دھوپ بڑي تيز تھي اور آنکھوں ميں برف توڑنے والے سُوے کي طرح چُبھ رہي تھي۔ ميں نے کھيسے ميں ہاتھ ڈالا اور گہرے شيشوں کي عينک نکال کر پہن لي۔ آنکھوں ميں سُوے مارتي ہوئي دھوپ يکلخت غائب ہوچکي تھي۔ اس کي جگہ موسم ابر آلود لگنے لگا تھا۔ حقيقت کو اس طرح چٹکي [...]
محفوظات برائے مہمان خانہ کیٹگری
ندی پر اک بارہ سنگا
پانی پینے کو جب پہنچا
پانی میں سینگوں کو دیکھا
دیکھ کے ان کو دل میں سوچا
کتنے پیارے سینگ ہیں میرے
کاش کہ ہوتے پیر بھی ایسے
سینگ ہیں میرے جتنے اچھے
۔۔۔
سب کا ہی کوئی نہ کوئی استاد ہوتا ہے میرا بھی ہے، سو گرو گھنٹال کا بھی۔ واقعی غلطی کی کہ اتنی بڑی ”ییٹ نا معقول“ پوسٹ ریلیز کرنے میں اتنی جلدی دکھائی۔ مگر فکر ناٹ استاد کی جانب سے فوری اصلاحات کے بعد اس کا ایس پی ون ریلیز کیا جا رہا ہے اور [...]
قصہ سکول ميں پڑھنے کا
لکھاری: سعد خالد جب میں پانچ سال کا ہوا تو میرے والد محترم مجھے پہلی جماعت میں داخل کرانے کیلیے گاؤں کےسرکاری پرائمری سکول میں لے کر گئے۔ انھوں نے میرے کلاس ٹیچر کو میرے بارے میں کہا کہ یہ “اللہ میاں کی گائے” ہے، اس کا خیال رکھنا۔ اُن کی یہ اللہ میاں کی [...]
بھوِشے وانی
نہیں جناب یہ کوئی پشتو کا لفظ نہیں بلکہ ہندی کا ہے جس کا مطلب ہے مستقبل کا حال بتانا. ہمارے ایک دور پار کے رشتے دار ہیں جن کے گھر میں صرف تین لوگ رہتے ہیں ایک آنٹی ایک ان کا بیٹا اور ایک ان کی بہو. خود اپر پورشن میں رہتے ہیں اور [...]
”چل یار پیسے کماتے ہیں“ علاقے کے کچھ فارغ لڑکوں نے پلان بنایا پلان کے مطابق تمام لڑکے موٹر سائیکلوں پرسوار ہو کر پشاور موڑ کی طرف ہو لئے ایک لڑکا جو سب سے پپو تھا سٹاپ پر اتر گیا اور باقی لڑکے پیچھے اندھیرے میں چھپ گئے تاکہ موقع دیکھ کر بھاگ سکیں۔ تھوڑی [...]
تسی سارے پین ۔۔۔
نماز جمعہ کے بعد جماعت اسلامی کے لگائے گئے ریفرنڈم کے سٹال پر ایک باریش نمازی آیا اور سٹال پر کھڑے بندے کو با آواز بلند مخاطب کر کے بولا ”تُسّی سارے پین ۔۔۔ او“۔
سٹال پر موجود مزید باریش شخص بولا، ”پین ۔۔۔ تیری ۔۔۔ آں ۔۔۔ کنجرا، وڑ ایتھوں“ ۔۔۔
یہ غالباً سنہ ستانوے کی بات ہے ہمارے گاؤں کے دو لڑکے خورشید عرف کیجا پوچھ اور منظور عرف ظہوری راسبے دا تھے۔ وہ دونوں گاؤں میں تو کبھی اکھٹے نہیں دیکھے گئے البتہ ان کے بارے میں رپورٹ ملتی تھی کہ برنالہ، بھمبر یا میرپور (جگہوں کے نام ہیں) میں اکھٹے پھر رہے تھے۔ ان کی رپورٹیں ملنے کی خاص وجہ گاؤں۔۔۔
اوہ تے ککڑی شی
میٹرک کے پرچے دینے کے بعد تو جیسے ہم کسی مرغی خانے سے نکل کر کسی اور ہی دنیا میں آگئے ہوں یا جیسے کوئی قیدی اپنی دس سال کی سزا پوری کر آیا ہو۔ سکول ٹائم پہ دوسرے لڑکوں کو سکول جاتے دیکھ کر تو اور ہی مزا آتا تھا اور اس مزے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ہم نے سکول جاتے اور لڑکوں کو دیکھنا معمول بنا لیا
فاصلہ
فاصلےکو سمجھو تم فاصلہ حقیقت ہے باقی سب فانی ہے ۔۔۔۔۔ . یقین کےنگر میں بھی وسوےہی پلتے ہیں درد کی خلیجوں کو وقت پاٹ دیتا ہے بہت سی صلیبوں کو صبرکاٹ دیتا ہے تتلیوں کے ہونٹوں پر موسموں کےنغمے بھی قربتوں اور منزلوں اور قہقہوں کے پیچھے بھی ایک ہی کہانی ہے آنکھ ہی [...]













