اف کیا مصیبت ہے یار۔ ایک تو سارا دن کام کام اور بس کام۔ مجھے تو لگتا ہے بابا جی یہ مقولہ صر ف میرے لئے کہہ کے گئے ہیں اور سب کو رٹوا کے گئے ہیں کہ اس ڈفر کے ساتھ ”چنگی“ کرنا۔ کام تو چلو کام لیکن دفتری اوقات کے بعد اتنی لمبی میٹنگ؟ خود تو سارا دن عیاشی کرتے ہیں اور چھٹی کے وقت یاد آ جاتی ہیں میٹنگیں۔ اس کو کہتے ہیں اوور ایفیشنسی ، مجھے اسی لئے کسٹمر برے لگتے ہیں۔
اس سب سے تو میں یوز ٹو تھا بس تکلیف اس بات کی تھی کہ اب واپسی کے لئے سخت خواری یقینی تھی۔ باہر نکلتے ہی فٹ پاتھ کے کنارے لگے سٹاپ سائن کے ڈنڈے سے ٹکا کر اپنابیگ رکھا اور کوٹ کی جیب سے سگریٹ نکال کر ہونٹو ں میں دباتے ہوئے چاروں طرف گردن گھما کر ایسے ریکی کی جیسے سلیم ملک آؤٹ ہونے سے پہلے پورے گراؤنڈ کو قطب نما بن کر گھورتا تھا۔ابھی میں یہ فیصلہ کرنے میں تذبذب کا شکار تھا کہ سامنے شیشوں والی بلڈنگ کا پانی میں پڑتا عکس زیادہ چمکدار ہے یا اس کے کنارے پر ٹہلتی سفید ٹانگوں کا؟ کہ میرے ہاتھوں کے پیالے میں جلتے لائیٹر کے شعلے نے اس گتھی کے دھاگے ہی جلا دئے۔
میں نے سگریٹ سلگا کر ایک لمبا کش لیا اور کارنش کے عین درمیان لگے فوارے کو دھویں میں گم کرنے کی ناکام کوشش کی۔ دھواں چھٹااور یہ کیا ایک خالی ٹیکسی میری ہی طرف آ رہی تھی۔ فورا سے پہلے دیکھا کہ میرے اور گاڑی کے درمیان مزید کوئی سواری رنگ میں بھنگ ڈالنے کو تو نہیں موجود؟ وہاں کوئی نہیں تھا۔طمانیت کی ایک لہر نے میرے ذہن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میں نے ڈرائیور کو رکنے کے لئے ہاتھ دکھایا تو وہ مجھے آگے کی طرف آنے کااشارہ کرتے ہوئے مجھ سے کوئی پچیس تیس قدم کے فاصلے پر رک گیا۔ میں نے بیگ اٹھایا اور ٹیکسی کی طرف گھوما تو وہاں پر پہلے سے موجود ایک شخص کاندھے پر بیگ لٹکائے ،ایک ہاتھ میں لُولُو کا شاپنگ بیگ اور دوسرے میں پانی کی بوتل پکڑے گاڑی میں گھس گیا۔
ڈرائیور اور اس کے پسنجر کو گندی گندی گالیاں(اتنی گندی کہ میں خود ان کا مطلب سمجھنے سے قاصر تھا) دینے کے ساتھ ساتھ میں نے واپس بیگ رکھا اور راستے کی طرف دیکھنے لگا کہ کہیں اس گالم گلوچ پروڈکشن میں مصروفیت کے دوران میں کہیں دوسری کوئی گاڑی مس نہ کر دوں۔ سگریٹ تو میں گاڑی کے سائیڈ لین میں آتے ہی مسل چکا تھا اور کوئی گاڑی بھی نہیں تھی۔ اب تھکن کا احساس پہلے سے بھی بڑھ کر ہونے لگا تھا
اتنے میں کچھ آوازیں کان میں پڑیں، مڑ کر دیکھا تو وہی پسنجر ٹیکسی سے باہر کھڑا کچھ بول رہا تھا اور ڈرائیور مجھے بلا رہا تھا۔
میں نے بغیر کچھ سمجھے اور سمجھنے کی کوئی کوشش کئے فوراً بیگ اٹھایا اور جا کر ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔ جلدی جلدی ڈرائیور کو ہوٹل کا پتہ بتایا کہ میٹر چالو کرے۔ پرانے پسنجر کے منہ سے نکلتے الفاظ انجان زبان میں ہونے کے باوجود صاف پتہ دے رہے تھے کہ اسکا دماغ گالی کی پروڈکشن میں مجھ سے اعلٰی و برتر ہے۔ چونکہ میرے پاس فکر کرنے کو ابھی بہت کچھ تھا اس لئے اس کو فورا دماغ سے جھٹک دیا۔ لیکن ڈرائیور یقینا میری ان فکروں سے بالکل انجان تھا۔
ڈرائیور: میں آپکو اشارہ کیا تھا نا ، اسلئے اس کو نی بٹایا
ڈفر: لیکن وہ تو بیٹھ گیا تھا
ڈرائیور:آں ، ام نے اتار دیا۔ آپکو اشارہ کیا تھا نا، اس لئے آپکو ای بٹھانا مانگتا تھا۔ انصاف کا بات ہوتا اے نا صاب
ڈفر: انصاف کا بات تو ہوتا ہے پر بڑی بات ہےکہ آپ نے اس کو اتار دیا
ڈرائیور: میں اسکو کیوں لیجاتا صاب؟پیلے آپکو اشارہ کیا تھا تو بس آپ سے ڈیل او گیا۔ یہی انصاف کا بات اے۔ کیتا تھا تم انڈین اے اس لئے انڈین کو لیجاتا اے۔ تم ایشین لوگ نا انصافی کرتا اے۔ صاب کیا یہ نا انصافی اے؟
ڈفر: نہیں بالکل نہیں، یہ تو عین انصاف ہے۔ آپ کیا انڈیا سے ہیں؟
ہاں ــــــ کہاں سے؟ ــــــ منگلور سے ــــــ بنگلور؟ کرناٹکا کا کیپٹل ہے نا یہ؟ ــــــ بنگلور نئی منگلور، بڑا سی ٹی اے یہ۔ کیپٹل تو بنگلور ای اے ــــــ آپ کدر سے اے صاب؟ ــــــ اندازہ لگاؤ ــــــ حیدرآباد سے ــــــ ایک دفعہ پھر سوچیں ــــــ ممبئی سے ــــــ نہیں ــــــ تو پھر تو پکا حیدرآباد سے ای اے ــــــ نہیں میں اسلام آباد سے ہوں ــــــ پاکستان سے؟
ــــــ ہاں
اب صاب بتاؤ ہم کو مالوم تھا کہ آپ پاکستانی او یا انڈین؟ لیکن انصاف تو انصاف اے نا؟
ہاں بالکل صحیح بات ہے۔
اتنے میں ڈرائیور نے با آواز بلند کلمہ پڑھا اور مجھ سے پوچھنے لگا، کیا نام ہے آپ کا؟
محمد علی
محمد بشیر میرا نام اے صاب
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ٹریفک کا رش ، محمد بشیر کی انصاف سے بھرپور باتیں اور میرا احساس شرمندگی بڑھ رہا تھا ۔ میری تعلیم اور تربیت پہ اس کی سوچ اور عمل بہت بھاری پڑ رہے تھے۔
محمد بشیر سے بے انتہا متاثر ہونے کے باوجود میں نے اسے ایک موڑ پہلے ہی روک دیا اور پیدل روانہ ہو گیا۔ میں اس کی باتوں سے اتنا متاثر اور مگن تھا کہ استقبالیے سے بغیر کارڈ لئے کمرے کے سامنے غائب دماغی کی حالت میں جا کھڑا ہوا ۔
اور اسی رات میں پارکنگ بوائے سے اس بات پر جھگڑ رہا تھا کہ اگر گاڑی ٹکٹ سے پانچ منٹ زیادہ کھڑی ہو گئی ہے تو ایسی کون سی بڑی بات ہے؟ ”ہم ڈیل کر سکتے ہیں“
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔















ابتک تبصرہ جات 45
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں