223 بار دیکھا گیا

خیر سے کے عمر ہو گئی تمہاری؟
جی تیس سال
لگتی تو نہیں، شادی ہو گئی تمہاری؟
جی نہیں
:shock: او ہّو، اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ نآء ۔25 آخری ہوتی ہے۔ تم تو بس اب اپنے آپ کو امپوٹینٹ ہی سمجھو۔ اب تم کسی کام کے نہیں۔ ابو سے ملوانا مجھے، میں بات کروں گا ان سے (کیا بات؟ کہ اب اس کی فکر کرنا چھوڑ دیں یہ امپوٹینٹ ہو گیا ہے، یا یہ کہ اس کے کاکوں کا بندوبست ابھی سے کر لو شادی جب مرضی کرنا :D )
یہ تھی روداد ہمارے ایک یار، جس کی بابوں سے بہت دوستی رہتی ہے، اور ایک عدد بابا جی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی۔
میں تو موقع پر موجود نہیں تھا لیکن یار لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے منہ کو بواسیر ہے (کہتا تو میرا باس بھی یہی تھا لیکن لفطوں کے استعمال میں بڑا محتاط تھا) اور اگر بابا جی میرے سامنے یہ بات کرتے تو میں تو ضرور پوچھتا ”آپ اور آپ کے بچوں کی عمروں میں فرق دیکھ کر یہ پوچھنے کو دل کرتا ہے کہ ”اللہ خیر کرے“ نکے کی پیدائش کے ٹیم کے عمر ہو گی جناب کی؟“ نہیں نہیں میں تو بابا جی سے ضرور پوچھتا کہ اتنا گالی نما کنٹراورشل موضوع چھیڑنے اور اس عمر میں جوگی بننے کو ”آپ کا اتنا من کاہے کوکرتا ہے؟“
ہمیں تو یہ بات سننے کو ملی ہمارے دوسرے یار سے جسکی اپنی شادی حال ہی میں 35 سال کی عمر میں ہوئی ہے۔یہ بات بھی ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بات بتاتے ہوئے ہمارے اِس یار کے جو بیش بہا دانت نکل رہے تھے اس کی وجہ بابا جی کی لا علمی ہے یا بابا جی کے بے عرق تجرباتی علم نے اسکی دماغی حالت پر واقعی اثر کر دیا تھا؟
ہمارے تیسرے یار المعروف ”ٹینڈر“ کا کہنا ہے کہ ”چونکہ ہم شادی کے وقت اس علم سے محروم تھے اس لئے اس علم کا ہم پر35 سال کی عمر میں شادی کرنے کے باوجود اطلاق نہیں ہو گا، ثبوت کے طور پر ہمارے پاس “رسید“ بھی ہے“، لو جی ! یہ کیا بلدیاتی الیکشن ہے یا صدارتی چناؤ کہ نہیں پتا تھا تو اس لئے امپوٹینٹ نہیں یا امپوٹینسی سے مثتثنٰی ہیں۔اور ہم جو آج تک پوٹینسی کے زعم میں مبتلا رہے اب اس فکر میں مبتلا ہو چلے ہیں کہ ہم تو سالوں سے کام کے رہے نا کاج کے اور ہمیں خبر ہی ناہوئی؟ اور رسید کی خوب کہی، اگر رسید کی بات کرو گے تو ہم تو فیر کہیں گے کہ دکھاؤ کہاں لکھا ہے رسید پہ تمہارا نام۔
بابا جی کی معلومات کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کرنے کی تو ہم میں اہلیت نہیں نا ہی ہم پوٹینسی، امپوٹینسی کو جانچنے کے کسی سٹرپ نما طریقے سے واقف ہیں لیکن بابا جی کے نا نظر آنے والے تجربے کہ ”اب تم کسی کام کے نہیں“ نے ہماری سوچوں کا محور ان یادوں کو بنا دیا جن سے بابا جی کی تھیوری کو کافی تقویت ملتی ہے۔ وہ ایسے کہ ہمارے دوست عبدالجبار کی میٹرک کے پرچوں کے فوراً بعد شادی ہو گئی تھی اور جب ہم نے یونیورسٹی سے فراغت کے بعد پارٹی تھرو کی تو عبدالجبار صاحب کا بیٹا مٹھائی لے کر پہنچا اور کہنے لگا ”ابونے مٹھائی بھیجی ہے اور کہہ رہے ہیں میں شام کو دکان سے واپسی پر چکر لگاؤں گا“
یہ بات سننا تھی کہ ہمارے اعزاز میں دی گئی پارٹی ،بد تمیز شرکاء کی طرف سے ہماری ڈگریوں اور عبدالجبار کے بیٹے کا موازنہ نا قابل بیان نعروں نما مکالموں میں کرنے سے، کشت زعفران بن گئی۔ آج ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے اس دن کی بے عزتی کو تھوڑا سیریس لیا ہوتا اور امپوٹینسی کا بروقت سدّ باب کرنے کے لئے اس وقت کوئی جوگاڑ کر لی ہوتی تو آج ہم امپوٹینٹ ہونے کے خوف میں مبتلا نا ہوتے ۔ لیکن اب تو اس بات کو بھی اتنا وقت گزر گیا ہے کہ اگر عبدالجبار اپنے اماں ابا کے نقش قدم پر چلا تو ہمارے جلد از جلدبھی کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے ، اس کا کاکا پوٹینسی ٹیسٹ پاس کر لے گا۔
اب ذرا فٹ کریں ہماری جگہ اس قوم کو، بابا جی کی جگہ اس حکومت کو، پوٹینسی امپوٹینسی کے مسئلے کی جگہ بجلی ،گیس،چینی کے ایشو کو اور ٹینڈر کی جگہ دیں اپنے گیلے گیلے گیلانی صاحب کو۔

.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Twitter
  • email
  • Live
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
1
Feb

الف ننگا

بھیجا ہے  ڈفر نے آ لو پیاز, کیفے ڈی بکواس, گندے انڈے میں

241 بار دیکھا گیا

”مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہیرو ہیروئن کو سکول کالج چھوڑنے کے بعد بھی وہاں دھڑلّے سے داخلے اور سالانہ مقابلوں و ایونٹس میں شرکت کی بھی کیسے اجازت مل جاتی ہے؟ اجازت کیا ملتی ہے پہلا انعام بھی مل جاتا ہے۔
ہم نے یونیورسٹی سے چھٹکارے کے بعد صرف ایک دفعہ ہی ایسی کوشش کی تھی کہ اندر جا کر دیکھ لیں کہ آج کل یونیورسٹی میں تعلیم کے لئے کیسے کیسے ”پیس“ آئے ہوئے ہیں؟ اور اس ایک کوشش نے ہمارے ایسی ایسی جگہ نشان چھوڑے کہ کم سے کم کپڑے بھی پہنیں تو بھی نشان دیکھنے کے لئے باقی ماندہ کپڑوں سے خلاصی حاصل کرنی ہی پڑے“۔
جب عیدو نے یہ بات بیڑو پہلوان کو بتائی تو وہ کہنے لگا، ” تو یوں کہہ نا الف ننگا ہونا پڑتا ہے “
عیدو نے شائد پہلوان کے ان پڑھ ہونے کو مدّنظر رکھتے ہوئے تصحیح کی، ”الف ننگا نہیں ہوتا، نون ننگا ہوتا ہے“ تو
پہلوان کے اس جواب نے کہ ”کتابی باتوں اور حقیقی زندگی میں فرق ہوتا ہے کاکے، آج کل نون ہی نہیں گ اور ز سمیت پورا الف سے ی ہی ننگا ہے۔ تو بتا تو نے منشی کی کرسی پہ بیٹھ کے کتنی دفعہ دو اور دو صرف چار کئے ہیں؟“(یہ کہتے ہوئے پہلوان نے کنکھیوں سے عیدو کی نئی سوِفٹ کی طرف دیکھا) عیدو کو کچھ کہنے کے قابل نا چھوڑا ۔لیکن عیدو نے کھسیانی بلی بنے بس اتنا ہی کہا ،”بیڑو ! منشی نہیں اکاؤنٹینٹ“ (اتنے لوگوں کے سامنے اتنی بیستی ؟ آدھے تو یہاں بیٹھے ہوئے بھانڈ ہیں سارے محلّے میں جا کر گا دیں گے میراثی)۔
اتنے میں پہلوان کی بغل میں بیٹھا چیکُو اٹھا اور عیدو کو یہ کہہ کر چلتا بنا ”ایسی حالت کو بھی کہتے ہیں الف ننگا لیکن تیری الف بے بڑی خراب ہے تجھے ہمیشہ ”ڈیمو“ دینا پڑتا ہے“۔

.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Twitter
  • email
  • Live
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
18
Jan

بھوِشے وانی

بھیجا ہے  بلُو نے مہمان خانہ میں

453 بار دیکھا گیا

نہیں جناب یہ کوئی پشتو کا لفظ نہیں بلکہ ہندی کا ہے جس کا مطلب ہے مستقبل کا حال بتانا.
ہمارے ایک دور پار کے رشتے دار ہیں جن کے گھر میں صرف تین لوگ رہتے ہیں ایک آنٹی ایک ان کا بیٹا اور ایک ان کی بہو. خود اپر پورشن میں رہتے ہیں اور نیچے والا پورشن کرایے پر دیا ہوا ہے اور کرایہ دار کا نام ہے اسد.

ہوا کچھ یوں کے بیٹے صاحب کو سعودی عرب سے نوکری کی آفر آئی جس کے مطابق جناب کو تین سال وہاں رہنا تھا اب مسئلہ یہ تھا کہ امی سے اجازت کون لے خیر امی کو بتا دیا گیا اور اجازت کیا ملنی تھی بے چاری بہو کے ساتھ جو مکالمہ ہوا وہ میں یہاں لکھ رہا ہوں.
بہو: امی اِن کو جانے دیں اچھا ہے کچھ پیسے کما لیں گے.
آنٹی: نہیں بہو اگر یہ چلا گیا تو ہم دو بندے اکیلے کیا کریں گے ؟ دیکھو نا اگر بیٹا چلا گیا تو میں تو تمہیں اکیلا اس گھر میں نہیں چھوڑوں گی تمہیں تمہاری امی کے گھر بھیج دوں گی اور خود اپنی بیٹی کے گھر چلی جاؤں گی اور ہمارا کرایہ دار اسد ہمارے گھر پر قبضہ کر لے گا اور چھٹی.
یا پھر کل کو تمہارے ہاں بچہ ہوگیا اور تم اس کو گھر چھوڑ کر دودھ لینے گئی تو اسد اس کو اغوا کر کے لے جائے گا.
یا پھر ہم دونوں کہیں بازار جارہی ہوں اور رکشے والا مجھے نیچے پھینک کر تمہیں اغوا کر کے لے جائے تو.
یا پھر میری طبیعت خراب ہوگئی تو تم اکیلی مجھے کیسے سنبھالوگی اور میرا بلڈ پریشر بڑھ گیا تو میں مر جاؤں گی.
بہو: امی بس کریں میں اِن کو منع کر دوں گی.
شام کو بیٹے نے آکر امی کو کہہ دیا کہ امی آپ فکر نہ کریں میں نہیں جا رہا.
اگلے دن بہو نے ساس سے کہا کہ امی جانے دیں نا اِن کی تنخواہ ایک لاکھ نوے ہزار بنتی ہے ، جب آنٹی نے یہ سنا تو کہا اچھا چلو ٹھیک ہے پھر بیٹے سے کہنا کہ چلا جائے لیکن جب وہ چلا جائے گا تو میں تمہیں تمہاری امی کے گھر چھوڑ آؤں گی اور خود اپنی بیٹی کے گھر چلی جاؤں گی اور پھر اسد ہمارے گھر پر……………………… بہو نے بات کاٹتے ہوئے کہا امی بس کریں میں انہیں بتا دوں گی…. رات کو بیوی نے جب شوہر سے کہا کہ امی نے اجازت دے دی ہے تو اس نے فورا پوچھا کہ کہیں تم نے امی کو میری تنخواہ کے بارے میں تو نہیں بتا دیا تو بیوی نے کہا ہاں میں نے ایسا ہی کیا ہے تو اس نے کہا بس اب تو وہ مجھے بھج کے ہی چھوڑیں گی……..

میں سوچتا ہوں کہ آنٹی میں پوری طرح نجومی بننے کی صالاحیت پائی جاتی ہے اور بھوِشے وانی میں تو ان کا جواب نہیں. اور بے چارہ اسد ایسے ہی بیچ میں رگڑا گیا.

.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Twitter
  • email
  • Live
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
520 بار دیکھا گیا

لکھاری: لالے کی جان

سب سے پہلے تو لالے کی جان کی طرف سے تمام اہل وطن کو نیا سال 2010 مبارک ہو. میں کافی دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ ڈفر کی محفل میں کوئی تازہ پوسٹ نہیں آ رہی سوچا چلو ہم ہی کچھ آؤٹ پٹانگ چھوڑ دیں کیوں کہ پچھلے دنوں میں سیر سپاٹے کیلئے
پنڈی اسلام آباد گیا تو وہاں کچھ واقعات و حادثات میرے ساتھ پیش آئے اُنھیں آپ کے ساتھ شئیر کر دوں.
آزاد کشمیر کے اُلٹے سیدھے راستے چھوڑ کر جیسے ہی میں پیر ودھائی (لاہور موڑ) پہنچا تو وہاں پنڈی کے پاپے اور پشاوری کنڈیکٹروں نے مجھے گھیر لیا. “پاپا کُتھے ویسو” میں نے جواب دیا 22 نمبر چونگی . پاپا جی نے میرا بیگ پکڑ لیا اور بولے ‘ اچھو اساں نیں گڈی بھری ہوئی نے” جیسے ہی میں گاڑی کے قریب پہنچا گاڑی خالی تھی میں نے غصے میں آ کے پُوچھا ” تم تو کہہ رہے تھے گاڑی بھری ہُوئی ہے یہ تو …..” پاپا جی نے سادگی سے جواب دیا “پاپا جی آساں نیں گڈی چیکڑے نال بھری ہوئی اے تُساں بیو تے سواریاں نال بھرو” (دراصل گاڑی کیچڑ سے بھری ہوئی تھی)
خیر لالے کی جان دو تین گھنٹوں کے بعد میں 22 نمبر پہنچا
رات اپنے ایک دوست کے پاس گزاری اور دوسرے دن سیر سپاٹے کیلئے فیصل مسجد ، شکر پڑیاں ، لال مسجد ، میریٹ ہوٹل وغیرہ وغیرہ کی سیر کی. شکر پڑیاں میں کسی سکول کے بچے آئے ہوئے تھے اُن کے ساتھ جو میڈم تھی اُسے دیکھ کر میرا دل کچا پکا ہونے لگا اور اُس کے لیئے کسی بچے کے ساتھ دوستی ضروری تھی میں نے ایک بچے کے ساتھ ہیلو ہائے کی اور پُوچھا “چھوٹے کونسے سکول میں پڑھتے ہو ?” بچے نے جواب دیا “ایم بی بی ایس” میں تھوڑا سا کنفیوز ہوا اور کہا ” چھوٹے میں نے تُم سے سکول کا نام پُوچھا ہے کلاس کا نہیں” چھوٹے نے جواب میں کہا بھائی میں نے بھی آپ کو سکول کا نام بتایا ہے ایم بی بی ایس کا مطلب ہے محترمہ بینظیر بُھٹو شہید سکول.
واہ پاپ رے میرے تو ہاسے چُھوٹ گئے خیر چھوٹُو کے ساتھ دوستی ہو گئی باتوں باتوں میں میڈم کا نام بھی پُوچھ لیا. پھر میں نے پُوچھا آپ کی میڈم پڑھانے میں اچھی ہے یا نہیں چھوٹو نے بتایا ایک دفعہ میڈم کلاس میں نہیں تھی اپنے کسی کزن سے موبائیل پہ بات کر رہی تھی اور ہم نے شور مچا مچا کر آسمان سر پہ اُٹھایا ہوا تھا اتنی دیر میں سکول کے پرنسپل صاحب آ گئے اور ہمیں ڈانٹنے لگے اور کہا جب تک آپ کی ٹیچر نہیں آتی ہم آپ سے کُچھ سوال پُوچھتے ہیں اُردو کا پیریڈ تھا پرنسپل صاحب نے پوچھا “کوئی بتا سکتا ہے کہ “بانگ درا” کس نے لکھی تھی?” ہم سب خاموش تھے اتنی دیر میں میڈم بھی آگئی پرنسپل صاحب میڈم سے غصے ہو گئے اور بولے کتنی نالائق کلاس ہے تمھاری میں ان سے پُوچھ رہا ہوں کہ بانگ درا کس نے لکھی تھی سب منہ لٹکائے بیٹھے ہیں. میڈم بھی غصے میں آگئی اور ہم سب کو مُرغا بنا دیا اور بولی ” سر مجھے پتہ ہے بانگ درا انھی میں سے کسی نے لکھی ہو گی بہت شرارتی ہیں جب تک بتائیں گے نہیں مُرغا بنے رہیں گئے”
لالے کی جان میرا تو ہنس ہنس کے بُرا حال ہو رہا تھا اور میڈم کو دیکھ کر میرا جو دل کچا پکا ہو رہا تھا وہ بھی ٹھیک ہو گیا چھوٹُو سے اجازت لی اور واپسی کی راہ لی. دو تین دن گزر جانے کے بعد میں نے واپسی کا سوچا ڈھوک سیداں روڈ پہ کھڑا تھا سامنے ایک دکان پہ نظر پڑی جو کہ میوزک سنٹر تھا سوچا چلو پنڈی سے کوئی سی ڈی می ڈی لے جاتے ہیں “میں جُلیاں انگلینڈ وغیرہ” جیسے ہی میوزک سنٹر کا دروازہ کھولا اندر ایک بُوڑھا لوہار کام کر تھا چھریاں، درانتیاں وغیرہ وغیرہ تیز کر رہا تھا میں حیران کُن نظروں سے بُوڑھے کی طرف دیکھنے لگا ” بابا جی سمجھ گئے اور بولے بیٹا پریشان مت ہو بُوڑھا ہوں زیادہ گاہک سنبھال نہیں سکتا اسلیئے میوزک سنٹر کے اشتھار لگائے ہوئے ہیں میرے پاس وہی آتا ہے جو میرے پکے گاہک ہیں”
خیرواپسی پہ جب میں فیض آباد والے خوبصورت موڑ سے گذر رہا تھا میری آنکھیں نم تھیں اور سوچ رہا تھا لوگ ایسے ہی کہتے ہیں “لاہور لاہور اے” میں تو کہتا ہوں “پنڈی پنڈی اے جنہیں پندی نہیں ویکھیا اونیں کی ویکھیا؟” اور پنڈی شہر کو اس دعا کے ساتھ رُخصت کیا “آللہ ان جڑواں شہروں کو سدا آباد اور ہنستا بستا رکھے آمین

.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Twitter
  • email
  • Live
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
12
Dec

حافظ صاحب

بھیجا ہے  ڈفر نے کیفے ڈی بکواس, گندے انڈے میں

816 بار دیکھا گیا

محترم جناب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔السلام علیکم

آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہمارے گاؤں کے حافظ صاحب جو کہ بہت ہی نیک و پرہیزگار دکھائی دیتے ہیں اور پورے گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں راج کر رہے ہیں اور سارے گاؤں والے اُن کی بہت عزت کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ہماری شرافت اور محبت کا ناجائز فائدہ اُٹھایا اور ہمارے گاؤں کی کچھ لڑکیوں سے ناجائز تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے گاؤں سے باہر سر اُٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔ آپ کو اس لئے مطلع کیا جاتا ہے کہ اس چیز کا خاموشی سے کوئی حل نکالا جائے اوربات آگے نہ بڑھے ۔ آپ کمیٹی کے لوگوں کی آنکھیں بند ہیں کہ حافظ کو تبدیل نہ کرنے کی درخواستیں دیتے ہیں ۔ دس سے پندرہ دنوں کے اندر اگر کوئی حل نہ نکل سکا تو اس کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے ذمہ دار آپ کمیٹی کے لوگ ہوں گے ۔ اس چیز کا علم گاؤں کے تقریباً سب نوجوان لوگوں کو ہو چکا ہے اوراس چیزکے ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں جو موقع ملنے پر پیش کئے جا سکتے ہیں۔ ہم سے بہتر آپ جانتے ہوں گے کہ اس چیز کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ اس لئے خدا را کوئی ایسا حل نکالا جائے کہ ہمارے گاؤں کی عزت اور حافظ کی عزت بھی بچ جائے۔ اس طرح ہم لوگوں نے اس سے پہلے کچھ لوگوں کو بہت سر پر چڑھائے رکھا جس کا نتیجہ آپ ہمارے سے بہتر جانتے ہوں گے مثلاً فلانا فلاناں وغیرہ ۔

منجانب:
گاؤں کے خیر خواہ

لوگو اب میرے پیچھے نا پڑ جانا۔

.
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Twitter
  • email
  • Live
  • MySpace
  • Yahoo! Bookmarks
Firefox Supported
English Blog