ہماری تو زندگی بالکل بے رنگ ہو کر رہ گئی ہے۔ گھر سے باہر نکلیں تو کچھ پتا بھی چلے۔ مارکیٹ تک جانا گھر سے نکلنا ہوتا ہے کیا؟ کچھ نہیں پتا دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ ہم سے اچھی تو پنڈوں میں رہنے والیاں ہیں، کم سے کم دنیا کے ساتھ تو چلتی ہیں۔ ہم تو بس ٹی وی میں کچھ دیکھ لیں تو دیکھ لیں ورنہ۔۔۔ ٹی وی سے یاد آیا اللہ غارت کرے اس کیبل والے کو، مجال ہے جو پورے مہینے سے سٹار پلس کے کسی ڈرامے کی پوری قسط دیکھی ہو۔
ابھی کل ثانیہ کی امی کی برسی تھی، صائمہ گئی تھی۔ بتا رہی تھی کیا فیشن ان ہے آج کل۔ میں نے جوقمیض بنوائی ہے تم نے دیکھی ہے نا! وہ پتا کیا بتا رہی تھی؟ ہاں تمہیں کیا پتا ہو گا؟ او بھئی لمبی قمیضوں کا فیشن آ گیا ہے دوبارہ سے۔ (انگلیوں کے اشاروں کے ساتھ)اور ہم تو اتنی اتنی ترپائی کرتے ہیں نا، اب اتنی اتنی ترپائی چل رہی ہے۔ ہائے کیا بنے گا ہمارا؟ اب تو ہمارے پاس ایسے کپڑے ہی نہیں کہ کسی کی برسی پر ہی چلے جائیں۔ شادیوں اور دوسرے فنکشنز کا تو چلو کچھ نا کچھ پتا چلتا ہی رہتا ہے۔
کس کس بات کو روؤں؟ میں نے تو اپنے سارے کپڑے پرانے فیشن کے مطابق سلوا لئے ہیں۔ اب ان کو کون پہنے گا؟ گھر میں پہن پہن کر پھاڑنے پڑیں گے یا کام والی کو دے کر جان چھڑا لوں گی۔
اور ہاں ایک بات تو بتانا بھول ہی گئی۔ وہ جو مجھے سوٹ پسند آیا تھا نا فیشن کا گھر پر، صائمہ بتا رہی تھی کہ نازیہ نے بالکل ویسا سوٹ پہنا ہوا تھا
میں نے تو کہہ دیا تجھے مغالطہ لگا ہو گا۔ ”نازیہ اور وہ سوٹ؟“
۔
عقلمند کون؟
آج بروز جمعہ رونما ہونے والا واقعہ
ہمارے رشتے کے ایک ماموں جن کی عمر تقریباً 65 سال ہے اور ذہنی توازن تھوڑا سا خراب ہے سے ہونے والا مکالمہ
ڈفر: وضو کر لیں جمعہ پڑھنے جاتے ہیں۔
ماموں: میں نے نہیں جانا۔
ڈفر: کیوں؟
ماموں: میری ٹانگوں میں درد ہے۔
ڈفر: نماز پڑھنے جانا ہے سائیکل چلانے نہیں۔
ماموں: مجھ سے بھاگا نہیں جاتا۔
ڈفر: ابھی کافی ٹائم ہے آرام آرام سے چل کر جائیں گے۔
ماموں: اگر مسجد میں دھماکہ ہو گیا تو میں بھاگوں گا کیسے؟
اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا اس لئے مزید بحث سے اجتناب کرتے ہوئے میں نیواں نیواں ہو کے کلاّ ہی نماز پڑھن چلا گیا۔
عمران جاؤ ڈیش بورڈ سے فائل اٹھا لاؤ اور شیشوں پر پردے بھی لگا دینا۔ شام کو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دیکھا کہ ڈور لاکنگ ناب (اس کی اردو کا مجھے نہیں پتا) ٹوٹی ہوئی ہے۔ اگلے دن جا کر عمران سے پوچھا تو حیرانگی سے پوچھنے لگا سر کونسا لاک؟ ایسی حیرانگی دیکھ کر تو بندہ یقین کر لے کہ اس سے نہیں مجھ سے ہی ٹوٹا ہو گا۔ میں نے پھر بھی ذرا غصے سے کہا کہ سچ سچ بتاؤ تو جواب ملا کہ ”جی سر وہ پردہ لگاتے ہوئے ٹوٹ گیا تھا“
لاک کی خیر ہے لیکن آئندہ مجھ سے جھوٹ بولا تو تمہاری خیر نہیں۔
جی اچھا سر۔
جناب یہ عمران کا پہلا یا آخری قصہ نہیں، اس میں کامن سینس نامی کوئی شے نہیں اور سچ بولنے کا اس کا یہی حال ہے جو اوپر بیان کیا ہے۔
ایک دن گیلپ سروے کی ٹیم ایک فارم دے کر گئی کہ پُر کر کے رکھیں ہم کل لے جائیں گے۔ اگلےدن جب وہ آئے تو مجھے یاد آیا کہ میں نے تو پُر ہی نہیں کیا۔ عمران کو کہا کہ وہ فارم لے کر آؤ تو پوچھنے لگا کون سا فارم؟ یاد کرواتا رہا لیکن اس کو یاد نہیں آیا اور جب یاد آ گیا تو کہنے لگا سر وہ تو آپ نے پھاڑ کر کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔ یہ سن کر میں نے اپنی مشکوک ضعیف یاد داشت پر دو لفظ بھیجے اور نیا فارم لے کر پُر کر دیا۔ جب وہ بندہ جانے لگا تو عمران کے کیبن میں پڑے فارم پر اس کی نظر پڑ گئی اور بولا ”سر یہ پڑا ہے فارم“۔ میں نے منگوا کر دیکھا تو عمران صاحب نے فارم پُر کیا ہوا تھا اور اپنی کگی بھی بٹھائی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں اس کی طرف دیکھتا کہنے لگا ”سر یہ میں نے تو نہیں کیا“
۔
ایک دن عمران کو چیک دے کر بینک بھیجا اور اچھی طرح یہ بات رٹا دی کہ چھے ہزار ڈالر آئیں گے۔ تھوڑی دیر بعد جھومتا ہوا آیا۔ رقم گنی تو پانچ ہزار ڈالر، دوبارہ، سہہ بارہ لیکن رقم تھی کہ بڑھنے کا نام ہی نا لے رہی تھی۔ اس سے پوچھا کہ کتنے لایا ہے تو کہنے لگا 72 ہزار
فوراً ساتھ ایک دوسرا بندہ بھیجا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بندہ باقی رقم ساتھ لایا اور کہنے لگا کہ کیشیر کہہ رہا تھا کہ گننے میں غلطی ہو گئی۔ وہ تو کیشئیر چنگا بندہ تھا ورنہ اگر وہ کہہ دیتا کہ نہیں ہیں تو کوئی کیا کر لیتا؟
عمران یہ فون کا اینٹینا کس سے ٹوٹا ہے؟
(مزید یہ کہ ٹیپ لگا کر جوڑا بھی گیا ہے)
پتا نہیں سر
کل تک تو ٹھیک تھا
سر مجھ سے نہیں ٹوٹا
(میرے اور تیرے علاوہ کون استعمال کر سکتا ہے یہ؟)
تو کس ۔۔۔ سے ٹوٹا ہے؟
سر آپ ہی استعمال کرتے ہیں بس
(صدقے جاؤں اوئے تیرے اعتماد اور سینہ زوری کے)
اس کے علاوہ بھی عمران صاحب کی عمرانیوں کے بے حد قصے ہیں۔ روز کم سے کم دو ، تین ماسٹر بلاسٹر تو کرتا ہی ہے اور مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اس عقل اور میرے دشمن کو میں نے کیوں رکھا ہوا ہے؟ کیسے اس جھوٹے بندے کو برداشت کر رہا ہوں؟ اور کب تک کرتا رہوں گا؟
- ایک پیاسا کوا اڑ رہا تھا، اچانک اسے نیچے پانی اور کچھ کنکر نظر آئے۔ جیسے ہی وہ پانی میں کنکر ڈالنے کے لئے نیچے اترا، خود کش دھماکے میں مارا گیا
- ایک کتے نے قصائی کی دکان سے گوشت چرایا۔ وہ پانی میں اپنا عکس دیکھ ہی رہا تھا کہ نا معلوم افراد نے اسے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا
- کچھوے اور خرگوش نے ریس شروع کی اور خرگوش کے سوتے ہی کچھوے نے اس کا پرس چوری کر لیا
الہ دین نے چراغ رگڑا تو وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا
ایس ایم ایس
کیا ہے یہ؟
یار کیا ہے یہ سب؟
کیا سب؟
اب بندہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کرکٹ میچ بھی نہیں دیکھ سکتا؟
کیوں؟
اب کونڈم بنانے والے ۔۔۔ کرکٹ میچ سپانسر کریں گے۔ یہاں گیند ہوتی نہیں اور ادھر
”دس سانگ اس براٹ ٹو یو بائی ٹچ کونڈمز، آ پراڈکٹ آف گرین سٹار
سنو ذرا خوشی کی آہٹ، چھو لو ذرا من کی چاہت، پکارے تجھے دل میرا، سنو ذرا سنو سنو ذرا۔۔۔ اب نا لاگے دل میرا ۔۔۔“
آج ٹی وی پہ نشریات سپانسر ہو رہی ہیں، کل کو پورا ٹورنامنٹ سپانسر ہو جائے گا، اور اس کی اناؤنسمنٹ کچھ یوں ہو گی
”ناظرین اب آپ دیکھ سکیں گے ٹچ کپ 2009 کے سلسلے کا پہلا میچ، جو کہ پاکستان اور افریقہ کے درمیان ۔۔۔ سٹیڈیم سے براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔ اس کے لئے ہم سےتعاون کیا ہے ٹچ کونڈم بنانے والے گرین سٹار نے اور دیگر اشتراک میں شامل ہیں ۔۔۔“
کچھ بعید نہیں کہ گراونڈ میں چوکوں چھکوں کے کارڈوں کی بجائے پرنٹڈ پگانے ”غبارے“ پکڑائے ہوئے ہوں اور کیپر اور باؤلر کی طرف گراؤنڈ میں کچھ بنایا ہوا بھی ہو۔ آخر ماڈرن اسلام کا پھل کاٹنا بھی تو پڑے گا نا!
خالی جگہیں اپنے آپ پوری کر لیں
بارش
جو بارش کی تمنا ہے، تو ان آٓنکھوں میں آٓ بیٹھو
وہ برسوں میں کہیں برسیں، یہ برسوں سے برستی ہیں۔
نا معلوم
اب اس کی تعریف میں کیا کہوں؟ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔
بے شک خود ہی دیکھ لیں
کیسا؟











