3
Mar

ڈیل کر لیتے ہیں

بھیجا ہے  ڈفر نے دارا کا گاؤں, کُچھ نا پُچھ میں

1,757 بار دیکھا گیا

اف کیا مصیبت ہے یار۔ ایک تو سارا دن کام کام اور بس کام۔ مجھے تو لگتا ہے بابا جی یہ مقولہ صر ف میرے لئے کہہ کے گئے ہیں اور سب کو رٹوا کے گئے ہیں کہ اس ڈفر کے ساتھ ”چنگی“ کرنا۔ کام تو چلو کام لیکن دفتری اوقات کے بعد اتنی لمبی میٹنگ؟ خود تو سارا دن عیاشی کرتے ہیں اور چھٹی کے وقت یاد آ جاتی ہیں میٹنگیں۔ اس کو کہتے ہیں اوور ایفیشنسی ، مجھے اسی لئے کسٹمر برے لگتے ہیں۔
اس سب سے تو میں یوز ٹو تھا بس تکلیف اس بات کی تھی کہ اب واپسی کے لئے سخت خواری یقینی تھی۔ باہر نکلتے ہی فٹ پاتھ کے کنارے لگے سٹاپ سائن کے ڈنڈے سے ٹکا کر اپنابیگ رکھا اور کوٹ کی جیب سے سگریٹ نکال کر ہونٹو ں میں دباتے ہوئے چاروں طرف گردن گھما کر ایسے ریکی کی جیسے سلیم ملک آؤٹ ہونے سے پہلے پورے گراؤنڈ کو قطب نما بن کر گھورتا تھا۔ابھی میں یہ فیصلہ کرنے میں تذبذب کا شکار تھا کہ سامنے شیشوں والی بلڈنگ کا پانی میں پڑتا عکس زیادہ چمکدار ہے یا اس کے کنارے پر ٹہلتی سفید ٹانگوں کا؟ کہ میرے ہاتھوں کے پیالے میں جلتے لائیٹر کے شعلے نے اس گتھی کے دھاگے ہی جلا دئے۔
میں نے سگریٹ سلگا کر ایک لمبا کش لیا اور کارنش کے عین درمیان لگے فوارے کو دھویں میں گم کرنے کی ناکام کوشش کی۔ دھواں چھٹااور یہ کیا ایک خالی ٹیکسی میری ہی طرف آ رہی تھی۔ فورا سے پہلے دیکھا کہ میرے اور گاڑی کے درمیان مزید کوئی سواری رنگ میں بھنگ ڈالنے کو تو نہیں موجود؟ وہاں کوئی نہیں تھا۔طمانیت کی ایک لہر نے میرے ذہن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میں نے ڈرائیور کو رکنے کے لئے ہاتھ دکھایا تو وہ مجھے آگے کی طرف آنے کااشارہ کرتے ہوئے مجھ سے کوئی پچیس تیس قدم کے فاصلے پر رک گیا۔ میں نے بیگ اٹھایا اور ٹیکسی کی طرف گھوما تو وہاں پر پہلے سے موجود ایک شخص کاندھے پر بیگ لٹکائے ،ایک ہاتھ میں لُولُو کا شاپنگ بیگ اور دوسرے میں پانی کی بوتل پکڑے گاڑی میں گھس گیا۔
ڈرائیور اور اس کے پسنجر کو گندی گندی گالیاں(اتنی گندی کہ میں خود ان کا مطلب سمجھنے سے قاصر تھا) دینے کے ساتھ ساتھ میں نے واپس بیگ رکھا اور راستے کی طرف دیکھنے لگا کہ کہیں اس گالم گلوچ پروڈکشن میں مصروفیت کے دوران میں کہیں دوسری کوئی گاڑی مس نہ کر دوں۔ سگریٹ تو میں گاڑی کے سائیڈ لین میں آتے ہی مسل چکا تھا اور کوئی گاڑی بھی نہیں تھی۔ اب تھکن کا احساس پہلے سے بھی بڑھ کر ہونے لگا تھا :( اتنے میں کچھ آوازیں کان میں پڑیں، مڑ کر دیکھا تو وہی پسنجر ٹیکسی سے باہر کھڑا کچھ بول رہا تھا اور ڈرائیور مجھے بلا رہا تھا۔
میں نے بغیر کچھ سمجھے اور سمجھنے کی کوئی کوشش کئے فوراً بیگ اٹھایا اور جا کر ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔ جلدی جلدی ڈرائیور کو ہوٹل کا پتہ بتایا کہ میٹر چالو کرے۔ پرانے پسنجر کے منہ سے نکلتے الفاظ انجان زبان میں ہونے کے باوجود صاف پتہ دے رہے تھے کہ اسکا دماغ گالی کی پروڈکشن میں مجھ سے اعلٰی و برتر ہے۔ چونکہ میرے پاس فکر کرنے کو ابھی بہت کچھ تھا اس لئے اس کو فورا دماغ سے جھٹک دیا۔ لیکن ڈرائیور یقینا میری ان فکروں سے بالکل انجان تھا۔
ڈرائیور: میں آپکو اشارہ کیا تھا نا ، اسلئے اس کو نی بٹایا
ڈفر: لیکن وہ تو بیٹھ گیا تھا
ڈرائیور:آں ، ام نے اتار دیا۔ آپکو اشارہ کیا تھا نا، اس لئے آپکو ای بٹھانا مانگتا تھا۔ انصاف کا بات ہوتا اے نا صاب
ڈفر: انصاف کا بات تو ہوتا ہے پر بڑی بات ہےکہ آپ نے اس کو اتار دیا
ڈرائیور: میں اسکو کیوں لیجاتا صاب؟پیلے آپکو اشارہ کیا تھا تو بس آپ سے ڈیل او گیا۔ یہی انصاف کا بات اے۔ کیتا تھا تم انڈین اے اس لئے انڈین کو لیجاتا اے۔ تم ایشین لوگ نا انصافی کرتا اے۔ صاب کیا یہ نا انصافی اے؟
ڈفر: نہیں بالکل نہیں، یہ تو عین انصاف ہے۔ آپ کیا انڈیا سے ہیں؟
ہاں ــــــ کہاں سے؟ ــــــ منگلور سے ــــــ بنگلور؟ کرناٹکا کا کیپٹل ہے نا یہ؟ ــــــ بنگلور نئی منگلور، بڑا سی ٹی اے یہ۔ کیپٹل تو بنگلور ای اے ــــــ آپ کدر سے اے صاب؟ ــــــ اندازہ لگاؤ ــــــ حیدرآباد سے ــــــ ایک دفعہ پھر سوچیں ــــــ ممبئی سے ــــــ نہیں ــــــ تو پھر تو پکا حیدرآباد سے ای اے ــــــ نہیں میں اسلام آباد سے ہوں ــــــ پاکستان سے؟ :shock: ــــــ ہاں
اب صاب بتاؤ ہم کو مالوم تھا کہ آپ پاکستانی او یا انڈین؟ لیکن انصاف تو انصاف اے نا؟
ہاں بالکل صحیح بات ہے۔
اتنے میں ڈرائیور نے با آواز بلند کلمہ پڑھا اور مجھ سے پوچھنے لگا، کیا نام ہے آپ کا؟
محمد علی
محمد بشیر میرا نام اے صاب
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ٹریفک کا رش ، محمد بشیر کی انصاف سے بھرپور باتیں اور میرا احساس شرمندگی بڑھ رہا تھا ۔ میری تعلیم اور تربیت پہ اس کی سوچ اور عمل بہت بھاری پڑ رہے تھے۔
محمد بشیر سے بے انتہا متاثر ہونے کے باوجود میں نے اسے ایک موڑ پہلے ہی روک دیا اور پیدل روانہ ہو گیا۔ میں اس کی باتوں سے اتنا متاثر اور مگن تھا کہ استقبالیے سے بغیر کارڈ لئے کمرے کے سامنے غائب دماغی کی حالت میں جا کھڑا ہوا ۔
اور اسی رات میں پارکنگ بوائے سے اس بات پر جھگڑ رہا تھا کہ اگر گاڑی ٹکٹ سے پانچ منٹ زیادہ کھڑی ہو گئی ہے تو ایسی کون سی بڑی بات ہے؟ ”ہم ڈیل کر سکتے ہیں“

  • Facebook
  • Twitter
  • Live
  • Digg
  • del.icio.us
  • Google Bookmarks
  • email
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
  • FriendFeed
  • Reddit
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 45

 1 

زبردست منظر نگاری ہے۔
اور ہااااااا ہائے۔۔۔۔ ڈفر سگریٹ پیتا ہے
نام تو اپنا یقینا جعلی لکھا ہے
آخری بات پر صبح ناشتے کے بعد غور کروں گا
پھر کمنٹوں گا اس پر۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 4 , 2010 بوقت 4:13 شام

@جعفر, انتظارنگ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جعفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 12:22 صبح

@ڈفر, @ڈفر, ہاں تو بھائی جان۔ مجھے تو اس میں دوباتیں سمجھ آئی ہیں۔ پہلی بات تو بحیثیت قوم ہمارا اور ہندوستانیوں کا رویہ ہے جو بالکل مختلف ہے۔ اس کا تجربہ مجھے بھی ہے۔ اور اس کا اظہار کرتے ہوئے شرمندگی بھی ہوتی ہے۔ ہندوستانی مجموعی طور پر دوستانہ رویہ رکھنے والے لوگ ہیں۔ جبکہ ہم ہر وقت آگ اگلنے پر تیار۔ ان کے اجتماعی لاشعور میں بنیادی اخلاقی رویے پنپ چکے ہیں جبکہ ہم اخلاقی طور پر ان سے پیچھے ہیں اور مجھے اس پر شرمندگی ہے۔ دوسری بات یہ اپنے جاوید اقبال صاحب نے بیان کردی ہے۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:32 صبح

@جعفر, اور میں آپ کی دونوں باتوں سے متفق ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایڈ کرنا چاہوں گا کہ ہندو دوستانہ رویے کو عیارانہ رویہ کہا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے. اور میں یہ ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں
کدی اناں دی چھری تھلے آ کے ویکھنا، تے ہتھ ہولے دی امید نہ رکھنا

عبداللہ
مارچ 5 , 2010 بوقت 2:38 صبح

@ڈفر،بس وہی بات ہے کہ جس کا جب چانس لگ جائے!
لیکن اگر دشمن میں بھی کوئی اچھائی ہو تو اسے تسلیم کرنا میرے نزدیک اعلی ظرفی کی نشانی ہے :smile:

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 3:08 صبح

@عبداللہ, تسلیم تو میں کرنگ
لیکن ساتھ یہ بھی سیئنگ کہ اکثر ہندو کا اخلاق صرف بولنے اور بات چیت کی حد تک ہی دیکھ سکتے ہیں

عبداللہ
مارچ 5 , 2010 بوقت 3:33 صبح

@ڈفر،اسی لیئے تو اللہ نے ہمیں عقل سلیم سے نوازا ہے :razz:

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 3:50 صبح

@عبداللہ, جی سر :|

مارچ 3, 2010 بوقت 11:37 شام
 2 

پاء جی تہواڈیاں گلاں مینوں اج کل سمجھ نی آندیاں…. اے کوئی تیجی پوسٹ ہو گئی ہے :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 4 , 2010 بوقت 4:14 شام

@عمر احمد بنگش, یار مجبورا بلاگتا ہوں ورنہ بلاگی قبض ابھی بھی جاری ہے۔ ان حالات مین ایسی ہی پوسٹیں آئیں گی نا :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 4, 2010 بوقت 12:37 صبح
 3 

ڈفر مجھے تو یہ شرلک ہومز اینڈ ڈاکٹر واٹسن کی کہانی لگ رھا ہے ۔ :cool:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 4 , 2010 بوقت 4:16 شام

@کنفیوز کامی, یار یہ شرلک ہولمز کا نام تو تھوڑا بہت سنا ہے پر اس ڈاکٹر واٹسن کو ونڈوز کی حد تک جانتا ہوں۔ مجھے اس کمنٹ کی بالک ل سمجھ نہیں آئی اس سے مجھے اپنی تحریر کی کوالٹی کا پتا چلتا ہے :cry:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

کنفیوز کامی
مارچ 4 , 2010 بوقت 4:32 شام

@ڈفر, نا جی نا تحریرواقعی بہت اچھی ہے یو اے ای کی لوکیشن کا نقشہ بہت زبردست کھینچا ہے موضوع بھی اچھا ہے بس سفید ٹانگوں کا ذکر گول ہو گیا ۔ :roll:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 4 , 2010 بوقت 4:55 شام

@کنفیوز کامی, سفید ٹانگوں کا ذکر چل پڑا تو یہ بلاگ فل ریٹدبلاگ ہو جائے گا اور اس کا نام ڈفرستان سے ریٹستان پڑنے کا خطرہ ہے

بلوُ
مارچ 7 , 2010 بوقت 10:23 شام

@ڈفر, دل چھوٹا نا کرو تحریر ٹھیک ہی ٹھاک ہے
:grin: :grin: :grin:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 4, 2010 بوقت 3:23 صبح
 4 

کمال ہے جناب بہت خوب لکھا ہے انصاف کے بارےمیں تو میں نہیں جانتا لیکن لکھا خوب ہے آپ نے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 4 , 2010 بوقت 4:14 شام

@خرم ابنِ شبیر, شکریہ جناب کہ کسی کو تو سمجھ آئی :grin:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

خرم ابنِ شبیر
مارچ 4 , 2010 بوقت 4:22 شام

@ڈفر, یعنی اب میں سمجھداروں میں شامل ہو سکتا ہوں :D

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 4 , 2010 بوقت 4:56 شام

@خرم ابنِ شبیر, اوئے :shock:
میرا مطلب تھا ڈفر ہوتے جا رہے ہیں آپ بھی :mrgreen:

مارچ 4, 2010 بوقت 3:26 صبح
 5 

یہ گھومی ہوئی اور سوچوں ہی سوچوں میں گردش کرتی ہوئی تحریریں مجھے بہت پسند ہیں، مبارکباد اتنی اچھی تحریر لکھنے کی اور شکریہ اتنی اچھی تحریر پڑھوانے کا.. .

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 4 , 2010 بوقت 4:17 شام

@اسید, یار بیستی کرنی تو سیدھی طرح کر۔ دیکھ عمر لالے کی مجھے یہی بات اچھی لگتی ہے لپیٹتا نہیں سیدھا سیدھا کہہ دیتا ہے :oops:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 4, 2010 بوقت 1:26 شام
عبداللہ
 6 

ذبردست تحریر!
لگے رہیں خود احتسابی اچھی چیز ہوتی ہے :cool:
آپکا بلاگی قبض بلاگی اسہال سے ذیادہ بہتر ہے :razz:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:08 صبح

@عبداللہ, لیکن سر جی آپ جانتے نہیں دونوں کی تکلیف میں زمین آسمان کا فرق ہے؟ :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

منیر عباسی
مارچ 5 , 2010 بوقت 10:04 شام

@ڈفر,

ہاہاہاہاہ
جس پہ گزرتی ہے اسے ہی پتہ ہوتا ہے کیسے گزر رہی ہوتی ہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 11:04 شام

@منیر عباسی, :mrgreen: اور کیا

مارچ 4, 2010 بوقت 8:51 شام
 7 

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
ڈفربھائی، آپ کی یہ تحریر بھی دل کوچھولینےوالی ہےاورواقعی میں ہمیں بہت کچھ سوچنےپرمجبورکرتی ہےاگرہم محسوس کریں۔ ایک ٹیکسی ڈارئیورجوکہ عموماانپڑھ ہی ہوتےہیں۔ کتنی انصاف کی باتیں کررہاہےبلکہ غریب ہمیشہ ہی انصاف پسندہی ہوتاہےلیکن ہم جیسےپڑھےلکھے کم انپڑھ زیادہ انکوکسی کھاتےمیں نہیں ڈالتےلیکن حقیقت یہ کہ وہ حقیقت سےزیادہ قریب ہوتےہیں ہماری نسبت کیونکہ ان کادماغ اتناڈیپریشن سےبھرانہیں ہوتاناں بھائی۔۔۔ ۔ ۔ :cry:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:11 صبح

@جاویداقبال, بالکل درست کہہ رہے ہیں آپ جاوید صاحب. ہم اپنے سماجی مرتبے، تعلیمی قابلیت اور پیسے پر اتنے مغرور ہیں کہ صحیح غلط کی پہچان ہی بھلا بیٹھے ہیں اور اس سے بڑی لعنت یہ ہے کہ اسے دوبارہ یاد بھی نہیں کرنا چاہتے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 4, 2010 بوقت 9:20 شام
 8 

کون کہتا ہے کہ موت آئے گی اور میں مر جاؤں گا…
میں توٹیکسی ڈرائیور ہوں یار کٹ مار کے نکل جاؤں گا.
ڈرایئوروں کی بھی اپنی اپنی ۃوشیارہاں ہیں، ڈرائور ڈفر سے انعا م و اکرام وصول کرنے کے چکروں میں تھا. اچھی ڈیل جو کی تھی. لیکن جیسے ہی پتہ چلا سالا پاکستانی ہے تو سوچا ہو گا یہ تو مجھ سے بھی اگلوا لے گا لیکن کیا ہو سکتا تھا ” ڈیل تو اب ہو چکی تھی “

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عبداللہ
مارچ 5 , 2010 بوقت 12:48 صبح

@لالے کی جان, چچ چچ ،بڑا افسوس ہوا کہ اس سے آگے آپکی سوچ کے پر جلتے ہیں :razz:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

لالے کی جان
مارچ 6 , 2010 بوقت 1:16 صبح

@عبداللہ, بھیا ٹینشن نہیں لینے کا ہے میں بھی پاکستانی ہوں. مزاق بھی تو اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کیے جاتے ہیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:14 صبح

@لالے کی جان, شائد ایسا ہی ہو یار لیکن اس وقت میں اتنے ٹرانس مں تھا کہ میرا ذہن اس بات کو کسی اور طرح سمجھ ہی نہیں سکا. للیکن ابھی بھی میرا خیال ہے کہ ڈرائیور کیایسی کوئی نیت نہیں تھی. کیونکہ ایک تو یہاں ٹیکسی ڈرائیور کو ٹپ کا رواج نہیں اور دوسرے پاسکتان سے باہر میں نے کبھی ٹپ دی بھی نہیں :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 5, 2010 بوقت 12:32 صبح
 9 

بھائی! بات تو درست ہے کہ ہماری اخلاقی حالت بہت “پتلی“ ہے۔ جبکہ بھارتی مسلمانوں میں آداب اور اخلاقیات وغیرہ ابھی باقی ہیں۔ شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ہم اپنے مذہب اسلام کی بنیادی باتوں پہ غور نہیں کرتے جس سے سب سے پہلے انسانی اخلاق تعمیر ہوتا ہے اور دیگر معاملات بعد میں آتے ہیں۔ جس قوم کو ہیرا پھیری، بدیانتی۔ چغل خوری، غیبت، جھوٹ، خیانت، بدزبانی وغیرہ مذھباََ اور معاشرتی طور پہ منع ہو ، وہ پھر بھی ان سب مندرجہ بالا برائیوں میں طاق ہوں تو یہ ایک المیہ ہے۔ مگر یہ بات بھی درست ہے کہ بھارتی ھندوؤں کے ساتھ جن پاکستانی بھائیوں کو واسطہ پڑا ہے اور انھوں نے معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے ، درپیش معاملات کو سطحی نظر کی بجائے باریک بینی سے دیکھا ہے وہ اس بات کی تصدیق کریں گے ۔ کہ بھارتی ہندؤ کسی بھی موقعے کو مسلمانوں اور خاص کر پاکستانیوں کا پتہ کاٹنے کو ضائع نہیں جانے دیتے۔ اسلئیے ہوشیار باشد ۔

نوٹ۔: اپنے آپ کو بزعم خویش اسیکولر اور فرزندِ ھندؤستان سمجھنے اور اسکا پروپگنڈہ کرنے والوں کو پیشگی انتباہ کہ یہ نتیجہ ہر قسم کے تعصب سے بالا ہو کر نکالا گیا ہے،

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 7 , 2010 بوقت 11:08 شام

@جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین, سر جی میں آپ کی بات سے حرف بحرف متفق ہوں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 7, 2010 بوقت 9:15 شام
 10 

took a while to read it but i enjoyed every bit…its true that most of the time the qualities we appreciate in others and try to adopt it soon after we walk away from that person we still behave the way we have been behaving with no change

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 10 , 2010 بوقت 10:37 صبح

@YWB, شکریہ جی :smile:
بڑے عرصے بعد کمنٹا آپ نے ڈفرستان پر
کوئی ناراضگی؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 10, 2010 بوقت 5:40 صبح
 11 

جاوید چوہدری کے کالم زیادہ پڑھے جارہے ہیں کیا؟ :razz: ویسے تحریر بہت اچھی لکھی ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 11 , 2010 بوقت 1:08 صبح

@عمار ابنِ ضیاء, نہ یار، اسکو تو سال سے اوپر ہو گیا پڑھے ہوئے
ہاں اس کے جانشین کے کالم ضرور پڑھتا ہوں اس کے بلاگ پر :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جعفر
مارچ 11 , 2010 بوقت 11:52 صبح

@ڈفر, :lol: :lol:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 10, 2010 بوقت 5:09 شام
وجاہت
 12 

یار یہ کیا ہے؟
http://hubpages.com/hub/Pray-for-suicide-bombers-in-Pakistan
کیا لکھوں اور کیا کہوں کون صیح ہے کون غلط ؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 13 , 2010 بوقت 10:29 شام

@وجاہت, پڑھ کے کمنٹتے ہیں جی اس پہ بھی
اتنی ٹینشن نہ لیا کریں، جسٹ چل ;-)
اینڈ ویلکم ٹو ڈفرستان :grin:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 13, 2010 بوقت 2:42 شام
 13 

السلام علیکم
ھمممم….. بہت خوب!
آجکل آپ بڑی سنجیدہ سی باتیں لکھ رہے ہیں. . . . یا شاید مجھے ہی ایسا لگ رہا ہے کہ ڈفریاں ذرا کم ہی نظر آ رہی ہیں!! :lol:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 16 , 2010 بوقت 11:49 صبح

@عین لام میم, بس یار کچھ نہ پوچھو
کچھ نہیں لکھنے کو
اور بہت مصروفیات نے گھیرا ہوا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 16, 2010 بوقت 2:19 صبح
 14 

[...] (مکمل تحریر پڑھیں) [...]

اپریل 12, 2010 بوقت 12:00 صبح
Danish
 15 

Nice Indian Blog

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
اپریل 14 , 2010 بوقت 11:56 صبح

@Danish,
This is a Pakistani blog not indian

اسے ذرا جوابیں تو سہی

اپریل 14, 2010 بوقت 11:27 صبح

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog