4
Feb

پوٹینسی امپوٹینسی ٹیسٹ

بھیجا ہے  ڈفر نے کُچھ نا پُچھ, گندے انڈے میں

1,467 بار دیکھا گیا

خیر سے کے عمر ہو گئی تمہاری؟
جی تیس سال
لگتی تو نہیں، شادی ہو گئی تمہاری؟
جی نہیں
:shock: او ہّو، اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ نآء ۔25 آخری ہوتی ہے۔ تم تو بس اب اپنے آپ کو امپوٹینٹ ہی سمجھو۔ اب تم کسی کام کے نہیں۔ ابو سے ملوانا مجھے، میں بات کروں گا ان سے (کیا بات؟ کہ اب اس کی فکر کرنا چھوڑ دیں یہ امپوٹینٹ ہو گیا ہے، یا یہ کہ اس کے کاکوں کا بندوبست ابھی سے کر لو شادی جب مرضی کرنا :D )
یہ تھی روداد ہمارے ایک یار، جس کی بابوں سے بہت دوستی رہتی ہے، اور ایک عدد بابا جی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی۔
میں تو موقع پر موجود نہیں تھا لیکن یار لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے منہ کو بواسیر ہے (کہتا تو میرا باس بھی یہی تھا لیکن لفطوں کے استعمال میں بڑا محتاط تھا) اور اگر بابا جی میرے سامنے یہ بات کرتے تو میں تو ضرور پوچھتا ”آپ اور آپ کے بچوں کی عمروں میں فرق دیکھ کر یہ پوچھنے کو دل کرتا ہے کہ ”اللہ خیر کرے“ نکے کی پیدائش کے ٹیم کے عمر ہو گی جناب کی؟“ نہیں نہیں میں تو بابا جی سے ضرور پوچھتا کہ اتنا گالی نما کنٹراورشل موضوع چھیڑنے اور اس عمر میں جوگی بننے کو ”آپ کا اتنا من کاہے کوکرتا ہے؟“
ہمیں تو یہ بات سننے کو ملی ہمارے دوسرے یار سے جسکی اپنی شادی حال ہی میں 35 سال کی عمر میں ہوئی ہے۔یہ بات بھی ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بات بتاتے ہوئے ہمارے اِس یار کے جو بیش بہا دانت نکل رہے تھے اس کی وجہ بابا جی کی لا علمی ہے یا بابا جی کے بے عرق تجرباتی علم نے اسکی دماغی حالت پر واقعی اثر کر دیا تھا؟
ہمارے تیسرے یار المعروف ”ٹینڈر“ کا کہنا ہے کہ ”چونکہ ہم شادی کے وقت اس علم سے محروم تھے اس لئے اس علم کا ہم پر35 سال کی عمر میں شادی کرنے کے باوجود اطلاق نہیں ہو گا، ثبوت کے طور پر ہمارے پاس “رسید“ بھی ہے“، لو جی ! یہ کیا بلدیاتی الیکشن ہے یا صدارتی چناؤ کہ نہیں پتا تھا تو اس لئے امپوٹینٹ نہیں یا امپوٹینسی سے مثتثنٰی ہیں۔اور ہم جو آج تک پوٹینسی کے زعم میں مبتلا رہے اب اس فکر میں مبتلا ہو چلے ہیں کہ ہم تو سالوں سے کام کے رہے نا کاج کے اور ہمیں خبر ہی ناہوئی؟ اور رسید کی خوب کہی، اگر رسید کی بات کرو گے تو ہم تو فیر کہیں گے کہ دکھاؤ کہاں لکھا ہے رسید پہ تمہارا نام۔
بابا جی کی معلومات کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کرنے کی تو ہم میں اہلیت نہیں نا ہی ہم پوٹینسی، امپوٹینسی کو جانچنے کے کسی سٹرپ نما طریقے سے واقف ہیں لیکن بابا جی کے نا نظر آنے والے تجربے کہ ”اب تم کسی کام کے نہیں“ نے ہماری سوچوں کا محور ان یادوں کو بنا دیا جن سے بابا جی کی تھیوری کو کافی تقویت ملتی ہے۔ وہ ایسے کہ ہمارے دوست عبدالجبار کی میٹرک کے پرچوں کے فوراً بعد شادی ہو گئی تھی اور جب ہم نے یونیورسٹی سے فراغت کے بعد پارٹی تھرو کی تو عبدالجبار صاحب کا بیٹا مٹھائی لے کر پہنچا اور کہنے لگا ”ابونے مٹھائی بھیجی ہے اور کہہ رہے ہیں میں شام کو دکان سے واپسی پر چکر لگاؤں گا“
یہ بات سننا تھی کہ ہمارے اعزاز میں دی گئی پارٹی ،بد تمیز شرکاء کی طرف سے ہماری ڈگریوں اور عبدالجبار کے بیٹے کا موازنہ نا قابل بیان نعروں نما مکالموں میں کرنے سے، کشت زعفران بن گئی۔ آج ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے اس دن کی بے عزتی کو تھوڑا سیریس لیا ہوتا اور امپوٹینسی کا بروقت سدّ باب کرنے کے لئے اس وقت کوئی جوگاڑ کر لی ہوتی تو آج ہم امپوٹینٹ ہونے کے خوف میں مبتلا نا ہوتے ۔ لیکن اب تو اس بات کو بھی اتنا وقت گزر گیا ہے کہ اگر عبدالجبار اپنے اماں ابا کے نقش قدم پر چلا تو ہمارے جلد از جلدبھی کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے ، اس کا کاکا پوٹینسی ٹیسٹ پاس کر لے گا۔
اب ذرا فٹ کریں ہماری جگہ اس قوم کو، بابا جی کی جگہ اس حکومت کو، پوٹینسی امپوٹینسی کے مسئلے کی جگہ بجلی ،گیس،چینی کے ایشو کو اور ٹینڈر کی جگہ دیں اپنے گیلے گیلے گیلانی صاحب کو۔

  • Facebook
  • Twitter
  • Live
  • Digg
  • del.icio.us
  • Google Bookmarks
  • email
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
  • FriendFeed
  • Reddit
گھبرائیں مت ، اب آ ہی گئے ہیں تو اپنی رائے دیجئے اور ٹریک بیک کر یں۔

ابتک تبصرہ جات 20

 1 

زبردست ڈفر بھیاء آخری بات ساری پوسٹ کا غصہ ختم کر دیتی ہے ۔موضوع بہت سنجیدہ ہے مگر توجہ کا مرکز امپوٹینسی ہی بنے گی خاص کر لیڈیز کے لیے ۔ :cool:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

کنفیوز کامی
فروری 7 , 2010 بوقت 4:30 صبح

@کنفیوز کامی, لگتا ہے بھائی لوگوں کو اس پوسٹ پر کمنٹتے شرم آ رہی ہے :oops:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:18 صبح

@کنفیوز کامی, معیوب و بالغانہ الفاظ کا بے دریغ استعمال جو ہوا ہے :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 4, 2010 بوقت 4:24 صبح
 2 

آخری سطر پڑھنے کے بعد، ساری تحریر دوبارہ پڑھنی پڑی۔ تبصرہ بھی دوبارہ سوچنا پڑا۔ ورنہ جو تبصرہ آخری سطر پڑھنے سے پہلے لکھنے کا پروگرام تھا، وہ لکھ دیتا تو یہ سنیاسی باوا کا مطب لگنے لگتا، بلاگ نہیں۔
ڈفر لگتا ہے کہ فارم میں واپس آگیا ہے!

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:18 صبح

@جعفر, یار آخری لائن پڑھے بغیر تبصر نا پلیز :oops:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 4, 2010 بوقت 10:35 صبح
 3 

میں نے پہلی چند سطریں پڑھنے کے بعد آخری ڈھائی سطریں پڑھیں اور پھر درمیانی حصہ ۔ بابے یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ کس تحریر کو کیسے پڑھنا ہے
:lol:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

کنفیوز کامی
فروری 4 , 2010 بوقت 5:46 شام

@افتخار اجمل بھوپال, تجربہ سرکار تجربہ

اسے ذرا جوابیں تو سہی

بلوُ
فروری 4 , 2010 بوقت 6:36 شام

@افتخار اجمل بھوپال, کیا بات ہے

اسے ذرا جوابیں تو سہی

عمر احمد بنگش
فروری 6 , 2010 بوقت 5:16 صبح

اچھا، مجھے تو یہ سمجھ ہی نہیں آئی تھی تحریر اور ابھی یہی لکھنے لگا تھا، چلیں سر جی آپ کے فارمولے پر عمل کرتا ہوں :|

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 4, 2010 بوقت 11:59 صبح
 4 

یار! یہاں کا بابے کیا کریں؟ وہ بھال اور کر بھی کیا سکتے ہیں سوائے مشورے دینے کے اور وہ بھی مفت مگر جب وہ خود فارم میں ہوتے ہیں تو انہوں نے انت مچا رکھی ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے بعد میں سنیاسی باوا اور سنیاسی باوا کے نسخے تجویز کرنے میں باقی ماندہ عمر گزار دیتے ہیں۔ اور حصے میں “اوتر نکھتری“ آتی ہے اور کفِ افسوس ملتے اگلے جہان سدھار جاتے ہیں ۔ وہاں بھی شرم اور ملامت ان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

کیا ہماری قسمت میں آنٹے ، بانٹے ، اونے ، بونے اور پلُو ہی رہ گئے ہیں۔ باسٹھ سال ایک عمر ہوتی ہے۔ کیا قوم بانجھ ھوگئی؟۔ کیا اوتر نکھتروں کے گھر میں آنٹے ، بانٹے ، اونے ، بونے اور پلُو ہونے ضروری ہیں؟۔

یہ نون قاف زری زواری بھائی جی لنڈن کی بجائے قوم اتے ہی پتھر جم دیتی تو ہم بھی انھیں مینارِ پاکستان میں سجا دیتے۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:19 صبح

@جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین, :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:
اس قوم کی خوبیوں کی بڑی جامع اور عمدہ تشریح کی جی :grin: :lol:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 4, 2010 بوقت 4:08 شام
 5 

یہ کیا کہہ دیا ہے جناب میں نے بھی افتخار انکل والا کام کیا ہے لیکن میں تو بابا نہیں ہوں :grin: اصل میں شروع سے پڑھا تو کچھ سمجھ نہین آئی پھر سوچا تبصرے پڑھتے ہیں پھر دو تبصرے پڑھے تو پتہ چلا آخری الفاظ ہی کام کے ہیں پھر اس کے بعد تحریر دوبارہ پڑھنی پڑی :sad:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:20 صبح

@خرم ابنِ شبیر, پھر تو آپ کو تبصرہ بھی دوبارہ کرنا چاہئے :razz:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 5, 2010 بوقت 4:26 صبح
 6 

واہ جی واہ۔۔۔ تسی تے بڑی رونق لائی ہوئی اے۔۔۔ مینوں پتہ ای نہیں سی۔۔۔ کافی محنت سے بڑا اچھا کام کیا ہے آپ نے جناب۔۔۔

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:20 صبح

@نعیم اکرم ملک, بہت شکریہ جناب، فیر کدی آئے ای نی تسی :?:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 8, 2010 بوقت 5:45 شام
 7 

یہ یار لوگاں، کِتھے گُم ہیں۔؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

بلوُ
فروری 21 , 2010 بوقت 6:42 شام

ڈفر صاحب کہاں ہیں آپ؟؟؟؟

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:21 صبح

@بلوُ, آ گیا یار، مین تو بھول ہی گیا تھا کہ پوسٹ اہے تو تمنتوں کو جوابنا بھی ہے :mrgreen:

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 13, 2010 بوقت 6:06 صبح
Grace19
 8 

I don’t guess that every single student in whole world has got a passion of definition essay accomplishing! Nevertheless, students that don’t have writing skills have to use a support of great paper writing service and be happy with a result.

اسے ذرا جوابیں تو سہی

ڈفر
مارچ 5 , 2010 بوقت 1:21 صبح

@Grace19, جی جی بالکل

اسے ذرا جوابیں تو سہی

فروری 20, 2010 بوقت 6:36 شام

لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں

نام (*)
ای میل (ظاہر نہیں کیا جائے گا)*
ویب ایڈریس
پیغام


Follow us on Twitter
RSS Feed فائر فاکس پر سب سے بہترین نتائج واپس اوپر جائیں
English Blog