Google
15
Nov

ہمارے فیس بکی شاعر

بھیجا ہے  ڈفر نے آ لو پیاز, گندے انڈے میں

2,788 بار دیکھا گیا


سوشل میڈیائی بچیوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف بچی کا جب پپی بھی نہ لے سکتا ہو
فیس بک سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسی پروفائل جس پر ہزار فالوؤر بھی فدا ہوں
آزاد ٹویٹنگ سے ہوں، فیورٹ کرکے دن گزاروں
صبح شام ٹویٹنے کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو
ہو دلفریب ایسا ان باکس کا نظارہ
اٹھ اٹھ کے گھڑی گھڑی میسج کو دیکھتا ہوں
دیکھ کے سڑنے والے بند کر دیں اکاؤنٹ جس دم
امید انکی میرا بے عزت ہوتا ہوا اکاؤنٹ ہو
ہر ٹھرکی دل کو رونا میرا رلا دے
بچیوں کے پیچھے جو پڑے ہیں شاید انہیں تھکا دے

جناب میڈم ، آنٹیان گرام، میری پیاری پیاری سہیلیو اور ان کے بھائیو!

السلام علیکم

آج یوم پیدائش ڈفر ڈالؔ کے سلسلے میں منعقدہ اس پروقار تقریری مقابلے کے لئے میں نے جو موضوع چنا ہے وہ ہے ”ڈاکٹر، میرا مطلب ہے کمپوڈر لامہ ڈفر ڈؔ بحیثیت ہمارے فیس بکی شاعر“۔ ڈفر ڈالؔ ہمارے فیس بکی شاعر، دریں چہ شک۔ لیکن بات صرف اتنا کہنے سے ہی نہیں بن جاتی۔ ہم فیس بکی اور ٹویٹری تبصروں سے ثابت کر سکتے ہیں کہ ڈفرؔ ہمارے فیس بکی شاعر ہیں اور ایسا کہنا ہرگز بے جا نہیں۔ لیکن ان بےعقلی و کتابی (بُکی، کرکٹ والا نہیں فیس بک والا) دلائل کو جانچنے سے پہلے سب سے پہلی بات جو توجہ طلب اور قابل وضاحت ہے وہ یہ کہ لفظ ”بچی“ سے ہمارا کیا مطلب ہے۔ کیونکہ جونہی لفظ بچی ذہن میں آتا ہے تو عام طور پر ایک ننھی منی گڑیا کو بچی کہا جاتا ہے۔ لیکن ڈفرؔ نے تمام اخلاقی حدود و قیود سے بالاتر ہو کر بچی کا تصور ہی کچھ اور دیا ہے اور وہ ہے


کھلتا کسی پہ کیوں بچی کا معاملہ
فیس بکیوں نے بدنام کیا مجھے

بچی کے تصور کو لامہؔ نے ایک جگہ اور اس طرح بیان کیا ہے

نہ تو مُنی کے ليے ہے نہ سیمی کے ليے
بچی ہے تيرے ليے، تو نہيں بچی کے ليے

ساتھ ہی مغربی فلسفے سے جو ٹھرک اور بچیت کا تصور ہم نے بھی اپنا لیا ہے اس کے بارے میں فرماتے ہیں

بچی کھڑی سٹاپ پہ سیٹی بجا کے چھیڑ دو
اگر نمبر نہ دے تو باجی کہہ کے چھوڑ دو

آپ نے بچیوں کو خواب غفلت سے جگانے کے لئے کئی لازوال اشعار کہے جن کو آج بھی تھرڈ کلاس عاشق عید کارڈوں اور لَو لیٹروں کی زینت بناتے ہیں، ایسی ہی چند شہرہ آفاق غزلوں میں سے ایک

فیس بک پہ تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو ٹویٹر پہ بھی میری جانمو تمہیں چاہوں گا
بچیاں گنی ہیں تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
یہ شوشل میڈیا محبت کے لیے تھوڑا ہے
اک ذرا سا بلاگروں کا بھی حق ہے جس پر مزید پڑھیں

لامہ ڈالؔ کی تمام تر شاعری فیس بکیوں کو بچی نیس کی تلقین کرتی ہے، انہوں نے ٹھرکیوں کو اپنے درخشاں ماضی کی یاد دلا کر نشاط ثانیہ (بھابی نہیں) کے لئے تیار کرنے کا کام شروع کیا اور کچھ اس طرح سے اپنی مستقل مزاجی اور ڈھٹائی کی منظرکشی کی ہے

بوتھے پہ اک پنجہ بے مثال کی تمثیل کے لیے
آنٹیوں سے بھی چپیڑیں کھاتا رہا ہوں میں
اور

کو بہ کو پھیل گئی بات ٹھکائی کی
اس نےچھتر سے میری پٹائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے پیٹ دیا اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے ڈھٹائی کی
وہ کہیں بھی گیا رونے کو میرے پاس آیا
بس یہی بات بڑی اچھی میری ہمسائی کی
ترا سینڈل بھی ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب لِترائی کی
اس نے جلتے ہوئے زخم پہ جو ہاتھ رکھا
تشریف تک آگئی تاثیر مسیحائی کی

اپنے شاندار ماضی کو بیان کرتے ہوئے لامہؔ اکثر ”نم“ اشعار کہا کرتے تھے

میری قسمت میں بچیاں گر اتنی تھیں
دِل بھی یارب ! کئی دئیے ہوتے !!

لگے ہیں بچیوں پر پہرے زمانے کی نگاہوں کے
جنہیں ٹھرکنے کی حسرت ہے وہ بابے کہاں جائیں

نوجوان نسل کو نصیحت کرتے ہوئے لامہ ڈفرؔ نے کئی خون گرما دینے والے کشتے نما اشعار کہے، جیسا کہ

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز بچیوں سے، وہ گھبرایا نہیں کرتے

ہو حلقہ بچیاں تو بریشم کی طرح نرم
میسجِ فیسبک و ٹویٹر ہو تو کمینہ ہے ٹھرکی

لیکن آپ نے اپنے اس بے حیا مقصد میں منہ کی کھائی، اور اس ناکامی اور مایوسی کو اپنے ہی اشعار میں یوں تسلیم کیا

تعجب ہے! کہ عشق و عاشقی میں اب بھی
کچھ لوگ بچی کے بھائیوں سے مار کھاتے ہیں

لامہ ڈالؔ کو علاقائی، وطنی ، لسانی یا کسی رنگ و نسل کے افراد کا شاعر کہنا درجہء ڈال کی تکذیب ہے کیونکہ ڈفرؔ ہر ٹھرکی کے شاعر ہیں۔ خواہ وہ ٹھرکی اپنی سکونت کے لحاظ سے مڈل ایسٹی و فلپینی ہی کیوں نہ ہو

انداز بیاں گرچہ بہت بلاگری نہیں لیکن
شائد کہ تیری وال پہ اتر جائے میری پوسٹ

تجھے قسم ہے تیرے لیپ ٹاپ کی اگر تو نے نہ کمنٹا تو

ابتک تبصرہ جات 15

 1 

بہت اعلیٰ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 16, 2013 بوقت 8:14 صبح
 2 

لامہ ڈفر ڈال نہیں میر ٹھرکی میر کر لیں، زیادہ جچے گا۔ :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 16, 2013 بوقت 10:29 صبح
ًسلطان حیات
 3 

جناب میڈم ، آنٹیان گرام، میری پیاری پیاری سہیلیو اور ان کے بھائیو! 😆 😆 😆 😆 😆 😆

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 16, 2013 بوقت 11:47 صبح
ابوعبداللہ
 4 

اب لوگ آپ کو ٹھرک اوپر والا درجہ دیتے ہیں اس لیے آپ بھی اوپر والی پوسٹیں لکھیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 16, 2013 بوقت 2:12 شام
 5 

ہاہاہاہاہاہا۔
یار وہ جس پپو برف والا، ٹیپو کھوئے والا ہوتا ہے، اسی طرح آپ کو لوگوں نے ڈفر بچیاں آلا کے نام سے یاد کیا کرنا :ڈ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 16, 2013 بوقت 7:39 شام
قریشی
 6 

nice one.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 17, 2013 بوقت 10:57 صبح
 7 

ویاہ سے پہلے بچی یا بچیوں کی خواہش سے بہتر ہے کہ ویاہ کے بعد بچیوں کو خواہش کریں۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 17, 2013 بوقت 1:04 شام
ثوبیہ
 8 

mazeed irshad farmaeay….ke dil abhi bhara nhi

اسے ذرا جوابیں تو سہی

نومبر 21, 2013 بوقت 12:55 شام
 9 

اور میں تو فیس بک ،ٹویٹر پر ہی کیا یو ٹیوب پر بھی آپ کو پیار کروں گا ڈفر جی 😳

اسے ذرا جوابیں تو سہی

دسمبر 3, 2013 بوقت 8:08 صبح
 10 

کیسے کہہ دوں کہ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیا اس نے
!
بات تو سچ ہے مگر بات ہے ڈھٹائی کی

بہت ہی اعلیٰ بھائی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگے رہو شائد کبھی سنی جائے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

دسمبر 3, 2013 بوقت 10:22 صبح
 11 

آپ کی ان گراں قدر خدمات پر آپ کو ٹھرکیالوجی میں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی جاتی ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

دسمبر 3, 2013 بوقت 3:16 شام
 12 

کمال لکھا بھیا ۔ ۔ ۔ پوزیٹیو سائیڈ کے لئے اپنی صلاحیت یوز کریں تو کیا ہی دل لگے ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

دسمبر 4, 2013 بوقت 10:35 شام
 13 

مار ڈالا 👿

اسے ذرا جوابیں تو سہی

دسمبر 6, 2013 بوقت 7:33 شام
رضی اللہ خان
 14 

ٹھرک قائم ربط فیک بک سے ہے ورنہ کچھ نہیں،

بچیانہ آی ڈی ہے شوشل میڈیئے پہ اور بیرون شوشل میڈیا کچھ بھی نہیں،

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 17, 2014 بوقت 9:41 شام
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان
 15 

جب بات یہاں تک پہنچی کہ:

تشریف تک آگئی تاثیر مسیحائی کی

تو سوال یہ ہے کہ:

تم نے آخر کیوں اسے اپنی تشریف کی پکڑائی دی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جنوری 22, 2014 بوقت 3:45 شام

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog