21
Feb

کس نے مارا ہے پاپا کی جان کو ؟

بھیجا ہے  مہمان نے گندے انڈے میں

1,604 بار دیکھا گیا

لکھاری: لالے کی جان

ہمارے انکل صاحب دفتر سے تھکے ہارے گھر آئے تو دروازے پہ اپنے بیٹے کو روتے ہوئے دیکھ کر مزید پریشان ہو گئے. ”بیٹا کیا بات ہے ? کس نے مارا ہے پاپا کی جان کو؟ مجھے بتاؤ ہم اُس کی کلاس لیتے ہیں ” بیٹا جی کو تھوڑا سا لاڈ ملنے کی دیر تھی کہ مزید اونچی اونچی آواز میں رونے لگے اور سسکیاں بھرتے ہوئے بولے ”پاپا اپنی گھر والی کو سمجھا لو مجھ سے زیادہ فری نہ ہوا کرے. میں نے کھیلنے جانا تھا مجھے نہیں جانے دیا“۔
واقعہ تو بہت چھوٹا سا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ دس سال کا بچہ اتنا بدتمیز کیوں ? اپنی ماں کو ” پاپا کی گھر والی” کہہ رہا ہے ۔
کیا والدین کی تربیت میں کمی ہے یا آجکل کے اساتذہ کی تربیت میں؟ یا ٹی وی ڈراموں نے ہماری نئی جنریشن کو بگاڑا ہے؟
آخر قصور کس کا ہے؟

  • Facebook
  • Twitter
  • Live
  • Digg
  • del.icio.us
  • Google Bookmarks
  • email
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
  • FriendFeed
  • Reddit
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 40

 1 

قصور سب کا ہے.

والدین کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ اولاد کے پاس بیٹھ کر ان کو کچھ سمجھا سکیں. آج کل معاشی تگ و دو اتنی سخت ہو گئی ہے کہ زندہ رہنے کی دوڑ میں بہت سوں کو بہت کچھ قربان کرنا پڑ رہا ہے.

اساتذہ بھی اسی معاشی وجہ کی بنیاد پر قصور وار ٹھہرائے جا سکتے ہیں.

رہ گئی ٹی وی ڈراموں کی بات تو.. اگر والدین اور اساتذہ اپنا اپنا کردار ادا کریں تو پھر یہ ڈرامے اپنا اثر ڈالنے کے قابل نہیں رہتے.

میں ہر گز ان والدین کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا جو ابھی بھی ان حالات میں اپنی اولاد کی بہتر تربیت کے لئے کوشاں ہیں، مگر یہ ہیں کتنے؟

آج کل کے حالات میں جب اکثریت ایک سے زیادہ نوکریاں کر کے اپنے خاندان کی کم سے کم درجے میں کفالت کرنے پر مجبور ہے، کس کے پاس اتنا وقت ہوگا کہ وہ اپنی اس قسم کی “تہذیبی عیاشیاں ” کرے؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

منٹو
فروری 21 , 2010 بوقت 9:26 شام

@منیر عباسی, ”تہذیبی عیاشیاں “ :mrgreen:
بہت خوب جناب، بالکل درست لفظ انوینٹا آپ نے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

منیر عباسی
فروری 22nd, 2010 بوقت 4:00 شام

@منٹو,

درست لفظ تو ہے مگر شائد میں کچھ زیادہ سخت لہجہ استعمال کر گیا.

اتنی تربیت تو اپنے بچوں کو ہر ایک دے ہی دیتا ہے کہ وہ اپنے سے بڑے کو مناسب القابات سے پکارے. میرا خیال ہے مندرجہ بالا صورتحال میں قصور انکل صاحب کا زیادہ لگتا ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 21, 2010 بوقت 8:41 شام
 2 

یار یہ بڑا گھمبیر مسئلہ ہے. اس میں ہر کوئی قصوار ہو گا…… لاڈ پیار ٹھیک ہے مگر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بچے کو آپ سر ہی چڑھا دیں.
میرے خیال میں تو اس بچے کو ٹھیک ٹھاک کٹ پڑنی چاہیے اور پھر اسے سمجھانا بھی چاہیے، اور یہ کیسے سمجھا آپ نے کہ یہ چھوٹا سا واقعہ ہے، میاں وہ اپنی والدہ کے بارے میں کہہ رہا تھا. :(

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 21, 2010 بوقت 9:27 شام
 3 

قصور ہمارا اپنا ہے ۔ جب ہمارا بچہ کوئی غلط بات کسی دوسرے کے لیے کرتا ہے تو ہم ہنستے ہیں اور خوشی سے سب کو بتاتے ہیں کہ آج ہمارے بچے نے یہ کہا ہے اور جب یہی بات کل کو وہ ہمارے لیے کہتا ہے تو اس وقت ہمیں پتہ چلتا ہے
ایک تو یہ وجہ ہے اور دوسری وجہ میری خیال سے اتنی ہے کہ ہم بچوں کے سامنے جیسی باتیں کریں گے ویسی ہی وہ سیکھیں گے اس لیے اس طرح کے مسئلہ آتے ہیں
اور جہاں تک بات استاد صاحب کی ہے تو آج کل ماحول ہی ایسا ہے کہ استاد کی عزت ہی نہیں کی جاتی جو بچہ استاد کی عزت نہیں کرتا وہ کامیاب اور تمیز والا کیسے ہو سکتا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
فروری 21 , 2010 بوقت 9:54 شام

@خرم ابنِ شبیر, یار مسئلہ تو یہی ہے جو والسیں اپنی عزت نہیں سکھا سکتے وہ استاد کی عزت کرنا کیسے سکھائیں گے؟
آج تو اگر استاد کچھ تھوڑا کہہ ہی دے تو اگلے دن ممی ڈیڈی لڑنے پہنچ جاتے ہیں
اور استاد گوڈوں میں سر دے کے معافی مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

خرم ابنِ شبیر
فروری 22nd, 2010 بوقت 2:41 شام

@ڈفر, مجھے اچھی طرح یاد ہے ہمارے علاقے کے ناظم کے بچے کو سکول ٹیچر نے مارا تو دوسرے دن جناب خود سکول تشریف لے گے اور ٹیچر کو طلب کر لیا اور کہا میرا بیٹا جو کچھ مرضی کرے آپ اس کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے آپ نے اگر فیس زیادہ لینی ہے تو لیے لیں لیکن میرے بچے کو نا ماریں اس پر سکول ٹیچر نے پرنسپل سے بات کی تو پرنسپل نے اس بچے کو سکول سے نکال دیا ناظم صاحب نے دوسرے سکول میں یہی شرت رکھ کر بچے کو داخل کر دیا ٹھیک چھ ماہ بعد پتہ چلا وہ لڑکا ایک لڑکی کے لیے کر بھاگ گیا ہے دو دن بعد پکڑنے ہوئے اور پھر ان کی شادی کر دی اس وقت وہ بچہ میٹرک میں پڑھتا تھا۔ پھر جناب ناظم صاحب نے شکایت کی کے استادوں نے اس کی اچھی تربیت نہیں کی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

لالے کی جان
فروری 22nd, 2010 بوقت 9:52 شام

@خرم ابنِ شبیر, برے کاموں کے برے نتیجے

فروری 21, 2010 بوقت 9:35 شام
 4 

کس نے مارا ہے پاپا کی جان کو؟ مجھے بتاؤ ہم اُس کی کلاس لیتے ہیں
اس جملے نے اس بچے کو اتنا حوصلہ دیا جی

اسے ذرا جوابیں تو سہی

لالے کی جان
فروری 22nd, 2010 بوقت 9:39 شام

@بلوُ, جی بالکل میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں. اور جن بچوں کے دل سے باپ کا ڈر نکل جائے وہ بگڑ جاتے ہیں. باقی رہی سہی کسر ہماری سابقہ حکومت ہمارا خواب پڑھا لکھا پنجاب نے نکال دی. جو کہ انہوں نے تمام اساتزہ کو آرڈر جاری کر دیئے کہ
” مار نہیں پیار “.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 21, 2010 بوقت 9:56 شام
 5 

ماں کو ابا کی گھر والی کہنا غلط ہے کیا؟ حقیقت تو یہی ہے۔ ہے کہ نہیں؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

لالے کی جان
فروری 22nd, 2010 بوقت 9:41 شام

@خرم, بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی .

اسے ذرا جوابیں تو سہی

بلوُ
فروری 25 , 2010 بوقت 5:15 شام

@خرم, مذاق اپنی جگہ پر بات اچھی نہیں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 21, 2010 بوقت 11:30 شام
عبداللہ
 6 

الفاظ تو واقعی غلط نہیں البتہ کہنے کا انداز غلط تھا تو ابا کو سرزنش ضرور کرنا چاہیئے ہر بات کا علاج کٹ پڑنا ہی نہیں ہوتا اس سے بچوں کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے :cool:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 21, 2010 بوقت 11:55 شام
arifkarim
 7 

قصور فتنہ دجال کا ہے۔ نہ میرا ہے نہ آپکا۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

luqman
مئی 1 , 2010 بوقت 6:56 شام

@arifkarim, qasoor dajjal ka nahin america ka he
jo kerwa raha he america kerwa ra :roll: ha he

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 22, 2010 بوقت 2:25 صبح
 8 

اس بچے کو تونی لگنی چاھیے
ایک دفعه سپین ميں سکول کے بچوں نے مظاهرھ کیاتھا تو حکام نے چھڑی سے ان کی پٹائی کردی پھر
بس جی بچے کو بچےں هی کی طرح ٹریٹ کریں
ماں کو ایسے بولتا بچه ؟
اس کی تو ـ ـ ـ ـ ـ ـ!ـ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عبداللہ
فروری 22nd, 2010 بوقت 3:08 صبح

@خاور, جیسے آپکی لگی تھی اور پھر بھی آپ نہ سدھرے :razz:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 22, 2010 بوقت 2:32 صبح
 9 

مسئلہ آجکل کے والدين کی نئی نئی پائی ہوئی فکری آزادی ہے جس میں اُنہوں نے کہيں سے پڑھ ليا ہے کہ بچے کو ٹوکنے سے اُس کی خود اعتمادی مجروح ہوتی ہے ۔ يہی طرز عمل بچوں کو غلط راہ پر لے جاتا ہے
دور حاضر کے دو مزيد تحفے ٹی وی کی بے راہروی اور اساتذہ کی لاپرواہی بھی اسی قسم کے ہونہار بنانے ميں ممد ہيں

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عبداللہ
فروری 22nd, 2010 بوقت 8:03 شام

@افتخار اجمل بھوپال, ٹوکنے اور کوٹنے میں بڑا فرق ہوتا ہے ،باقی اپ خود خاصے سمجھدار ہیں :razz:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
فروری 23rd, 2010 بوقت 12:31 صبح

@افتخار اجمل بھوپال, مبارک ہو انکل جی
آپ کو تو میونسپل کمیٹی سے سمجھداری کا سرٹیفکیٹ مل گیا :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عبداللہ
فروری 23rd, 2010 بوقت 3:36 صبح

@ڈفر, آپ کب آرہے ہیں سرٹیفکیٹ لینے :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
فروری 23rd, 2010 بوقت 10:23 صبح

@عبداللہ, ہمارے پاس تو ڈفریات کی اعلٰی ڈگریاں ہیں، ہمیں سمجھداری کی کیا ضرورت؟ اور وہ بھی صرف سرٹیفکیٹ لیول :grin:

فروری 22, 2010 بوقت 11:13 صبح
 10 

کٹ پڑنےسے خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے؟
تو پھر چوروں ڈاکووں کو بھی چھوڑ دیا کریں
آخر ان کی بھی خود اعتمادی ہوتی ہے۔۔
آج ماں کو پاپا کی گھر والی کہتا ہے، کل باپ کو میری ماں دا کھسم کہے گا۔۔۔۔
اور قصور بچے کا نہیں
بلکہ باپ کا ہے اور ماں کا بھی
ایسے باپ کی تو۔۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عبداللہ
فروری 22nd, 2010 بوقت 8:01 شام

@جعفر, یہ تو مجھے پتہ تھا کہ آپ جذباتی ہیں مگر اس قدر جذباتی ہوں گے اس کا انداذہ نہیں تھا :razz:
ایک دس سال کے بچے کی معصومانہ بات پر اسے چوروں اور ڈاکوؤں سے ملا دیا :shock:
اگر آپ کو بچپن میں بہت کٹ پڑی ہے تو اس کا انتقام آپ آنے والی نسلوں سے لیتے رہیں گے؟
بڑے افسوس کی بات ہے :lol:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

بلوُ
فروری 26 , 2010 بوقت 7:21 شام

@عبداوم,کہیں وہ دس سالہ بچہ آپ خود تو نہیں؟؟؟؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عبداللہ
فروری 27 , 2010 بوقت 1:19 صبح

@بلوُ, آپ شائد اپنا دماغ کہیں رکھوا کر بلاگس پڑھتے اور تبصرے کرتے ہیں :mrgreen: :lol:

فروری 22, 2010 بوقت 11:20 صبح
سعود
 11 

بھائی قصور، قصور والوں کا ھی ہے نا کہ لاہور والوں کا اور نا ہی پنڈی والوں کا.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 22, 2010 بوقت 1:45 شام
 12 

بچے تو بچے ہوتے ہیں ، قصور ہماراہے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

لالے کی جان
فروری 22nd, 2010 بوقت 9:43 شام

@تلخابہ, آپ کہنا چاہتے ہیں کہ
” داغ تو اچھے ہوتے ہیں ” ؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 22, 2010 بوقت 3:06 شام
 13 

میری بچی تین سال کی ہو گئ ہے اس تمام عرصے میں اسے کبھی ہلکا سا ہاتھ بھی نہیں پڑا. کٹ لگنا تو دور کی بات ہے. اسکے لئیے صرف یہ دھمکی کافی ہوتی ہے کہ اب آپ سے میں بات نہیں کرونگی یا کوئ بھی شخص جو انکے نخرے اٹھاتا ہے اسکا یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ وہ ان سے بات نہیں کریگا. وجہ اس تربیت کی ہے جو ہم بحیثیت ایک خاندان بچے کو دے رہے ہیں.
ہم سب اپنی اپنی مصروفیت کے باوجود اپنا ردعمل انکے لئیے ایک جیسا رکھتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ ماما نے کسی چیز کے لئے منع کر دیا اور بابا وہ کام کر ڈالین یا دادا اور دادی میں سے یا گھر میں کوئ اور شخص اسے کرے. یہی میرے گھر کا اصول ہے.
عام طور پہ یہ دیکھا گیا ہے کہ لڑکوں کو اس طرز عمل پہ شہہ دیجاتی ہے اور جب وہ اپنی مائووں کو برا کہتے ہیں یا اکثر بچے اپنی مائووں کو مار بھی لیتے ہیں تو کوئ انہیں سرزنش نہیں کرتا. بلکہ سب ہنستے رہتے ہیں. ایسی باتوں پہ ہنسنا زہر کے برابر ہے. اگر بچے غلطی کرتے ہیں تو سب گھر والوں کو اسے غلطی کے طور پہ لینا چاہئیے اور کسی ایک شخص کو بھی ان سے ہمدردی نہیں دکھانی چاہئیے. شوہر صاحبان کا طرز عمل بھی اپنی بیگمات کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے اور بچے اسکی نقل اتارتے ہیں. ایسا نہیں کہ یہ بچے توجہ نہ ملنے کے باعث ایسے ہوجاتے ہیں درحقیقت یہ ان مائووں کے بچے ہوتے ہیں جو سارا دن گھر میں اپنا ‘قیمتی وقت ‘ انکی تربیت میں لگاتی ہیں. لیکن بحیثیت ایک خاندان ان میں تہذیب نہیں ہوتی.
مجھے یاد ہے ہم بچپن میں اپنے ماں باپ کیماتھے کی شکن بھی سمجھتے تھے. آج بھی کم از کم میرے گھرانے میں بچوں کی اس بد تہذیبی کا نہ تصور کیا جاتا ہے اور نہ وہ ایسا کرتے ہیں. حالانکہ سبھی معاشی جدو جہد میںمصروف ہیں. اسکی وجوہات یہ نہیں ہیں بلکہ بطور خاندان یہ ایک ناکامی ہے.
میں ذاتی طور پہ بچوں کی پٹائ یعنی کٹائ لگانے کی سخت مخالف ہوں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ میں، میری بچی کے والد اور انکے والدین ہم سب اس چیز کے حق میں نہیں.
میری بچی کو معلوم ہے کہ ٹی وی پہ کونسے مخصوص پروگرام اسکے ہیںاور کون سا وقت اسکا ہے. بچوں کے اکثر ٹی وی پروگرام میں اسکے ساتھ بیٹھ کر دیکھتی ہوں اور اس طرح انکو بتاتی رہتی ہوں کہ اس میں دراصل کیا انفارمیشن موجود ہے اور اس طرح یہ پروگرامز میری اسکریننگ میں رہتے ہیں. بس میرا ٹی وی ٹائم یہی ہے. میں اپنے طور پہ ٹی وی نہ دیکھنے کے برابر دیکھتی ہوں.
اور اس ساری چیز کے باوجود کہ میری بیٹی اکثر حالات میں بالکل نچا دیتی ہے وہ اوسط بچوں سے زیادہ ایکٹو ہے اور پلاننگ میں خاصہ دماغ خرچ کرتی ہے.میں نےپٹائ کا طریقہ بالکل استعمال نہیں کیا. میری بیٹی پھر بھی میرے چہرے کے تائثرات سمجھتی ہے وہ مجھ سے یہ سوال پوچھ لیتی ہیں کہ آپ مجھے ناراض ہو کر کیوں دیکھ رہی ہیں. اور جب وہ سوری کہہ لیتی ہیں تو مجھ سے کہتیں ہیں کہ میں انکو ہنس کہ دکھائووں تاکہ یہ کنفرم ہو جائے کہ سوری قبول ہو گئ ہے..تو اس عمر میں وہ تہذیب رکھتی ہے جس پہ ہم سب کو فخر ہے. اور جس کی وجہ سے لوگ اس سے مل کر خوش ہوتے ہیں.
بچوں کی کسی بھی تربیت سے پہلے والدین کو اسکا ماڈل بننا پڑتا ہے. اور آپس میں ہم آہنگی نہ صرف رکھنا پڑتی ہے بلکہ بچوں کو دکھانی بھی پڑتی ہے.
باقی رہا اسکول کا مسئلہ تو اوروں کا تو نہیں معلوم میں اپنے بچوں کو کسی ایسے اسکول میں نہ ڈالوں جہاں انکی پٹائ لگائ جائے. مارنے کے علاوہ بھی ہزار طریقے ہوتے ہیں اور اس لئیے استاد ہونے کی تربیت دی جاتی ہے ورنہ تو کوئ بھی ہاتھ میں چھڑی لیکر پڑھانا شروع کر دے. ارے بھئ انسان کو پڑھا رہے ہیں جانور کو نہیں. جو بچے پٹتے ہیں انکی نظر میں اپنی عزت بھی نہیں رہتی اور دوسروں کی بھی نہیں رہتی. آج خود پٹ رہے ہیں کل کسی اور پہ اپنا غصہ اسی طرح نکالیں گے.کیونکہ یہی انکی تربیت ہے. زیادہ پٹائ کی صورت میں بچے بے کہے اور ڈھیٹ ہوجاتے ہیں. سوچ لیتے ہیں کیا ہوا ذرا سی پٹائ ہی تو لگے گی. کریں گے تو وہی جو دل چاہ رہا ہے.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

جعفر
فروری 23rd, 2010 بوقت 10:48 صبح

@عنیقہ ناز, بالکل درست۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

انکل ٹام
فروری 24 , 2010 بوقت 4:54 صبح

@عنیقہ ناز,
آپ کی پوسٹ سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا . انشااللہ میں اسکو دماغ میں رکھوں گا . اور وقت آنے پر اپنی زندگی میں بھی اپلای کروں گا .

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 23, 2010 بوقت 12:46 صبح
 14 

یارہم سب سے زیادہ ایک زنانی وہ بھی شہرن زیادہ عقل کی بات کر ہی ہے اور ہم دس دس سال کے پھول جیسے معصوم بچوں کی تونی لگانے کی وکالت اور معاشرے کی مجموعی بے راہ روی پر تبصرے فرما رہے ہیں . ہم تشدد کی وکالت آخر کیوں کرتے ہیں . کیا نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے بھی کبھی کسی بچے کو ڈانٹا یا پھول سے بھی مارا تھا . میرے خیال میں مار ہماری قبائلی ذہنیت کا نتیجہ ہے .

اسے ذرا جوابیں تو سہی

لالے کی جان
فروری 23rd, 2010 بوقت 11:47 شام

@محمد ریاض شاہد, لالا جی تشدد کا تو کسی نے آرڈر جاری نہیں کیا یہاں. البتہ بچوں کی ہلکی پھلکی پٹائی ہونی چاہئے اگر وہ نافرمان ہوں تو کیوں کہ ہم نے علمائے کرام سے سنا ہے کہ جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کے لئیے اپنے ساتھ لے کر جاؤ اور جب وہ دس سال کا ہو جائے اور نماز نہ پڑھے تو اسے پٹائی کے ساتھ لے کر جاؤ تشدد تو کوئی بھی والدین اپنے بچوں کے ساتھ نہیں کرتا..

اسے ذرا جوابیں تو سہی

انکل ٹام
فروری 24 , 2010 بوقت 4:56 صبح

@لالے کی جان,
صحیح کہا آپ نے . لیکن یہ تو اس وقت ہو گا نہ جب ضرورت پڑے گی . اگر ضرورت ہی نہ پڑے تو بغیر کسی وجہ کے مارنا کہاں کا انصاف ہوا ؟؟؟ اور پٹای بھی تھوڑی بہت ہے . پاکستان میں دیکھے ڈنڈے توڑ دیتے ہیں بچوں پہ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 23, 2010 بوقت 1:32 شام
 15 

محترم لالہ صاحب
مجحھے علماء سے زیادہ اسلام کی فہم تو نہیں مگر جو قرآن دین کے معاملات میں بڑوں سے زبردستی کا قائل نہیں وہ بچوں کے ساتھ تشدد کا قائل کیسے ہو سکتا ہے . دین تو محبت کا نام ہے . آپ اپنے بچے کو مار کر مسلمان بنائیں گے تو اسی طرح کے مسلمان بنیں گے جو نماز میرا فرض اور چوری ، سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی وغیرہ کو میرا پیشہ قرار دیں گے .

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عبداللہ
فروری 24 , 2010 بوقت 2:49 صبح

@محمد ریاض شاہد, واہ جناب دل خوش کردیا :lol:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 24, 2010 بوقت 12:08 صبح
 16 

میری ذاتی رائے میں بچوں اور خاصکر معصوم بچوں کو مارنا۔ اُنھیں جسمانی یا ذہنی ایذا دینی ایک قبیح فعل ہے۔کسی بچے کو ذہنی یا جسمانی ایذا دیتے وقت اکثر اوقات ہم اسے کچھ سکھانے کی بجائے اس کی کسی حرکت پہ اپنا غصہ اتار رہے ہوتے ہیں جو انتہائی غیر انسانی فعل ہے۔اس سے بچہ کچھ نہیں سیکھتا۔

کسی قوم کا مستقبل سنوارنا ہے تو انھیں پیار سے سمجھائیں اور محبت کیساتھ شعور و آگہی سے آراستہ کریں۔ وگرنہ مار پیٹ سے ایسے ہی معاشرے وجود میں آتے ہیں جیسا پُرتشدد معاشرہ ہمارا ہے۔

دنیا بھر کے علم معاشریات اور نفسیات کے ماہرین اس بات پہ متفق ہیں کہ بچوں کو جسمانی و ذہنی سزا کا بنیادی تعلق بجائے خود بچوں کے بڑوں کے گذرے ہوئے بچپن سے متعلق ہوتا ہے۔ اگر ان بڑوں کو بچپن میں سزا ملی تو پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور یہ ایک چین ہے جو نسل در نسل چلتا ہے اور اسکا تعلق بچوں کی اصلاح سے زیادہ خاندانی ماحول سے ہوتا ہے۔

بچوں کی تربیت ایک ہمہ وقت اور صبر آزماء فرض ہے جس میں سب سے پہلے یہ ذمہ داری والدین اور گھر کے بڑوں پہ عائد ہوتی ہے۔ مندرجہ بالا واقعہ میں قصورا وار بچے کے والدین ہیں جنہیں بچے کی بروقت تصحیح کرنی چاہئیے تھی۔ پیار اور بدتمیزی میں فرق ہر لحظہ بچوں کو بتاتے رہنا چاہئیے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 26, 2010 بوقت 7:07 صبح
 17 

Salam to you Duffer bhai.. How beautifully you pointed a problem of out society..

I like to say k this trend is in building process, Pakistan mei ye issue kuch arse pehle nai tha.. but WE ARE COPYING THE EAST

اسے ذرا جوابیں تو سہی

مارچ 17, 2010 بوقت 6:32 شام

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog