Google
21
Jan

پی ایچ ڈی کی ڈگریاں یا ریوڑیاں !

بھیجا ہے  مہمان نے آ لو پیاز میں

2,889 بار دیکھا گیا

مہمان لکھاری زویا

پی ایچ ڈی کی ڈگریاں اور ریوڑیاں ہر دو طرح سے مختلف چیزیں ہیں۔ اگر ان میں کوئی چیز مماثلت رکھتی بھی ہے تو وہ ان کا خالص زنانہ پن ہے۔ لیکن ان دونوں چیزوں کی کنڈلیاں ملانے میں اگر کسی کو ملکہ حاصل ہے تو وہ ہے ہمارا پاکستانی نظام!!!
ہم نے ریوڑیوں کا ذکر بچپن میں اردو کی کتابوں میں پڑھا، سنا اور دیکھا تھا۔ تلاش بسیار کے بعد جان پائے کہ ریوڑی کھانے کی کوئی میٹھی چیز ہوتی ہے جسے صرف اندھے بانٹتے ہیں اور گھوم پھر کے اپنوں کو ہی دیتے ہیں۔ اوّل تو چیں بہ چیں ہم اس بات پر ہوتے تھے کہ بھلا اندھے کیونکر بانٹ سکتے ہیں؟ اور اگر بالفرض بانٹتے بھی ہیں تو اقرباء پروری کا جذبہ آخر ان میں اس حد تک کیوں پایا جاتا ہے؟ بہرحال یہ سطر بذات خود تحقیق کی متقاضی ہے اور ہم چونکہ اس سےاسقدر آشنائی کے خواہاں نہیں ۔۔۔۔ نہ ہم نے اسکا دامن پہلے کبھی پکڑا، نہ اب پکڑنے کے متمنی ہیں لہذا اسے ہم کفار، ہمارا مطلب ہے اہل مغرب کے لیے ہی چھوڑتے ہیں۔ اگر ہمیں اس کےکسی جز سے شغف ہے بھی تو وہ ہے تحقیقی ڈگریاں بانٹنے سے، جو ہم ریوڑیوں کی صورت میں بانٹتے ہیں اور معذرت کےساتھ اندھوں کی طرح ہی!
سال گذشتہ، اور پھر اس سے بھی سال گذشتہ اور پھر اس سے بھی گذشتہ کسی سال میں شہاب ثاقب دندناتا ہوا اسوقت گرا جب ہمارے وزیر داخلہ و خارجہ عبدالرحمان الملک کو ڈاکٹریٹ کی اعلٰی ڈگری سے مفت میں نوازا گیا۔ اگر ڈگری صرف ڈاکٹریٹ کی ہوتی تو اس سوال کا امکان تھا کہ بھلا کس قسم کے ڈاکٹر؟ انسانوں کے یا۔ ۔ ۔ ؟؟؟؟ لیکن ڈگری دیتے ہوئے ہاتھوں میں جب شہر کراچی کی ایک بڑی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے دست اقدس کو پایا تو فرط جذبات سے بے ساختہ دانتوں میں انگلیاں داب لیں۔ حسن یوسف کو دیکھ کر مصر میں اگر انگشت زناں کٹیں تھیں تو یہآں اس دلخراش منظر پر ہم سراپا انگشت بداں تھے۔
پاکستان میں تعلیمی معیار پر موجود سوالیہ نشان وقت کے ساتھ ساتھ کسی کالی اندھیری رات کی طرح گہرا سے گہرا تر ہوتا چلا جارہا ہے اور ایسے میں ڈگریوں کی بارش کی صورت میں یہ التفات، اندھیری رات میں پھلجڑی اور آتش بازی کی مثل ہے۔ سنتے تھے کہ پاکستان کے ڈگری ہولڈر طلبہ کی بیرونی دنیا میں کوئی قدر نہیں ، ہم سے پوچھیں تو اس قسم کے ڈاکٹروں کی ہونی بھی نہیں چاہیے۔ وہ کیا ہے کہ ساری رات لیلٰی و مجنوں کا قصہ سنا مگر صبح کمال معصومیت سے پوچھ بیٹھے کہ لیلٰی مرد تھی یا عورت؟ بالکل ایسے ہی جنھیں بار بار دہرانے پر بھی سورۃ اخلاص یاد نہ آکر دی، انھیں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری تھما دی؟ آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں!! ستم بالائے ستم کل پرسوں کی حسین شام، خون آشوب شام میں اسوقت تبدیل ہوگئی جب ہم نے وزیراعظم کا محترم چہرہ ایک عدد مخصوص ٹوپی کے نیچے ملاحظہ فرمایا۔ غور کرنے پر پوری خبر نظر آئی کہ جہاں موصوف نے تحصیل علم کا معرکہ انجام دیا ہے وہاں کے اعلٰی عہدیداران نے انگلی کٹواکر شہیدوں میں نام لکھوانے یعنی وزیر اعظم کی گڈ بک میں آنے کے لیے، وزیر موصوف کو بھی ایک عدد ڈگری سےشرافت کے ساتھ نواز دیا ہے۔

آخر یہ اعزاز انھیں کس سلسلے میں دیا گیا، یہ سوال ایک داستان کا محتاج ہے۔ ہم نے سنا تھا کہ اس ڈگری کے حصول کے لیےامیدواروں کا جم غفیر انٹری ٹیسٹ کے لیے حاضر ہوتا ہے مگر اکثریت کو سند قبولیت اس لیے نہیں بخشی جاتی کہ اگر ان کو ڈگری دے دی جاے گی تو رحمن ملک و نواز شریف جیسوں کو دینے کے لیے ڈگری کہاں سے لائیں گے ؟؟ کاغذ ویسے ہی بڑا مہنگا ہے۔ اور نوجوانوں کا کیا ہے، انہیں تو اعلٰی ڈگری لے کر بھی لور لور پھرنا ہے، بہت بہت ہوا تو ہیرؤئین کے نشے میں چور سڑک کے کنارے کسی نالے میں گرے ہوئے پائے جائیں گے یا پھر کسی جوئے خانے میں ساری جمع پونجھی لٹا کر خودکشی کر لیں گے۔ اگر بالفرض کسی کی قسمت نے یاوری کردی تو دس بارہ شادیاں بھگتا لیں گے۔

قصہ مختصر، میرے ہم وطنو! اردو ہماری مادری ذبان ہے۔ ہمیں کبھی اسکے پرچے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں ہوا۔ اکثر ہم نے سو میں سے اڑھائی سو نمبر حاصل کیے مگر اس ایک محاورے کو ہم نے ہمیشہ ” چوائس ” میں چھوڑا کہ کبھی ہم اس کے مطالب و مقاصد سمجھ ہی نہیں پائے۔ البتہ اب، ان اوپر تلے کے پے در پے واقعات نے پوری جزیات کے ساتھ ہمیں سمجھادیا کہ ۔۔۔ اندھا بانٹے ریوڑیاں، ہیر پھر کہ اپنوں ہی کو دے!!!

زویا قادری، ان گنے چنے سرپھروں میں سے ایک نام ہے جو تاریخ کے ایوانوں میں دفن حال کو دریافت کرنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ جن کے لئے گلاس آدھا خالی نہیں ، آدھا بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ مثبت سوچ کے حامل لوگ ۔۔۔ جن سے اگر لوح و قلم چھین بھی لئے جائیں تو وہ ہر حلقہ زنجیر میں زباں رکھنے کا فن جانتے ہیں۔

پوسٹ یہاں پڑھی اور تبصرہ کہیں اور؟ شرم کر

ابتک تبصرہ جات 21

عثمان سہیل
 1 

اعلٰی بہت اعلی۔ میرا گمان یہ ہے موصوف کو انکی اعلٰی قسم کی مذاحیہ تقاریر کے صلہ میں پی ایچ ڈی سے نوازا گیا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 21, 2014 بوقت 11:58 صبح
حسان
 2 

میر

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 21, 2014 بوقت 4:24 شام
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان
 3 

ڈگری میاں صاحب کا مسئلہ نہیں تھی بلکہ پروموشن کے امیدوار وائس چانسلر کی پھرتیاں ہیں یہ۔ میاں صاحب کاروباری آدمی ہیں اور وہ صرف وہ کاغذ رکھتے ہیں جو سرکاری ٹکسال سے نکلا ہو اور اس پر ہندسے درج ہوں۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے، یہ کاغذ بٹوے کے اندر آنے والے سائز کا ہوتا ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 22, 2014 بوقت 1:47 صبح
 4 

پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگریاں انکو دی جاتی ہیں جنہوں باوجود عام سی تعلیم کے کسی خاص شعبہ میں آؤٹ آف دی باکس جا کر مسائل کو حل کیا ہو یا کوئی بھی ایسا کام کیا ہو جن سے ایک عام آدمی مثبت انداز میں متاثر ہوا ہو۔ مگر کیا کریں ہمارے یہاں چیزیں الٹی ہیں۔ ہمارے یہاں اعزازی ڈگری عام آدمی کی زندگی مشکل بنانے پر دی جاتی ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان
جنوری 22nd, 2014 بوقت 3:37 شام

@جواد احمد خان, عرض ہے کہ آپ سر نیچے پاؤں اوپر کرکے الٹے کھڑے ہوکر دیکھیں تو یہ چیزیں آپ کو سیدھی نظر آئیں گی۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 22, 2014 بوقت 3:46 صبح
 5 

زبر دست جناب ! آپ نے لوٹے میں پورا ڈیم بند کر دیا ہے۔ اگرچہ ہمیں آجکل ڈیموں کی اشد ضرورت ہے تاہم ان کی غیر موجودگی میں ہم لوٹوں پر ہی گزارہ کر رہے ہیں۔
خیر چھوڑیے ان باتوں کو آپ کا سوال بہت اہم ہے کہ رحمان ملک کو اگر سورۃ اخلاص نہ سنا سکنے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی تھی تو نواز شریف صاحب کی کوالیفکیشن کیا ہے؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نعمان ستار
جنوری 25 , 2014 بوقت 5:53 شام

@مہتاب عزیز, بھائی سارا ملک لا حول پڑھ رہا ہے حکومتی کارناموں پر اور آپ کوالیفیکیشن پوچھ رہے ہیں؟ بوری تیار کروانی ہے کیا؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 22, 2014 بوقت 11:47 صبح
سکندر حیات بابا
 6 

بہت اچھی تحریر

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 22, 2014 بوقت 12:07 شام
Aurangzeb , Mahwish
 7 

مزے کی بات یہ ہے کہ جس ملک سوئم کے چنوں کی طرح یہ ریوڑیاں بانٹیں جا رہی ہیں اسی ملک میں سالوں لگ جاتے اس بحث میں کہ بندہ شہید ہے کہ اس کو کتے کی موت ڈکلیئراا جائے.
اے میں تو تیرے کو اپنی ڈاکٹری والی ڈگری دے ڈالوں اتتی کهوفصورت بات پر.
میرے مرنے کے بعد پوری کی پوری تیری، لیکن اس پر بهی لوگ اب تیڑهی تیڑهی نجروں سے دیکهے ہیں کہ نالج والی ہے ہا …

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 22, 2014 بوقت 3:48 شام
ظہیر اشرف
 8 

سنتے ہیں “غیر اعزازی ڈگریاں” بھی ارزاں نرخوں پر دستیاب ہیں اور آپ نے اعزازی ڈگریوں پہ کھپ ڈالی ہوئی ہے ۔
اعزازی ڈگری پر تو بس اتنا ہی فخر کیا جا سکتا ہے جتنا میرا اپنی انگریزی پر کر سکتی ہے اور اس پر بات بھی بس اسی قدر ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 22, 2014 بوقت 7:42 شام
ام عروبہ
 9 

السلام علیکم
واہ ڈگری اور ریوڑی کا زنانہ پن تو خوب نوٹس کیا آپ نے. بلی کو خواب میں چھیچڑے: )
مگر ایک بات کہوں یہ خالص زنانہ ہر گز نہیں. اگرچہ دونوں الفاظ مؤنث ہیں. اگر یہ خالص زنانہ ہوتے تو مرد ان سے دور ہی رہتے جیسے چوڑی اور لپ سٹک سے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

زویا قادری
جنوری 26 , 2014 بوقت 11:55 شام

@ام عروبہ, وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔
یہ کس ذمانے کا ذکر ہے کہ مرد چوڑی اور لپ اسٹک سے دور رہتے ہیں عزیزم؟ شاید آپ میل سلون سے ناواقف ہیں اور رہی بات چوڑیوں کی تو ۔ ۔ ۔ آہم آہم !!!!!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 22, 2014 بوقت 9:06 شام
Asim Qadri
 10 

زویا قادری، ان گنے چنے سرپھروں میں سے ایک نام ہے …

is baat per PhD ki aik aur definition yad aagaye .. PhD= Phira howa dimag

Mian sb aur Malik sb jeson per to ye bat sadiq aati hai .. Zoya Qadri ke apne barey main ?? ye waqt aney per pata chaley ga ! 🙂

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 23, 2014 بوقت 1:33 صبح
سید فیاض علی
 11 

اچھا لکھا ہے۔ ڈگریاں، نوکریاں اور وزارتیں اس ملکِ پاکستان میں ریوڑیوں کی طرح بٹتی ہیں۔ وہ بھی صرف اپنوں میں۔ ہمارے جیسے تو ان کا بس نام ہی سنتے ہیں۔ اچھی کاوش ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 23, 2014 بوقت 10:47 صبح
 12 

اچھے وقتوں میں ہمارے استاد نے بہت سی بڑی بڑی دلیلیں اور آگے گندی گندی گالیاں دے کر سمجھا دیا تھا بچہ پی ایچ ڈی کرنی ہے تو پاکستان سے نہ کرنا ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نعمان ستار
جنوری 25 , 2014 بوقت 5:55 شام

@ناصر, واہ جی؛ آپ کے استاد محترم مستقبل پڑھ سکتے تھے!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 24, 2014 بوقت 12:03 شام
زویا قادری
 13 

سنا ہے دن کے چھٹتے چھٹتے ایک اور سیاسی اداکار کو اس اعزاز سے نوازا گیا ہے، موصوف اسم بااسمی ،خورشید صاحب۔ لو جی اب خورشید بھی اندھیرے بانٹے گا تو اجالے کہاں سے لائیں گے ؟؟؟؟ :'(

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 26, 2014 بوقت 11:48 شام
عثمانی
 14 

نکاح مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
معزز سامعیں اور صد ر محفل ھذا۔ میرا آج کا عنوان ہے نکاح مرد مومن سے بدل جا تی ہیں تقدیریں۔۔
ہر کنوارے کو اپنی شادی کے
خواب کتنے سہانے لگتے ہیں
شادی کے بعد فورا ہی
مسئلے سر اٹھانے لگتے ہیں
جیسے زلزل کے فورا بعد
آفٹر شاکس آنے لگتے ہیں
معزز سامعین ہمارے اوپر کسی بھوت کا سایہ پڑ گیا یا کسی نے کالا جادو کر دیا ۔حقیقت کچھ بھی ہو ہم نے بھی کنوارے پن سے چھٹکارا حاصل کرنے کے کے لیے جاں جوکھوں میں ڈال کر ایک عدد خوبرو،حسیں دو شیزہ کے چکر میں گھر سے نکل پڑے۔ہم نے سوچا ملنے سے خدا مل جاتا ہے بیوی ڈحوڈنا کو نسی مشکل بات ہے۔۔حکیم حاذق کا بورڈ لگا دیکھ کر اس سے دریافت کیا کہ بیوی کیسی ہو؟آپ حکیم ہو اس لیے دست بستہ عرض ہے حکمت کی روشنی اس پر ڈالو۔تو حکیم صاحب نے مشورہ دیا کہ محبت کرو عشق کرو۔۔۔ہم نے اس کی اگلی بات ہی نہ سنی باہر آگئے۔ہم نے ایک عدد رفیقہ حیات کے لئے بھاگ دوڑ کی۔۔بیوی تو ملی کیسی ملی یہ ایک الگ داستاں۔۔۔لیکن محبت کی شادی سے گھریلو مسائل تو حل نہ ہوئے۔البتہ گھویلو وسائل ضرور معدوم ہوتے چلے گئے۔۔۔ملاحظہ کریں
جب محبت حال پر اپنے کرم فرما گئی
عاشقی قید شریعت میں جب اپنی آگئی
کثرت اولاد کے جلوے ستم ڈھا نے لگے
ہم میاں بیوی قریب آنے سے کترانے لگے
اس قدر بچے بڑھے رومان چوپٹ ہو گیا
اس طرف کمرا ادھر دالان چوپٹ ہو گیا
یوں بڑھی بچوں کی پیدائش کہ ہم رونے لگے
سال پیچھے ایک ہوتے ہوتے دو ہونے لگے
اور بیوی کی پریشانی نے ہمیں وقت سے پہلے بوڑھا بنا دیا۔۔بازار میں ہم جانے سے گھبرانے لگے۔۔ایک دفعہ بیوی کے ہمراہ شاپنگ کے لئے گئے تو ایک دو شیزہ نے بھری بزم میں چچا کہ کر ہمارا بھرم توڑ دیا تو مجھےبے ساختہ علم عروض کا ہنر آزمانے کا موقع مل گیا
مجھ کو تم سے یہ نہ تھی ہر گز امید
تم نے ایسا کہ دیا یہ کیا کیا
میرے سارے خواب چوپٹ کر دیے
مجھے چچا کہ د یا یہ کیا کیا
سامعین اب ہم گھر میں ہم خانساماں میں تبدیل ہو گئے۔۔کبھی اپنے کپڑے نہیں دھوئے تھے۔۔اب بیوی کے کپڑوں کے ساتھ بچوں کے کپڑے دھونے لگے۔۔۔۔میں بھاگم بھاگ اس حکیم کے پاس گیا تو حکیم مجھے دیکھ کر کر رفو چکر ہونے لگا۔۔میں نے اسے دبوچ لیا۔۔اس نے بلا تمہید مجھے کہا اس میں میرا کیا قصور ہے ۔تم نے پوری بات نہیں سنی تھی۔۔میں اس کے آگے کہنا چاہتا تھا ۔۔کہ خود کشی کر لیتے شادی نہ کرتے۔۔میرا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔۔میں اس کے سامنے گڑ گڑایا کہ اب مجھے اس سے بچاؤ کی تدبیر بتاؤ۔۔حکیم نے کہا کہ پہلے تم ود رکعت صلوت الحاجت پڑھتے تھے۔۔۔اب صلوت التوبہ پڑھا کرو۔۔مجھے لگتا ہے کہ تمہاری بیوی یا ایوب کی گرویدہ،یا مشرف کی سوچوں کی پیدوار ہے،یہ بھی ہو سکتا ہے وہ ممنون کی جمہوری اقداروں پر یقیں نہ رکھتی ہو۔۔میں نے کہا جناب مشرف کی سوچوں کی پیدوار کا تو پتہ نہیں ہے لیکن وہ ہے بھورل ملنگ کی پیدوار ہے۔۔۔
اب صبح شام ڈرون اٹیک کا سا منا کرنا پڑتا ہے۔۔کبھی ہمسائی کو دیکھنے پر۔۔کبھی دکھی غزلیں لکھنے پر۔۔کبھی ایڈوانس تعزیتی مرثہ لکھنے پر۔۔ہم اتنے بری طرح پھنس گئے ۔۔جس سے راہ فرار کی تمام راہیں مسدود ہو گئیں ۔۔میڈیا نے کبھی ہمارے متعلق احتجاج نہیں کیا۔۔ہمیں میڈیا مسلسل نظر انداز کر کے جانبداری کا ثبوت دیا۔۔ہماری داد رسی نہ ہوئی تو ہم عمران خان کی طرح انجمن مظلومان شوہر کی داغ بیل ڈالتے ہوئے بیوٹی پارلر کو جانے والے سارے راستے بلاک کردیں گے۔
اس پر حکومت کے ساتھ ساتھ بیگمات کو اس پر سوچنا ہو گا۔۔اتنے برے مقدر خدا کسی کو نہ دے جو ہمیں ملے ۔میری مراد تمام وہ نا مراد شوہر ہیں جن کی بیویاں راہ عدم کا راستہ نہ اپنا رہی ہوں۔مجبور شوہرو نہ گھبراؤ صبح قریب ہے۔ نوید سحر میں آپ کو دیتا چلوں باقی میرے ساتھ تو آج کل یہ معملات چل رہے ہیں ۔جس کو آپ شاید سننے کی آب تاب نہ رکھ سکیں گے۔۔کیونک جس کو بھی میں نے اپنا حال دل سنایا وہ ہم سے بھی زیادہ تیغ کشتہ ستم نکلتےاور وہ جب کاہ کر اپنا حال سناتے تو ہمیں مجبور ان کے ساتھ دلی ہمدردی جتا نا پڑتی۔۔مجھے فکر ہوئی کہ اپنے جگری دوست کے ساتھ اس پر بحث کروں شاید وہ مرہم رکھ دے یا مدوا دکھ کے لیے دو بول تسلی کے بول سکے ۔لیکن اس کی داستان حزیں ہم سے ذیادہ دکھی تھی
موجودہ صورت حال یہ ہے
ایک نے دوسرے سے کہا
میری بیوی گزرے شوہر کا ذکر تی ہے
دوسرے نے کہا کہ شکر کو
پیچھلےشوہر کا ذکر کرتی ہے
میری بیوی تو گھر میں روزانہ
اگلے شوہر کا ذکر کرتی ہے۔

(یونیورسٹی میں کی گئی مزاھیہ تقریر جسں نے پہلا انعام جیتا)

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 19, 2014 بوقت 8:18 صبح
عثمانی
 15 

مزاحیہ تقر یرر
لڑکی نہیں ملتی شادی کے لیے
ہم سے منگائی مہندی اوربیاہ اس سے کر لیا
اس شوخ نے دکھائے ہیں شادی رچا کے ہاتھ
صاحب صدر! آج کا موضوع سخن ہے!لڑکی نہیں ملتی شادی کے لئے۔۔۔جناب والا یہ میرا نہیں ہر کالے کلوٹے کا مسئلہ ہے۔۔پیدائش سے ہم بد شکل اور بدصورت واقعہ ہوئے تھے۔۔ہماری پیدائش کے وقت سے لے کر چالیس دن تک استغفار کا ورد کیا جاتا رہا کہ یہ آسمانی آفت ہےیا اس محلے پر کوئی خصوصی عذاب۔۔۔۔جناب والا رنگت اتنی سیاہ کہ منہ کھولیں تو پتہ چلے کہ سر اور منہ کہاں ہے۔۔اذیت یہ نہیں تھی مصیبت یہ بھی تھی کہ بونے واقعہ ہوئے تھے
صدر ذی وقار!ہم جواں ہوئے تو ضرروت رشتہ کا اشتہار لے کرمیرج بیورو سینٹر سے جواب ندارد۔۔تو اخبار میں اشتہار لگوایا۔۔۔۔۔ایک نو عمر سید زادہ،،نیک چلن اورسادہ،سینہ کشادہ،لمباکم اور پست زیادہ،گورابدن،شیریں دہن،گھنگریالے بال،آسودہ حال،لازوال،باکمال،بلندخیال حسن دلدادہ،شادی پر آمادہ۔زات پات سے انکاری،اپنی سواری۔خوبصورت جواں ،اعلی خاندان،عرصہ سے پریشاں حال کے لیے۔۔۔۔۔ایک حسینہ کنواری،مثل حور،چشم مخمور،چہرہ پرنور،باتمیزاورباشعور،شباب میں چور،صوم وصلوتکی پابند،کم عمرو صحت مند،باہنر اور سلیقہ مند،کم گفتار،باکردار،مکرو فریب سے آری،دیکھنے میں پیاری،با اد ب و با حیاء،سراپامہرو وفا،نہ شوقین سرخی و کریم،معمولی تعلیم۔مہ جبیں، بے حد حسیں،پردہ نشیں،راضی بہ عقد،بونا سا قد،آہستہ خرام،شائستہ کلام،پیاراسا نام،جس میں ہو لام،عجوبہ کائنات،رفیقہ حیات،درکار ہے۔جس کے بغیر زندگی بیکار ہے!مسہری یا چارپائی،روئی بھری رضائی،چند زیور طلا ئی،کچھ کرسیاں اور میز، بس اس قدر جہیز لڑکا گو اناڑی ہے مگر کا روباری ہے۔۔ایک چھوٹی سی دوکان،منہ میں زبان اور دل میں طوفان رکھتاہے۔،مزیدبات چیت بالمشافہ یا بزریعہ لفا فہ ۔خط وکتابت پابندی صغیہ رازاور یہی ہے شریفوں کا انداز
ہم نےصرف پرنٹ میڈیا کا نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی یہ اشتہار دیا۔۔ساتھ ہی انفرادی کوشش جاری رکھی ۔۔لیکن یہ جان جوکھوں کا کام تھا۔۔ہم اور بڑے برخودار روزانہ صبح سویرے نکلتے۔۔گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے رہے۔۔دربد ر خاک چھاننے کا فائدہ نہ ہو سکا۔۔جہاں بھی جاتے وہ لڑکی خود کشی کر لیتی۔۔اگر لڑک حوصلہ باندھ لیتی تو اس کے ماں باپ کو دل کا اٹیک ہو جا تا۔۔اگر اس صورت حال سے خلاصی ہوتی تو محلے والے مل کر پٹائی کرتے کہ ہماری چاند جیسی لڑکی اس منحوس کو دینا چاہتے ہو۔۔۔
ہم نے سوچا یوں نہ سہی تو کسی خوبرو کا چہرہ دیکھنے میں حرج کیا ہے ۔۔ہمارے برخودار کو اگرچہ ہمارے مشن کا تو پتہ نہ تھا۔۔البتہ آخری مار بھلانے کے لئے وہ ہر گز تیا ر نہ تھے۔۔لیکن بھائی ہونے کے ناطے ایک ہمارا ساتھ دیا اور ہمارا حق ضبط کر لیا۔۔جس کو ہم تاڑ رہے تھے مستقبل کے لیے وہ بھی اس پر فدا ہو گئے
چندو،جوزف،عاف اور کرتار پاگل ہو گئے
پیار سے جب اس نے دیکھا چار پاگل ہو گئے
میں بھی اس کے عشق میں پاگل ابھی ہو نے کو تھا
مجھ سے پہلے میرے بر خودار پاگل ہو گئے
اگرچہ اس واقعے سے ہم خآصے برہم ہوئے لیکن ایک چانس دیا اسے اب ہم اکیلے اس دشت ویراں میں گھوم رہے ہیں یہ سوچ کر کے کہ ایک دن قسمت ہمارا ساتھ دے گی۔۔طعنہ اغیار سے اپنی پامال سا کھ کو بچائیں گے۔۔اور کوئی رفیقہ حیات مل ہی جائے گی ۔۔وگرنہ ہم کا لے اوباما سے کہیں گے کہ وہ ڈرون اٹیک کا رخ گوروں پر موڑ کر اور ایک کیری لوگر بل اسمبلی میں لاکر کا لوں کے اندر بڑھتا ہوا احساس ندامت بہ سلسلہ بیاہ میں روکاٹ زیر بحث لا کر ہمارا مسئلہ اپنی باریکی بینی سے حل کریں گے۔۔۔
آپ سے التماس ہے کہ ضرورت رشتہ کا لکھا ہوا پمفلٹ پھیلا کر میری شادی بیاہ میں معاون ثا بت ہوں۔۔۔۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عثمانی
فروری 19 , 2014 بوقت 9:29 صبح

@عثمانی, ک

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 19, 2014 بوقت 8:22 صبح
 16 

ک

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 19, 2014 بوقت 9:29 صبح

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog