub giyya hai

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 3:03 صبح
 7 

omygosh.
I have finally ventured to see what your blogs like, it felt like an assignment just reading it!But I think I have the gist of what’s being asked.

Lies are intolerable to a certain extent, I don’t mind being lied to if it makes the other perosn comfortable in doing so, yes, it’s wrong but sometimes you have to be REAL about the situation.

I’m sorry if I’ve answered it wrong, it’s my misunderstanding, all fault is mine.
Interesting question though.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 4:21 صبح
 8 

اپنے بارے میں‌سچ سن کر برا نہیں‌لگتا اگر تنقیدی ہو تو زیادہ ہی اچھا لگتا ہے۔ ‌خوشامد اچھی نہیں لگتی۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 5:23 صبح
 9 

if it’s a truth regarding you, i see no harm in tolerating it… because deep inside, u wud know that yes, that person is right!
however, i know i may be oversimplifying the situation

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 9:40 صبح
 10 

میں تو جب بھی کہتا ہوں کہ میں چھوٹ بولتا ہوں کوئی یقین نہیں کرتا۔ حالانکہ میں سب کچھ سچ سچ بتا دیتا ہوں پھر بھی۔
خیر میں تو لوگوں کے جھوٹ بڑے آرام سے ہضم کر لیتا ہوں اسی لئے تو اتنی اچھی صحت ہے۔ ہاں اگر زیادہ بات بڑھ جائے تو اگلے کو پکڑنا تو پڑتا ہے نہ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 10:19 صبح
 11 

hmmm interesting thing you have started here! as for the answer I dont really can tolerate the truth if it’s hurting I like to stay in the fantasy world.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 11:47 صبح
 12 

اب اپنے منہ کیا میاں مٹھوں بنیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 1:30 شام
 13 

@ آپ سب : بہت بہت شکریہ :)
@ ڈفر (حقیقی) : ڈفر کوئی ایم۔کیو۔ایم ہے جو حقیقی نقلی کا سسٹم شروع کر دیا :)
تھیم چوری کیا ہے انفو کریک کا۔ آپنے سوال کا جواب نہیں دیا۔ اور ایک درخواست بھی، مجھ سے میرا لقب مت چھینیں :D
@ hfm ، عبدالقدوس : خوش آمدید :)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 9:40 شام
 14 

اور اب میں بھی جواب دے دوں؟ اچھا ٹھیک ہے :)
اگر پتا ہو کہ اگلا بندہ سچ بول رہا ہے تو برداشت کرنے میں زیادہ مسئلہ نہیں‌ہوتا۔ لیکن اگر اگلا بندہ نا پسندیدہ سچ بول رہا ہو اور معلوم نا ہو کہ سچ بول رہا ہے تو پھر اسکے ساتھ آرگومنٹ (پتہ نہیں اردو میں کیا کہیں گے؟) کرتا ہوں۔ اگر بعد میں سچ پتہ چلے تو معافی مانگنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کسی بندے کا سچ جتنا مرضی برا لگے لیکن سچے بندے کی دل سے عزت کرتا ہوں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 9:44 شام
 15 

بھائی اسے شائد تبصرہ کہتے ہیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 10:02 شام
 16 

وقتی طور پر برا لگنا تو قدرتی سی بات ہے۔لیکن بات اگر درست ہے تو جلد یا بدیر آپ کو ناپسندیدہ ترین سچ بھی قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔ ویسے مجھے کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوتا کسی سے ایسا سچ سن کر، خصوصاً اپنے بارے میں۔ بلکہ دوسروں نے تو شائد بہت کم ہی بتایا ہو کچھ۔ میں خود ہی کافی ہوں اپنے آپ کو کڑوے سچ بتانے کے لئے :D

۔۔۔آرگیو بحث کرنا ہوتا ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 31, 2008 بوقت 11:20 شام
 17 

پھر ڈسکشن کرنا کیا ہوتا ہے؟ :)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 1, 2008 بوقت 12:25 صبح
 18 

میری اردو انگریزی دونوں ہی خاصی کمزور ہیں ویسے۔ :)
دونوں ہی مباحثے یا تفصیلی تبادلہء خیال کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں شاید۔
میرے خیال میں آرگیومنٹ میں دلائل کا انداز ڈسکشن کی نسبت تھوڑا جارحانہ ہوتا ہے ۔
الیکٹرا میرا ہوا؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 1, 2008 بوقت 12:59 صبح
 19 

آپکی اردو انگریزی کامیری اردو انگریزی سے برا حال نہیں ہو سکتا :)
میرے خیال میں دلیل دینے کو آرگو کرنا کہتے ہیں
پہلے آرگومنٹ ہوتا ہے پھر اس آرگومینٹ پر ڈسکشن
ڈسکشن میں آپ اپنے آرگومنٹ کو پروو کرتے ہیں یا دوسرے کو کنوِنس (اب اسکی کیا اردو ہو گی؟ شاید آمادہ کرنا)
لیکن یہ سب میری انڈرسٹینڈنگ ہے اس لئے امید ہے یقیناّ غلط ہو گی :D
اور الیکٹرا بڑا انعام ہے وہ آخر میں ملے گا ، اس درست جواب پر
نکّی کیَو دی بوتل تواڈی :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 1, 2008 بوقت 1:16 صبح
 20 

first question and a deadly one eh duffer?
well its hard to speak the truth but its harder to actually have the courage to listen to it.i think its better to listen to those who say whats true coz you dont find people who say it to you without lying…a bitter pill but those say the truth are your friends…

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 1, 2008 بوقت 2:00 صبح
 21 

and we all lie more for our benefit than others!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 1, 2008 بوقت 2:02 صبح
شگفتہ
 22 

السلام علیکم

دلچسپ سوال ہے ۔ ۔ ۔ اگر دوسرے کا بیان کیا گیا سچ میری ذات کے حوالے سے ہے تو ضرور سنتی ہوں اور برداشت تو کرنا ہی کرنا ہے ، یہیں تو اپنے آپ کا پتہ چلتا ہے کہ خود کتنے پانی میں ہیں ۔ ۔ ۔ اگر اس سچ پر بات کرنے کی ضرورت ہو تو بات کرتی ہوں ڈسکشن کی صورت میں۔ اگر ڈسکس کرنے کی ضرورت نہ ہو تو صرف سن لیتی ہوں۔

اگر بیان کردہ سچ دوسروں کے حوالے سے ہو تو اگر صحیح بندے کے بارے میں غلط بات کہی جائے تو بھلے ساری دنیا ایک طرف ہو جائے میں اسی بندے کا ساتھ دینا ہے جو درست ہو ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 1, 2008 بوقت 1:03 شام
 23 

very good question. And I admit I don’t like it but I think it is for our own good in the long run. For example if I am not doing something right and someone points that out I might feel bad but then I can correct myself to save myself from further problems. It depends how the person tells you. If the tone is mocking, I’d be hurt, if it is friendly and caring I’ll take it positively

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 1, 2008 بوقت 4:12 شام
حجاب
 24 

میرے بارے میں کوئی سچ بولے اور میرے سامنے اور وہ تنقید ہو تو زیادہ ذوق و شوق سے سُنتی ہوں ، کیونکہ کم لوگ ہی منہ پر تنقید ہی ہمت کرتے ہیں ، میں تو چاہتی ہوں کہ کوئی مجھ سے میرے بارے میں جو دوسرے کو پسند نہیں وہ سچ منہ پر کہے مگر پتہ نہیں لوگ ڈرتے کیوں ہیں ، ویسے میں تو کسی کی کوئی بات ناپسند لگے تو کہہ دیتی ہوں ، پہلے ذرا خیال کرتی تھی کہ کہیں برا نہ مان جائے سامنے والا ، مگر اب خیال کیئے بغیر کہہ دیتی ہوں ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 3, 2008 بوقت 12:28 صبح
 25 

آپ درست رہے ہیں۔ میں نے بس کان کو دائیں طرف سے پکڑا تھا :D
انعام کا شکریہ :)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 3, 2008 بوقت 2:29 صبح
 26 

آج فارغ ہوں اس لئے آوارہ پھر رہا ہوں۔۔۔
سچ وہ بھی اپنے بارے میں ۔۔۔
بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔
کُھنّے سیک دیتا ہوں
زیادہ تر زبانی
لیکن کبھی کبھار عملی بھی۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2009 بوقت 1:45 شام
 27 

اوئے ہوئے
جعفر صاحب آج آپ کے تبصرے کے بعد دیکھا ہے کہ میں نے تو پچھلے کتنے تبصروں کا جواب ہی نہیں دیا ہوا
لیکن کیونکہ یہ پوسٹ پرانی ہو چکی ہے اس لئے آپ سمیت سب کو جواب کی بجائے شکریہ سے کام چلانا پڑے گا :D
لیکن آپ کےجواب کے بعدمیری یہ رائے ہے کہ آپ کو شائد دلی سکون سے زیادہ انا کی تسکین پیاری ہے. انا بولے تو ایگو ;)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 11, 2009 بوقت 1:48 صبح

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog