Google
20
مئی

گندی ذہنیت

بھیجا ہے  ڈفر نے کُچھ نا پُچھ میں

9,752 بار دیکھا گیا

احمد (ایک عربی) ، جلال (ایک ملو انڈین) اور میں (ایک پاکستانی ڈفر)
جلال انڈین اداکاراؤں کی تصاویر دیکھ رہا ہے اور میں اور احمد اس کی پشت پر کھڑے احمد کے نئے ایس فور کو ڈسکس کر رہے ہیں کہ اچانک بات کا رخ مڑتا ہے
احمد: ڈفر تمہیں کونسی ایکٹریس پسند ہے؟
میں: ہر خوبصورت ایکٹریس
احمد: مجھے تو کرینہ پسند ہے، آئی لَو ہر
میں: تم نے اسکی کتنی فلمیں دیکھی ہیں؟
احمد: کوئی بھی نہیں، میں نے اسکی تصویریں دیکھی ہیں
میں: کیا وہ تیرے خوابوں میں آتی ہے؟
احمد: نہیں، لانی پڑتی ہے
میں: پھر تو اسکو آئی لو یو نہیں ہے رے، اسکو لَو نہیں کچھ اور کہتے ہیں
احمد: مجھے پاکستانی عورتیں دکھاؤ، وہ بہت خوبصورت ہوتی ہیں نا
میں: نہیں، بالکل بھی نہیں
احمد: تو پاکستانی خاندانوں میں دس دس بچے کیسے ہوتے ہیں؟
میں: وہاں لوگ ہر چیز اسی کام کے لئے استعمال کرتے ہیں جسکے لئے وہ پیدا کی گئی ہیں :mrgreen:

یار دیکھ تو نے پچھلی دفعہ بھی نی کمنٹ کرا تھا، یہ تو فیر کوئی یاری نہ ہوئی نا

ابتک تبصرہ جات 28

کچھ بھی۔۔
 1 

اب اس پہ بندہ کیا کہے ۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 20 , 2013 بوقت 9:59 شام

@کچھ بھی کہہ لے یار۔۔، گالیاں دے لے بے شک۔ تیرے کہنے واسطے تو میں پوسٹیں لکھوں اور تو کچھ کہتا ای نی 🙁

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 20, 2013 بوقت 11:31 صبح
 2 

یہ تو بڑی غیرتمندانہ پوسٹ ہے۔ فوٹو نہ دکهانے کا اچها بہانہ۔ اور آخری بات میں سچائی سے کون انکاری :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 20 , 2013 بوقت 10:01 شام

@مانی، میں تو انکاری نہیں ہوں :ڈ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 20, 2013 بوقت 11:41 صبح
 3 

یہ ملو کو تو نے اویں ایڈ دیا ہے ادھر 🙂

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 20 , 2013 بوقت 10:01 شام

@ابو عبد اللہ، ملو ہی تو روٹ کاز ہیں اس ٹھرک اور جیلسی کی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 20, 2013 بوقت 12:38 شام
 4 

اس سے زیادہ مبنی بر حقیقت اور سادہ جواب یہ تھا کہ وہاں غربت کی وجہ سےلوگوں کے پاس انٹرٹین منٹ کے مواقع محدود ہیں

چنانچہ جو تفریح مفت اور بسہولت حاصل ہوجاتی ہے وہ بس یہی ایک ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 20 , 2013 بوقت 10:03 شام

@ناصر، نہیں یار میں نے ناپ لیا دونوں جواب ایک جیسے ہی ہیں۔ اوراینٹرٹینمنٹیں پاکستان میں جتنی غریب کے پاس ہیں یہاں کے ارب پتی عربوں کے پاس بھی نہیں۔ سینما میں فلم دیکھ لو، روٹی باہر کھا لو یا “ٹھوک” لو، دیٹس اٹ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 20, 2013 بوقت 4:38 شام
 5 

سوچ تبدیل کرنے کا کیا ہی رومانوی طریقہ ڈھونڈا جناب۔
ایسی سوچ سے لڑنا ہوگا – بائیس مئی کو دھرنا ہوگا۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 20 , 2013 بوقت 10:07 شام

@بے نام، ۲۲ کو کیوں؟ ایام مخصوصہ کا کوئی چکر ہے؟ مطلب ہائی کمان نے تاریخیں اور سٹریٹجی اناؤنس کرنی دھرنے کی 😆 😆

اسے ذرا جوابیں تو سہی

بے نام
مئی 21 , 2013 بوقت 10:11 شام

@ڈفر, یہی تو مصلا ہے پاقصتانی کوم کا۔
اسی شک کی وجہ سے تو دھاندلیاں ہوتیں ہیں۔ دھرنا بوجوہ کینسل کیا جاتا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 21 , 2013 بوقت 11:54 شام

@بے نام، کدھر کینسل یار دھڑا دھڑ چل رے دھرنے تو۔ ویسے بھی آج کل کو الٹروں کے اشتہار آ رے اسکا مطلب ہے وہ الٹرے کسی کام کے نہیں؟

مئی 20, 2013 بوقت 4:43 شام
ضیاء
 6 

انتہائی فحش ۔۔ ہیں لوگ :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 20 , 2013 بوقت 10:08 شام

@ضیاء : کہنے دے جو لوگ کہیں گے لوگوں کا تو کام ہے ”کہنا “ 😉

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 20, 2013 بوقت 4:49 شام
چھوٹا موٹا انجینئر
 7 

😕 آپ کی تحریریں اکثر پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ کمال لکھتے ہیں آپ ۔ بس کبھی کبھار سمجھ نہیں آتی کہ آخر اتنی بھی کیا اخیر ہو گئی کہ لکھنا ضرور ہے جو بھی لکھو :roll: ویسے آئی لائیک اٹ 😈

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 21 , 2013 بوقت 9:52 صبح

@چھوٹا موٹا انجینئر، یار موٹے انجنئیر یہ بڑی چھوٹی بات کر دی تو نے۔ تحریریں پڑھتے ہو اور کمنٹتے نہیں ہو؟ تم سبھوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ میں کمنٹوں کا کتنا بھوکا ہوں 👿
ویلکم ٹو ڈفرستان اینی ویز 🙂

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 21, 2013 بوقت 3:24 صبح
ذیشان احمد
 8 

واہ پڑہ کر دل کو ایک فحشانہ قسم کا سکو ن ملا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 21 , 2013 بوقت 10:15 صبح

فحشانہ قسم کا سکون یا فاحشہ قسم کا؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 21, 2013 بوقت 9:51 صبح
وسیم رانا
 9 

احمد: نہیں، لانی پڑتی ہے ۔۔۔۔
واہ کیا زبردستی ہے۔۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 21 , 2013 بوقت 11:52 شام

@وسیم رانا، یعنی لانا بالجبر؟ :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 21, 2013 بوقت 10:49 صبح
 10 

اتنی لمبی چھوڑی بات کرنے کی کیا ضرورت تھی تو بھی میرے والا مخصوص جملہ استعمال لیتا… ہم راجپوت ہوتے ہیں.
اس نے سوچی پڑ جانا تھا کو ادھر راجپوتی کی کیا تک تھی.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 21 , 2013 بوقت 11:52 شام

@رائے محمد ازلان، راجپوت نہیں یہاں شیخ ہوتے ہیں 😆 😆 😆

اسے ذرا جوابیں تو سہی

رائے محمد ازلان
جون 3rd, 2013 بوقت 2:40 شام

@ڈفر, That Says ALL then 😛

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 21, 2013 بوقت 7:25 شام
ظہیر اشرف
 11 

بھائی جی آپ دو عدد بلاگ بنا لیں ایک “فیملی بلاگ” ایک “چھڑا بلاگ” تاکہ ہم بھی منافقت سے باز آ جائیں 😐

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مئی 21 , 2013 بوقت 11:53 شام

@ظہیر اشرف، فیملی بلاگ؟ وہ کیا ہوتی ہے بھلا؟ 😛

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 21, 2013 بوقت 9:13 شام
لطیف
 12 

تو بھائ، میڈیکل کمپنی نے اک اور استعمال کی چیز بنای ہے، جس سے استعمال بھی ہو جاتی استعمال کی چیز اوراحمد دس بچوں والا سوال بھی نہ پوچھتا۔۔۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جولائی 7 , 2013 بوقت 4:49 شام

غبارہ ٹائپ چیز کی بات کر رہے ہیں؟
لیکن جب دس دس بچے ہوتے تھے تب تو شاپنگ بیگ ہی استعمال ہو سکتا ہو گا :ڈ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جولائی 7, 2013 بوقت 3:58 شام
مہوش
 13 

شاید فلسفہ محبت بولین ھین

اسے ذرا جوابیں تو سہی

دسمبر 12, 2013 بوقت 6:23 صبح

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog