Google
12
Feb

ہائے میری لاتیں

بھیجا ہے  ڈفر نے کُچھ نا پُچھ میں

2,612 بار دیکھا گیا

فرحان صاحب نے جب اعلان کیا کہ ”ہاں بھئی نیشنل سپورٹس ڈے میں شرکت کا انویٹیشن آیا ہے، کس کس نے پارٹی سپیٹ کرنا ہے؟“ تو ہمارا پہلا سوال تھا کہ کھیل کون کون سے ہیں؟ رننگ، میراتھن، آرچری، سائیکلنگ، والی بال۔۔۔ او کے میرا نام سائکلنگ میں لکھوا دو۔ ہم نے پوری لسٹ سننے سے پہلے ہی سائیکل کے نشان پر مہر لگا دی اور ہمیں پونے تین ہزار سال پہلے (نصف جن کے ایک ہزار دو سو اٹھانوے ہوتے ہیں) کا وہ وقت یاد آ گیا جب سائیکل کے نامعلوم موجد کی پیدائش میں ابھی سات سو پینتیس سال باقی تھے اور اپنے بچپن میں ہم نے آخری دفعہ سائیکل چلائی تھی اور کیا ہی خوب سائیکل چلاتے تھے۔
روٹ کیا ہو گا؟ یہ سامنے سڑک، بس یہ کارنش کے پاس سے گھوم کر اُدھر سے واپس، ایک لیپ ہے۔ فرحان نے شیشے کے پاس کھڑے ہو کر ہاتھ گھما گھما کر سڑک کی طرف اشارہ کر کے روٹ سمجھایا۔ بس؟؟؟؟ کم از کم آٹھ دس کلومیٹر تو ہونی چاہئے، اتنی سی ریس کو ریس کہتے ہیں؟ؕ ہاں ہونی تو چاہئے لیکن یہ خبر عزب سے ملی ہے اب پتہ نہیں اصل روٹ کیا ہے اور کتنے لیپ ہیں، فرحان نے ہماری ہاں میں ہاں ملائی اور ہم دونوں نے مایوسی بھرے چہروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ہم نے تو خیر سپورٹس کمیٹی کو با آواز بلند دو چار موٹی گالیاں بھی نکال دیں۔
ویسے تو سات بجے کی بجائے نو بجے آفس پہنچنا ہماری روٹین کم اور شیوہ زیادہ ہے کہ سویرے اٹھنا ہمارے لئے اتنا ہی مشکل ہے جتنا میرا کے لئے انگریزی بولنا یا عقل کی بات کرنا (قدر مشترک) لیکن باوجود شبِ سپورٹس ڈے آدھی رات تک ”چیٹنگ“ کرتے رہنے کے اور باقی آدھی رات سوتی جاگتی آنکھوں سے اوائل جوانی میں پیرودھائی روڈ پر چلتی بسوں و ٹرکوں کے بیچ کئے گئے سائیکلی سٹنٹس اور صبح سویرے ریس کے بعد جیتی گئی ٹرافیاں اور انعامات وصولتے ہوئے تصویری خواب دیکھنے میں گزارنے کے، سویرے سات بجے ہم جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ معلوم چلا کہ سائیکلنگ کا مقابلہ ساڑھے نو بجے ہونا قرار پایا ہے۔ ویسے تو ساری سائیکلیں ورلڈ کلاس تھیں لیکن ہم نے اپنی پاکستانیت کا بھرم رکھنے کے لئے پھر بھی چھانٹ کر ایک عدد ”اچھی“ سائیکل مَل لی اور پریکٹسنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد سعید صاحب فرمانے لگے ”ابھی تھک جائیں گے یار! پھر ریسیں گے کیا؟“ ہمیں پہلی بار فرخ صاب کی بات انکی طرح ہی وزنی لگی اور ہم اوپر اپنے کیبن نما ڈریسنگ روم میں چلے گئے۔
نو بجے کے قریب بائی چانس نیچے آئے تو دیکھا کہ ساری سائکلیں کوپی جا چکی ہیں اور ہم ان باقی حضرات کو لعن طعن کرنے میں مصروف تھے جن کی وجہ سے ہم اوپر بیٹھے فیس بکیاں کرتے رہ گئے 😀 اتنے میں کوچ صاحب ایک سائیکل پکڑے آئے جس کو ہم نے ناگہانی آفت بن کر ان سے چھین لیا۔ سٹارٹنگ پوائنٹ پر سب سے پیچھے کھڑے ہونے کا غم اس وقت رفو ہو گیا جب آدھے لیپ میں ہم سارے ”رش“ کو کراس کر گئے۔ باقی آدھے چکر کی روداد ذرا کافی زیادہ مختلف ہے۔ سائیکلیں ہمارے پاس سے شوں شوں کر کے گزرنے لگیں اور ہمیں اپنی ٹانگوں سے مرزا کی سائیکل جیسی کھڑکیلی آوازیں سنائی دینا شروع ہو گئیں۔ فنش لائن سے سو ایک میٹر پہلے جب سپیڈ بریکر کراس کیا تو ہماری بس ہو چکی تھی جسکا نام بعد میں بیڈفورڈ رکھا گیا۔ سپیڈ بریکر کراس کرنے کی دیر تھی ایسا لگتا تھا کہ پل صراط پہ سائیکل چلانی پڑ رہی ہے، قبر بس اس پیڈل پہ یا اگلے پیڈل کے فاصلے پر ہے۔ فنش لائن کو دیکھ کر کئی خیالات نے بجلی کی طرح کود کر ہماری کھوپڑی میں رکھے بھوسے کو چنگاری دکھانے کی کوشش کی جن میں سے ایک تو یہ تھا کہ کسی طرح بس فنش لائن تک پہنچ جاؤں، کیمرے کے سامنے بے عزتی نہیں کرانی۔ دوسرا خیال اس سے بھی زیادہ روح فرساں تھا ”اگر صرف ایک لیپ نہ ہوا تو؟؟؟“ سچ ہے سر پہ پڑتی ہے تو ہی دل سے مقبول دعا نکلتی ہے۔
لیکن وائے ری قسمت، زیڈ رے نصیب۔ ٹرافی یا انعام کیا جیتنا تھا اتنی ہمت نہیں تھی کہ کھڑے ہو کر جیتنے والے کے لئے تاڑیاں ہی پیٹ سکیں۔ سائیکل سے اتر کر یہ حال تھا کہ قدم رکھو کہیں پڑتے کہیں تھے، دو پہیوں والی سائیکل نے ڈھائی منٹ میں اَن بیلنسڈ چار پہیوں والی ریڑھی میں بدل دیا تھا۔ٹانگوں کے پٹ ایسے پھڑپھڑا رہے تھے جیسے دل سینے کی بجائے ان میں دھڑک رہا ہو۔ ٹھنڈی ہوا اور سرکاری چلڈ مشروبات نے کھانسی الگ لگا دی تھی۔ حال بیان کر کے جب سعید صاحب سے درخواست نما منت آمیز لہجے میں فرمائش کی کہ وہ ایک کرسی ہی لا دے جس پر بھائی بیٹھ جائے تو پوچھنے لگے، الٹی وغیرہ بھی آ رہی ہے کیا؟ ہاں یار متلی بھی ہو رہی ہے۔ پوچھا کمر میں بھی درد ہے، ہم نے جواب دیا ابھی تو بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ کہاں کہاں درد ہے۔ فرمانے لگے ”حاملہ خاتون والی جملہ خصوصیات پائی جاتی ہیں، کرسی چھوڑ سٹریچر منگواتا ہوں۔ سرکاری ایمبولینس بھی کھڑی ہے لگے ہاتھوں تیرا گائنیانہ چیک اپ بھی ہو جائے گا“ انکار پر لالچ دینے لگے کہ ”مالش ہی کروا لے۔ بڑا تگڑا سوڈانی میڈِک جوڑا بیٹھا ہے ایمبولنس میں، تو ہماری باتوں سے تسلی کرتا ہے وہ تیری ہاتھوں سے تسلی کر دیں گے“۔
میں تو کل نہیں آنے لگا، میری چھٹی پکی۔ میں نے فیصلہ سنا دیا۔ سعید صاحب کہنے لگے ”بیٹا ایسے کام میں پنگا ہی نہیں لینا تھا۔ اسی وقت کے لئے بڑے کہہ گئے ہیں ’اناڑی سے مرانا، ۔۔۔ کا ستیاناس‘ بولے تو، مزے کے چکر میں اپنا ہی نقصان کرا بیٹھے“۔

شاباش بڑی اچھی بات ہے، تبصرے کی باری آئی تو پتلی گلی سے نکل لو

ابتک تبصرہ جات 46

قریشی
 1 

کوئی کمنٹ نہیں۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 2:14 صبح

@قریشی، چل جھوٹے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 12:42 صبح
 2 

لاتوں کو کیا خوب ڈیفائین کیا بالکُل یہ حالت ہوتی کہ دل سینے میں دھڑکنے لگتا ہے ۔ مُجھے یہ تجربہ تین ہزار میٹر دوڑ لگانے سے ہوا تھا۔ مگر جَس طرح جناب ڈفر نے اُس حالت کو ایکسپلین گیا مزا آگیا جناب

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 2:19 صبح

یار جن لوگوں نے دوڑ لگائی انکی حالت دیکھ کے مجھے خود ترس آ رہا تھا اور میں شکر کر رہا تھا کہ میں نہیں دوڑا اور سعید کو زیادہ شکر کرا رہا تھا کہ ”شکر کر تو نہیں دوڑا“ :ڈ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 12:55 صبح
 3 

واہ واہ واہ، کیا سائیکلا ہے میری جان، اور تیرے یرقان زدہ دماغ سے پوری امید کہ تو نے سیکل بغیر سیٹ والی ہی چوزی ہو گی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 2:15 صبح

@mani، میں لکھا نا کہ میں نے چکر پورا کرا 😀

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 1:12 صبح
رضی اللہ خان
 4 

پوری لسٹ سن لیتا، شائد آگے کبڈی کبڈی بھی ہوتی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 2:16 صبح

@رضی اللہ خان، کبڈی تو اگر مکس ہوتی تو مزہ آتا نا ؛)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 1:17 صبح
Aurangzeb , Mahwish
 5 

اس وقت جو ہوا سو ہوا…
ابهی کی بتائیں چلتے ہوئے ابهی بهی لرزا آنا ختم ہوا کہ نئی :ڈ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 2:17 صبح

@Aurangzeb , Mahwish، ہاں اب تو حالت کافی بہتر بلکہ آلموسٹ بہتر ہے۔ بس گوڈے تھوڑے سے دکھن دکھن فیل کراتے ہیں چلتے وے
لیکن کل چھٹی میں نے ضرور کرنی 😛

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 2:05 صبح
عثمان سہیل
 6 

میری پہاڑ گردی کا مذاق اڑا رہے تھے اب سنائیں۔۔۔
خوب لکھا مگر تھوڑا کچا اتار لیا ورنہ خوب تر ہوتا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 2:40 صبح

بس انکل جی اسی مذاق گردی کی سزا ملی مجھے آج
آپ کوئی سیٹنگ میٹنگ کر دیں نا اس پوسٹ کی
ترمیم تو آئین میں بھی ہو جاتی ہے یہ تو فیر ایک بلاگ پوسٹ ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عثمان سہیل
فروری 12 , 2014 بوقت 2:51 صبح

@DuFFeR Dee, عجیب بات کردی چوئی ڈفر ساب۔ بھلاکبھی کسی نقاد کو تخلیقی کام کرتے دیکھا آپ نے۔ اتنے جوگے ہوتے تو خود نہ کچھ لکھ ڈالتے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 4:36 شام

کیڑے کڈ لینا کدی کسے دے کم نہ آنا

فروری 12, 2014 بوقت 2:36 صبح
 7 

مجھے تو شک ہے کہآپ کسر نفسی سے کام لیکر تین کے بجائے دو پہیے گھمانے کا کہہ رہے ہیں.
ارے جناب تین کیا آپ چار پہیے والی سائیکل گھما کر بھی تھک کر چوروچور ہوسکتے ہیں.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 4:40 شام

میں نے تین پہیوں والا سکوٹر دیکھا کل ریلی ہو ری تھی یہاں امریکی سٹائل کی۔ بس وہ خریدوں گا میں اور پچھلے دو پہیوں کے بیچ جو ڈبہ ہو اس پہ بچی بٹھانے واسطے ایک صوفے جیسی نرم سیٹ وی لوانی میں نے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 3:55 صبح
 8 

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 5:16 شام

@علی، میں بھی تیرے کو :ڈ ہے 😀

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 9:45 صبح
ام عروبہ
 9 

السلام علیکم
ہائے تیری باتیں!
پس ثابت ہوا کہ آپ لاتوں کے بھوت نہیں ہیں، بس باتیں کرنے کرانے سے ہی ٹھیک رہتے ہیں۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 4:43 شام

وعلیکم السلام
اس لاتوں اور باتوں کے بھوت بارے میرے گھر والوں اور دفتری اہلکاروں کا نقطہ نظر آپ سے یقینا ایک سو اسی درجے مختلف ہو گا 😛

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ام عروبہ
فروری 13 , 2014 بوقت 1:47 صبح

@DuFFeR Dee,
: ): )
مختلف ہونا بھی چاہئے نکتہ نظر، کیونکہ ہم تو آپ کو بس سائبرانہ طور پر ہی جانتے ہیں جبکہ وہ تو آپ کی رگ رگ سے واقف ہوں گے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 13 , 2014 بوقت 3:32 شام

@ام عروبہ، نہ نہ نہ
میری رگ رگ سے واقفیت کی لبرٹی کسی کے پاس نی ہے 😛

فروری 12, 2014 بوقت 11:09 صبح
 10 

جو ہوا وہ بائیسائکل جانے اور آپ جانیں ۔ یہ بیچ میں پیر ودھائی روڈ کا ذکرِ خیر بھی آیا ۔ کیا آپ پل شاہ نذر کے باسی رہے ہیں یا باغ سرداراں کے علاقہ کے ؟ یا پھر بچپن نئی آبادی سر سیّد کالونی میں گذارا ہے ؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 4:55 شام

انکل جی سیٹ لے ٹون زنتا بات
سیکل پہ تو ہم گھر سے سلاماباتی درسگاہ تک کا سفت طے کیا کرتے تھے
جس کے لئے پیرودھائی روڈ (آئی جے پی سے پہلے والا) پہ سٹنٹ کر کے گزرنا پڑتا تھا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 11:32 صبح
 11 

بالکل طاہرہ سید والی بات کی آپ نے۔۔۔ ہائے میری انگوٹھیاں۔۔۔ ہائے میری ٹانگیں۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 5:10 شام

یارا جی ٹانگیں نہیں لاتیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 3:23 شام
خالد حمید
 12 

واہ جی واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی اس سائیکلنگ کی آپ بیتی نے تو ہنسا ہنسا کے لوٹ پوٹ کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے ادھیڑ عمری میں ایسا پنگا لینا ہی نہیں چاہئے۔
اور شکر تو اس بات کا ہے کہ آپ نے مناسب وقت پر فیصلہ لے لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ یہ پوسٹ کوئی اور لکھ رہا ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور شاید اس سے بھی زیادہ پر لطف لکھ دیتا۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 5:11 شام

ہاہاہاہاہا
مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا تھا انکل جی نے بھی یہی کہا اور آپ نے بھی
بس کیا کروں لکھت کی فائن ٹیوننگ نی کرنی آتی مجھے
اور زور لگا لوں تو بھی نہیں ہوتی
چلو آنے والوں کے لئے پوائنٹس یا ایجنڈے کا کام ہی کر دے گی 😀

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 3:27 شام
 13 

تو ہماری باتوں سے تسلی کرتا ہے وہ تیری ہاتھوں سے تسلی کر دیں گے
وا ہ واہ بھائی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہور ،،،،،،

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 5:10 شام

انکل جی تسی وی؟
آپ بھی دل میں ایسی کوئی خواہش دبائے بیٹھے نا؟ 🙁

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 5:03 شام
 14 

فیر آپ نے بتایا نی کہ اسٹریچر پر گئے یا چل کے؟ :ڈ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 7:27 شام

خود ہی جا کے پہلے پارکنگ میں تھوڑی دیر دھوپ سیکی اور پھر دھیرے دھیرے مارننگ واک ٹائپ گاڑی چلا کر گھر پہنچا
ٍ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 5:21 شام
خورشید آزاد
 15 

ایک وقت ایسا آگیا تھا کہ عمران سیریز کا ناول کے مصنف مظہرکلیم کی اپنے قارئین سے “چندباتیں” پڑھنے کے لئے خریدتا۔ بالکل ویسے آپ کی تحریر ہر واہ واہ تو ہوتی ہی ہے لیکن اس پر جو تبصرے ہوتے ہیں وہ تحریر سے زیادہ لطیف ہوتے ہیں۔

ڈفر آپ زیادہ سے زیادہ موضوعات پر لکھو یار۔۔۔۔بہت مزےدار لکھتے ہو۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

DuFFeR Dee
فروری 12 , 2014 بوقت 7:42 شام

میں زبردستی اس کمنٹ کو کمپلمنٹوں والے کھاتے میں درج کر کے آپ کا شکریہ ادا کر دیتا ہوں 😀
ان شا اللہ آئندہ ایسا ہی ہو گا 🙂

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 12, 2014 بوقت 7:30 شام
سیما جی
 16 

اگر آپ نے اپنی پوسٹ کے آخر میں “کیڑے پڑنے والی بد دعا ” نہ لکهی هوتی تو هم آپکی اس سائیکلانہ حماقتوں پر محض مسکرا کر آگے بڑھ جاتے ! مگر خیر …. آپکی لاتیں چاهے بے کار هو گئی هوں مگر باتیں بڑی زبردست پڑهنے کو ملیں ! :ڈ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:11 شام

@سیما جی، بس جی آپ کی ذرا نوازی ہے جو آپ کو یہ باتیں اتنی زبردست لگ رہی ہیں۔ ویسے تو جسٹیفائڈ بھی ہے، بھلا محنت تھوڑی کرنی پڑی مجھے 👿
اینڈ ویلکم ٹو ڈفرستان 🙂

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 13, 2014 بوقت 6:05 شام
 17 

شکر کہ تمہیں سیکل چلانے کو مل گئی ورنہ آج کل تو سیکلیں بندے کو چاری رکھتیں ہیں.
تحریر اچھی تھی ویسے لیکن یہ اندر کا خبیث شرلاک ہولمز بار بار کہہ رہا کہ رائے صاب ہو نہ ہو اس میں کوئی ڈونگا تیز ہے :پ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:12 شام

@رائے محمد ازلان خان، یار دفتری لاٹ آئی وی تھی ورنہ یہاں تو سیکل ایک تو خریدنی بہت مہنگی اور چلانی پڑ جائے تو سال کے اکیس مہینے موسم انتہائی ظالم
ڈونگا تیز نی ہوتا چھری تیز ہوتی ہے 😛

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 13, 2014 بوقت 6:06 شام
قاتل بہاولپوریا
 18 

اتنا بڑا پنگا لینا تو دو چار دن “لگ” پریکٹس کی ہوتی.جو حالت ہوئی اس سے تویہ لگتا ہے کہ “ــــــــ” پریکٹس کرتا رہا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:13 شام

@قاتل بہاولپوریا، ارے نہیں یار پریکٹس کے لئے سیکل چاہئے ہوتی ہے۔ اور سائیکلیں مقابلے والے دن دفتر والوں نے ہی منگوائی ہوئی تھیں۔ پریکٹس تو بہرحال ”۔۔۔۔“ ہی کی ہوئی تھی 😀

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 13, 2014 بوقت 6:38 شام
ابوعبداللہ
 19 

کیا کہنے جی آپ کی لاتوں کے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:13 شام

@ابوعبداللہ، پڑنے والی یا ”رہ جانے“ والی ❓

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 13, 2014 بوقت 7:21 شام
 20 

اب تو جھوٹ بھی بہت بولنے لگا ہے ۔

چل سچ سچ بتا دے کون سے کھیل میں حصہ لیا تھا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:14 شام

@ناصر، ارے یار جھوٹ کیسا۔ سب کو پتہ ہے میں ایسا ویسا لڑکا نہیں 😀

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 19, 2014 بوقت 10:20 صبح
 21 

بڈھے ہو کر ایسے پنگے چنگے نیئی ہندے۔ تسی منجی تے پے کہ لاتیں چلا لیا کرو، سائیکل کی بجائے موٹر سائیکل کی فینٹاسی کرنے کی اجازت ہے 👿

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 14 , 2014 بوقت 4:15 شام

@اللہ دتہ، یار پہلی بات تو یہ کہ بستر پہ سائکلنے جیسی سہولت موجود نہیں ہے 👿
اور دوسری بات یہ کہ موٹرسیکل فنٹسائزنے کے بعد لاتیں چلانے والی بات سمجھ سے باہر ہے 😡

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 6, 2014 بوقت 6:31 صبح

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog