Google
20
Aug

ایک بات

بھیجا ہے  ڈفر نے مہمان خانہ میں

16,085 بار دیکھا گیا

مہمان لکھاری زویا

سوچ کاعمل کسی فکر کا عکاس ہوتا ہے۔ اور  یہ فکر کسی بات کے پہلو سے سرکتی ہوئی نکلتی ہے۔سو  ملبہ گرتا ہے سارا بات پر ، بات نکلے تو پھر دووووووووور تلک جاتی ہے۔ اب یہ بات کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔ چاہے تو اوباما کی، چاہے تو اسامہ کی! !

وہ کیا ہے کہ ملا نصیر الدین سے لوگوں نے پوچھا کہ ملا نصیر الدین یہ تو بتایئے کہ جنازے کے آگے آگے چلنا چاہیے یا جنازے کے پیچھے پیچھے یا دائیں بائیں۔ملا نے فرمایا:”بھئی، بس جنازے کے تابوت کے اندر مت ہوں، چاہے آگے چلیں یا پیچھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا“۔
بس جناب، یہ ہوتے مختلف انداز محترمہ بات کے!! اب ذرا عالم دیکھئے شوق کا کہ مغربی دنیا نے ایک عالم کی “صرف باتیں” ریکارڈ کرنے پر الگ فوج بٹھادی ہے۔ گو کہ رفتہ رفتہ ہمیں بھی اندازہ ہوا جارہا ہے کہ ان “باتوں” کا وزن، ترازو کے “باٹوں” کے مقابلے میں کئی گنا ہے۔ ہماری سوچ پر چار حرف بھجیے۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں باٹوں کی جگہ باتوں کے تول کے عوض چیزیں بکیں۔

خیر ہماری تمہید اور طول شب فراق میں کچھ فرق ہونا چاہیئے۔ قصہ مختصر پچھلے دنوں رمضان کا بڑا متبرک مہینہ گذرا ہے۔ ہمارے لیئے بے شک رحمت رہا ہو لیکن بھائی شیطان کے لیے تو بڑا کڑا وقت تھا۔ اب اللہ میاں کی جیل سے نکالنے کے لیئے ، اس کوالٹی کے طالبان بھی میسر نہ تھے جو آپریشن کر کے آزاد کروالیتے ۔ ۔ ۔ بہرحال۔ ان عشروں میں تراویح اور روزرں  کے ہمراہ اگر کوئی اور بھی  زوروں پر تھا تو وہ تھے، ڈاکٹر عامر لیاقت!!!

ہماری ان سے بلمشافہ ملاقات کالج کے ان دنوں میں ہوئی تھی جب ہم اردو سوسائٹی کے صدر کی حیثت اسٹوڈنٹ ویک کی میزبانی کررہے تھے۔ اور ہم انھیں اسوقت داد دئیے بغیر نہ رہ سکے تھے جب آرمی کے جوانوں کی روانگی کے بعد، سوتی جاگتی اونگھتی ہوئی لڑکیوں میں ان کے زور خطابت نے جان ڑال دی تھی۔

امان رمضان کا ہم نے صرف ایک ہی شو دیکھا تھا۔ مگر وہ ایک ہی، وہ آیا، اس نے دیکھا اور وہ چھا گیا کے مصداق ذہن کے دریچے اور ہی انداز میں وا کر گیا!

غالبا” پندرہواں روزہ تھا،سوال جواب کے کسی سلسلے کا فائنل راونڈ تھا، شرکاء کا دل شاید چہرے پر دھڑک رہا تھا۔ شاید ان میں سے کوئی رات بھر سویا  بھی نہ ہو، شاید ان میں سے کسی نے پچھلے کچھ دن صرف تیاری میں صرف کئے ہوں، شاید ان میں سے کوئی اسوقت بھی قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئے ایک پاتھ کی لرزش دوسرے سے دبا رہا ہو ۔ ۔ ۔ شاید کہ۔ ۔ ۔ ۔شاید کہ ۔ ۔ ۔

اسکرین کے اس پار بیٹھے ہوئے ہمیں اسوقت بڑا گراں گزرا جب ایک ٹیم کے نمبر قاعدے کے مطابق دوسری ٹیم کے شریک نے دھڑلے سے مانگ لیے۔ سلسلہ جاری تھا اور پانسا پلٹ چکا تھا، کل کے فاتح آج نمبروں کی تقسیم کے بعد بے دست و پا تھے! ٹیم ون مقابلہ ہار چکی تھی اور جن کے اکاؤنٹ میں کل تک گزارے لائق ہی کچھ تھا وہ راونڈ جیت چکے تھے!!!!!

بات گو کچھ نہیں تھی لیکن بات تھی کہ بغیر طاقت پرواز کے  بھی اثر کر گی۔ بچپن سے مولوی صاحب سے لیکر اساتذہ نے بہتیرا سمجھایا کہ غیبت گناہ ہے، نیکیاں دوسروں کے اکاؤنٹ میں پیسوں سے بھی جلدی ٹرانسفر ہو جاتی ہیں۔ سنا ہے کہ پچھلے وقتوں کے امام اپنی غیبت کرنے والے کو کھجوروں کی ٹوکری شکریے میں بھجوایا کرتے تھے کہ جو آپ سے ملا ہے اس کے عوض یہ کھجوریں تو کچھ بھی نہیں! لیکن کبھی ان باتوں درخود اعتنا نہ جانا۔ سنی ان سنی کرگئے۔ مگر تب سے لیکر اب تک ۔ ۔ ۔ ۔

محسوس ہورہا ہے کہ حشر برپا ہے، رب العالمین روبرو ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے نیک نمبر ان سب کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر میں ہورہے ہیں جن کی دنیا میں پیٹھ پیچھے بیت برائیاں کی تھیں۔ چشم زدن میں ہمارا کاسہ خالی ہوگیا!  رب نے بڑے پیار سے فرمایا:” گناہ تو ہماری رحمت کے عوض سب ہی معاف ہو گئے لیکن نیکیاں آپ غیبتوں کے عوض گنوا چکے ہیں لہذا خلد میں وہ مقام جس کی آپ مستحق تھے، نمبر کم ہونے کی صورت میں فلاں فلاں کو دیا جارہا ہے۔”

غبار آلود، دھواں دھواں چہرہ لیے ہمارے پس کچھ بھی تو نہیں ۔ وہ دنیا میں کی گئی ریاضت کا عشر عشیر بھی نہیں۔ جگہ جگہ ریڈ کراس؟؟؟؟ صرف دنیا میں کی گئی غیبتوں کے عوض ؟؟؟ یہ کوئی اتنا بڑا گناہ تو نہیں ! نہیں ہے نا ؟؟ آپ بتائیں نا !!!

زویا قادری، ان گنے چنے سرپھروں میں سے ایک نام ہے جو تاریخ کے ایوانوں میں دفن حال کو دریافت کرنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ جن کے لئے گلاس آدھا خالی نہیں ، آدھا بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ مثبت سوچ کے حامل لوگ ۔۔۔ جن سے اگر لوح و قلم چھین بھی لئے جائیں تو وہ ہر حلقہ زنجیر میں زباں رکھنے کا فن جانتے ہیں۔

تجھے قسم ہے تیرے لیپ ٹاپ کی اگر تو نے نہ کمنٹا تو

ابتک تبصرہ جات 15

 1 

تو۔۔۔!!!؟؟؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 20, 2013 بوقت 4:32 شام
عامر
 2 

بکواس 😆

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 20, 2013 بوقت 5:33 شام
عمروعیار
 3 

بےکار

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 24, 2013 بوقت 1:42 صبح
ام عروبہ
 4 

السلام علیکم
ماشاءاللہ آپ نے غیبت کرنے سے توبہ کر لی،یا اسکی شدت کا حساس ہی کر لیا، بہت بڑی بات ہے- اللہ آپ کو ثابت قدم رکھے آمین-
اور وہ بھی عامر لیاقت کے پرگرام سے—— اس پر مجھے ایک بات یاد آئ جو اشفاق احمد نے کہی تھی کہ،” ہر بات سیکھنے والے کے جزبے پر ہوتی ہے ، سیکھنے والے جھوٹے مرشد سے بھی عرفان حاصل کر لیتے ہیں”
آج اشفاق احمد(اللہ انکو جنت نصیب کرے آمین) کی بات کی عملی تصویر دیکھ لی 🙂

اسے ذرا جوابیں تو سہی

زویا
ستمبر 3rd, 2013 بوقت 9:09 شام

@ام عروبہ, شکریہ عروبہ۔
میری بھرپور کوشش جاری ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 24, 2013 بوقت 2:44 صبح
 5 

اچھا!!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 25, 2013 بوقت 9:44 شام
 6 

معاف کیجئے گا ۔ ہر بات اپنے مقام پر اچھی لگتی ہے۔

بات آپ نے چاہے جتنی بھی اچھی کی، ڈفر کے بلاگ پر کی۔

ساری محنت اکارت کرنے کا پورا منصوبہ بنایا قادری صاحب یا صاحبہ نے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
اگست 26 , 2013 بوقت 10:04 صبح

ڈاٹر صاب آپ کی اس بات پہ ہزار لائیک تو بنتے ہیں 😀

اسے ذرا جوابیں تو سہی

منیر عباسی
اگست 28 , 2013 بوقت 3:21 شام

@ڈفر, نوازش۔

:mrgreen: :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 25, 2013 بوقت 9:57 شام
زویا
 7 

@منیر عباسی, ڈفر کی ویب سائٹ پر معاملہ فریڈم آف اسپیچ کا سا ہے، یہ میرا دوسرا بلاگ ہے یہاں۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

منیر عباسی
ستمبر 27 , 2013 بوقت 9:35 صبح

@زویا,
کس کافر نے آزادیء اظہار رائے پہ قدغن لگانے کی بات کی؟؟

بات بلاگ کی ، موقع محل کی ہو رہی تھی۔

دوبارہ مطالعہ کر لیں میرے تبصرے کا ، پلیز۔ :roll: :roll:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ستمبر 3, 2013 بوقت 9:14 شام
 8 

کسی مہمان لکھاری کی جگہ خالی ہے یا صرف لکھاریہ کی سپیس نکلی تھی

اگر ہے تو بتا دے ۔ سی وی بھیجوں اپنا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
ستمبر 5 , 2013 بوقت 2:22 صبح

سی وی نہیں لکھت سے کام چلے گا :ڈ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ستمبر 4, 2013 بوقت 9:24 شام
 9 

ماشاء اللہ!! بہت اچھی کہانی لکھی ہے آپ نے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ستمبر 8, 2013 بوقت 3:26 شام
 10 

Great post ! and thougt provoking as usual…

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اکتوبر 18, 2013 بوقت 9:14 شام

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog