خیر سے کے عمر ہو گئی تمہاری؟
جی تیس سال
لگتی تو نہیں، شادی ہو گئی تمہاری؟
جی نہیں
او ہّو، اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ نآء ۔25 آخری ہوتی ہے۔ تم تو بس اب اپنے آپ کو امپوٹینٹ ہی سمجھو۔ اب تم کسی کام کے نہیں۔ ابو سے ملوانا مجھے، میں بات کروں گا ان سے (کیا بات؟ کہ اب اس کی فکر کرنا چھوڑ دیں یہ امپوٹینٹ ہو گیا ہے، یا یہ کہ اس کے کاکوں کا بندوبست ابھی سے کر لو شادی جب مرضی کرنا
)
یہ تھی روداد ہمارے ایک یار، جس کی بابوں سے بہت دوستی رہتی ہے، اور ایک عدد بابا جی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی۔
میں تو موقع پر موجود نہیں تھا لیکن یار لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے منہ کو بواسیر ہے (کہتا تو میرا باس بھی یہی تھا لیکن لفطوں کے استعمال میں بڑا محتاط تھا) اور اگر بابا جی میرے سامنے یہ بات کرتے تو میں تو ضرور پوچھتا ”آپ اور آپ کے بچوں کی عمروں میں فرق دیکھ کر یہ پوچھنے کو دل کرتا ہے کہ ”اللہ خیر کرے“ نکے کی پیدائش کے ٹیم کے عمر ہو گی جناب کی؟“ نہیں نہیں میں تو بابا جی سے ضرور پوچھتا کہ اتنا گالی نما کنٹراورشل موضوع چھیڑنے اور اس عمر میں جوگی بننے کو ”آپ کا اتنا من کاہے کوکرتا ہے؟“
ہمیں تو یہ بات سننے کو ملی ہمارے دوسرے یار سے جسکی اپنی شادی حال ہی میں 35 سال کی عمر میں ہوئی ہے۔یہ بات بھی ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بات بتاتے ہوئے ہمارے اِس یار کے جو بیش بہا دانت نکل رہے تھے اس کی وجہ بابا جی کی لا علمی ہے یا بابا جی کے بے عرق تجرباتی علم نے اسکی دماغی حالت پر واقعی اثر کر دیا تھا؟
ہمارے تیسرے یار المعروف ”ٹینڈر“ کا کہنا ہے کہ ”چونکہ ہم شادی کے وقت اس علم سے محروم تھے اس لئے اس علم کا ہم پر35 سال کی عمر میں شادی کرنے کے باوجود اطلاق نہیں ہو گا، ثبوت کے طور پر ہمارے پاس “رسید“ بھی ہے“، لو جی ! یہ کیا بلدیاتی الیکشن ہے یا صدارتی چناؤ کہ نہیں پتا تھا تو اس لئے امپوٹینٹ نہیں یا امپوٹینسی سے مثتثنٰی ہیں۔اور ہم جو آج تک پوٹینسی کے زعم میں مبتلا رہے اب اس فکر میں مبتلا ہو چلے ہیں کہ ہم تو سالوں سے کام کے رہے نا کاج کے اور ہمیں خبر ہی ناہوئی؟ اور رسید کی خوب کہی، اگر رسید کی بات کرو گے تو ہم تو فیر کہیں گے کہ دکھاؤ کہاں لکھا ہے رسید پہ تمہارا نام۔
بابا جی کی معلومات کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کرنے کی تو ہم میں اہلیت نہیں نا ہی ہم پوٹینسی، امپوٹینسی کو جانچنے کے کسی سٹرپ نما طریقے سے واقف ہیں لیکن بابا جی کے نا نظر آنے والے تجربے کہ ”اب تم کسی کام کے نہیں“ نے ہماری سوچوں کا محور ان یادوں کو بنا دیا جن سے بابا جی کی تھیوری کو کافی تقویت ملتی ہے۔ وہ ایسے کہ ہمارے دوست عبدالجبار کی میٹرک کے پرچوں کے فوراً بعد شادی ہو گئی تھی اور جب ہم نے یونیورسٹی سے فراغت کے بعد پارٹی تھرو کی تو عبدالجبار صاحب کا بیٹا مٹھائی لے کر پہنچا اور کہنے لگا ”ابونے مٹھائی بھیجی ہے اور کہہ رہے ہیں میں شام کو دکان سے واپسی پر چکر لگاؤں گا“
یہ بات سننا تھی کہ ہمارے اعزاز میں دی گئی پارٹی ،بد تمیز شرکاء کی طرف سے ہماری ڈگریوں اور عبدالجبار کے بیٹے کا موازنہ نا قابل بیان نعروں نما مکالموں میں کرنے سے، کشت زعفران بن گئی۔ آج ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے اس دن کی بے عزتی کو تھوڑا سیریس لیا ہوتا اور امپوٹینسی کا بروقت سدّ باب کرنے کے لئے اس وقت کوئی جوگاڑ کر لی ہوتی تو آج ہم امپوٹینٹ ہونے کے خوف میں مبتلا نا ہوتے ۔ لیکن اب تو اس بات کو بھی اتنا وقت گزر گیا ہے کہ اگر عبدالجبار اپنے اماں ابا کے نقش قدم پر چلا تو ہمارے جلد از جلدبھی کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے ، اس کا کاکا پوٹینسی ٹیسٹ پاس کر لے گا۔
اب ذرا فٹ کریں ہماری جگہ اس قوم کو، بابا جی کی جگہ اس حکومت کو، پوٹینسی امپوٹینسی کے مسئلے کی جگہ بجلی ،گیس،چینی کے ایشو کو اور ٹینڈر کی جگہ دیں اپنے گیلے گیلے گیلانی صاحب کو۔
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔















ابتک تبصرہ جات 20
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں