سنا ہے کہ ٹیپو سلطان کی اپنے زمانے میں ایسی ہیبت تھی کہ مائیں بچوں کو سلانے کے لئے یہ دھمکیاں استعمال کرتی تھیں” سو جا نہیں تو ٹیپو آ جائے گا“۔ بچوں کے دل میں ڈر ٹیپو کی ہیبت کی وجہ سے تھا یا ٹیپو کی ہیبت بچوں کے دل میں بٹھائے گئے ڈر کی وجہ سے تھی یہ بات جواب طلب ہے۔ زمانے بیت گئے، تاریخ دھندلا گئی، بڑے کیا، بچے کیا سب ٹیپو کو بھول گئے۔ لیکن ہر زمانے میں کچھ بچے اتنے تیز ہوتے ہیں کہ ان کو سنبھالنے کے لیے کسی ٹیپو کی ضرورت رہتی ہی ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد نہ تو یہاں کوئی گبھر ڈاکو تھا نہ ہی کوئی بھائی شائی، اس لئے بچے سنبھالنے مشکل ہو گئے۔
دوراندیش لوگوں نے اس ”سمسیا“ کا یہ حل نکالا کہ ”تیز اور ذہین“ بچوں کو شروع سے ہی ”پنجابی گبھر مارکہ گرائپ واٹر“ پہ رکھا، اس کے بعد ”پنجاب دشمی“ سریلیک کے استعمال سے بچوں کی بڑھوتری کے عمل کو جلا بخشی اور اب یہ بچے بڑے ہونے کے بعد ”پنجابی طالبان“ نامی سیریل سے دن کا آغاز کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے، اب اگر بچہ اوپر بیان کردہ ماحول میں رہے گا تو اس کی ذہنی صلاحیتوں پہ تو “خاطر خواہ“ فرق پڑے گا نا! میرا ذاتی تجربہ کہتا ہے ”ہاں“۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے بھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا بڑا خبط ہے اور مشہور نہ ہو سکنے کا بہت قلق۔
ہوں تو میں ائیرکنڈشننگ اینڈ ریفریجریشن کا ڈپلومہ ہولڈر، لیکن دل کرتا ہے لکھوں سائنسی تحقیقی مقالے وہ بھی باٹنی شاٹنی، زالوجی شالوجی کے، اور تو اور جب موڈ کرے تو لگے ہاتھوں سٹریٹجک سٹڈیز کا ماہر ہونا بھی منوا لیا کروں کہ لوگ سوچیں ”میرے جیسے والنٹئیرز کے ہوتے پاکستان کو تھنک ٹینکس کی کیا ضرورت“؟۔ خبریں بریک کرنے پہ آؤں تو لوگ حیران ہوں کہ میں آئی بی کا چئیرمین یا آئی ایس آئی کا چیف کیوں نہیں؟ اور اگر میری صرف اتنی سی ڈیمانڈز ہیں تو کیا آپ میری غیر منطقی چولوں کو بغیر دلیل، من و عن تسلیم نہیں کر سکتے؟ آخر کچھ لوگ تو ایسا کر ہی رہے ہیں نا! تو آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ سیانے سچ کہتے ہیں”احساس محرومی، احساس ذمہ داری سے بھاگنے اور مقابلے سے فرار کے حالات پیدا کر دیتی ہے“ ۔
آج کی تازہ چول یہ ہے کہ میں سوچ رہا تھا جن لوگوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے پراجیکٹس سے ہی 17 سترہ ارب ڈالر کما لئے ان میں سے کتنوں نے اپنی ہی قوم کے لوگوں کا نفرت سے ذکر کیا ہوگا؟ اگر کسی کو 65-70 ملین ڈالر ملے تو اس میں اس اکیلے کی ہی نہیں ان نسلوں کی بھی شاباشی ہے جنہوں نے اسے تیار کیا۔ ان لوگوں میں سے کون تھا جو اپنے اوپر ہونے والے مظالم پہ روتا رہا اور عصبیت کی جنگوں میں اپنی اور دوسروں کی توانائیاں ضائع کرتا رہا؟ زکر برگ نے کتنا ہالوکاسٹ کے خلاف لکھا اور جاوید کریم نے کتنے مظالم پاکستانی فوجیوں کے تحریر کئے؟
میونخ کے کیفے بلئو میں بیٹھے ایک دن میں نے اپنے گروپ سے پوچھا (بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ میں نے جرمنی کا پھیرا بھی لگایا ہوا ہے) کہ یہ جو گورے لوگ چڑیا کے تازے تازے بچے کی طرح لال سرخ ہوتے ہیں کیا میں نہیں ہو سکتا؟ تو ایک پاکستانی ساتھی نے کہا کہ ہو سکتا ہے ، تین طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ دبا کے جوس پیا کر دوسرا بئیر پہ زور رکھ اور تیسرا طریقہ ہے ”چپیڑیں“، لیکن ایڈلین کہنے لگی ”ٹیپ یور پوٹینشل، کری ایٹ یور اون آئیڈنٹٹی اینڈ ہیلپ ادرز ٹو بی ریکگنائزڈ“۔
اب مسئلہ ہمارا یہ ہے کے دبا کے جوس میسر نہیں، بئیر اشرافیہ کا مشروب ٹھہرا اور ایڈلین یہودی تھی اس لیے اس کی بات حرام ہے اور قابل غور نہیں۔ لے دے کہ بچتا ہے چپیڑوں والا طریقہ کہ مار مار اپنا منہ لال کر لیں اور دوسروں سے اس سرخی کی داد وصولیں۔ اتنی تحقیق کرنے کا کسی کے پاس وقت نہیں کہ تھوڑی دیر بعد اس لالی کے سیاہی میں بدلنے پر کیا کرنا ہے؟
مولوی مولوی ہے کیونکہ اس کے پاس سرٹیفکیٹ اور علم ہے لیکن عمل اور تربیت نہیں اور یہی حال ہمارے یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل لوگوں کا ہے لیکن تحقیر صرف مولوی کے حصے میں، کیوں؟ اگر صرف کاغذ کے ٹکڑے ملین بلین ڈالر دلوا سکتے تو چنا جور والا بھی سائیکل کی جگہ A-380 پہ چھابہ لگا رہا ہوتا ، بوئنگ اور ائیر بس ہوتیں کباڑیوں کی ملکیت۔
ہمارے ڈگری شدہ لوگوں کی ذہنی بالیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قوم کے جذبات کو روندنے اور عصبیت کو ہوا دینے کے بعد اپنے تعرف میں لکھتے ہیں ”اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے“ اس کو منڈتے ہیں غالب کے سر اور شکوہ کرتے ہیں اسًی کی دہائی میں پیدا ہونے والوں (بس یہی وجہ ہے آج کی اس تازہ چول کی) میں سے کسی کا ملین بلین ڈالر کا مالک نہ بننے کا۔ تبصرہ پالیسی کہتی ہے کہ نفرت انگیز تبصرہ حذف کر دیا جائے گا لیکن نفرت انگیز پوسٹیں بڑے تفاخر سے بلاگ کی زینت بنائی جاتی ہیں۔ کیا یہ سب کھلے ڈُلے تضادات نہیں؟
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ قوم کو گمراہ کرنے اور اس کی سوچ کا قتل کرنے سے کبھی باز آیا؟ قوم کے جوانوں کو بے مقصد چکروں سے نکلنے دیا کہ وہ کسی تعمیری کام میں اپنی توانائیاں صرف کرتے؟ کبھی ہمارے رونے ختم ہوئے؟ کبھی کسی کو کوئی موقع دیا کہ جس میں وہ ناکام ہو گیا؟ اگر ایسا کبھی ہوا تو شکوہ جائز ہے اور اگر نہیں ہوا تو سب کو پتہ ہے کہ پانی اپنا رستہ اور ملائی اپنی جگہ خود بنا لیتے ہیں اس لیے ایسے کسی خطبے کی ضرورت نہیں۔
بس کافی ہو گیا، اب میرا پورنو ڈاؤنلوڈ کرنے کا ٹائم ہو گیا۔ فیر ملیں گے۔ اللہ بیلی۔
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔















ابتک تبصرہ جات 206
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں