لکھاری: لالے کی جان
سب سے پہلے تو لالے کی جان کی طرف سے تمام اہل وطن کو نیا سال 2010 مبارک ہو. میں کافی دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ ڈفر کی محفل میں کوئی تازہ پوسٹ نہیں آ رہی سوچا چلو ہم ہی کچھ آؤٹ پٹانگ چھوڑ دیں کیوں کہ پچھلے دنوں میں سیر سپاٹے کیلئے
پنڈی اسلام آباد گیا تو وہاں کچھ واقعات و حادثات میرے ساتھ پیش آئے اُنھیں آپ کے ساتھ شئیر کر دوں.
آزاد کشمیر کے اُلٹے سیدھے راستے چھوڑ کر جیسے ہی میں پیر ودھائی (لاہور موڑ) پہنچا تو وہاں پنڈی کے پاپے اور پشاوری کنڈیکٹروں نے مجھے گھیر لیا. “پاپا کُتھے ویسو” میں نے جواب دیا 22 نمبر چونگی . پاپا جی نے میرا بیگ پکڑ لیا اور بولے ‘ اچھو اساں نیں گڈی بھری ہوئی نے” جیسے ہی میں گاڑی کے قریب پہنچا گاڑی خالی تھی میں نے غصے میں آ کے پُوچھا ” تم تو کہہ رہے تھے گاڑی بھری ہُوئی ہے یہ تو …..” پاپا جی نے سادگی سے جواب دیا “پاپا جی آساں نیں گڈی چیکڑے نال بھری ہوئی اے تُساں بیو تے سواریاں نال بھرو” (دراصل گاڑی کیچڑ سے بھری ہوئی تھی)
خیر لالے کی جان دو تین گھنٹوں کے بعد میں 22 نمبر پہنچا
رات اپنے ایک دوست کے پاس گزاری اور دوسرے دن سیر سپاٹے کیلئے فیصل مسجد ، شکر پڑیاں ، لال مسجد ، میریٹ ہوٹل وغیرہ وغیرہ کی سیر کی. شکر پڑیاں میں کسی سکول کے بچے آئے ہوئے تھے اُن کے ساتھ جو میڈم تھی اُسے دیکھ کر میرا دل کچا پکا ہونے لگا اور اُس کے لیئے کسی بچے کے ساتھ دوستی ضروری تھی میں نے ایک بچے کے ساتھ ہیلو ہائے کی اور پُوچھا “چھوٹے کونسے سکول میں پڑھتے ہو ?” بچے نے جواب دیا “ایم بی بی ایس” میں تھوڑا سا کنفیوز ہوا اور کہا ” چھوٹے میں نے تُم سے سکول کا نام پُوچھا ہے کلاس کا نہیں” چھوٹے نے جواب میں کہا بھائی میں نے بھی آپ کو سکول کا نام بتایا ہے ایم بی بی ایس کا مطلب ہے محترمہ بینظیر بُھٹو شہید سکول.
واہ پاپ رے میرے تو ہاسے چُھوٹ گئے خیر چھوٹُو کے ساتھ دوستی ہو گئی باتوں باتوں میں میڈم کا نام بھی پُوچھ لیا. پھر میں نے پُوچھا آپ کی میڈم پڑھانے میں اچھی ہے یا نہیں چھوٹو نے بتایا ایک دفعہ میڈم کلاس میں نہیں تھی اپنے کسی کزن سے موبائیل پہ بات کر رہی تھی اور ہم نے شور مچا مچا کر آسمان سر پہ اُٹھایا ہوا تھا اتنی دیر میں سکول کے پرنسپل صاحب آ گئے اور ہمیں ڈانٹنے لگے اور کہا جب تک آپ کی ٹیچر نہیں آتی ہم آپ سے کُچھ سوال پُوچھتے ہیں اُردو کا پیریڈ تھا پرنسپل صاحب نے پوچھا “کوئی بتا سکتا ہے کہ “بانگ درا” کس نے لکھی تھی?” ہم سب خاموش تھے اتنی دیر میں میڈم بھی آگئی پرنسپل صاحب میڈم سے غصے ہو گئے اور بولے کتنی نالائق کلاس ہے تمھاری میں ان سے پُوچھ رہا ہوں کہ بانگ درا کس نے لکھی تھی سب منہ لٹکائے بیٹھے ہیں. میڈم بھی غصے میں آگئی اور ہم سب کو مُرغا بنا دیا اور بولی ” سر مجھے پتہ ہے بانگ درا انھی میں سے کسی نے لکھی ہو گی بہت شرارتی ہیں جب تک بتائیں گے نہیں مُرغا بنے رہیں گئے”
لالے کی جان میرا تو ہنس ہنس کے بُرا حال ہو رہا تھا اور میڈم کو دیکھ کر میرا جو دل کچا پکا ہو رہا تھا وہ بھی ٹھیک ہو گیا چھوٹُو سے اجازت لی اور واپسی کی راہ لی. دو تین دن گزر جانے کے بعد میں نے واپسی کا سوچا ڈھوک سیداں روڈ پہ کھڑا تھا سامنے ایک دکان پہ نظر پڑی جو کہ میوزک سنٹر تھا سوچا چلو پنڈی سے کوئی سی ڈی می ڈی لے جاتے ہیں “میں جُلیاں انگلینڈ وغیرہ” جیسے ہی میوزک سنٹر کا دروازہ کھولا اندر ایک بُوڑھا لوہار کام کر تھا چھریاں، درانتیاں وغیرہ وغیرہ تیز کر رہا تھا میں حیران کُن نظروں سے بُوڑھے کی طرف دیکھنے لگا ” بابا جی سمجھ گئے اور بولے بیٹا پریشان مت ہو بُوڑھا ہوں زیادہ گاہک سنبھال نہیں سکتا اسلیئے میوزک سنٹر کے اشتھار لگائے ہوئے ہیں میرے پاس وہی آتا ہے جو میرے پکے گاہک ہیں”
خیرواپسی پہ جب میں فیض آباد والے خوبصورت موڑ سے گذر رہا تھا میری آنکھیں نم تھیں اور سوچ رہا تھا لوگ ایسے ہی کہتے ہیں “لاہور لاہور اے” میں تو کہتا ہوں “پنڈی پنڈی اے جنہیں پندی نہیں ویکھیا اونیں کی ویکھیا؟” اور پنڈی شہر کو اس دعا کے ساتھ رُخصت کیا “آللہ ان جڑواں شہروں کو سدا آباد اور ہنستا بستا رکھے آمین















ابتک تبصرہ جات 26
لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں، سپیس ڈال کر لنک بریک کردیں، ربط والے تبصرے ختم کر دئے جاتے ہیں