تو جنابو دو مہنے ہو گئے کینوس پہ کچھ بھی لکھے ہوئے، بلاگی قبض ابھی تک پوری شدت سے جاری و ساری ہے اور پچھلے تین مہینے میں صرف تین چار ہی پوسٹیں کر سکا، فیس بک کی ایسی تیسی کی ہوئی ہے اور اب مجھے لگتا ہے میں کتابوں کو دوبارہ سے رسیا ہو گیا ہوں۔ پچھلے تین ہفتے میں تقریباً تیس کتابیں پڑھی ہیں جن میں سے زیادہ تر ناول ہیں۔ ان کتابوں سے میرے پلے کچھ پڑ رہا ہے یا نہیں اسکی بالکل کوئی خبر نہیں ہے۔ ملکی حالات سے قصدا بے خبری چل رہی ہے کبھی کبھار کوئی خبر نظر سے گزر جائے تو ٹھیک، نہیں تو اللہ بیلی۔
ٹائم مینجمنٹ بالکل نہیں ہو رہی، دل میرا قلم دوات میں اٹکا ہوا ہے اور دماغ میں کتابوں کی کھلبلی مچی رہتی ہے۔ بلاگ تو کسی گنتی میں ہے ہی نہیں۔ فلمیں دیکھنے کی لت سے چھٹکارا پائے تقریبا چار مہینے ہو گئے ہیں۔ ٹی وی آن کیے بھی تقریبا مہینہ تو ہو ہی چکا ہے۔ کھانسی بالکل ٹھیک ہے پر اس مہینے ہوٹل کے بل میں ٹیلیفون کا بل دیکھ کے مجھے ڈر ہے کہیں بی پی کا مریض نہ ہو جاؤں۔
کل اپنی روٹین کے بارے میں بھوکے پیٹ کافی سوچنے کے بعد ایک شیڈول بنایا جو کہ حسب ذیل ہے (یاد رہے کہ یہ صرف ایک شیڈول ہے)
۱ ۔ فیس بک سے کنارہ کشی، (کنارہ کشی بولے تو “تھوڑا بہت اور کدی کدی”)
۲ ۔ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ایک کتاب (صفحات کی کم سے کم تعداد بعد میں طے کر لیں گے)
۳ ۔ خطاطی کے لیے کم سے کم دو گھنٹے (گھنٹوں کے منٹ بھی ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کیے جا سکتے ہیں)
۴۔ ہفتے میں کم سے کم ایک پوسٹ (کونسا ہفتہ؟ اس کے لیے قرعہ اندازی کی جائے گی)
نمبر ایک تو دفتری اوقات کا کام ہے اس کی زیادہ پریشانی نہیں، نمبر دو فل بٹا فل چالو ہے اس کی فکر نہیں، فکر ہے تو اس بات کی کہ نمبر دو کے بعد نمبر تین اور چار ہو سکیں گے یا نہیں؟
اگلے ہفتے سے ٹھیک ٹھاک دفتری کام کی آمد کا دھڑکا ہے، دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔
ہا ہائے کھانے پکانے وقت تو شیڈولا ہی نہیں
۔
پس نوشت: اور میں یہ خبر تو بتانا بھول ہی گیا کہ مجھے دفتر کے سب سے پرسکون گوشے میں واحد پرائیویٹ کیبن مل گیا ہے، اور مستقبل میں اس کیبن کے امیدواروں سے دنگے “ایکسپیکٹڈ” ہیں ![]()
مطلب مزید دعاؤں کی ضرورت ہے
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔















ابتک تبصرہ جات 33
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں