Google
10
Jun

ایک فرضی کہانی

بھیجا ہے  دارا نے دارا کا گاؤں میں

8,377 بار دیکھا گیا

شائد پرانے وقتوں تو نہیں کہیں گے لیکن کئی دہائیوں پہلے کی بات ہے ایک بیچاری عورت تھی جسکا کوئی والی وارث نہیں تھا، والدین اور آباء دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر عزت و غیرت سب لٹا چکے تھے جو جائیداد تھی وہ اوروں کے قبضے میں تھی۔ خصم کوئی تھا یا نہیں یا مر کھپ گیا تھا (اس بارے میں تاریخ خاموش ہے) بچے لیکن کافی سارے اور چھوٹے چھوٹے تھے، سو زمانے کے ”استحصال“ کا شکار تھی۔ چونکہ ہمیشہ سے لاوارث تھی اور تربیت وغیرہ بھی کوئی نہیں تھی تو عزت و غیرت کے نام سے بھی نا آشنا تھی۔
کون جانے قسمت کب پھیر کھا جائے؟ وہ بھی زندگی کو ٹھوکریں مارے گزار رہی تھی کہ اسکے محلے میں ایک بندہ شفٹ ہوا۔ وہ شخص اس عورت کو دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس عورت کو اس کے پاؤں پر کھڑا کرے گا اور اسکو معاشرے میں جائز مقام اور اسکا حق دلوائے گا۔ اس نے عورت کو اپنی بیٹی بنا لیا اور اسکے حقوق کی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ اس میں اعتماد اور عزت سے جینے کا جذبہ پیدا کرنے لگا۔ بندہ متمول اور فارن کوالیفائڈ وکیل تھا اس نے مقدمہ لڑا اور آخر کار کورٹ کچہری کی بے انتہا خواری کے بعد عورت وہ مقدمہ جیت گئی۔یہ کہانی الگ ہے کہ کورٹ نے غاصبوں کے دباؤ کی وجہ سے مکمل انصاف نہ کیا اور زمین کا ایک ٹکڑا اور ایک عدد نوکر عورت کو دینے کا فیصلہ لکھ دیا۔ عورت جب محلہ چھوڑ کر جا رہی تھی تو اس کے ساتھ محلے والوں نے ”کیا کیا“ کیا، یہ بھی ایک الگ سٹوری ہے۔
بہر حال لٹی پٹی عورت اپنی زمین پر پہنچی تو اسکا باپ بھی اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس کے پاس آ گیا اور وہ اس جگہ کو رہنے کے قبل بنانے لگے۔ نوکر جو ملا وہ ایک بگڑا ہوا بے حد ضدی، بے شرم، بد دماغ اور بد قماش قسم کا لڑکا تھا۔ بابا جی نے یہ سوچ کر کہ عورت بیچاری اکیلی ، میں خود بوڑھا ، بچے چھوٹے چھوٹے اور جگہ بھی نئی، اس سے گھر کی رکھوالی کا کام لے لیتے ہیں۔ چونکہ اسکا کام اہم تھا اسلیے محدود وسائل کے باوجود نوکر کی صحت کا بچوں سے زیادہ خیال رکھا گیا اور بچوں کو بھوکا رکھ کر بھی نوکر کو کھانا مہیا کیا گیا۔
ایک دن جب گاؤں کے کچھ لوگوں نے بھینس کھول کر لے جانے کی کوشش کی تو بابا جی نے نوکر کو انہیں روکنے کا حکم دیا جسے ماننے سے نوکر نے انکار کر دیا۔ نوکر بستر پہ پسرا رہا اور بھینس چلی گئی یہ الگ قصہ ہے کہ کس طرح گھر کے بچے جاتی بھینس کے کٹے کو بچانے میں کامیاب ہوئے۔ بابا جی جہاں دیدہ بندے تھے نوکر کے تیوروں کو دیکھ کر مستقبل کا اندازہ لگا چکے تھے۔ یہاں بھی عورت کی قسمت خراب نکلی اور بابا جی نوکر کا انتظام کرنے سے پہلے ہی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ نوکر کے گلے کا کانٹا نکل گیا اور اس نے اپنے پر پھیلانے شروع کئے۔ اب اسے کھانا وقت پر ہی نہیں بلکہ پسند کا بھی چاہیے تھا۔ گھر میں موجود اور آنے والی ہر چیز پر پہلا حق اسکا ہوتا تھا جسے وہ زبردستی وصول بھی کرتا تھا۔ اسکو گھر کی حفاظت کے لیے بازار میں دستیاب بہترین بندوق خرید کر دی گئی جو کہ بے سود رہی۔ پڑوسی جو کہ کئی دن سے پر تول رہے تھے، نے ایک دن مکان پر حملہ کر دیا اور چوکیدار شراب کے نشے میں دھت مقابلہ کیا کرتا مکان کے اُسی حصے میں رہنے والیوں کو لوٹتا رہا۔ بندوق سمیت پکڑا گیا اور آدھے مکان پر پڑوسیوں کا قبضہ بھی ہو گیا۔ عورت کی بڑی نا اہلی اسکا رحم دل ہونا بھی تھی جس نے محلے والوں اور پڑوسیوں کی منت کر کے نوکر کو چھڑا لیا کہ اب تو اس کو ضرور سبق مل گیا ہو گا اسلئے سدھر جائے گا۔
وقت گزر رہا تھا اور بچے جوان ہو رہے تھے، نوکر نے بھی خوب قد کاٹھ نکالا تھا اور عملی طور پر اب گھر کا چوہدری بن بیٹھا تھا۔ نوکر دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلتا تھا اور ان کے کہنا پر اب گھر کے بچوں کی مار کٹائی بھی کرتا تھا۔ بچے ماں کی طرف التجائی نظروں سے دیکھتے اور وہ لاچار نظریں چرا لیتی۔ ہر روز اسے نوکر کے ظلم کی ایک نئی کہانی دیکھنے کو ملتی۔ گھر کا جو بچہ یا بڑا اس کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرتا اسکو وہ اپنے “دوستوں” کی مدد سے راستے سے ہٹا دیتا۔ اسکے کچھ بچے نوکر کی حکمرانی کو قبول کر چکے تھے اور اسے خوش کرنے کیلیے اسکے غلط کاموں میں اسکا ساتھ دیتے تھے۔ نوکر نے گھر کے بڑے اور اچھے کمرے اپنے اور اپنے بچوں کے حوالے کر دئے تھے اور انکی تزین و آرائش کا بھی زبردست انتظام کیا تھا۔ گھر کے لوگوں کے پاس محنت کرنے کے باوجود کھانے کیلیے کچھ نہ ہوتا لیکن “سرونٹ کوارٹر” کو کبھی کسی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
نوکر کی اولاد نوکر سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئی تھی۔ محلے والوں سے پیسے لے کر وہ گھر کی بیٹیوں کو ان کے حوالے کرنے لگے تھے اور گھر کی حفاظت کے لئے خرید کر دئے گئے ہتھیاروں سے اب وہ گھر والوں کو ہی دن دیہاڑے قتل کرنے لگے تھے۔ گھر کے دشمنوں سے انکی دوستی ہو گئی تھی، وہ آزادانہ گھر میں آتے جاتے اور جو چاہتے اٹھا کر لے جاتے اور نوکر دئے گئے اسلحے کے مناسب نہ ہونے کا بہانہ کرتے۔ گھر کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا ، گھر کے وارثین اور نوکروں کے بچوں میں اکثر لڑائیاں رہنے لگی تھیں، بچے مرنے مارنے پر تُلے ہوئے تھے وہ نوکروں کے بچوں کو پکڑ کر ان کے ساتھ کنوؤں میں چھلانگیں لگانے لگے تھے، انکو پکڑ کر تندور میں کودنے لگے تھے۔ نوکروں سے ہتھیاروں کے باوجود حالات کو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔ نئی نسل چوکیدار کو اسکی اولادوں سمیت گھر سے دھکے دے کر نکالنے کی بات کرنے لگی تھی۔
اس سے آگے کیا ہوا اس بارے میں مؤرخ خاموش اور مصروف دفتر ہے

تمام کردار و واقعات فرضی ہیں کسی بھی قسم کی مماثلت اتفاقی ہو گی

تجھے قسم ہے تیرے لیپ ٹاپ کی اگر تو نے نہ کمنٹا تو

ابتک تبصرہ جات 31

 1 

یارا یہ بھی تو بتانا تھا کہ نوکر شراب کے ساتھ ساتھ میراثی بھی تھے اور طبلہ سے بھی شوق کیا کرتے تھے ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 6:06 صبح
 2 

گویا قربانی دینے کا فیصلہ آخر کار کر ہی لیا.
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین شرح متین بیچ اس مسئلے کے کہ کیا ڈفروں کی قربانی جائز ہے؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 6:17 صبح
 3 

ڈفر بھائی مزہ تو تب ہے کہ نوکر کو مسلمان اور تابع کر لیا جائے۔ کیونہ لگتا کچھ یوں ہے کہ اب نوکر کو بھی یہ راز عیاں ہو گیا ہے کہ اگر اس نے اپنا چلن نہ بدلا تو اس کے دن گنے چاچکے ہیں ۔۔۔ بہر حال کہانی اچھی تھی۔ ۔ ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 6:34 صبح
 4 

بہت ہی اچھے
میں اچھو بہنوں والے کے متعلق سوچ رہا تھا
جو گھر پر معرکے کھیلتا ہے
کشمی کو دشنوں سے جھڑانے کے بہانے ابے سے پیسے لیتا ہے اور بنگا بلادکار کی زیادتی سے ہندو کی مدد سے بھاگ گئی
باقی کی ۰۰۰۰۰ جاری ہے
وغیرہ وگیرہ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 7:02 صبح
 5 

کبھی تم خود کی پہنچان یہاں ظاہر کردو تو یقین جانو وہ نوکر تمہیں ائیرپورٹ پر اترنے بھی دے تو بات کرنا 😆 😆

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 8:02 صبح
خالد حمید
 6 

شہزادے:……………….
پہچان ظاہر کرنے کا ارادہ ہو تو
سرفراز شاہ کی ویڈیو دیکھ لینا
😆 😆 😆 😆 😆 😆

اسے ذرا جوابیں تو سہی

بلاامتیاز
جون 10 , 2011 بوقت 3:21 شام

@خالد حمید,
سرفراز شاہ؟؟؟ ،
کن سرفراز شاہ کی کس متعلق بات ہو رہی ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 11:03 صبح
 7 

حال ہی میں نوکر اور اسکی آل اولاد کی ایک کانفرنس میں اس مسئلے سے نمنٹنے کے لیے لائحہ عمل پر غور و خوص کیا گیا ہے کہ عورت اور اس کے بچوں کی بغاوت سے کیسے نمٹاجائے. اس کے لیے پہلے قدم کے طور پر باہر سے آنے والی غیر ملکی امداد کو نوکر اور اس کی اولادوں نے استعمال نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ انکی بانہوں میں ہاتھ ڈال کر کنویں اور تندوروں میں کودنے والوں کے دل جیتے جاسکیں….

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 11:26 صبح
 8 

ڈفروں کی قربانی ھلاھل ہوسکتی ہے۔
حلال نہیں۔۔
بہت خوب

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 11:46 صبح
 9 

بہت عمدہ تمثیل کہانی ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 2:28 شام
 10 

یہ پوسٹ تو دارا نے لکھی ہے ۔
سو اسکو ڈفری نہیں “داردگی” گردانا جائے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ظلم ہر صورت میں ظلم ہے۔
جون 10 , 2011 بوقت 7:34 شام

@بلاامتیاز,
ہم تو اسکا “ذمہ دار” ڈفر کو ہی کہلائیں گے۔
ویسے کیا تمثلیت ہے۔ بوٹون والوں کے ساتھ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 3:30 شام
 11 

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب ۱۹۵۲ میں یہ کنجر نوکر نے پہلی مرتبہ اپنے مالک کو آنکھ دیکھائی تھی اس وقت ہی اسکی دونوں آکھیں نکال کت گولیاں کھیلنی چاہیے تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا سوائے رونے اور کڑھنے کے 👿

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 4:16 شام
عبید فاروق
 12 

سمجھ ہی نہیں آتی لوگوں کو! دشمنوں کے مقاصد کو کامیاب کرنے پے تلے ہوے ہیں- میڈیا تو بکا ہوا جو فوج کو برا بھلا کہتا ہے، کیا ہم لوگ بھی؟ ہم لوگ بھی اُسی پراپوگنڈا کے وکٹمز بنے جا رہے ہیں، کیا ہماری اپنی سوچ ان اخبارات، ٹی وی چینلز نے سلب کر لی ہے؟ ہماری اپنی سوچ نہیں رہی؟ ہم خود سے کوئی نجیجا نکال ہی نہیں سکتے؟ کیا ہمیں بات کرنے کے لئے، بات لکھنے کے لئے میڈیا کی ضرورت پڑنے لگ گئی ہے؟ ہم لوگ خود سے مشاہدہ کر کے کوئی بات نہیں کر سکتے کیا؟ اگر ہم واقعی مخلص لوگ ہیں تو کچھ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ بہتری آے؟ جن قوموں نے تراققی کی ہے وہانن کسی ایک انسان کے کچھ کرنے سے بہتری نہیں آئی، کام سب کوئی کرنا پڑنا ہے، بتانا تھوڑے سے لوگوں نے ہے کہ کیا کرنا ہے، یہاں الٹ معاملہ ہے کہ باتیں سب کر رہے ہیں وہ بھی ایک دوسرے کے خلاف اور کام کوئی نہیں کر رہا-

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 6:19 شام
عبید فاروق
 13 

اور نوکروں کو تو برا بھلا کہ دیا- اس ماں اور بچوں کی بات کیوں نہیں کرتے؟ اس لئے نہیں کرتے کیوں کہ ہم ہی وہ بچے ہیں جن کی وجہ سے یہ دن دیکھنے کو ملے ہیں، ہم بچوں میں ہی سے وہ نوکر ہیں، وہ کسی اور سیارے سے اتری ہوئی مخلوق نہیں ہے، ہمیں ہمارے ہی کرتوتوں کا صلہ مل رہا ہے، یہ بات پکّی ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 6:23 شام
عبید فاروق
 14 

فوج کہیں باہر سے آئی ہے کیا، ہمی میں سے گئے ہیں نہ وہ لوگ سیلیکٹ ہو کے؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جعفر
جون 10 , 2011 بوقت 10:31 شام

@عبید فاروق,
تو اگر ہمیں میں سے گئے ہیں تو یہ ان کا حق ہوگیا ہے کہ ہماری ہی گ۔۔۔ ماریں۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 6:28 شام
 15 

[…] ایک فرضی کہانی […]

جون 10, 2011 بوقت 9:05 شام
 16 

kmal kar diya yaar zabar dasst…..
کاش ہمیں کوئی اچھا چوکیدار مل جائے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 9:44 شام
 17 

کاش ہمیں کوئی اچھا چوکیدار مل جائے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 9:45 شام
 18 

کبھی عورت کے بچے اس گھر کے کرتا دھرتا بنے، اگر بنے، تو تاریخ دان کے طور پر آپ کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
زبردست!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 10, 2011 بوقت 10:29 شام
عبید فاروق
 19 

کیا ہر کوئی، ہم، آپ، ڈفر، سب مل کر اپنی گاف نہیں مار رہے ہیں؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 11, 2011 بوقت 1:06 صبح
ظہیر اشرف
 20 

بلاگستان کے کچھ کن ٹٹے اس معاملے کو سیاسی بنانے کی لاحاصل کوشش کر رہے ہیں جس پر یہ شاہکار تخلیق کیا گیا ہے ۔ ڈفر کے مزاخ کو پوشیدہ دھمکیوں کے لئے استعمال نہ کریں۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

یاسرخوامخواہ جاپانی
جون 11 , 2011 بوقت 9:21 صبح

@ظہیر اشرف,
ڈفر کے مزاح کو کون پوشیدہ دھمکیوں میں استعمال کر رہا ذرا وضاحت کردیں تو نوازش ہو گی۔
آپ کے تبصرے سے تو
یہ کن ٹٹوں کا سردار تو ڈفر ہی لگتا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ظہیر اشرف
جون 12 , 2011 بوقت 5:30 صبح

@یاسرخوامخواہ جاپانی, ڈفر میں ہزار خوبیاں ہو سکتی ہیں مگر میری ذاتی رائے میں ‘کن ٹٹے” والی خوبیاں بالکل نہیں نا جی نا۔ پوشیدہ دھمکیاں وہ جو ٹھیک ٹھیک لکھنے والے بندے کو انجام سے ڈرایا جا رہا ۔ ایسے میں پھر باقی کون بچے گا۔ ۔ ۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 11, 2011 بوقت 1:09 صبح
محمد سعید پالن پوری
 21 

🙂 😆 :mrgreen: :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 11, 2011 بوقت 10:33 صبح
 22 

ڈفر بھائی السلام علیکم

دو حسنیین ایک ساتھ
پہلے تو نئی پوسٹ دیکھ کر خوشی ہوئی
پھر اس کے بعد پوسٹ پڑھ کر جو خوشی ہوئی اس نے پہلی کو بھی پھیکا کر دیا

باوجود ادبی مہارت رکھنے کے ، میرے پاس اس وقت تعریف کے لیے الفاظ نہیں ہیں ۔۔۔۔
بس یہی کہنے کو جی چاہ رہا ہے کہ جب آپ کا بلاگ موجود ہے تو مجھے بلاگ چلانے کی کیا ضرورت ؟؟؟

منیر عباسی :::
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین شرح متین بیچ اس مسئلے کے کہ کیا ڈفروں کی قربانی جائز ہے؟
منیر صاب :::
قربانی سب کی جائز ہے بس انٹینشنز کلیر ہونی چاہیے
اور ہاں عبد القدوس صاب کی بات میں وزن ہے ۔۔ کچھ عرصہ گھر نہ آئیں صبر کر لیں کہیں نوکر ایر پورٹ پر آپ کا منتظر نہ ہو

اور عبید فاروق کی گھگھیائی تو دیکھیں نوکر کی طرفداری کرتے ہوئے اتنی ہمت بھی نہیں پڑی کہ اپنی جعلی ویب سائٹ کا یو آر ایل ہی لکھ دیتے
عبید فاروق بھیا ۔۔۔ کیا نوشتہ دیوار پڑھنے کے لیے میگنی فائنگ گلاش منگوائے ہیں چائینا سے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عبید فاروق
جون 13 , 2011 بوقت 1:16 صبح

@عرفان بلوچ, ابھی بچے ہو تم ذہنی طور پر، اور تمہیں کیا تکلیف اور بیماری کہ مجھ پر کچھ جعلی رکھنے کا الزام لگاو؟ اور میری کوئی یو آر ایل نہیں ہے-
میں نے یہ تبصرہ پوسٹ پے کیا ہے، تمہیں دعوت نامہ نہیں بھیجا کہ میرے تبصرے پر تبصرہ کرو آ کر، تمہارا اپنا نظریہ ہے میرا اپنا اور نہ میں تمہارا لنگوٹیا ہوں یا تم میرے دوست ہو جو یہ اس طرح کی بات کر رہے ہو مجھ سے، اپنے کام سے کام رکھو، اگر بحث کرنی ہے اس موضوع پر تو آ جاؤ ادھر بیٹھ کر کر لو، زیادہ آیفیشنسی دکھانے کی ضرورت نہیں-

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 11, 2011 بوقت 8:56 شام
محمد عمران
 23 

دوست کحانی اچئ ھے لئکن مزے دار نحی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 12, 2011 بوقت 12:32 شام
 24 

یہ کس قسم کی کہانی ہے جس میں ہر بار پھر سہی پھر سہی ۔ فرضی ہی سہی ۔ لیکن کچھ تو ہو ۔۔۔ ہاں ڈاکٹر صاحب کو پسند آئی ۔ یہ بڑی بات ہے ۔ باقی حیرت ہوئی ، یہاں سارے مرد حضرات تبصراجات ۔۔۔۔موجود ۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 13, 2011 بوقت 3:54 شام
 25 

جناب۔۔ بہت اچھی تحریر تھی۔۔ پڑھ کے طبعیت نہال ہوگئی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اپریل 26, 2016 بوقت 12:43 صبح

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog