Google
13
Mar

گندا بچہ

بھیجا ہے  ڈفر نے کیفے ڈی بکواس میں

1,501 بار دیکھا گیا

سٹریٹ اوے آمدم برسرِ ٹاپک، ناخن ہم جمعے کے جمعے کاٹنے کے عادی کم اور حق میں زیادہ ہیں، بڑے ناخنوں سے ہمیں ویسے بھی بڑی سخت نفرت نما چڑ ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب بھی ناخن کاٹنے کی باری آتی ہے تو لگتا ہے ناخن تو اتنے بڑے ہیں ہی نہیں کہ کاٹے جائیں لیکن جمعہ پڑھ کر آنے کی دیر ہوتی ہے کہ ناخن اتنےےےے بڑے بڑے ہو جاتے ہیں۔ بٹ پالیسی از پالیسی، ناخن تو جمعے کو ہی کٹیں گے، بے شک سات دن مزید انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ نہانے کے معاملے میں مابدولت بہت سٹرکٹ واقع ہوئے ہیں، نہانا ہمیشہ ٹائم سے ہے۔ رُول از رُول، شیڈول ڈسٹرب کرنے کی گنجائش نہیں، بے شک میل رول بن بن کر اترنے لگے۔ اکسیپشنل کیس از، ابھی پرسوں ہی کی بات ہے نہانے کا پروگرام بن گیا۔ پھر سوچا دو تین دن میں بارش کی بھی پیشن گوئی ہے، فیلڈ میں بھی ہوں گے۔ نہا بھی لیں گے اور ساتھ وردی بھی دھل جائے گی، لگے ہاتھوں گاڑی پہ بھی ایک آدھا کپڑا مار دیں گے کہ اسکی بھی سالانہ صفائی کا وقت ہوا چاہتا ہے اور نہانے کا موسمی حساب کتاب بھی ڈسٹرب نہیں ہو گا۔ گاڑی سے یاد آیا کہ اگر پچھلی گاڑی میں کوئی خوبرو صنف نازک ڈرائیور ہو اور گاڑی کا پچھلا شیشہ گندا ہو تو صدمے سے ہماری تو دیدہ بینا ہی کام چھوڑ دیتی ہے۔ چونکہ ”سیفٹی فرسٹ“، اس لئے گاڑی کی اس سالانہ صفائی سے پچھلے شیشے کو استثنیٰ حاصل ہے۔
کراچی میں ڈینگی کا شکار ہونے کے بعد ہمارا علاج جو ڈاکٹر صاحب کر رہے تھے انہوں نے سخت تاکید کی کہ رات کو دانت صاف کر کے سونا ہے۔ اگلے چیک اپ کے لئے گئے تو پوچھا رات کو دانت صاف کر کے سوتے ہو؟ امی تو خیر خود ہی جھوٹ پکڑ لیتی ہیں اور ڈاکٹر سے جھوٹ بولنا چاہئے نہیں، سچ کہہ دیا ”نہیں“۔ بولے ”چلو شاباش، تمہیں علاج کی ضرورت نہیں“۔ بس وہ دن اور آج کا دن، صفائی کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں۔ پچھلی عید پر دل میں نجانے کیا آئی کہ سائیڈ ٹیبل پر عرصہ دراز سے خدمات انجام دیتے گلاس کو اٹھا کر دھو دیا، اچھا بھلا سرمئی گلاس تھا ایک دم کرسٹل کلئیر ہو گیا۔ اس ”جادو“ نے ہمارے ذہن پر ایسا ڈالا کیا کہ بے شک سال ہی کیوں نہ گزر جائے صفائی پر نو سمجھوتہ۔ ابھی یہ بڑی عید کی ہی تو بات ہے ہم نے آخر سِنک بھی تو دھو ہی دی نا؟ صفائی اور ہمارا تو بس سمجھیں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
یہ سال تو ویسے بھی ہم نے ”سالِ صفائی“ کے طور پر منانے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔دنیا بے شک ادھر سے اُدھر ہو جائے ہر پندرہ دن بعد ڈسٹ بنز خالی کرنی ہی کرنی ہیں۔ میلے کپڑے (تولیے سمیت) بستر سے اٹھا کر ہر تین مہینے بعد دھو کر الماری میں رکھنے ہیں تاکہ پورے بستر پر کھلا ڈلا ہو کر لیٹنے کے مزے لوٹے جا سکیں (آپ کیا جانیں اس خوشی کو کہ خالی پلنگ جب پانچ مرلے کے کشادہ پلاٹ کا منظر پیش کرتا ہے تو چھڑوں کی تو عید ہی ہو جاتی ہے)۔ بارش ہو نہ ہو اس جولائی میں گاڑی دھلوانی ہی دھلوانی ہے، ناگہانی صورتحال ہو تو گیلا کپڑا تو لازمی مار ہی لینا ہے۔ اگست میں میز پر سے پچھلے پورے سال کی اے ٹی ایم اور خریداری کی ساری رسیدیں اس احتیاط سے اٹھانی ہیں کہ میز پر گرد نہ گرے۔ ستمبر میں قالین پہ ویکیوم کلینر لگانا ہے، اکتوبر میں کوکنگ رینج کی صفائی کے تین سال مکمل ہونے پر اسکی بھی صفائی ڈیو ہو جائے گی۔ نومبر، دسمبر، جنوری میں تو دن ویسے ہی چھوٹے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر مہینے نہانا لازمی ہے۔ اگر سب کچھ شیڈول کے مطابق چلتا رہا تو ہر چھ مہینے بعد پورے گھر میں لال بیگ اور مچھرمار سپرے بھی کرنا ہے، ایک جوڑا تین ہفتے سے زیادہ نہیں پہننا، جرابوں اور بنیانوں کی زیادہ سے زیادہ ایک استعمال کی معیاد بیس دن ہو گی، بیڈشیٹ ہر بینک ہالیڈے اور جینز ہر نیشنل ہالیڈے پر دھونی ہے، عید کی چھٹیوں میں باتھ روم اور کچن کی صفائی کی جائے گی۔
شاہ صاحب ہمیں کہتے تھے کہ ”جتنا تو سو لیا ہے اور جتنا تو ہنس لیا ہے، باقی ساری زندگی سونے اور ہنسنے کا موقع نہ ملے تو بھی تیرا کوٹہ اوور ہو چکا ہے“۔ جہاں تک ہمیں یاد ہے ہوش سنبھالنے تک تو ہم ٹھیک ٹھاک ایکٹیو بچے تھے سوائے اس کے کہ ہمیں پڑھائی سے متعلق کچھ کام کہہ دیا جاتا، اس صورت میں ”آیوڈین کی کمی“ کی عملی تصویر بن جایا کرتے تھے۔ بچپن کے بعد پچپن تک پہنچتے پہنچتے ”اچھا یار، فیر سہی“ والی پالیسی کب اپنا لی اسکی خبر نہ ہوئی۔ بال اور ناخن تو ہمارے قدرتی طور پر بلاوجہ ایب نارمل قسم کی ریپڈ گروتھ کا شکار ہیں۔ شروع میں گھر کا بجٹ قابو میں رکھنے کے لئے ہمیں باقی بھائیوں کے ساتھ ہی نائی کی دکان کی زیارت کا شرف حاصل ہوتا تھا بعد میں نائی کی دکان پہ انتظار نما ذلالت اٹھانے نے بلاوجہ ہئیر کٹنگ سے دور رکھا۔ بال تو ویسے بھی اکثر ہم خود ہی کاٹ لیتے ہیں، بس قلمیں شلمیں ہی سیٹ کرنی ہوتی ہیں نا۔ اس کے باوجود ہم اس پالیسی پر بڑی سختی سے کاربند اور حمایتی ہیں کہ سال میں دو دفعہ بال نائی سے ضرور کٹوائے جائیں۔
ہم امی سے پوچھ پوچھ کر تھک گئے پر امی نہیں مانیں کہ ہماری اس قدرتی مدہوشی اور سُستی کی وجہ وہ افیم ہی ہے جو وہ ہمارے فیڈر میں بچپن میں ملاتی رہی تھیں۔ ڈریس شرٹ اس لئے نہیں پہنتے کہ بٹن کھولنے بند کرنے میں دیر لگتی ہے اور اگر پہننی پڑ بھی جائے تو ٹی شرٹ کی طرح بٹن کھولے بغیر اتار پہن ہوتی ہے۔ آخری دفعہ کپڑے استری کب کئے تھے قسم لے لیں جو ذرا بھی یاد ہو، ہم تو کہتے ہیں بھیا ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرا لو پر کپڑے استری کرنے کو مت بولو۔ کپڑے دھوتے ہوئے جیبیں خالی کرنا عذاب لگتا ہے۔ غریب بندہ نوٹ شوٹ تو کیا ہونے جیبیں سرکاری میزوں سے لوٹے ہوئے ٹشو پیپرز سے بھری ہوتی ہیں اور نتیجہ، اکثر سارے کپڑے ان ٹشوز کے بُورے سے لت پت دھلے نکلتے ہیں۔ پالش والے جوتے ہم خریدتے ہی نہیں، بس جوتے ہوں تو ایسے کہ پہننے سے پہلے جرابیں جوتوں پر جھاڑ لو تو جوتے بھی صاف ہو جائیں ورنہ دفترکے پردے کب کام آئیں گے۔ ہاں تو اور کیا! آپ کیا سمجھ رہے تھے ہم چینی جوتے سستے ہونے کی وجہ سے خریدتے ہیں؟ باؤلے ہوئے ہیں کیا !
برتن دھونے کا سوچ کر ہی اتنی ٹینشن ہوتی ہے کہ جس پلیٹ میں کھائیں اس میں دل کی تسلی کو تھوڑا بہت بچا کر فریج میں رکھ دیتے ہیں کہ رزق ضائع کرنا سخت گناہ کی بات ہے۔ اگر ٹوٹل چار میں سے دو تین پلیٹیں ایک وقت میں دھونے والی ہو جائیں تو دھونے کی ٹینشن اتنی ہوتی ہے کہ ذہنی حالت کمس کم تین چار دن اَن سٹیبل رہتی ہے۔ سکاچ برائٹ اور وِم خواب میں چڑیلوں اور ڈائنوں کا روپ بدل کر آتے ہیں اور سنک کھلی قبر کا منظر پیش کرتی ہے۔
صرف گھریلو اور ذاتی زندگی پر ہی نہیں موقوف، دفتری معاملات بھی الحمدللہ کافی بہتر ہیں۔ اب ہم کیا بتائیں کہ صبح جب دس دفعہ سنوز کرنے کے بعد ہمیں جگانے کا آخری الارم بجتا ہے تو ہمارے آفس ٹائم کو سٹارٹ ہوئے آدھا پونا گھنٹہ ہو چکا ہوتا ہے۔ یہاں آنے کے بعد ایک لفظ جس کا برمحل استعمال سیکھا ہے وہ ہے ”انشاءاللہ“۔ شیخہ (ہماری جزوقتی باسنی)، ہمارے ٹاسکس سے متعلق پوچھ پوچھ ہارتی سو سو سوال مجھ سے، اور میں اسکو انشااللہ کے علاوہ جواب دوں، ایسا نہیں کرتا۔ روز رات کو دس بجے سونے کا ارادہ کرو اور بے شک دن میں سوؤ یا نہ سوؤ، پھر بھی سوتے سوتے ایک دو بج ہی جاتے ہیں۔ بالفرض کبھی دل پہ جبر کر کے جلدی بستر میں گھس ہی جاؤ تو نیند ندارد اور صبح اٹھنا محال۔ اور آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ نوجوانی میں کم از کم آٹھ گھنٹے کی نیند کتنی ضروری ہے، سو لیٹ ہونا تو بنتا ہے باس۔ ہمیں تو آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ کیا وجہ ہے کہ ازلی سستی کے باوجود ویک اینڈ پہ دن میں سونے کے باوجود رات کو جلدی نیند بھی آ جاتی ہے اور صبح کو جلدی آنکھ بھی کھل جاتی ہے؟
لڑکپن کی بات ہے کہ ایک دفعہ بھائی سے پوچھ لیا کہ ”کافی دنوں تک سر نہ دھوئیں تو بالوں کا جیسا مرضی سٹائل بن جاتا ہے نا! لیکن سر میں خارش کیوں ہونے لگتی ہے؟“۔ جانے یہ پوچھ کر کیا گناہ کر دیا کہ سب نے ہمارے خلاف پٹیشن سائن کر دی۔ حقہ پانی بند۔ مجھ معصوم کو کیسے نہانے اور بائیو آملہ شیمپو سے سر دھونے پر مجبور کیا گیا، یہ قصہ اگلی پوسٹ میں۔۔۔

یار پوسٹ پڑھ لی اور تبصرہ کرتے نہیں ہو یہ تو غلط بات ہے

ابتک تبصرہ جات 38

فر حت طا ہر
 1 

بہت ہی مزیدار بلاگ ہے!ہنس ہنس کر سارے دکھ دور ہوگئے!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 3:46 شام

@فر حت طا ہر، ہاں جی اس لافنگ تھیراپی کے آپ کے ہو گئے ایک سو پینتیس ڈالر پنتالی سینٹ :evil:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 13, 2014 بوقت 1:18 شام
عثمان سہیل
 2 

آئی ایم شیور اس بار ڈفر سالانہ کلین لی “لیس” کومپیٹیشن میں انعام جیت کر لائیں گے۔
شہباز شریف کی توجہ ، سرپرستی و حوصلہ افزئی مل گئی تو ڈفر گندس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اندراج کرکے وطن عزیز کا نام مزید بلند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔ اک ذری نم ہو تو بڑی زرخیج ہے مٹی ;-)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 3:48 شام

@عثمان سہیل، میں کوئی نی ”لیس“ کے ساتھ ”نیس“ بھی ہونا چاہئے ۔ اور ہماری حوصلہ افزائی کون کرتا ہے جی۔ ورنہ ہم نے تو چارپائیاں اتنی توڑی ہوئیں کہ رکاٹ کیا چیز ہیں ہمارے سامنے :sad:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عثمان سہیل
مارچ 17 , 2014 بوقت 1:25 شام

@ڈفر, بڑے ڈیمانڈگ ہوگئے استاد
قارئین سےمؤدبانہ گذارش ہے کی کلین لی “لیس” کو کلین لی “لیس” نیس پڑھا جائے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 13, 2014 بوقت 1:20 شام
 3 

:grin:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 3:53 شام

@علی، :evil:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 13, 2014 بوقت 1:26 شام
 4 

میں کائی ملی شاہ صاحب سے پرزور ریکویسٹونگا کے آپ کا نام گنز بک آف ورلڈ رکارڈ میں لکھوانے کے لیے کویئ ایونٹ رکھیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 3:49 شام

@وقاص حیدر، یار اسکا میرا ”سنیارٹی“ کا مسئلہ چل رہا، ذاتی مخاصمت یو نو۔ کوئی نیوٹرل لیڈی کم گرل زیادہ امپائر ہو جائے تو ;-)
بندہ آپ کو سخت دعائیں دے گا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 13, 2014 بوقت 2:18 شام
 5 

واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمال کردیا آپ نے جی
حست روائت بہت ہی بڑھیا لیکن
(اسے بڑھیا یعنی اولڈ ویمن نہیں پڑھنا)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 3:52 شام

@مصطفیٰ ملک، اچھا انکل جی اب آپ بھی لپیٹ لپیٹ کے مجھے بڑھاپے کے طعنے ماریں گے؟ وہ کیا کہتے کہنی دھی نوں تے سنانی نو نوں :?:
اور شکریہ تو بائی ڈیفالٹ ہے ہی آپ کا :grin:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

راہی سعد
مارچ 14 , 2014 بوقت 6:58 شام

@ڈفر, میں نے آپ کا پیج دیکھا مجھے بہت پسند آیا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 13, 2014 بوقت 4:24 شام
 6 

:mrgreen:
بس صاحب ہم آپ کے اسی لئے “عاشق” ہیں کہ سارے الٹی سیدھی ہانکتے ہیں اور آپ ہماری ساری ذہنی تھکاوٹ دور کر دیتےہیں۔
مزیدار پوسٹ ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 3:53 شام

@یاسر خوامخواہ جاپانی، تھینکس :smile:
ویسے یہ آپ نے ”ساروں“ کی طرف سے میری ”عزت افزائی“ کری نا؟ :?:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 13, 2014 بوقت 4:39 شام
Aurangzeb , Mahwish
 7 

یہ تو لگ رہا ہے پورا بلاگ مجھ پر لکھ ڈالا.
شکریہ شکریہ
تهینک یو

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 3:55 شام

@مہوش: ارے نہیں :shock:
پورا بلاگ آپ پر نہیں ہے، شیو اور مونچھوں والا سیکشن بلاول باجی کے لئے لکھا ہے :lol:
اور شکریہ صرف مٹھائی کے ڈبے یا پان سو کے ایزی لوڈ واؤچر کے ساتھ قبولا جاتا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 13, 2014 بوقت 4:48 شام
 8 

بہت دنوں سے یہ سارے کام کٹ پیس کی شکل میں پڑھ پڑھ کر یہ سب کچھ یک مُشت پڑھنا بنتا ہی تھا- تھینک یو، یو میڈ اوور ڈے-

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 3:56 شام

@محمد سلیم، بس جی بلاگنگ اور کپڑے کے کاروبار میں یہی فرق ہے۔ کپڑے کی دکان پہ کٹ پیس بعد میں کام آتے ہیں اور بلاگنگ میں پہلے :lol:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 13, 2014 بوقت 5:37 شام
نعیم
 9 

:o
تمام مزاحیہ نگاروں کوئی پیچھے چھوڑدیا بس انگلش کے الفاظ ذرا کم استعمال کریں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:00 شام

@نعیم، پہلے تو اتنی مبالغہ آرائی کا بہت شکریہ بھائی صاحب اور ویلکم ٹو دا بلاگ :mrgreen:
اور انگلش تو جی اب اتنی ضروری اور مجبوری ہو گئی ہے کہ اردو کے کتنے ہی ایسے الفاظ ہیں جن کو استعمال کرو تو اگلا منہ پھاڑے مطلب اور وضاحت کا متمنی ہوتا ہے :?:
لیکن ان شا اللہ کوشش کروں گا آئیندہ، آپ آتے جاتے اور تعریفی کمنٹ کرتے رہئے گا۔ آپ جیسوں کی حوصلہ افزائی سے تو اس مقامِ ڈفریت تک پہنچا ہوں :cool:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 14, 2014 بوقت 9:07 صبح
 10 

:mrgreen:

او یار، خدا کے واسطے ایسی تحاریر پر اوپر لکھ دیا کر کہ یہ بلاگ دفتر میں یا محفل میں بیٹھ کر پڑھنا منع ہے ورنہ نقصان کی ذمہ داری خود قاری کی ہوگی۔ ورنہ تُو نے بہت سے لوگوں کی بیستی بھی کروانی ہے اور ایک دو کو دفتر سے فائر بھی کروا دینا ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:02 شام

@عمار ابنِ ضیا، ارے نہیں :shock:
یار ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر میرے بلاگ کی دفتروں میں مشہوری کی جائے اور ہر منگل والے دن بیٹھک میں اور باقی ایام میں اکیلے ریڈنگ کی جائے تو انکریمنٹ ملتا ہے۔ ایک بندے نے اس بات کو جھوٹ سمجھا اور وہ فائر ہو گیا :oops:
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے :evil:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 14, 2014 بوقت 9:38 صبح
Shabih Fatima Pakistani
 11 

:razz: ;-)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:02 شام

@Shabih Fatima Pakistani, :cool:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 14, 2014 بوقت 10:18 صبح
 12 

آسکر ایوارڈ کی طرح کوئی ’’خاص کر‘‘ ایوارڈ ملنا چاہئے تجھے اس زمرے میں! :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:03 شام

@عامر منیر، اور وہ خاص کر ایوارڈ ”خاص طور پر“ مجھے ہی ایوارڈنا چاہئے نا؟ :?: :lol: :lol:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 14, 2014 بوقت 11:27 صبح
جگنی
 13 

اے یہ قسمیں دے دے کر کمنٹ لینا درست بات نہیں- ہنسی میں خلل واقع ہوتا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 3:44 شام

قسمیں دے کے کوئی بات سن لے تو بڑی بات ہے، ماننے والے کی تو بیعت کرنی چاہئے :P
ویلکم ٹو ڈفرستان بائی دا وے۔ اب تو آنا جانا لگا ہی رہے گا نا :?:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 14, 2014 بوقت 11:31 صبح
ویلا نکما
 14 

:shock: او ماما یہ میری سٹوری تجه تک کس نے پہنچائ
وادو لکهیا ای کبجرا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 14, 2014 بوقت 9:53 شام
ام عروبہ
 15 

السلام علیکم
: ):)
اف اتنا گندا بچہ! شکر ہے اسکے اور ہمارے درمیان سائبر دنیا کی دوری ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 15, 2014 بوقت 12:54 صبح
 16 

;-) آہا ہا ہا ہا ہا ااا مزہ آگیا پڑھ کے، پر یہ کہ ،،
لے دس ، تیرے ساتھ کون نباہ کرے گی ؟ :?:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 15, 2014 بوقت 2:12 صبح
 17 

:lol:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 15, 2014 بوقت 2:13 صبح
 18 

:evil: :evil:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 15, 2014 بوقت 1:00 شام
ابوعبداللہ
 19 

:grin: خوش ہو ہو کر :cry: نکل آئے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 19, 2014 بوقت 3:31 شام
محمد کامران
 20 

میں خود پالش والے جوتے نہیں خریدتا اور جرابوں ہی سے صاف کرتا ہوں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 24, 2014 بوقت 9:43 شام
برہان بُھٹہ
 21 

اچھا تھا : پ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اپریل 6, 2014 بوقت 2:06 شام
نسرین غوری
 22 

(Y) (Y) (Y)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اپریل 24, 2014 بوقت 9:31 شام
نسرین غوری
 23 

یہ کاپی پیسٹ کیوں نہیں ہوتا :sad:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اپریل 24, 2014 بوقت 9:34 شام

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog