Google
31
مئی

ہولی کاؤ بولے تو مقدس گائے

بھیجا ہے  ڈفر نے نائی کی دکان, نقار خانہ میں

6,023 بار دیکھا گیا

پرانے وقتوں کی بات نہیں کہ بندو صاحب کے نام سے ایک میلاد کمیٹی چلا کرتی تھی۔ گھر کے بیرونی دروازے کےاوپر ایک بورڈ لگا ہوا تھا ”بندو میلاد کمیٹی“ اور دروازے کے ایک کونے پر لگی نیم پلیٹ بندو صاحب کے اصل نام کا پتہ دیتی تھی، بمع عرفیت و کوئی معمولی سرکاری عہدہ۔ معمول یہ تھا کہ ربیع الاول کا آغاز ہوتے ہی الاؤڈ سپیکر سے بعد اذان مغرب لتا منگیشکر سے لے کر نصیبو لعل تک پنجابی و اردو گانوں کی پیروڈی نما نقلیں نعتوں کے نام پر اس زور و شور سے بجائی جاتیں کہ یہ گمان یقین اختیار کر جائے کہ ساتویں آسمان تک اپنی عاجزی پہنچانے کا واحد ذریعہ ”سعید ساؤنڈ سسٹم“ ہی ہے۔ اس سپیکری چکر میں محلے میں پھڈے بھی بہت زیادہ ہوئے لیکن ”پکے مسلمانوں“ کو تو کسی صورت راہ سے ہٹایا نہیں جا سکتا نا؟
خیر آمدم برسر مطلب قصہ کچھ یوں ہے کہ کالج سے واپسی پر بندو صاحب کے گھر کے سامنے پہنچے تو عورتوں کا جھمگٹا لگا ہوا تھا۔ ارد گرد نظر دوڑائی تاکہ کسی جاننے والے سے ماجرا پتہ کریں۔ انکل خالد پہ نظر پڑی، سوال کیا ، جواب گول۔ ہماری انسپیکٹر جمشیدی حس فورا پھڑک گئی اور وہیں جم کر کھڑے ہو گئے کہ آخر ایسی کیا بات ہے جو خالد صاحب نے سالوں پرانی قرابت داری کا لحاظ نہ کیا۔ اسی اثنا میں ایک آنٹی کی آواز کان میں پڑی جو کسی دوسری عورت سے کہہ رہی تھی ”باپ کو دیکھو اور اولاد کے کرتوت دیکھو، وہ تو بچہ سمجھدار تھا جو شور مچا دیا ورنہ پتہ نہیں کیا کرتا“؟
اس بات کے بعد صرف انسپیکٹر جمشیدی حسیات سے کام نہیں چلنا تھا اس لیے ہم نے عمرانی حسیات کو بھی ٹھڈے مار مار کے اٹھایا۔
تو بھائیو پتہ یہ چلا کہ مرحوم امجد صاحب کے چھوٹے بیٹے ،جو روٹیاں لینے گھر سے نکلا تھا کو بندو صاحب کے لائق وکیل بیٹے نے گلی میں کھلنے والے دروازے سے زبردستی اندر کیا اور دروازہ بند کر لیا۔ آگے وہی ہوا جو اوپر آنٹی دوسری آنٹی سے کہہ رہی تھی لیکن آنٹی کو یہ پتہ کیوں نہیں تھا کہ ”کیا کرتا“؟ یہ سوال آج تک حل طلب اور آنٹی کی معصومیت کوئسچن ایبل ہیں۔
بندو صاحب کے فرزند کی قسمت کی خرابی کی وجہ دراصل بچے کی کھپ کم اور سامنے بیٹھک میں رہتے نائی کا براہ راست اس سارے معاملے کو دیکھنا زیادہ تھی۔ اور اب ثبوت کے طور پر وہ سب کو ”ہاتھ لگا لگا کر“ بچے کے سلیپر کی طرف متوجہ کر کے پوری سٹوری سنا رہا تھا کہ کیسے یہ باہر رہ گیا اور میں نے ابھی تک کسی کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیا۔ اینڈ رزلٹ ہوا کچھ بھی نہیں پولیس کے چکروں میں بیوہ عورت نہیں پڑی اور وکیل بابو ایک دن منہ چھپانے کے بعد اور محلے والے اس سے بھی پہلے اس بات کو بھول گئے اور وکیل صاحب کی عزت دوبارہ بحال۔
موقع پر صرف کچھ باتیں قابل ذکر تھیں ایک تو بندو صاحب کے وکیل فرزند کی پراسرار خاموشی، بیوہ ماں کے دل دہلا دینے والے بین نما کوسنے اور نائی کی قصہ گوئیاں۔ آپکے لیے ایڈوانٹج ہے کہ آپ اس پرانے قصے کو بالکل تازہ تازہ فیل کر سکتے ہیں بس وکیل بابو کی جگہ رکھیں اپنی فوج بابو کو، بیوہ ماں کی جگہ اس قوم کو ، نائی کی جگہ اپنے میڈیا کو اور ”پتہ نہیں کیا کرتا“ والی آنٹی کی جگہ سرکار کو۔

کیا دیکھا؟ اوہ شٹ، اس حساب سے تو بیچارے بچے کے ساتھ بہت کچھ اور بہت برا ہو گیا۔

جو پوسٹ پڑھ کر بھی نہ کمنٹے اللہ کرے اس کے کی بورڈ میں کیڑے پڑیں

ابتک تبصرہ جات 56

 1 

پوسٹ کو تو گولی مار
واپسی مبارک ہو
اور اگلی پوسٹ امید ہے کہ اسی عشرے میں آجائے گی۔۔۔ امید پر دنیا قائم ہے اور ۔۔۔ پر ۔۔۔ قائم ہے۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:24 صبح

@جعفر, ساری ڈیشوں کے مطلب مطلوب ہیں
اور عشرہ پندرہ دن کا ہوتا ہے نا؟ 😆

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جعفر
جون 18 , 2011 بوقت 10:16 صبح

@ڈفر, میں دس سالوں کی بات کررا تھا، سال والے سالوں، وہ والے سالوں کی نہیں۔ میں اتنا ۔۔۔ نہیں ہوں کہ ڈیشوں کے مطلب لکھوں۔۔ 😉

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 18 , 2011 بوقت 3:52 شام

@جعفر, اوہ سوری میں نے دنوں والے حساب میں پڑ کے تیری امید پوری کر دی :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

مئی 31, 2011 بوقت 11:19 شام
رفی
 2 

اور بچہ بولے تو ہمارا آئین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واہ کیا خوب مماثلت ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:25 صبح

@رفی, ہاں یہ آئن والی مماثلت بالکل ٹھیک ہے :mrgreen: بلکہ پرفیکٹ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 31, 2011 بوقت 11:27 شام
zia
 3 

اتنی لمبی تمھید کی کیا ضرورت تھی صاف صاف لکھتا کہ ہماری فوج نے __________ منہ میں اور ____ ٹون ٹون میں لیا ہوا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:26 صبح

@zia, اور عوام کے ساتھ بھی یہی کیا ہوا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 31, 2011 بوقت 11:55 شام
 4 

سب کی مماثلت بتا دی…بس ہولی کاؤ یعنی مقدس گائے کے بارے بھی کچھ بتاؤ نا…! ❓

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:26 صبح

@عین لام میم, بوجھو تو جانیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 31, 2011 بوقت 11:55 شام
zia
 5 

:mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مئی 31, 2011 بوقت 11:56 شام
حجاب
 6 

آج یونہی مجھے ایک خیال آیا تھا اور آج ہی پوسٹ دیکھ لی ۔۔۔ واپسی مبارک ڈفر 🙂

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:26 صبح

@حجاب, کونسا خیال ❓ ❓

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 1:25 صبح
 7 

بہت خوب لکھتے ہیں..منفرد انداز ہے آپکا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:27 صبح

@شیخو, شکریہ جی، اور ڈفرستان پہ خوش آمدید بھی
🙂

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 1:27 صبح
 8 

اوہ ہو
یہ آج کون آیا ہے ۔۔۔
واپسی مبارک ہو

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:27 صبح

@کاشف نصیر, کون آیا؟ 😛

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 1:29 صبح
 9 

گویا ان سبسکرائب کرنے کا فائدہ ایک ہی دن میں نظر آگیا. اور بھی کوئی گروپ وغیرہ ہیں تو ان سے بھی ان سبسکرائب کر ڈالیں. کم از کم بلاگ کو یہ یقین تو آ جائے گا نا کہ یہ یتیم نہیں ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

احمد عرفان شفقت
جون 1 , 2011 بوقت 11:46 صبح

@منیر عباسی,
ڈاکٹر صاحب، شکر ہے آخر کار مجھے آپ کے بلاگ کا نیا لنک مل ہی گیا آج یہاں سے. بہت تلاشا تھا.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

منیر عباسی
جون 1 , 2011 بوقت 10:32 شام

@احمد عرفان شفقت,
بندہ خدا، میرا ای میل ایڈریس وہیں کہیں تھا آپ کے پاس ، ایک عدد ای میل ارسال کر دیتے.
اور ہاں مجھے اندازہ نہ تھا کہ طفل مکتب کو لوگ کس کس طرح تلاش کرتے پھر رہے ہیں. :roll:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:28 صبح

@منیر عباسی, یہاں آپسی سیٹلمینٹ شروع کر دی آپ لوگوں نے

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:55 صبح

@منیر عباسی, میں اکیلا کیوں باقی سارے بھی بائکاٹ کریں نا 😆

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 1:35 صبح
 10 

بہت خوشی ہوئی آپکی واپسی پر

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:28 صبح

@ڈاکٹر جواد احمد خان, مہربانی جناب

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 3:15 صبح
 11 

وارثین ہونے کے باوجود لاوارث بچے کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا آپ کے بلاگ کے ساتھ ہو رہا تھا۔بس بیچارہ بچہ اور بیچارہ بلاگ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:29 صبح

@یاسرخوامخواہ جاپانی, اب یہ لاوارث نہیں رہے گا، ایدھی کا جھولا مل گیا ہے مجھے بس موقع دیکھ کے اس میں ڈالنا ہے . دعا کریں پھرا نہ جاؤں 😉

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 4:22 صبح
 12 

مقدور ہو تو فیس بک سے پوچھوں کہ اے لعین
وہ بڑے بڑے جغادری بلاگر توں نے کیا کئے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:29 صبح

@خاور کنگ, استاد سے پوچھ لیں اسے بھی پتہ ہے :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 6:33 صبح
خالد حمید
 13 

واہ.
ویسے یہ “پتہ نہیں کیا کرتا”.
کی وضاحت یہاں دستیاب ہے.
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/05/110530_journalist_missing_saleem_uk.shtml

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:30 صبح

@خالد حمید, دھمکی؟
آئی ایس آئی کے ایجنٹ تو نہیں؟
میں تو واقعی ڈر گیا رے 😯

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 11:35 صبح
 14 

ڈفر، واپسی مبارک ہو. اور دیکھو ایک ماہ میں ایک پوسٹ کچھ زیادہ نہیں ہے. اتنا تو کر ہی لیا کرو بھائی.

یہاں بلاگ رول میں اپنا نام دیکھ کر خوشی سی ہوئی. اب اگر جو اس میں میرے بلاگ کا لنک اپڈیٹ ہو جائے تو کیا ہی بات ہے. یہ جو لنک اس وقت ہے اب متروک ہو چکا ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:30 صبح

@احمد عرفان شفقت, ایک مہینے میں ایک نہین دو پوسٹیں ہوں گی کیسا؟ 😆 اور لنک ابھی اپڈیٹ ہو جاتا ہے، اگلی پوسٹ کے ساتھ :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 11:45 صبح
 15 

سائیں… واپسی مبارک ہو…. اب کم از کم ایک دو پوسٹ تو مہینے میں ہمارے منہ متھے مار ہی دیا کرو…

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:31 صبح

@عمران اقبال, چل تو بھی کیا یاد کرے گا، لیکن منہ تیرا دھلا ہوا ہونا چاہیے :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 1:17 شام
 16 

تبصرے پڑھنے کے بعد يہ سوچتے ہوئی تحرير بھول گئی کہ آپ گئے کہاں تھے اور واپسی کيونکر ممکن ہوئی ؟ خير ” انت بھلا سو بھلا”

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:31 صبح

@افتخار اجمل بھوپال, انت نہ کریں جی . آپ تو آئی ایس آئی بن گئے
مہربانی کریں ابھی تو میں نے دنیا دیکھنی ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 1, 2011 بوقت 1:22 شام
 17 

[…] ہولی کاؤ بولے تو مقدس گائے […]

جون 2, 2011 بوقت 12:31 شام
 18 

بس ایک پوسٹ ہو گئی نا اس سال کی ..
بہت ہے
اس سال اور پوسٹ نہ دیکھوں میں تیری ورنہ .. آہو..
🙁

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:32 صبح

@بلاامتیاز, فائننشل ا$یر کی بات کر را نا؟ :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 2, 2011 بوقت 7:14 شام
عبید فاروق
 19 

ویلکماں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:32 صبح

@عبید فاروق, خیر ویلکماں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 3, 2011 بوقت 3:07 صبح
افتخار راجہ
 20 

yahaan par sara kuch hi ulta haey, kisi koi koi fikar faqa naheen haey, bas sare apn e apne din lagane ke chakar mian haen

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:32 صبح

@افتخار راجہ, چکر تو اچھے ہوتے ہیں جی 😉

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 3, 2011 بوقت 11:23 شام
 21 

مجھے حیرت ہے کہ میرا اندازہ کتنا صحیح تھا کہ آپ کی اگلی پوسٹ کب آئے گی ۔۔ اب میں آئندہ آپ کی اگلی پوسٹ شائع ہونے کا اندازہ نہیں لگاؤں گا
امید ہے اسی سال آجائے گی ۔۔۔ دعا کروں گا ۔۔
اچھا یہ تو بتائیں اس قصہ میں وکیل ، آنٹی اور نائی کو تو فوج ، سرکار اور میڈیا پر فٹ کر دیا ہے
لیکن یہ بچہ کون تھا ؟؟؟؟
کوئی بھی ہو ہمیں کیا ۔۔۔
ہاں اب کی بار وکیل کے ساتھ پتہ نہیں کیا کیا ہونے والا ہے
بعض لوگوں کے ارادے بڑے خطرناک ہیں
کسی نے وکیل کو دیکھا ہو تو بتائے ؟؟؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:33 صبح

@عرفان بلوچ, کیا اندازہ لگایا تھا پیر صاب؟
ہاتھ ادھر کریں میںنے بیعت کرنی ہے 😛

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 4, 2011 بوقت 2:40 شام
 22 

ڈفر صاب کچھ مزا نہیں آیا

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:54 صبح

@یاسر عمران مرزا, مزے نہ لے پیچھے دیکھ ٹرک آ را :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 4, 2011 بوقت 9:54 شام
 23 

آپکا بلاگ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ اب کچھ ڈفر سا پڑھنے کو بھی ملے گا۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
جون 8 , 2011 بوقت 11:55 صبح

@کائنات بشیر, بس جی آپ کی ذرہ نوازی ہے رنہ ڈفر کس قابل ہے 😛

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 5, 2011 بوقت 2:04 شام
 24 

@ڈفر,
یار پیر صاب نہ کہا کریں .. ابلیس لندن نے اس لفظ کو گندا کر دیا ہے … استاد صاب کہہ لیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جون 11, 2011 بوقت 6:30 شام
 25 

اتنی صاف اور کھری باتیں کہیں اور نہیں پڑھیں، منٹو صاحب یاد آگئے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اگست 18, 2011 بوقت 5:58 صبح
 26 

I like to party, not look aretclis up online. You made it happen.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

دسمبر 6, 2016 بوقت 11:24 شام
 27 

Response from :  Those cookies are adorable! I love the kind with the little kisses in the middle, but only when they’re warm..And my god, comic book valentines! I probably should’ve gotten my boyfriend one and made his day ahaha.Shen-Shen’s last blog post..

اسے ذرا جوابیں تو سہی

دسمبر 25, 2016 بوقت 8:38 صبح
 28 

Congrats to the winners! Such pretty nail polishes. I love Xiao Wen – she is my fave Chinese actress. Since she got married and had a baby girl I haven't seen her much so it is refreshing to see her on the cover of Vogue.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 6, 2017 بوقت 12:16 صبح
 29 

hola… hace un año y tres meses que hice el cambio de domicilio a rincon de los sauces y me figura que tengo que votar en Alumine, en donde vivia antes… por que? que tengo que hacer?Y respondió el 11 de junio de 2011 a las 12:09:Marcelo: En va a encontrar las respuesta a sus preguntas

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 8, 2017 بوقت 8:59 شام
 30 

Hiya, I am really glad I’ve found this information. Nowadays bloggers publish just about gossip and net stuff and this is actually irritating. A good site with exciting content, this is what I need. Thanks for making this site, and I’ll be visiting again. Do you do newsletters? I Can not find it.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 11, 2017 بوقت 8:26 شام

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام

Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog