دوست : اوئے ڈفر دیکھ کیا پیس جا رہا ہے۔ اچھا چل رہنے دے تجھے گوریاں پسند ہی نہیں ہیں۔
ڈفر : کیوں نہیں پسند؟ گوریوں میں زنانہ خصوصیات نہیں ہوتیں کیا؟ اور جتنا میں تھڑا ہوا ہوں مجھے تو ہر کوئی اچھی لگے گی۔
دوست : یار بندہ بڑی ب چ چیز ہے، زنانی ہو یا موبائل اسکا ہر چیز سے بڑی جلدی دل بھر جاتا ہے۔ شادی کے بعد مجھے احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے جو ستر ستر حوروں والی بات کہی ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ ہماری سوسائٹی میں تو اب یہ حالات۔۔۔
گندی ذہنیت
احمد (ایک عربی) ، جلال (ایک ملو انڈین) اور میں (ایک پاکستانی ڈفر)
جلال انڈین اداکاراؤں کی تصاویر دیکھ رہا ہے اور میں اور احمد اس کی پشت پر کھڑے احمد کے نئے ایس فور کو ڈسکس کر رہے ہیں کہ اچانک بات کا رخ مڑتا ہے
احمد: ڈفر تمہیں کونسی ایکٹریس پسند ہے؟۔۔۔
بندر، جنگل اور ہلدی
اپنے باسوں کو تو شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض بنا دینا اب ہماری عادت بن ہی چکا ہے لیکن بچپن میں اپنے استادوں کو بھی دل کے دورے پڑوانے میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سکول میں ہماری ریپوٹیشن بڑی ٹپ ٹاپ قسم کی تھی۔ گنتی میں تھوڑی سی زیادہ ”بائی دا وے“ قسم کی اتفاقی کامیابیوں کی وجہ سے چند ایسے جھنڈے گڑ گئے تھے کہ۔۔۔
پروٹیکشن
شیرازی صاحب اکاؤنٹنگ پڑھاتے تھے اور وہ بھی انتہائی مشکل ٹھیٹھ پنجابی اور زور لگانے پر انتہائی گہری گلابی اردو میں، جو انکی غیر موجودگی میں کافی ساری سخن آرائیوں کی مستقل وجہ بن گئی تھی۔ رحم دل اتنے کہ میں نے کہا ”سر سی آئے تو مجھے فیل کر دیجئے گا ورنہ میرے جی پی اے کی ایسی تیسی ہو جائے گی“، توانہوں نے سی پلس دے کر سارے سکور کی امی باجی سنگل کر دی۔ رعب داب ایسا کہ۔۔۔
چھوٹا بندہ چھوٹی بات
ہاں بھئی چائے کا کوئی انتظام ہے آج؟
جی صاب کیٹل رکھا اے آج نیا
کدھر سے آیا یہ کیٹل؟
وہ لڑکی لوگ اے نا، ان سے لے کر آیا ہے
کَروَٹ
خدا پاکستان کو کروٹ کروٹ ترقی عطا کرے۔ ہاں صاحبو، ہمیں بھی محاورے کی اصل ہییت کا علم ہے۔۔۔ لیکن وہ کیا ہے نا کہ جب ہر چیز میں ملاوٹ جائز ہے تو محاوروں ک حوالے سے بھی اسے محال نہیں سمجھنا چاہیے۔
مزید رنڈی رونا
نام تھا عمران خان، عمر 18 سے 20 سال تک یا حد 22 سال۔ یقینا شناختی کارڈ عمر سے پہلے ہی بنوا کر کمائی کرنے کے لئے ایکسپورٹ کر دیا گیا تھا۔آنکھیں ماشااللہ اتنی چمکدار کہ اسکی ذہانت کی گواہی اور اگلے کی نااہلی کے طعنے دیتی معلوم ہوتی تھیں لیکن طبیعت میں عاجزی، بے [...]
اسٹیبلشمنٹ
کوٹا، جسے تاریخ پوڈری کے نام سے بھی یاد کرتی ہے، میرا ہائی سکول کے دور کا بہترین دوست تھا، ابھی تک ہے۔ فطرتاً کہا جائے تو ڈکٹیٹر قسم کی شخصیت کا مالک۔ اسکے پاس ہر بات کی دلیل ہوتی تھی جو ضرورت پڑنے پر پیش کر کے وہ اپنی بات منوا لیتا تھا لیکن [...]
مہندی نی مہندی
”ہر اس بات میں ٹانگ اڑانا جو اپنے مطلب کی نہیں اور ہر اس کام میں پنگا لینا جو اپنے فائدے کا نہیں“ ہمیشہ سے ہماری ہابیءاوّؕل اور فطرت ثانیہ رہی ہے۔ فطرت اوّلیہ میں صرف سونا، سونا، سونا اور آج کا کام کل پر ڈالنا شامل ہیں۔ کھیلوں میں جو کھیل ہم نے دل لگا کر اور ذوق و شوق سے بغیر مردانہ زنانہ تخصیص کے کھیلے ان میں چنجو، سٹاپو، کھو کھو، گیٹے، پٹھو گرم، ککلی کلیر دی،۔۔۔
مکالمہ
گیا تھا ہیلتھ سینٹر؟ کر آیا اپنی لیڈی ڈاکٹر کی پونڈی؟
نہیں یار وہ والی ڈاکٹر نہیں تھی کوئی اور گورا تھا
اس نے تو فیر ٹیکہ لگایا ہونا؟
۔۔۔





