ہماری عزت مآب وزیر بہبود آبادی و فحش گوئی جنابہ جنت پہ عاشق کوچوان نامی صاحبہ کا فرمان عالی شان ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے سلسلے میں میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے پرنٹ میڈیا پر زور دیا کہ ہر اخبار کے ساتھ ایک، اور میگزین و ڈائجسٹ وغیرہ کے ساتھ کم سے کم تین ”غبارے“ نیشنل سروس کے طور پر دئیے جائیں۔
محترمہ کا کہنا تھا کہ صحافی اور سیاستدان اس گاڑی کے ہی دو پہیے ہیں جس کے میاں بیوی دو پہئے ہیں۔ تاہم انہوں نے سجے کھبّے اور اگّے پچھے کی وضاحت پر ”مزید فحاشی“ پھیلانے کے الزام سے بچنے کے سبب روشنی ڈالنے سے گریز کیا۔
الیکٹرانک میڈیا سے وزیر صاحبہ نے اپیل کی کہ مزید آگاہی پھیلانے کے لئے پرائم ٹائم پر ان کے لیکچرز نشر کئے جائیں۔ انہوں نے میڈیا کو اس بات کی ضمانت و چیلنج دیا کہ وہ اپنے لیکچرز کی دلچسپی کی بدولت عوام کا سٹار پلس اور کلرز کے ڈراموں سے دھیان ہٹانے اور وارث ڈرامے کے دور کو واپس لانے میں کامیاب ہو جائیں گی، اپنے مؤقف کی تائید میں انہوں نے میڈیا کو کچھ واقعات کی یاد دہانی بھی کروائی۔ اس موقع پر انہوں نے بوقت ضرورت لیکچرز کو ڈیمانسٹریشن سے مزین کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
سیاستدانوں کے متعلق محترمہ کی رائے کے مطابق، وہ (نوجوان) عوام کی پسماندگی اور محرومیاں دور کرنے کے لئے عملی اقدامات کی ”کوشش“ کرتے ہیں۔ انہوں نے سیاستدانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے جلسے جلوسوں میں عوام کو خواری کے ساتھ وعدے دینے کی بجائے ”ڈسپرین“ کی گولیاں اور ”نیروبیان“ کے ٹیکے مہیا کریں۔
یاد رہے کہ محترمہ ماضی میں کئی شہرہ آفاق حقیقی تھیوریاں بھی پیش کر چکی ہیں جن میں ”ٹیکسی بچے“ اور ”لوڈشیڈنگ اور آبادی اضافے میں راست تناسب“ کا مسئلہ شامل ہیں۔ اپنی مؤخرالذکر تھیوری کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے دلیل کے طور پر اپنی پیدائش کے سال ہونے والی لوڈشیڈنگ کے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ ان کی اس تھیوری نے ان کی عزت میں قابل قدر اضافہ کیا اور عالمی سطح پر ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ حال ہی میں ان کے دورہء بھارت میں ان کی بہبود آبادی کے لئے کی گئی خدمات کے اعتراف میں ان کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔















ابتک تبصرہ جات 60
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں