Google
17
مئی

خطوطِ ڈفریہ ۔ قسط اوّل

بھیجا ہے  ڈفر نے آ لو پیاز, کیفے ڈی بکواس میں

3,098 بار دیکھا گیا

شام کو سو کر اٹھا تو گھر سائیں سائیں کر رہا تھا، اور اس سنسناہٹ میں اوپر والوں کی کاکی کی آواز کسی زومبی کی چڑچڑاہٹ کا پتہ دے رہی تھی جسکو اسکی پھپھی کی بار بار کی تنبیہہ ”میں تیریاں لتاں لا دینیاں نے“ بھی روکنے میں ناکام ہو رہی تھی، میرا خیال ہے کہ بچی پیمپری ہونے سے گریزاں تھی اور لاتیں چلا رہی تھی۔ کاکی اور پھپھی کی آواز کے فل سٹاپ کی وجہ بنی دادی کی کاکی کو گود میں لے کر چمکاریاں اور پچکاریاں نما پپیاں۔ اس ساری سنسناہٹ اور چڑچڑاہٹ سے یوز ٹو ہونے کے بعد گھر کی ویرانی پہ غور کرا تو احساس ہوا کہ میرے ساتھ ہاتھ کر گئے تم۔ بالکل ویسے جیسے ابو جی کے ساتھ اماں جی1 کے پاس جانے واسطے ہم زبردستی تیار ہو جائیں تھے اور ابو جی سگریٹ کا بہانہ کر کے باہر جائیں تھے اور شام کو ہی واپس آئیں تھے۔
میں نے بس یہ کہا تھا کہ میں نے آرام کرنا یہ نہیں کہا تھا کہ میں نے جانا ہی نہیں۔ تم لوگوں نے کہا چلو آ گیا گارڈ ڈاگ اسکو لگاؤ ڈیوٹی پہ۔ اگر میں نے گھر میں اکیلے ہی رہنا ہوتا تو یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟ مجھ منحوس کی شرکت سے مہندی تارکول کی بن جانی تھی کیا؟ یا چاچی نے خاص ہدایت کری تھی مجھے فنکشن سے دور رکھنے کی؟ اور اگر چھوڑ ہی گئے تھے تو کچھ روٹی پانی کا بندوبست تو کر جاتے۔ سو کے اٹھ کے تو کھا مر لی تھی ہاٹ پاٹ میں جو ڈیڑھ روٹی چھوڑ کے گئے تھے۔ اس میں سے بھی لگ رہا تھا رومال کے بغیر والی آدھی روٹی تو ڈھائی ہفتے پرانی ہے پر فیر بھی صبر شکر کرکے کھا ہی لی۔ رات کو کھانے واسطے کچھ تھا ہی نی بس فریج میں سالن ہی سالن۔ دو چار دوستوں کو میسیج کرا کہ شائد میری آمد کی خوشی میں کوئی ملنے آ جائے تو کھانے پینے کا کچھ بندوبست ہو جائے گا لیکن کوئی ک ن ج ر نی آیا۔ ایک دفعہ سوچا آپو کے لئے جو بسکٹ چپس لایا وہی کھا لوں لیکن پھر سوچا اس بیچاری کا کیا قصور۔ مرتا کیا نہ کرتا فیس بک سے ہی پیٹ بھرنے کی کوشش کری لیکن لائیٹ آ بعد میں رہی تھی اور جا پہلے رہی تھی۔
پھر رات خالو اور خالہ آئے تھے۔ میں اس وقت تک سونے لیٹ گیا تھا۔ پہلے تو مجھے لگا کہ میرے کان بج رے۔ پہلی کھڑک پہ میں نے اگنور کر دیا کہ جو بھی ہے چلا جائے گا، کسی نے میرے سے مل کے کیا کرنا؟ دوسری کھڑک پہ دیکھا تو پہلے سوچا انکے لئے تو میرا ہونا نہ ہونا برابر ہے جانے دو، پر فیر دروازہ کھول ہی دیا۔ وہ آئے، بیٹھے، خالہ نے پانی پیا، میں نے چائے کا پوچھا لیکن اس انداز اور ان الفاظ میں کہ وہ ہاں نہ کہیں۔ دس منٹ بیٹھے، میں نے دس منٹ میں ہی ان کو اتنا بور کر دیا کہ جانے لگے اور جاتے ہوئے خالہ نے دو نمبر نرالا سویٹس کا مٹھائی کا کلو والا ڈبہ دیا (جس میں سے دونوں گلاب جامن اور ایک برفی کا رول میں کھا گیا اور ڈبہ بک شیلف پر رکھ دیا۔ ڈبے پر صبح تک کیڑیوں کا ایک لشکر دھاوا بول چکا تھا لیکن میں نے اس کو تحریک انصاف کی طرح صاف شفاف کر کے تم لوگوں کے لئے اچھی طرح پیک کر کے رکھ دیا)، اور خالو نے کے ٹو کی سگریٹ بنا ہزار کا نوٹ اپنی بند مٹھی سے میرے ہاتھ میں منتقلنے کی ناکام کوشش کی۔ میں نے انکار کرا اور اعتراضاً کہا کہ ابھی اسکی کیا تُک؟ تو کہنے لگے اوئے تجھے نی پتہ ان معاملات کا، شادی کی بات شادی میں ہو وہ الگ چیز ہے۔ میں نے کہا اچھا معاملات والی بات ہے تو ایک کیا دو بھی رکھ لوں گا۔
ان کے جانے کے بعد سوچا کہ چلو جا کے روٹی شوٹی لے آؤں پر یہ سوچ کے سو ہی گیا کہ لائٹ تو ہے نی سالن چولہے پہ کون گرم کرے گا؟ آج فیر اس ہزار روپے میں سے ساڑھے چار سو کی ڈھائی کلو سٹرابریاں لایا جن میں سے پاؤ ایک خراب والی تو دھوتے وے فلٹر ہو گئیں، سات روپے کی روٹی اور چار زونگ والے سو سو روپے کے کارڈ۔ دو سو کا انٹرنیٹ پیکیج ایکٹیویٹ کرا پر بھائی صاحب کیا گھٹیا نسل کے کنکشن کی سم دے کے گئے، مجال ہے کال واسطے بھی سگنل آئیں، انٹرنیٹ چلنا تو دور کی بات ہے۔ ان دو سو میں سے اس سے اچھا تو میں پندرہ روپے کی روٹی کھا کے باقی صدقہ کر دیتا۔ دلی و جسمانی سکون تو ملتا۔ تمہیں تو اتنی توفیق نی ہوئی کسی کماؤ ک۔۔ر کو دس روپے بھی دے جاتے۔ شکر الحمدللہ، وہ تو اللہ بھلا کرے خالو کا، نہیں تو تم لوگوں نے تو کوئی کسر نی چھوڑی تھی کہ آج جمعے کے بعد میں بھی ”روٹی کھوا دے باؤ” اور ”اللہ کے نام پہ بابا“ لگا وا ہوتا۔

پی ایس: دل کر را تھا گوشت جس نے بھی دھویا تھا (اگر دھویا تھا) سارا سالن اسی کو کھلاؤں
ویسے میں ڈرتا ورتا کسی سے نئیں اوں لیکن پھر بھی بھابی کو یہ والی لائن نہ سنائے کوئی اور نہ بتائے

٭ دوران لوڈشیڈنگ بوریت دور کرنے کے لئے میسیج ٹائپ کر کے سینڈ کر دیا ہے
تاکہ بتی آوے تو میسیج سینڈ ہو جاوے اور بوقت ضرورت لعن طعن واسطے کام آوے ٭

نوٹ: اگر کوئی اچھی چیز پکی وی ہو تو چاچی کو کہنا میرے واسطے دیگچی بھر کے بھیج دے، اگر تھوڑی آئی تو تم چندروں نے تو مجھے دیکھنے بھی نہیں دینی
1 ہماری دادی اماں

بے مروتی تو کوئی تیرے سے سیکھے، ایک کمنٹ کرنے سے تیرا کی بورڈ گھِس جانا کیا؟

ابتک تبصرہ جات 18

Shabih Fatima
 1 

ye kya hai? :S :S : S:S :roll:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 17 , 2014 بوقت 11:19 شام

@Shabih Fatima، بس نہ پوچھ شبو تجھے نی سمجھ آنے کی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 17, 2014 بوقت 11:13 شام
Aurangzeb Mahwish
 2 

اس روداد کو پڑھ پڑھکر جتنی ہمدردیاں تسلیاں آ رہی تھیں وہ ہزار روپلی کی کےٹو کا سن کر حسد میں تبدیل ہو گئی.
اور مجھے یہ حالات صحیح معلوم نہیں دے رہے، آپ جتنی بالی عمر میں ہاتھ پر ٹکایا گیا پیسہ عموما ، جسے پنجابی میں کہتے “تڑی تے رپیہ پنج سو رکھ گئے” وہ والا سین لگ رہا.
خط لکھے جانے سے پہلے ایڈوانس مبارکاں :ڈ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 18, 2014 بوقت 12:00 صبح
 3 

لگتا ہے عید آتے آتے ڈھائی ہزار سال ہی لگ جانے۔ چلو تب تک ہم بھی ایک سوٹ سلوا لیں گے شادی میں پہن کے جانے والا۔ بلا لینا بس۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 18, 2014 بوقت 12:03 صبح
 4 

ہوتا ہے، بھائی! اس بھری جوانی میں ایسا ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔ پی پیالہ صبر دا
تے کوئی نہیں ساتھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ف ی ل حال، کھالی گھر دا۔
🙂
ڈی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 18, 2014 بوقت 12:11 صبح
 5 

خالو اور خالہ ہزار روپیہ اور مٹھائی کا ڈبا کسی خوشی میں دے کر گئے؟
کوئی پھنسن پھنسان دی سازش تو نہیں؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

منیر عباسی
مئی 18 , 2014 بوقت 8:50 صبح

@یاسر خوامخواہ جاپانی,
بالکل۔ مجھے بھی یہی لگ رہا۔
اور تو اور استاد بھی آج کل یہیں کہیں پایا جا رہا ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 18, 2014 بوقت 2:04 صبح
فريحہ
 6 

يہ “خطوطِ ڈفريہ” ہيں يا “ظلم کی داستان” کی پہلی قسط…….

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 18, 2014 بوقت 3:08 صبح
عثمان سہیل
 7 

بالکل اسم بامسمٰی ٹائپ مضمون ہے۔ ہونے والے ساس سسر کو خالہ خالو لکھ کر سعادت اطوار ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا ہے ، ایں سعادت بزور بازو نیست

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 18, 2014 بوقت 4:17 شام
عثمان سہیل
 8 

اس مضمون میں مصنف نے اپنے ہونے والے سسرال کو پیغام دیا ہے کہ نہایت سعادت اطوار ہیں اور ہر طرح کے حال میں گزارا کر سکتے ہیں لہٰذا بیٹی کو کھانے پکانے اور انکو ٹھسانے کو کوئی خاص تردد نہی کرنا پڑے گا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 18, 2014 بوقت 4:19 شام
ام عروبہ
 9 

السلام علیکم
یہ تو لگتا ہے ”تم لوگوں” کے خلاف ایک ایف آئ آر کاٹی گئ ہے 🙂
اب ہم لوگ تو کچھ نہیں کر سکتے اس بارے میں ۔ ۔ ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 18, 2014 بوقت 5:43 شام
سحرش خان
 10 

لالہ ڈفر، اتنی فرمانبرداری 💡

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 19, 2014 بوقت 12:18 صبح
 11 

اس مکتوب سے تو مصنف بہت مظلوم و شاطر ، معصوم و شیطانی طبعیت ظہور پذیر ہوا ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 19, 2014 بوقت 7:53 صبح
زینب بٹ
 12 

ساس سسر کو چا بنا دیتا تو ہاتھ نہیں ٹوٹتے تمہارے پوچھا ہی ایسے کے ساسو ماں نا کر دیں
بدتمیز جیا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 19, 2014 بوقت 4:29 شام
 13 

خوب صنفِ ادب ہے ، تاہم ابھی تعین باقی ہے
یہی سب رام کہانی کوئی زبانی سنا رہا ہوتا تو کہا جاتا کہ ایسی بھی کیا بات ہوگئی جو رویا جارہا ہے ، لیکن ایز اے پوسٹ . . .اٹس انٹرسٹنگ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 21, 2014 بوقت 1:29 صبح
ملکہ
 14 

ھا ھائےڈفر صاب… اس حساب سے تو 57 روپے اپنی جیب سے لگ گئے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 24, 2014 بوقت 10:05 صبح
 15 

مِٹھائ ،،،واہ بھئ واہ مُبارکاں بہُت بہُت باقی کی تفصیل کب تک مِلے گی :roll:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 24, 2014 بوقت 9:31 شام
 16 

غصہ تو حرام ہے انسان ایسا کوئی کام نہ کرئے کے غصہ آئے اور انسان کو بعد میں پچھتنہ پڑئے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 21, 2015 بوقت 10:20 صبح

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog