Google
7
مئی

جیرا بلیڈ

بھیجا ہے  ڈفر نے کُچھ نا پُچھ میں

3,224 بار دیکھا گیا

مُلّاں ہماری کلاس کا مُلّا تھا اور صبح سویرے تلاوت کرانے کے کام آتا تھا۔ حافظ تھا اور نام تھا ارشد۔ میرا خیال ہے کہ شریف بندہ تھا اور اپنے کام سے کام رکھتا تھا لیکن سکھ یاتری جوکہ اسکا پکا یار تھا اس خیال کی نفی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’مُلّاں ”پورا“ تھا اور اسے ”سب“ پتہ ہوتا تھا‘۔ جبکہ میرے خیال میں یہ آرگیومنٹ مُلّاں کی شرافت کو داغدار کرنے کے لئے ناکافی ہے، جب تک کہ سکھ یاتری ارشد سے دوستی اور ”باہمی“ تعلقات کی بنیاد پر کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کرے۔ مُلّاں پہلے پٹھان قسم کا کٹر مُلّا تھا جسکے عقیدے کے مطابق نعت وغیرہ پڑھنا بھی درست نہیں تھا لیکن آہستہ آہستہ وہ ماڈریٹ مُلّا بن گیا۔ آخری رمضانی ٹرپ پر اسکو تقریبا پندرہ ایک سال بعد روزوں میں ختم قرآن کے موقع پر دیکھا تو دیکھنے میں بھی نارمل مُلّا ہی لگا۔
یہ تھا ہمارا پری میٹرک کلاس مُلّا۔ میٹرک میں ہماری کلاس کو مُلّاں نصیب ہوا ”جیرا بلیڈ“۔ جیرا بلیڈ ایک ماڈرن قسم کا مُلّا تھا۔ حافظ تھا لیکن حافظ کہے جانے سے نہ صرف چڑتا تھا بلکہ سخت چڑتا تھا، یا شائد شرمندہ ہوتا تھا۔ وجہ اس نے کبھی بتائی تو نہیں لیکن ہم نے باہمی علمی مباحثے کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ جیرا بلیڈ شاید کسی مدرسوی سلوک کی وجہ سے کانا ہے یا پھر یہ سوچتا ہو گا کہ کانا نہ بھی ہو تو بھی لوگ تو یہی سوچتے ہوں گے نا۔ اسکے اصلی نام کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تو آپ نے اب تک لگا لیا ہو گا اس لئے اسکے مزید تعارف کی طرف بڑھتے ہیں۔ جیرے بلیڈ کی ملائیت کے علاوہ بھی کچھ کوالٹیز تھیں جو اسکے دوست نما دشمنوں (جو میرے سانپ نما دوست بھی ہیں) سے ڈسکس کرنے کے بعد اخذ کی گئی ہیں
طبعی خصوصیات: قد میں مجھ سے پونے تین ملی میٹر لمبا اور وزن میں سولہ کلو ڈھائی ماشے زیادہ تھا۔
کیمیائی خصوصیات: تین اور پانچ کے بیچ پی ایچ رکھنے والی تیزابی طبیعت کا مالک
پوشیدہ و اخلاقی خصوصیات: حسد، جلن، بچیاں (نہ صرف) پھنسانا۔ تیزیاں دکھانے میں بہت تیز تھا
ضروری خصوصیات: ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ یا کم از کم انکل بنا لینا
انکل سے یاد آیا کہ اگر جیرے بلیڈ کے ”انکل“ اور سکھ یاتری کے “چچا“ نصف صدی پہلے موجود ہوتے تو آئن سٹائن ”ای ایم سی سکوئیر“ کی بجائے انکی گنتی کا ہی کوئی فارمولا وضع کرتا اور موجودہ سے زیادہ شہرت پاتا۔ ان خصوصیات میں سب سے بڑھ کر جو خاصیت تھی وہ یہ کہ جتنا چھیڑو اتنا ہی چھڑتا تھا لیکن ہمیشہ جوابی کاروائی یا جگت بازی میں ناکام رہتا تھا۔ اسکا صرف ایک پالتو جواب ہوتا تھا ”پُتر میں نے جواب دیا نا تو فیر ۔۔۔، اُووں“۔ لاجوابی کا یہ انداز آگے چل کر ”جیرا بلیڈ سٹائل“ کے نام سے مشہور ہوا۔
پڑھائی میں جیرا کسی حد تک بلکہ ٹھیک ہی تھا۔ ذاتی سائیکل کا مالک تھا۔ اسکا چاچا پینٹر تھا اور وہ خود بھی اچھی ڈرائنگی صلاحیتوں کا مالک۔ کلاس کا (شائد) واحد لڑکا تھا جسے مجھ سے نہ جانے کس وجہ سے (شائد شدید) نفرت تھی۔ یونیورسٹی کے زمانے میں اسکی مجھ سے ایویں مذاق مذاق میں بائی دا وے قسم کی تو تو میں میں ہو گئی جس میں اس نے مجھے مذاق مذاق میں ہی سہی تنی لگا کر اپنی کھولن نکالی اور اپنے آپ کو ہاتھ اور سالوں پرانا حساب صاف کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا۔ اور اگلے دن وہ میرے گھر تھا۔ یار ڈرِل مشین چاہئے، اور ہاں تیرا بھائی موبی لنک میں ہے نا! ایک گولڈن نمبر چاہئے۔ سیم اولڈ فرمائشی پروگرام
جیرے بلیڈ کی مجھ سے نفرت درج ذیل واقعے کی وجہ سے دوچند ہوئی یا کسی اور وجہ سے، آپ کے سر کی قسم مجھے اسکا بائے گاڈ علم نہیں ہے
جب میٹرک کے آخری دنوں میں ہمارے رولنمبر ہماری امتحانی پوزیشنوں کے حساب سے طے کر دئے گئے تو پہلے تین رولنمبروں (پوڈری، ٹلا اور میں) کی صفائی کی باری آ گئی۔ جیرا بلیڈ باقی دونوں کا یار ہونے اور ”لائق لڑکوں“ کی سر سے سفارش کے بعد صفائی ٹیم میں شامل ہو گیا اور باقی کلاس جا کر گراؤنڈ میں ٹاٹوں پر دھوپ سینکنے لگی جہاں کوئی نہ کوئی استاد ٹائم پاس کرنے کے لئے ڈنڈوں سے تشریف سینکنے بھی پہنچ ہی جایا کرتا تھا۔ چونکہ ہم سارے ”تخلیقی“ دماغوں اور جمعدار فطرت کے مالک تھے اور صفائی ہمارے لئے قطعا اہم اور مشکل نہیں تھی اس لئے ہم نے اسکو ”کوڈ تھری“ لگا کر پینڈنگ میں ڈال دیا اور دو ٹیمیں بنا کر این ٹی ایم کے ایک گیم شو کی طرز پر کھیلنا شروع ہو گئے۔ میں اور پوڈری ، ٹلا اور جیرا بلیڈ۔ ایک بندے کو کچھ بتایا جاتا جو وہ بلیک بورڈ پر بناتا اور اسکا ساتھی وہ بوجھتا تھا۔ جب پوڈری انکے ساتھ کھیل رہا تھا تو میں دوسرے بلیک بورڈ پر قائداعظم اور علامہ اقبال کے پورٹریٹ بنانے لگا۔ جیرے بلیڈ کے لئے یہ ناقابل برداشت تھا کہ کوئی اسکی پینٹری صلاحیتوں پہ غالب آ جائے۔ جیرے نے آ کر علامہ اقبال کا پورٹریٹ مٹایا اور مقابلے میں قائداعظم کی تصویر بنانے لگا۔ ان دا مین ٹائم میں نے قائداعظم کو ایک آنکھ والی چمڑے کی عینک پہنا کر کانا صومالی قزاق بنا دیا۔
”چھُوا چھُو“ اتنی دیر میں دروازے کی درزوں سے جھانک کر جا چکا تھا اور ہمیں کھیلتا دیکھ کر سر کو بلا لایا۔ دروازے پر ہلکا سا کھٹکا ہوا تو میری پونے گیارھویں حس نے مجھے چوکنا کر دیا اور میں فوراً سے پیشتر بالکل آخری بنچوں سے جا کر جلدی جلدی کاغذ اکٹھے کرنے لگا۔ پوڈری نے دروازہ کھولا تو جیرا ابھی تک ڈرائنگ میں مشغول تھا۔ سر نے اندر آ کر ہر طرف نظر دوڑائی تو ایک بلیک بورڈ پر پوڈری اور ٹلے کی بے ضرر تخلیقات تھیں تو دوسرے پر ڈیڑھ عدد باوا جی، اور میں واحد بندہ جو صفائی ڈیوٹی دل و جان سے کر رہا تھا اور اس دیانتداری کے گواہ تھے میرے ہاتھ میں پکڑے کوڑے والے کاغذ۔ بابرا ایک دم چیخا، ”او سر جی یہ دیکھیں باوے کو کانا ہی کر دیا“ اور ساتھ کانوں کو ہاتھ لگا لگا کر حاجیوں والا توبہ استغفار کرنے لگا۔
سر نے جیرے کی طرف نظر کی تو جیرا بولا ”نئیں سر جی یہ میں نے نہیں یہ تو ۔۔۔“،۔”چُپ نیک بختا“، سر نے اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اپنی ٹریڈمارک ”گالی“ سے اسکو چپ کرا دیا۔
اسی لئے آئے تھے تم صفائی کے لئے؟
نئیں سر جی یہ بات نہیں ہے ۔۔۔
جیرے شرم کر۔ اب آگے سے بکواس کر رہا ہے۔ لاؤں سر جی ڈنڈا؟ بابرے نے اپنی روٹینی چوہدراہٹ دکھائی
”دس منٹ میں صفائی ختم کر کے باہر آؤ، اس بورڈ کو ایسے ہی رہنے دینا کوئی اسکو ہاتھ نہ لگائے“۔ سر یہ کہہ کر باہر نکل گئے اور بابرا سر کے پیچھے پیچھے
اگلے دن صبح سر حاضری لگا کر ہٹے، میں نے کھڑکتے پتوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ رجسٹر لے کر واپس الماری میں رکھا۔ سر پین جیب میں لگاتے ہوئے کھڑے ہو گئے اور سٹیج پر ہاتھ پیچھے باندھ کر کلاس سے مخاطب ہوئے۔ دکھ یا افسوس کا پتہ نہیں لیکن چہرے کے تاثرات نارمل سے مختلف تھے۔
”ہم بیج بوتے ہیں، اسے پانی دیتے ہیں، باغ لگاتے ہیں۔ اسکی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ پنیریاں ہوں تو موسم سے بچاتے ہیں لیکن ہر بیج سے پودا نہیں نکلتا اور ہر درخت پھل نہیں دیتا۔ یا درخت کو دیمک لگ جاتی ہے وہ خراب ہو جاتا ہے۔ یہ افسوس کی بات نہیں، یہ قدرت کا قانون ہے۔ جب ایسا کچھ بھی نہ ہو اور پھل لگ جائے۔ لیکن پھل لگنے کے بعد اسکو کیڑا لگ جائے اور وہ خراب ہو جائے تو تب محنت برباد ہونے کا افسوس ہوتا ہے“۔
ہم پانچ تو سمجھ رہے تھے کہ سر کس ڈاکخانے سے بات کر رہے ہیں اور کس پر فائرنگ ہو رہی ہے لیکن باقی کلاس ابھی تک متجسس تھی اور اسکو روٹین بھاشن سمجھ رہی تھی۔ سر بورڈ کی طرف اشارہ کر کے کچھ بولنے ہی لگے تھے کہ جیرا بلیڈ بول پڑا ”سر میں نے ۔۔۔“ ، ”شٹ اپ، خبردار جو آواز نکلی تو۔ حد ہوتی ہے بے شرمی کی“۔ جیرے نے بڑی کوشش کری کہ اسکی صفائی پیش ہو جائے لیکن میری قسمت بھی اس وقت ”مَلَک سٹیل“ کی بنی ہوئی تھی۔ جیرے کی سنی جانی تھی ، نہ سنی گئی اور نہ میں اپنی غلطی تسلیم کرنے کی ہمت کر سکا۔ لیکن یہ ضرور ہوا کہ اس دن کے بعد سے میں نے جیرے کے کسی بھی سلوک کے بدلے اس کو ہر ممکن فیور دے کے اپنے اس پاپ کا پرائسچت کرنے کی (یقیناً ناکام) کوشش کری 😛
آئی ٹولڈ یو، بیسیکلی میں ایک بزدل انسان ہوں

اب آ کے اپنی نحوست پھیلا ہی دی تو کمنٹ کر کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھوک دے

ابتک تبصرہ جات 25

‫خلیل احمد‬‎
 1 

بہت اعلی بیان کرا ہے آپ نے کلاس کا حال

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 8 , 2014 بوقت 11:22 صبح

@‫خلیل احمد‬‎، بیاننا مسئلہ نی ہے، ٹائپنا بہت مسئلہ ہے 😆

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 7, 2014 بوقت 1:05 شام
 2 

لاجواب……تعریف توصیف کرنے کی گستاخی ہم نہیں کرسکتے..
لاجواب

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 8 , 2014 بوقت 11:21 صبح

@یاسر خوامخواہ جاپانی، سوال کیا تھا جو لاجواب؟ ❓ ❓ ❓

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 7, 2014 بوقت 1:49 شام
 3 

عمدہ۔ نہیں اعلیٰ۔ منظر کشی کمال کی۔ لیکن بتانے سے زیادہ چھپا گئے ہو 😈
اور یہ جیرے بلیڈ کا نا بلیڈ کس وجہ سے پڑا تھا؟؟؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 8 , 2014 بوقت 11:22 صبح

@ابرار قریشی، نہیں یار میں نے تو کھلی کتاب بلکہ روٹیوں والے اخبار (وہ بھی دوپہر کا اخبار) کی طرح سب کھل کھلا کے بیانا۔ تیری کسم :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 7, 2014 بوقت 2:33 شام
عثمان سہیل
 4 

نہایت اعلٰی انشائیہ ہے ۔
عزیزم ڈفر اپنی بات نہایت ذہانت سے کہنے کا گر جانتے ہیں ۔ انکی افتاد طبع نے اظہار کی اپنی الگ ، منفردصورت تراشی ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہی کہ میں انکے اسلوب کے متاثرین میں سے ہوں۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 8 , 2014 بوقت 11:23 صبح

@عثمان سہیل: فس ٹا فال، انشائیہ کس کو کہیں؟
اینڈ سیکنڈلی: ذرا تفصیل سے بیانیں کہنا کیا چاہتے ہیں۔ سمجھ نی آری :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عثمان سہیل
مئی 8 , 2014 بوقت 2:22 شام

@ڈفر, انشائہ کی ڈے فی نیشن کیلئے دکتور وزیر آغا و دکتور انورسدید کی تحاریر سے رجوع لائیں۔ آسان الفاظ میں اپنی تحاریر پڑھ لیں انہی کو انشائیہ کہتے ہیں؛
سیکنڈلی : آپ پر شفقت اور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 7, 2014 بوقت 7:19 شام
 5 

بہت خوب ڈفر جی ۔۔۔۔۔۔۔!!!!
مجھے لگا جیسے میں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 8 , 2014 بوقت 11:24 صبح

@محمد اسلم فہیم: جیرے بلیڈ کو بھی؟ 😯
نہیں فہیم ساب جیرا اب ایسا ویسا لڑکا بھی نہیں تھا 😀 😀

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 8, 2014 بوقت 7:11 صبح
 6 

اس تحریر کا بھی کوئی سیاق و سباق نی ہے؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 8 , 2014 بوقت 11:24 صبح

@منیر عباسی: آپ کو آج تک یہاں کوئی سیاق و سباق والی تحریر ملی؟ :roll: :roll: :roll:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 8, 2014 بوقت 8:41 صبح
 7 

ماشااللہ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں بڑے ہو کر ضرور نام روشن کریں گے اگر بڑے ہوگئے تو جو کہ اس لیے مشکل لگتا ہے کہ کہیں آپ کو یہ سارے پرانے کلاس فیلو مل نہ جائیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 8, 2014 بوقت 5:04 شام
ام عروبہ
 8 

السلام علیکم
بہت خوب. واقعی بعض غلطیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ہم تمام عمر ان کا کفارہ ادا کرتے رہتے ہیں مگر ضمیر پھر بھی مطمئن نہیں ہوتا.
ویسے میں کل ہی سوچ رہی تھی کہ ڈفر میاں تو جیسے غائب ہی ہو گئے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 8, 2014 بوقت 6:55 شام
سید فیاض علی
 9 

منظر کشی کے دس میں سے ساڑھے نو نمبر۔ بلاوجہ کی انگریجی گھسیڑنے کے پنج نمبر، خوشخطی کے چار نمبر اور دوستوں کے پول کھولنے کے پورے پنجی نمبر۔ کل مل ملا کر پپو پاس ہو گیا۔ ویل ڈن 😆 :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 8, 2014 بوقت 7:11 شام
Shabih Fatima
 10 

duffer k bachay 👿

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 8, 2014 بوقت 11:07 شام
 11 

ہاہاہاہااہاہاہاہااہ عمدہ!
بزدل ہونے کے بھی اپنی فائدے ہیں 😛

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 8, 2014 بوقت 11:08 شام
 12 

بهت هی اعلی ۔پر یار ڈفر بندے کی ایک هی تو کولٹی هوتی که وه بزدل نهیں هوتا۔ میرا خیال تیرے اندر کے ڈفر کا جنم بعد میں هوا هوگا۔ اس بیستی کے بعد

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 9, 2014 بوقت 3:45 صبح
 13 

جیسا کے سب نے کہا ہے کہ منظر کشی انتہائی لاجواب ہے۔ بلاگ نگاری میں آپکا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انجمن ستائشِ باہمی کا اجلاس ختم ہوا۔
آخری جملہ میرے دل کی آواز ہے۔
کمنٹ ختم ہوا!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 11, 2014 بوقت 10:14 شام
 14 

بہت دنوں بعد ایک اچھی تخریر پڑھی۔ منظر کشی تو بہت اعلیٰ ہے۔ بس آخیر مین کسرنفسی سے کام لے گئے ہیں جی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 13, 2014 بوقت 3:57 شام
عمیر محمود
 15 

او ڈفر بھا جی۔۔۔اچھا لکھتے ہو یار۔۔۔لیکن اتنے دنوں بعد کیوں لکھتے ہو، ہیں؟ اور قسم سے میں تو سڑ ہی جاتا ہوں، کیوں کہ خود بھی ایک بلاگ شلاگ لکھتا ہوں جسے کوئی نہیں پڑھتا۔۔۔کوئی ٹپس ہی دے دو، نہیں تو ٹپ ہی دے دو اللہ بھلا کرے گا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 13, 2014 بوقت 10:05 شام
 16 

بلاگ کا منفرد انداز، منظر کشی کا لفظ استعمال کرنا پڑے گا جس میں کلاس اور کرداروں کی ذہنی جھلک بھی نظر آتی ہے۔
کاش کہ ڈفر کی کمال سلاست، روانی اور سادگی کو تھوڑی سی مقصدیت کا ساتھ مل جائے ، دعا ہے ، انشا اللہ ایسا ہوگا ۔
خوش رہیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 14, 2014 بوقت 11:57 شام
زویا قادری
 17 

ڈفر ہو کر یہ کارگزاریاں ہیں تو کام کے ہوتے تو کیا کرتے؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 20, 2014 بوقت 8:37 شام
محور
 18 

:mrgreen: بہت خوب

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جولائی 8, 2015 بوقت 5:55 شام

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog